اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
﴿وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِامْرَاَةٍ تَبْكِيْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: اِتَّقِي اللّٰهَ وَ اصْبِرِيْ فَقَالَتْ: اِلَيْكَ عَنِّيْ، فَاِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيْبَتِيْ، وَ لَمْ تَعْرِفْهُ فَقِيْلَ لَهَا: اِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَاَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهٗ بَوَّابِيْنَ فَقَالَتْ: لَمْ اَعْرِفْكَ فَقَالَ: اِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْاُوْلٰی﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾وَ فِيْ رِوَايَةٍ لِّمُسْلِمٍ تَبْكِيْ عَلٰی صَبِيٍّ لَّهَا.
ترجمہ: ’’حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر اختیار کرو۔ عورت بولی جاؤ اپنا کام کرو آپ ﷺ کو مجھ جیسی مصیبت کا سامنا نہیں ہوا، عورت نے آپ ﷺ کو پہچانا نہیں تھا۔ اس سے کہا گیا یہ تو نبی ﷺ تھے تو وہ آپ ﷺ کے مکان پر آئی وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا آپ ﷺ سے معذرت کرتے ہوئے کہا میں نے آپ ﷺ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا صبر تو پہلی چوٹ پر ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ عورت اپنے بچے پر رو رہی تھی۔‘‘
یہ اصل میں صبر کے بارے میں ہے کہ صبر جو ہے اصل میں جیسا کہ پہلے بھی کئی بار عرض کیا جا چکا کہ اپنے نفس کو کسی ایسے کام سے روکنا، جس سے اللہ پاک نے منع کیا ہو، وہ بنیادی طور پر صبر ہے۔ تو ظاہر ہے جس وقت انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو ابتدا میں اس کو کافی اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ بعد میں اس کو ظاہر ہے آرام آ جاتا ہے، صبر آ جاتا ہے کیونکہ ظاہر ہے انسان ایڈجسٹ (Adjust) کر لیتا ہے، معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کو تو ہونا تھا۔ تو اس وجہ سے پھر اس کو صبر آ جاتا ہے۔
تو اسی وقت جب اس کو یہ تکلیف ہو رہی ہوتی ہے اور اس وقت اپنے نفس کو ایسے کام سے روکے جس سے اللہ پاک نے منع کیا ہو تو یہ اصل صبر ہے۔ تو اس میں یہ گویا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ پہلے لمحات جو ہیں، وہ جو ابتدائی لمحات ہوتے ہیں مصیبت کے، اس پر صبر اصل صبر ہے۔ تو اس پر صبر ہونا چاہیے۔
جیسے کہ یہ عورت اپنے بچے کے اوپر رو رہی تھی اور آپ ﷺ نے اس کو روکا تو اس کو معلوم نہیں تھا، لہذا اس نے ایسے کہا کہ آپ کو کیا پتہ کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔ بعد میں جب ان کو پتہ چلا تو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے یعنی معافی چاہی کہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبر جو ہے وہ تو پہلے صدمے پر ہوتا ہے۔
تو یہی بات ہے کہ اس کا اجر بہت، اجر بہت زیادہ ہے، لیکن اس وقت برداشت کرنا ہوتا ہے جس وقت وہ چیز ابتدائی لمحات میں ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَرَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔