یہود کا حضرت سلیمان پر بہتانِ سحر اور قرآن کی تردید

درس نمبر 48 : سورۃ البقرہ، آیت نمبر 101 تا 102۔ (اشاعتِ اول)، 18 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

         یہود کا کتاب اللہ کو پسِ پشت ڈالنا اور جادو کی پیروی

           حضرت سلیمان علیہ السلام پر کفر اور جادوگری کا جھوٹا الزام

         بائبل کی تحریفات اور قرآن کریم کی جانب سے حضرت سلیمان علیہ السلام کا دفاع

           جادو اور شرکیہ منتروں کی شرعی حیثیت

           اپنی غلطیوں اور گناہوں کا جواز دوسروں (بالخصوص علماء اور نیک لوگوں) کے سر تھوپنے کا نفسیاتی رویہ

           طلسماتی کتب، ڈائجسٹ اور کارٹونوں کے ذریعے غلط عقائد کی ترویج

           یہودیوں کی بتدریج گمراہی اور حق کی مخالفت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُـمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَۙ كِتَابَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِـمْ كَاَنَّـهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (101)وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلٰكِنَّ الشَّيَاطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۖ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْـفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْـهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۚ وَمَا هُـمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّهُـمْ وَلَا يَنْفَعُهُـمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَـرَاهُ مَا لَـهٝ فِى الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٓ ٖ اَنْفُسَهُـمْ ۚ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (102)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آئے جو اس (تورات) کی تصدیق کر رہے تھے جو ان کے پاس ہے، تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات و انجیل) کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے (کہ اس میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی تھیں) ﴿101﴾

اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں کہ: ’’ہم محض آزمائش کے لئے (بھیجے گئے) ہیں، لہٰذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔‘‘ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کر دیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لئے نقصان دہ تھیں، اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بُری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔ ﴿102﴾

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی ایک اور بدعملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ جادو ٹونے کے پیچھے لگنا شرعاً ناجائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں تو ایسا جادو کفر کے مترادف ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہو سکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے، اور اگر تم جادو سیکھ لو گے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہوگا۔ چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے، حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف ناجائز تھا، بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں۔ دوسرا غضب یہودیوں نے یہ کیا کہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام کو جادوگر قرار دے کر ان کے بارے میں یہ مشہور کر دیا کہ انہوں نے آخری عمر میں بتوں کو پوجنا شروع کردیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ جھوٹی داستانیں انہوں نے اپنی مقدس کتابوں میں شامل کردیں جو آج تک بائبل میں درج چلی آتی ہیں۔ چنانچہ بائبل کی کتاب سلاطین اول 11-1 تا 21 میں ان کے معاذ اللہ مرتد ہونے کا بیان آج بھی موجود ہے۔ قرآن کریم نے اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر اس ناپاک بہتان کی تردید فرمائی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے ماخوذ ہے، وہ کتنا غلط الزام ہے۔ یہاں قرآن کریم صریح الفاظ میں یہود و نصاریٰ کی کتابوں کی تردید کر رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ یہ خود معلوم کرسکتے کہ یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ اس بات کا علم آپ کو وحی کے سوا کسی اور راستے سے نہیں ہو سکتا تھا۔ لہٰذا یہ آیت بذات خود آپ کے صاحبِ وحی رسول ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ بتلایا کہ یہودیوں کی کتابوں میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر کیا بہتان لگایا گیا ہے، بلکہ اس قدر جم کر اس کی تردید فرمائی ہے۔

اللہ اکبر۔ یہ آج بھی اس قسم کے لوگ ہیں جو اپنی بد عملی کو جائز ثابت کرنے کے لیے یا اس کو کم ناجائز ثابت کرنے کے لیے اچھے لوگوں کو بھی اس میں شامل کر دیتے ہیں۔ بالخصوص علماء کو کہ وہ بھی ایسا کرتے ہیں۔ اور اس میں کوئی ثبوت وغیرہ بھی نہیں ہوتا بغیر ثبوت کے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں صرف اپنے آپ کو Justify کرنے کے لیے۔ تو یہ چیز یہودیوں سے چلی آ رہی ہے۔ یہود اس طرح کرتے تھے کہ جس برائی سے بچ نہیں سکتے تھے اس میں نعوذ باللہ من ذالک پیغمبروں کو بھی شامل کر لیتے تھے کہ وہ بھی اس طرح کرتے ہیں۔

یہ آپ لوگوں نے پڑھی ہوں گی، میں نے بھی بچپن میں پڑھی تھیں، "طلسم" کی کتابیں۔ فلاں چیز فلاں طلسم میں بند ہے اور یہ چیز فلاں... اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں۔ تو یہ طلسم، ہوشربا اور پتا نہیں کیا کیا چیزیں، تو سلیمان علیہ السلام کے ساتھ بھی اس قسم کی باتیں Attach کی گئی ہیں کہ یہ جو ان کی سلطنت ہے وہ ایک طلسم کے طور پر ہے اس میں ساری طاقت اس میں ہے۔ اگر وہ توڑ دیا جائے تو وہ سب ختم ہو سکتا ہے۔ اور دوسری بات کہ تم بھی اگر یہ چیزیں کر لو تو یہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ باقاعدہ کتابیں ابھی بھی موجود ہیں جو اس میں یہ چیزیں سکھائی جاتی ہیں کہ فلاں کر لو تم سورج کو مسخر کر لو گے، فلاں مریخ کو مسخر کر لو گے یہ ہو جائے... یہ بالکل اس میں یہ موجود ہیں، کتابوں میں موجود ہیں۔ تو یہ چیزیں بھی اسی وقت سے چلی آ رہی ہیں۔ اس میں شیاطین نے راستے بنائے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لیے ان چیزوں کے پیچھے لے آتے ہیں۔ یہ ڈائجسٹ لوگ جو بے احتیاط قسم کے لوگ دیکھتے ہیں اس میں بھی اس قسم کی چیزیں ذرا ملمع سازی کے ساتھ دی گئی ہوتی ہیں۔ وہ انکا کا ایک واقعہ تھا اس طرح کابلہ کا پتا نہیں... اس میں یہی باتیں کہ طلسم۔۔۔ اب ظاہر ہے مسلمانوں کا عقیدہ تو یہ نہیں ہے لیکن مسلمان جب اس کو پڑھیں گے تو آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ ان کے دماغوں میں یہ چیز بیٹھ جائیں گی جیسے ہمارے بچے کارٹونیں دیکھتے ہیں، تو کارٹونوں کی باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جاتی ہیں۔ تو یہ باتیں اس طریقے سے ان کو بتائی گئی تھیں، سکھائی گئی تھیں۔ تو یہ جو بات ہے کہ سلیمان علیہ السلام نعوذ باللہ من ذالک جادوگر تھے یہ بھی اپنے جادو کو Justify کرنے کے لیے۔اور بعد میں حتیٰ کہ سلیمان علیہ السلام پر یہ تہمت بھی لگائی کہ وہ نعوذ باللہ من ذالک مرتد ہو گئے تھے۔ یہ سب ان کی خباثت کی باتیں ہیں۔ تو ان لوگوں نے ایک دن میں یہ سلسلہ طے نہیں کیا۔ وہ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ بڑھتے رہے بڑھتے رہے بڑھتے رہے حتیٰ کہ اب موجودہ صورتِ حال کہ جب آپ ﷺ کی مخالفت کی تو پھر تو بالکل دین سے نکل گئے۔ نتیجۃً پھر اس کے بعد جو مرضی وہ کرتے رہیں اور اب بھی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائے۔

یہود کا حضرت سلیمان پر بہتانِ سحر اور قرآن کی تردید - درسِ قرآن - دوسرا دور