اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معزز خواتین و حضرات! کل جو ترجمہ کر چکے تھے اس لمبی حدیث شریف کا جس میں ایک لڑکا جو جادوگر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور بعد میں ایک راہب سے ملاقات کی وجہ سے وہ ماشاءاللہ راہب کے پاس بیٹھنے لگا، اور پھر بعد میں ان کی ایمان کی حالت جب کھل گئی تو ان کو جو ہے نا مطلب مارنے کی مطلب سعی کی گئی لیکن وہ کس طریقے سے بھی نہیں مارا جاتا تھا۔ پھر اخیر اس نے ہی تدبیر کی کہ اگر تم مجھے مارنا چاہتے ہو تو اس طرح کرو کہ میرے ترکش سے ایک تیر لے لو اور مجھے سولی پہ لٹکا دو اور پھر "بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ" وہ جو ہے نا مطلب یہ پڑھو، تو پھر ہو جائے گا۔ تو ایسے انہوں نے کہہ دیا تو اس کے بعد پھر وہ... وہ شہید ہو گیا۔ لیکن اس کو سن کر سارے لوگ مسلمان ہو گئے جو سننے والے تھے۔
تو بادشاہ کو بہت پریشانی ہو گئی، تکلیف ہو گئی تو انہوں نے پھر سب کے لیے آگ کی خندقیں کھود کے اس کے اندر ڈالنے کی بات کا حکم دے دیا۔ انہی کو "اصحاب الاخدود" کہتے ہیں جن کے بارے میں قرآن پاک میں آیا ہے۔
تو اس لڑکے نے اپنی ہلاکت کی تدبیر خود کیوں بتائی؟ اس میں یہ بات سوال ہے۔ تو اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا اس وقت تک مجھے قتل نہیں کر سکتے جب تک تم میری بات پر عمل نہ کرو۔
یہاں یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس لڑکے نے اپنی ہلاکت کی تدبیر بادشاہ کو کیوں بتائی اور اپنے آپ کو قتل کے لئے کیوں پیش کیا؟
جواب: بعض لوگوں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس بچے کو یقین تھا کہ اس تدبیر سے یہ بادشاہ مجھے تو قتل کر دے گا اور میں شہید ہو جاؤں گا مگر میرے شہید ہونے کی وجہ سے اس کے شہر کے تمام لوگوں کے سامنے اس بادشاہ کی خدائی کے دعویٰ کی حقیقت کھل جائے گی اور وہ سب اس کو چھوڑ کر رب حقیقی کو ماننے والے بن جائیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس کے شہید ہونے کے ساتھ ہی ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ اللہ جل شانہ نے بھی اس بچے کی اس تدبیر کو پورا کردیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس (نیک) بچے نے جھوٹ بولا۔
فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ فَمَاتَ
بادشاہ نے تیر مارا جو اس کی کنپٹی پر لگا، لڑکے نے وہاں اپنا ہاتھ رکھا اور مر گیا۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں کہ محمد بن عبد اللہ بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک نہر کھودی جارہی تھی تو دیکھا کہ ایک لڑکا ہے اس نے اپنی کنپٹی پر ہاتھ رکھا ہوا ہے جب ہاتھ کو اس جگہ سے ہٹایا جاتا ہے تو خون بہنے لگتا ہے اور جب ہاتھ چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ فوراً اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک انگوٹھی بھی پڑی ہے جس پر "اَللّٰهُ رَبِّي" لکھا ہوا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کی لاش کو اور اس کی انگوٹھی کو اسی حالت پر رہنے دو جس حالت پر تم نے اس کو پایا ہے۔
یعنی گویا کہ وہ شہید ہو گیا تھا اور شہید زندہ ہوتا ہے اور اپنی حالت پہ رہتا ہے تو وہ بات ان کی طرف سے آ گئی۔
خندق میں کتنے لوگوں کو جلایا گیا تھا؟
تو بادشاہ نے خندق کھدوانے کا حکم دیا تمام راستوں کے سرے پر اور اس میں آگ جلانے کا حکم دے دیا۔ اس میں کتنے لوگ جلائے گئے؟ اس میں مختلف روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق بارہ ہزار۔ اس واقعے سے معلوم ہوا کہ دائرہ حق و مصائب اور مشکلات کے وقت پر استقامت سے حق پر جمنا چاہیے۔
أَخْرَجَهُ الصَّحِيحُ الْمُسْلِمُ كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرِّقَاقِ بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ وَالرَّاهِبِ وَالْغُلَامِ، تِرْمِذِي وَ ابْنِ كَثِير فِي تَفْسِيرِهِ۔
اگر آج کل دیکھا جائے تو فلسطین میں اس قسم کے حالات مطلب جو ہے نا بہت ہو رہے ہیں، کشمیر میں بھی ہو رہے ہیں اور جس وقت مطلب افغانستان پر غیر ملکی لوگ قابض تھے اس وقت وہاں پر بھی یہ چیزیں ہو رہی تھیں۔ اسی طرح چیچنیا میں، برما میں یہ ساری چیزیں اس قسم کی ہو رہی تھیں۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ حق کوئی برداشت نہیں کرتا اور تکلیف اور پریشانیاں بہت اس میں آتی ہیں لیکن جو ثابت قدم رہتے ہیں اللہ جل شانہ ان کو بڑے اونچے درجات عطا فرما دیتے ہیں۔
تو یہ بات ہے کہ مطلب تکالیف تو ہو سکتی ہیں لیکن اللہ پاک پر بھروسہ اور اللہ کے لیے مصائب پر جو صبر ہے اور استقامت یہ بہت بڑی دولت ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو حق پر استقامت کی توفیق عطا فرمائے اور اس میں کسی طریقے سے بھی کمزوری نہ دکھانے... کہ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔