اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿97﴾مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلّٰهِ وَمَلَائِكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ ﴿98﴾ وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ ﴿99﴾ أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهٗ فَرِيقٌ مِنْهُمْ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿100﴾ وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿101﴾
اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اگر کوئی شخص جبریل کا دشمن ہے تو (ہوا کرے) انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے، اور ایمان والوں کے لئے مجسم ہدایت اور خوشخبری ہے ﴿97﴾اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا، اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہے تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ کافروں کا دشمن ہے ﴿98﴾ اور بیشک ہم نے آپ پر ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حق کو آشکارا کرنے والی ہیں، اور ان کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو نافرمان ہیں ﴿99﴾ یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ ان لوگوں نے جب کوئی عہد کیا، ان کے ایک گروہ نے اسے ہمیشہ توڑ پھینکا؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لاتے ہی نہیں ﴿100﴾ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آئے جو اس (تورات) کی تصدیق کر رہے تھے جو ان کے پاس ہے، تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات و انجیل) کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے (کہ اس میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی تھیں) ﴿101﴾
یہ اصل میں کل اس پر اشارے کی بات ہو چکی تھی کہ ۔۔۔ بعض یہودیوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے ہیں، وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ وحی لا رہا ہوتا تو ہم کچھ غور کر سکتے تھے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے، اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں۔ لہٰذا ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی وجہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کے کوئی معنی ہیں۔
اصل میں ان کو یہ اعتراضات کی اور اشکالات کی اور سوالات کی بہت بری عادت تھی۔ اس وجہ سے جب آپ ﷺ کے صحابہ بھی کچھ زیادہ پوچھنے لگتے تو پھر آپ ﷺ فرماتے کہ بنی اسرائیل کی طرح نہ ہو جاؤ، یعنی بہت زیادہ سوال نہ کیا کرو۔ سوال دو طرح ہوتا ہے: ایک چیز ہوتی ہے کسی چیز کو سمجھنے کے لیے، یہ تو علم کا لازمی حصہ ہے، تجسس پیدا ہوتا ہے، تجسس کا پھر حل ہوتا ہے۔ اور ایک یہ ہوتا ہے کہ محض اپنا علم جتانے کے لیے، تو یہ تو حب جاہ ہے، یہ تو بہت نقصان کی بات ہے۔ یا پھر یہ بات ہے کہ جو ہے نا مطلب... خواہ مخواہ جس کو کہتے ہیں میخ نکال کے اپنے لیے کوئی راستہ نکالنا، اپنے نفس کی خواہش کے مطابق راستہ نکالنا، یہ بھی بہت بری عادت ہے۔
تو جیسے مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کے قوم میں جو یہ واقعہ ہوا تھا کہ ان کو... مطلب کسی نے قتل کیا تھا کسی کو۔ تو اس پر پوچھا گیا کہ کیسے معلوم ہو جائے؟ تو وحی آ گئی کہ گائے کو ذبح کر لو اور ان کا ٹکڑا اس پر مار دو۔ تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟
قالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا۔۔۔
فرمایا نبی نے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں، میں تو اللہ سے پناہ مانگتا ہوں، یعنی کیسے میں اللہ کے... اس سے مذاق کرتا ہوں اللہ کی طرف سے؟
تو اس طریقے سے پھر بس بعد میں کہا اچھا اس کا رنگ بتا دیں؟ مقصد یہ تھا کہ جو پوچھوا رہے تھے وہی قاتل تھا۔ تو وہ کسی طریقے سے تو وہ بچنا چاہتے تھے۔ تو اخیر میں جس وقت بالکل انہوں نے کہا کہ اچھا پھر یہ ہے تو... اچھے خاصے جب ہو گیا تو پھر وہ ان کو وہ گائے بڑی مہنگی پڑی اور بڑی مشکل سے مطلب جو ہے نا اس کو لے آئے اور پھر اس کے بعد ذبح کیا۔ تو گویا کہ جتنا جتنا وہ سوال کر رہے تھے ان کے لیے مشکل بنایا جاتا رہا تھا، اس کے حساب سے۔ کیونکہ طلب کی کمی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کا ہدایت کا نظام پیچھے ہو رہا تھا۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔
جو ابتدائی سے طلب رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو راستے دیتے ہیں، لیکن جو مطلب اس میں کشمکش کرتے ہیں اور آگے پیچھے کرتے ہیں تو پھر ہدایت کا جو نظام ہوتا ہے اس میں جو ہدایت کے راستے وہ بند ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔
ہاں جی! تو یہ پھر یہ والی بات ہے کہ ہمیں جو ہے نا اس طرح نہیں کرنا چاہیے، تو یہ جبرائیل علیہ السلام... یہ تو بڑی لازمی بات کہ جبرائیل علیہ السلام اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کرتے۔ یعنی کم از کم یہ بات تو ان کی کھوپڑی میں بھی آ سکتی تھی کہ جبرائیل علیہ السلام خود تو کچھ بھی نہیں کرتے، تو پھر کیوں اس پر اعتراض کیا؟ تو اس کا جواب مل گیا پھر اسی قسم کا کہ جبرائیل علیہ السلام تو خود کچھ نہیں کرتے تو مطلب جو ہے نا وہ... اور پھر اخیر میں جو فرمایا کہ:
مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلَائِكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ۔
کیونکہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ ملائکہ بھی، پیغمبر بھی، جبرائیل بھی، میکائل بھی سب اللہ کی طرف سے آئے، تو جو ان کے جو ان کے دشمن ہیں اللہ ان کا دشمن ہے۔
اس وجہ سے اس میں بالکل ہیچ پیچ نہیں کرنی چاہیے اور جیسے مطلب اللہ پاک نے حکم دیا ہوگا، اسی قسم کے مطابق عمل چاہیے۔ تو اس میں یہ دیکھیے... اب اس میں اخیر میں آتا ہے: أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهٗ فَرِيقٌ مِنْهُمْ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿100﴾ یعنی یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ ان لوگوں نے جب کوئی عہد کیا، ان کے ایک گروہ نے اسے ہمیشہ توڑ پھینکا؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لاتے ہی نہیں ﴿100﴾
یعنی یہ لوگ ایمان لانے والے ہیں نہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، چونکہ وہ سلیم الطبع تھے تو انہوں نے صرف جب آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا نا تو انہوں نے کہا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا اور ایمان لے آئے۔ اب ان کا حال تو یہ تھا۔ اب ان کو اپنی قوم کا پتہ تھا، تو آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ کو اپنی قوم کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ آپ اس طرح کریں کہ میں چھپ کے بیٹھ جاتا ہوں، جب یہ آ جائیں نا تو آپ ان سے میرے بارے میں پوچھیں کہ یہ کیسے ہیں؟ پھر میں باہر آ جاؤں گا، پھر میں کلمہ پڑھوں گا، پھر آپ دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں۔
تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے ایسا کیا تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا وہ شریف آدمی ہے، شریف آدمی کا بیٹا ہے اور یہ ہے اور وہ ہے... اب زمین و آسمان کے قلابے ملا لیے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ۔ یہ کہا تو فوراً انہوں نے کہا یہ رذیل آدمی ہے اور رذیل آدمی کا بیٹا ہے اور ایسے ہے اور ویسے ہے، بری باتیں ان کے بارے میں کہنے لگے۔ اس پر جو ہے نا وہ یعنی عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ہے ہماری قوم۔
مطلب اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، مطلب ان کے یعنی طریقہ کار یہی ہے۔ تو ایسی صورت میں ان سے کیا توقع ہو سکتی تھی۔ ابھی تک یہی حال ہے، ساری چیزیں جانتے بوجھتے سخت مخالفت کرنے والے یہی ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے یہی ہیں۔ اپنی ذہانت کو دنیا کی چیزوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، اپنی نفس کی خواہشات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور باقی پوری دنیا کو نقصان پہنچا رہے ہیں، خود اپنے آپ کو اس سے بچا رہے ہیں۔
مثلاً آپ کو پتہ نہیں بچے کو ٹافیاں اور پتہ نہیں کیا کیا اس قسم کی انہوں نے فیکٹریاں لگائی ہوئی ہیں وہ آپ تک پہنچاتے ہیں، خود اپنے بچوں کو ٹافیاں نہیں دیتے۔ ان کی جیبوں میں اخروٹ اور بادام اور مطلب پستہ اور یہ چیزیں رکھی ہوتی ہیں، ان کو یہ چیزیں کھلاتے ہیں۔ ہاں جی! اور دنیا کی عورتوں کو کہاں تک پہنچایا لیکن اپنی عورتوں کو نہیں یہ آزادی دیتے۔ ہاں جی! مطلب وہ بہت سخت ان کی پابندیاں ہوتی ہیں۔
تو بس ایسے ہی مطلب جو ہے نا ان کا عجیب نیچر (Nature) ہے۔ ذہانت تو ہے، تبھی سارا کچھ مینیج (Manage) کر لیتے ہیں، لیکن مقصد کیا ہے؟ مقصد دنیا کے چند چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس انجام سے بچائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين