نماز کی روحانی حقیقت اور مقاماتِ سلوک

دفتر اول: مکتوب نمبر 263

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نماز کی حالت (اصل) اور بیرونِ نماز کی کیفیات (ظل) کا فرق۔

 موت، برزخ اور آخرت کے احوال کا دنیاوی احوال سے موازنہ۔

طریقِ جذب اور طریقِ ہوش (سلوک) کا تقابل اور اصلاحی اشعار۔

سلوک کے دس اہم مقامات (توبہ، انابت، زہد، قناعت، تقویٰ، توکل، تسلیم، صبر، رضا)۔

مقامِ رضا کی حقیقت: محض علم اور عملی کیفیت کا فرق۔

 ’’مجذوبِ متمکن‘‘ کی پہچان اور تکمیل سے پہلے رک جانے (خانہ کعبہ کی مثال) کا نقصان۔

مکتوباتِ امام ربانیؒ کی اہمیت اور خانقاہی فیض کی برکات (حاضرین بمقابلہ آن لائن سامعین)۔

 

گذشتہ سے پیوستہ

دفتر اول مکتوب نمبر 263

----- تو خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا تھا کہ نماز کے اندرکے جو کیفیات ہیں وہ اور ہیں، وہ اصل ہے، اس میں محنت زیادہ کرنی چاہیے۔ اور نماز کے باہر جتنے بھی ہم اسباب کے درجے میں کوششیں کر رہے ہیں یہ انہی چیزوں کو بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم جو مراقبہ سیکھ رہے ہیں کس چیز کے لیے سیکھ رہے ہیں؟ اپنی نماز کو درست کرنے کے لیے سیکھ رہے ہیں، اپنے حج کو درست کرنے کے لیے سیکھ رہے ہیں۔ ہاں، یہی ہماری بنیادی چیزیں ہیں جس کے ذریعے سے ہم بنتے ہیں۔ تو نماز کے اندر جو مقام حاصل ہوتا ہے وہ ویسے عام طور پر نہیں حاصل ہوتا۔اور فرمایا کہ:

کیونکہ وہ (بیرونِ نماز والے) حالات ’’دائرۂ ظل‘‘ سے باہر نہیں نکلتے خواہ وہ کتنے ہی بلند ہوں، اور یہ حالتِ (نماز) اصل سے حصہ رکھتی ہے۔ اور جس قدر فرق ظل اور اصل کے درمیان ہے اسی قدر فرق بیرونِ نماز والی حالت اور اندرونِ نماز والی حالت کے درمیان جاننا چاہئے۔

یہ فقیر (یعنی وہ خود اپنا فرما رہے ہیں) مشاہدہ کرتا ہے کہ جو حالت اللہ سبحانہ کی عنایت سے موت کے وقت ظاہر ہوگی وہ نماز کی حالت سے بھی بلند ہوگی،کیونکہ موت، احوالِ آخرت کے مقدمات میں سے ہے اور جو چیز آخرت سے قریب ہے وہ اتم و اکمل ہے کیونکہ یہاں (دنیا میں) ’’ظہوِرِ صورت‘‘ ہے (یعنی ظاہری کیفیت ہے) اور وہاں (آخرت میں) ظہورِ حقیقت۔ ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

اور ایسے ہی وہ حالت جو الٰہی جل سلطانہ کے کرم سے’’ برزِخ صغریٰ‘‘ (قبر ) میں میسر ہوگی وہ اس حالت سے بڑھ کر ہوگی جو موت کے وقت ہوتی ہے۔ اور یہی نسبت’’برزِخ کبریٰ‘‘ کو جو کہ روزِ قیامت ہے’’برزِخ صغریٰ‘‘ سے ہے کیونکہ وہاں’’ برزِخ کبریٰ‘‘ کا مشہود اتم و اکمل ہے اور جنات النعیم کا مشہود برزِخ کبری کے مشہود کی نسبت زیادہ اتمیت و اکملیت رکھتا ہے اور اس کو ان تمام مقامات پر فوقیت حاصل ہے جس کے متعلق مخبرِ صادق علیہ و علی آلہ الصلوات التسلیمات نے خبر دی ہے اور فرمایا ہے

اِنَّ لِلَّہِ جَنَّۃً لَیْسَ فِیھَا حُور وَلاَ قُصُورُ یَتَجَلی فِیھَا رَبُّنَا ضَاحِکًا

(بیشک اللہ تعالیٰ کی ایک جنّت ہے جس میں نہ حور ہے نہ قصور (محلاّت) اس میں اللہ تعالیٰ ہنستے ہوئے تجلی فرمائے گا)۔۔۔

لا الہ الا اللہ! اے اللہ تعالیٰ! یہ ہمیں نصیب فرما دے، یہ تو اس کی تو بس تمنا ہی ہے۔

لہٰذا تمام ظہورات میں سے ادنٰی ظہور دنیا اور اس کا مافیہا ہے اور ان ظہورات میں سے اعلیٰ مقام جنّت ہے، بلکہ دنیا ہرگز ظہور کا مقام نہیں ہے وہ توظلال کے ظہورات اور مثال کی نمائش ہے جو دنیا کے ساتھ مخصوص ہے۔ فقیر کے نزدیک امورِ دنیاوی میں شمار ہیں۔ اور حقیقت میں وہ ظہورات، خواہ تجلیاتِ صفات ہوں یا تجلیاتِ ذات، سب دائرہ امکان میں داخل ہیں: تَعَالىٰ اللّٰه عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًا كَبِيرًا (اللہ تعالیٰ اس بات سے جو لوگ کہتے ہیں بلند و بالا ہے)۔

کیونکہ .. کیونکہ .. کیونکہ دنیا میں حقیقت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا، سب ظل ہے۔ تو جب ظل ہے تو جو کچھ آپ کے اوپر ظاہر ہے وہ بھی ظل ہے، جو کچھ آپ کے اوپر ظاہر ہے وہ بھی ظل ہے۔ تو جو لوگ اس پر مطمئن ہو گئے تو کہاں پہنچ گئے؟ جو لوگ اس پر مطمئن ہو گئے کہاں پہنچ گئے؟ یا اللہ یا کریم! یا کریم!

ایک ہماری غزل ہے، وہ اس قسم کے الفاظ پر مبنی ہے۔

درِ دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا

تو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی ایک ساتھی کو تو فرمایا انہوں نے یہ کہا ہے ہمیں تو موت کے بعد بھی پتہ چلا ہےکہ تشنہ لبی ہے۔ کمال ہے ویسے۔ کہتے ہیں انہوں نے تو یہاں کہا ہے ، ہمیں تو موت کے بعد بھی ہے، فوت ہو چکے تھے وہ بزرگ۔ موت کے بعد بھی یہ تشنہ لبی ہے، عاشقوں کو تو ہوگی ہی ظاہر ہے۔ "درِ دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا۔" تو یہاں پر تو سب کچھ ظلی ہے، ظل ہی ظل ہے، اس وجہ سے اس پر اطمینان کرنا، اس پر مطمئن ہو جانا یہ تو بڑی عجیب ہے۔

یہ میرے خیال میں کل کی بات ہے شاید، کل کی بات ہے، یہاں ایک ساتھی تھے انہوں نے ایک شعر شیئر کیا۔ تو فوراً میں نے پھر اس پر کمنٹ کیا کیونکہ وہ ہمارے Concept کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔ تو اس پہ میں نے یہ کیا۔ وہ شعر یہ تھا:

ایک مرتبہ غوثِ زماں حضرت سید محمد علاؤالدین شاہ صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلسِ مراقبہ قائم تھی، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے توجہ دی تو فی البدیہہ ایک شعر قلب میں آیا، )یہ حضرت کا ایک خلیفہ ہے(:

طریقِ جذب کے اک جست سے ہوئے واصل طریقِ ہوش کی باتیں تھیں جستجو کرنا

از استفادات حضرت مولانا حافظ محمد ناصر الدین خاکوانی صاحب دامت برکاتہم، نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔

تو جب یہ شعر میں نے دیکھا تو ایک شعر ادھر بھی آیا۔ تو میں نے کہا:

طریقِ جذب کی اک جست سے یہ ہوا ہے وصال سر کرنے ممکن ہو گئے سلوک کے جو تھے جبال یہ فیض ہم کو مجدد سے مل گیا ہے شبیر بنا سلوک کے کسبی جذب کبھی بنتا ہے جال

تو یہ پھر آگیا، تو اس پر ان صاحب کی طرف سے یہ بات آگئی کہ واقعی یہ تو مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ ظاہر ہے وہ جو Concept ہے وہ تو اس کے مطابق نہیں ہے۔ مطلب اس نے کہا حضرت اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ کے اس پیغام کی وجہ سے میری بھی اصلاح ہو گئی، کسی صاحب نے اس پہ کمنٹ کیا۔ پھر اس کے بعد اس کو میں نے ذرا زیادہ Improve کیا اور اس پہ کچھ اور اشعار بھی آگئے۔ مجبوری ہے ہمارے ساتھ مسائل ہیں۔

طریقِ جذب سے سالک کو میسر ہو یہ حال سر کرنا ممکن اس سے ہو جائے سلوک کے جبال طریقِ ہوش تو مطلوب ہے شہود ہے یہ

انہوں نے تو کہا تھا نا کہ صرف جستجو کرنا تھا، تو ظاہر ہے انہوں نے اپنے حال کے مطابق کہا ۔ جو حال تھا اس وقت ان کا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن ہم تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ بات کر رہے ہیں۔

طریقِ ہوش تو مطلوب ہے شہود ہے یہ تھوڑا سا سوچیں کمال سکر ہے یا صحو کمال؟

حضرت کیا فرماتے ہیں؟ صحو کمال ہے یا سکر کمال ہے؟ صحو کمال ہے، کیونکہ صحو جو ہے یہ وحدت الشہود ہے اور سکر وحدت الوجود ہے، وحدت الوجود پہلے آتا ہے اس سے ترقی کر کے انسان وحدت الشہود میں جاتا ہے۔

تھوڑا سا سوچیں کمال سکر ہے یا صحو کمال؟ جذبِ کسبی کا تو مقصد ہی تھا سلوک طے کرنا خواجہ نقشبند کے ذرا دیکھیں اس واسطے مقال

حضرت نے کیا فرمایا اس کے بارے میں؟ میں اس لیے آگے کر رہا ہوں کہ سلوک طے کرنا ممکن ہو جائے۔

جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو

رحمۃ اللہ علیہ

جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو ہے سمجھایا اس پہ قربان کریں اپنا خیال

میرا جو خیال آگیا میں اس پہ قربان کر دوں، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خیال اور ہمارے میں بڑا فرق ہے۔

جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو ہے سمجھایا اس پہ قربان کریں اپنا خیال یہ فیض ہم کو مجدد سے مل گیا ہے شبیر جذب سلوک کے بغیر کبھی بنتا ہے جال

وہی مجذوب متمکن والی جو بات ہے۔ جال بن جاتا ہے نا؟ تو سبحان اللہ، اللہ کا شکر ہے کہ اس صاحب نے ان کی تشریح کی اور ماشاء اللہ یہ شامل ہو گیا۔ آگے جا کر چونکہ یہ بات سامنے آگئی تو اس وجہ سے پھر ہمیں بھی تھوڑا سا مزید اس میں جانا پڑا تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے۔

تو اس میں پھر میں نے لکھا ہے، نوٹ ہے:

توبہ، انابت، زہد، ریاضت، قناعت، ورع، توکل، تسلیم، صبر اور رضا۔ یہ وہ مقامات ہیں جن کا تفصیل کے ساتھ طے کرنا ہر سالک کے لیے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں لازمی ہے۔

اس میں توبہ تو رجوع الی اللہ کی ابتدا اور گناہوں سے رکنا ہے۔ انابت خیر کے اعمال کی طرف میلان کا بڑھانا ہے۔ زہد اور ریاضت سے جسم کو مشقتوں کا عادی بنانا ہے اور تقویٰ ان چاروں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کا عملی نفاذ کرانا ایک الگ شعبہ اور مقام ہے۔ تقویٰ جب حاصل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انہونی میں ہونا دکھاتا ہے، يَجْعَل لَّهٗ مَخْرَجًا۔ اور اس طرح اس میں اور بہت سارے صفات تقویٰ کے جو قرآن پاک میں بیان ہوئے، انہونی میں ہونا دکھاتا ہے، جس سے توکل کو فروغ ہوتا ہے۔ آدمی کا یقین بن جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کرتا ہے، سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد سب کچھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تشریعی ہو یا تکوینی، تسلیم کر لیتا ہے۔ یہ تسلیم کا مقام ہے۔ تسلیم کر لیتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ صبر ہے۔ جو بھی حالات آئیں اس کے اوپر صبر، جو پورے دین کی جان ہے۔ اس کے بعد انسان صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ سے قلباً، قالباً، قالاً اور حالاً راضی ہو جاتا ہے۔ یہ مقامِ رضا ہے۔ تسلیم کے بعد مقامِ رضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ نعمت آئی ہے ورنہ ہم کہاں اور ہماری حیثیت کیا؟ ایسے جوڑ اللہ تعالیٰ نے حضرت کے دس مقامات کے اندر ماشاء اللہ ظاہر فرمایا۔ قلباً، قالباً، قالاً اور حالاً راضی ہو جاتا ہے جس کو مقامِ رضا کہتے ہیں، یہی وہ مقام ہے جس کے بعد فی الحقیقت تو آخرت میں اور بشارتاً وہی والی بات، یعنی آخرت میں تو اصل ہے نا اور یہاں تو ظل ہے، تو بشارتاً اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔ گویا کہ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي، اس کو نفسِ مطمئنہ کا مقام کہتے ہیں۔ اس کو نفسِ مطمئنہ کا مقام کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ اس سے ساتھیوں کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اصل مقامات کیا ہیں اور دعوے کیا ہیں۔ جب اصل مقامات ہوں تو دعویٰ ختم ہو جاتا ہے۔ اصل مقام جب آ جاتا ہے نا پھر دعویٰ ختم ہو جاتا ہے، کمال کی بات ہے۔ دعوے ختم ہو جاتے ہیں اگر مل گیا تو۔ مثلاً بزرگی کو لے لو، بزرگی ایک دعویٰ ہے لیکن اصل بزرگی جب آ جائے؟ بس ختم۔ تو پھر آپ اس پہ قسم کھائیں نا ، جی آپ بزرگ ہیں، کہتے ہیں یار آپ کی قسم اپنی جگہ ٹھیک ہو گی حُسنِ ظن ہے، لیکن مجھے اپنے آپ کا پتہ ہے۔ مجھے اپنے آپ کا پتہ ہے کہ میں کیا ہوں۔ تو یہ ہے۔ آگے بات آرہی ہے، ماشاء اللہ، اللہ تعالیٰ نے ماشاء اللہ بہت،

ان میں سے کون سی چیز ہے جو مراقبہ کے ذریعے سے حاصل ہو؟ ان میں سے کون سی چیز ہے جو مراقبہ کے ذریعے سے حاصل ہو؟ اب ایک بہت بڑا نکتہ اس کے اندر آیا ہے اس کو اچھی طرح نوٹ فرما لیں، الحمدللہ۔ مثلاً مقامِ رضا ہی کو لے لیجئے، جس کو ہم زیادہ تر مراقبہ کے قریب سمجھتے ہیں۔ مقامِ رضا ہی کیونکہ زہد وہ تو مراقبہ کے ذریعے سے نہیں ہے نا وہ تو عملی ہے۔ لیکن مقامِ رضا یہ اس کو زیادہ تر مراقبہ سے قریب سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً مقامِ رضا ہی کو لے لیجئے، ایک راضی ہونے کا سوچ ہے اور ایک راضی ہونا ہے۔ ایک راضی ہونے کا سوچ ہے اور ایک راضی ہونا ہے۔ یہ سوچ جو ہے راضی ہونے کی اہمیت کے علم اور نفس کے اس پر راضی ہونے کے درمیان کی حالت ہے۔ علم میں تو سب کو حاصل ہے نا؟ علم میں تو سب کو حاصل ہے لیکن عملاً بہت کم لوگوں کو حاصل ہے اور اس کا جو سوچ ہے وہ درمیان کی چیز ہے، وہ درمیان میں آتا ہے، اچھا درمیانی حالت ہے۔

تو یہ درمیان کی حالت تو کوئی مراقبہ کے ساتھ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ درمیان کی حالت، جو کہ جذبِ کسبی میں حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن نفس کا اس پر راضی ہونا یہ نفس کی تربیت و اصلاح کے بعد ہی ممکن ہے۔ نفس کا اس پر راضی ہونا یہ نفس کی اصلاح اور تربیت کے بعد ہی ممکن ہے، جس کے لیے سلوک کا طے کرنا لازم ہے۔ اب سمجھ میں آگئی بات؟ جس کے لیے سلوک کا طے کرنا لازم ہے۔ اسی پر حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوب نمبر 287 میں زور دیا ہے۔

یعنی اصل میں حضرت نے جو اس پر اتنے زیادہ پرزور الفاظ بیان فرمائے ہیں کہ تاکہ یہ چیز لوگوں پہ واضح ہو جائے کہ عملاً اور چیز ہے اور سوچ اور چیز ہے۔ آپ سوچ میں بے شک بہت کچھ حاصل کر لیں، لیکن عملاً کیا ہے؟ یہ شیخ چلی کا سوچ تو نہیں ہوا؟ وہ بھی تو سوچ ہی ہے نا؟ خیال ہی خیال میں سارا کچھ حاصل کر لیا۔ بھئی خیال بیکار بھی نہیں ہے لیکن خیال اصل بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ خیال آپ کو پہنچا سکتا ہے، ذریعہ ہے۔ لیکن پہلے سے نہ واپس ہو جانا جب تک حاصل نہ ہو، کیونکہ آپ کو اگر بیسویں سیڑھی پر منزل حاصل ہونی ہے اور آپ انیس سے واپس ہو گئے تو کتنے کامیاب ہو گئے؟ کتنے کامیاب ہو گئے؟ ناکام ہوگئے۔

ایک بڑا Interesting Question ہے، سو میٹر پر پانی ہے، سو میٹر پر پانی ہے، بورنگ کرتے ہیں، پچاس پچاس میٹر کے آپ سو بورنگ کر لیتے ہیں، کتنا پانی نکلے گا؟ بس یہی بات ہے۔ اگر آپ تکمیل سے پہلے واپس ہو گئے تو یہ محرومی ہے، اسی کو مجذوبِ متمکن کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہی مجذوب متمکن ہے۔ تکمیل سے پہلے واپس ، اور سمجھ گئے کہ ہم کامل ہو گئے، بہت خطرناک بات ہے۔ حضرت نے یہی رونا رویا ہے۔ یہی چیز ہے۔ اس پہ بڑا زور دیا ہے۔ صحیح بات ہے میں تو پریشان ہو گیا تھا جب میں نے حضرت کے اس مکتوب شریف کو پہلی دفعہ پڑھا تو میں حیران ہوگیا، میں نے کہا یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ کیونکہ اس میں میرے تو سارے سوالوں کے جواب تھے، لیکن اتنا زور حضرت نے جو دیا ہے، آپ سب نے سنا ہے؟ ماشاء اللہ، کتاب میں بھی موجود ہے اور سب نے سنا بھی ہے، کس قدر پرزور الفاظ ہیں وہ۔ مثال کیا دی ہے حضرت نے؟ ابتدا سے مثال کیا دی ہے؟ مثال یہ دی ہے کہ کوئی شخص خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہو گیا، دیکھیں۔ خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہو گیا، راستے میں اس نے ایک جگہ خانہ کعبہ جیسا دیکھا اور اس کو خانہ کعبہ سمجھ بیٹھا اور وہیں پر اعتکاف شروع کر لیا۔ یہ بے چارہ تو محروم ہی ہے ۔ دوسرا شخص ہے وہ چلا ہی نہیں ہے لیکن اس کو پتہ ہے کہ خانہ کعبہ اصل میں کہاں ہے، کون سا ہے۔ یہ محروم ہے عملاً، علماً نہیں۔ وہ علماً بھی محروم ہے عملاً بھی محروم ہے، وہ جو پہلے والا کیس ہے، علماً بھی محروم ہے عملاً بھی محروم ہے۔ یہ شخص جو کہ خانہ کعبہ گیا نہیں، روانہ ہی نہیں ہوا، روانہ ہی نہیں ہوا لیکن جانتا ہے کہ خانہ کعبہ کدھر ہے، یہ علماً محروم نہیں ہے عملاً محروم ہے۔ تیسرا آدمی چل پڑا، پہنچا بھی نہیں ہے، لیکن پتہ ہے اس کو کہ اصل خانہ کعبہ کدھر ہے، رکا نہیں۔ تو یہ ابھی راستے میں ہے، علماً تو محروم نہیں ہے عملاً بھی محروم نہیں ہے، لیکن عملاً پہنچا بھی نہیں ہے۔ یعنی پہنچنے اور اس کے درمیان ہے۔ ابھی درمیان میں ہے اور ایک شخص پہنچ گیا وہاں پر اور خانہ کعبہ اصل میں وہاں پہنچ گیا۔ فرمایا اصل تو وہی ہے جو آخر میں ہے۔ لیکن جو Thirdہے، وہ اس کے بعد ہے کامل، تھرڈ جو ہے وہ روانہ ہوا ہے پہنچا نہیں ہے لیکن اصل خانہ کعبہ کو جانتا ہے راستے میں کسی اور چیز کو خانہ کعبہ نہیں سمجھتا۔ اور جو چلا ہی نہیں ہے وہ تیسرے نمبر پر ہے، کیونکہ چوتھے نمبر پر وہ ہے جو بیچارہ محروم ہی ہے کیونکہ علماً بھی محروم ہے عملاً بھی محروم ہے۔ اب دیکھ لیں وہ علماء جو مقامات کو اچھی طرح علماً جانتے ہیں لیکن اس پہ کام ہی نہیں شروع کیا۔ یہ تو ہیں دوسرے نمبر پر۔ وہ جاہل جنہوں نے کام شروع کیا لیکن درمیان میں کسی چیز سے دھوکا کھا گئے۔ وہ ہے پہلے والی صورت۔ وہ شخص جو کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی کامیاب نہیں ہوا، یہ تیسری صورت ہے۔ اور جو الحمدللہ مکمل ہو گیا، منتہی مرجوع ہو گیا تو وہ سبحان اللہ وہ اصل جگہ پہ پہنچنے والا ہے۔ تو اس پر حضرت نے کیسی مثال سے ایک چیز ثابت کر دی کہ وہ جو مجذوب متمکن ہے اس کو کون سی Category میں ڈالا ہے؟ اس سے وہ لوگ اچھے ثابت ہو رہے ہیں جو اس راستے پہ ابھی چلے ہی نہیں لیکن جانتے ہیں اس کو۔ جانتے ہیں اس کو۔ تو حضرت نے بالکل اتنی خوبصورتی کے ساتھ ایک چیز کو واضح کر دیا، پھر اس کے بعد اخیر میں جو Comments ہیں، اوہ۔۔۔! مجذوب متمکن کے بارے میں۔ تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ہمارا نتیجہ کیا ہوگا کام کرنے کا؟

فقیر پورے طور پر جب دنیا کو ملاحظہ کرتا ہے تو اس کو محض خالی پاتا ہے، اور اس کے دماغ میں مطلوب کی کچھ بھی خوشبو نہیں پہنچتی۔

حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اس جگہ مطلوب کو تلاش کرنا اپنے آپ کو پریشان کرنا یا غیر مطلوب کو مطلوب جاننے (کی غلطی کرنا ہے) چنانچہ اکثر لوگ اس میں گرفتار ہیں اور اپنے خواب و خیال میں محوِ آرام ہیں۔ اس مقام میں صرف نماز ہی جو اصل کی خبر دیتی ہے اور مطلوب کی خوشبو سنگھاتی ہے۔ ودُونَه خَرْطُ القَتادِ(اس کے علاوہِ بے فائدہ رنج اٹھانا ہے)۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت کے فیوض و برکات سے کامل حصہ عطا فرما دے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں، ان حضرات کی کتابوں سے ہمیں جو نور ملتا ہے اس کی ناقدری میں آج کل بہت دیکھتا ہوں، بہت زیادہ، بہت زیادہ ناقدری ہے۔ یعنی دیکھیں، ہم کتنا کوشش کرتے اور ان چیزوں کو پاتے؟ یہ تھوڑی دیر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ باتیں پہنچائیں تو اس وجہ سے باقاعدہ جیسے مثنوی مولانا روم کے درس ہوا کرتے تھے پہلے، اب نہیں۔ مکتوبات شریف کے درس ہوا کرتے تھے پہلے، اب نہیں۔ ایک تو یہ ہے نا مکتوبات شریف کو سنانا وہ اور ہے، مکتوبات شریف کو سمجھانا کیونکہ علم تو آپ کو سمجھانے سے منتقل ہو گا نا؟ آپ نے صرف سن لیا تو برکت تو حاصل ہو جائے گی لیکن سمجھانے سے اس کا علم حاصل ہوگا تو سمجھانے والی بات جو ہے نا وہ آج کل بہت کم ہے، بہت کم ہے۔ تو ان حضرات کے فیوض و برکات سے حصہ لینے کے لیے ہم لوگوں کو یہ کرنا چاہیے۔

اب ہمارے ہاں بھی یہی صورتحال ہے کہ پہلے پہلے کافی اس کی طرف توجہ تھی۔ لوگ اس میں دلچسپی لیا کرتے تھے، لیکن اب دلچسپی کافی لوگوں کی کم ہو گئی ہے، وہ جو ہوتی تھی ، وہ چیز اب کم ہو گئی ہے۔ شاید وہ رج گئے ہوں گے، ان کے خیال میں شاید وہ مطلوب پا گئے ہیں۔ خیر، لیکن بہرحال ہمارے نزدیک تو ابھی بہت کچھ ہے، ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ اس کو نصیب فرماتے رہیں۔ تو بہت کچھ ہمارے پاس اس کے ذریعے سے آرہا ہے۔ طلب ہو،نا،طلب، تو اللہ تعالیٰ پہنچا دیتے ہیں۔ طلب جب ہو، یہ نعمت ہے بہت عظیم۔ اور اگر اللہ پاک اس کے وسائل پیدا فرمائے تو اس پر بڑا شکر ادا کرنا چاہیے۔

ایک بات مجھے ایک صاحب نے بتائی ہے یہیں پر اسلام آباد کے ساتھی ہیں ہمارے، کہتے ہیں میں نے آپ کا انٹرنیٹ پر بھی درس سنا اور یہاں آکر مجلس میں بھی سن لیتا ہوں، فرمایا بہت فرق ہوتا ہے انٹرنیٹ پر سننے میں اور یہاں مجلس میں سننے میں بہت فرق ہوتا ہے، یہ تو میں نے دیکھ لیا۔ میں نے کہا یہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی والوں کے لیے ہے باقیوں کے لیے نہیں ہے۔ کراچی والے، لاہور والے، امریکہ والے، انگلینڈ والے، سعودی عرب والے وہ اگر انٹرنیٹ پر سنتے ہیں ان کو ایسے ہی فیض ملے گا جیسے یہاں کا ہے، کیونکہ وہ معذور ہیں، ان کا عذر قبول ہے۔ لیکن راولپنڈی اسلام آباد والوں کا عذر قبول نہیں ہے۔ ان کو وقت فارغ کرنا اور اس مجلس میں آنا، اس پہ ہی ملے گا۔ ٹھیک ہے اگر گھر میں سنے گا کچھ نہ کچھ تو ملے گا ان شاء اللہ، یہ نہیں کہ بالکل نہیں ملے گا۔ لیکن ہاں جتنا یہاں آکر مل سکتا ہے اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ پوری خانقاہ کا جو ایک، خانقاہ ایک ظرف ہے تو اس میں مظروف جو آتا ہے اس کے اثرات پڑتے رہتے ہیں، پڑتے رہتے ہیں، پڑتے رہتے ہیں۔ اور یہ تو قدرتی بات ہے کہ جو اثرات پڑتے رہتے ہیں وہ اثرات دوبارہ واپس بھی آتے ہیں ان لوگوں کو جن کے پاس وہ اثرات نہیں ہوتے، ان کو ملتے رہتے ہیں۔ تو جو یہاں پر آتے ہیں باہر سے تو خانقاہ کے فیض کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں اور مکتوبات شریف کا فیض بھی لے لیتے ہیں، دونوں لے لیتے ہیں۔ اور جو وہاں ہے تو علمی فیض تو یقیناً لے لیتے ہیں جو انٹرنیٹ پہ بھی سنتے ہیں، علمی فیض تو یقیناً لے لیتے ہیں لیکن وہ کیف والا فیض وہ تو ہر ایک کا اپنا اپنا حصہ ہے جتنا اس کی طلب ہے اور جتنا اس کے لیے محنت اور مشقت اور مجاہدہ کیا گیا ہے، اس حساب سے۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں یہ باہر والوں کو کیوں ملتا ہے پورا؟ کیوں ملتا ہے؟ اس کی وجہ کہ ان میں تڑپ ہوتی ہے، طلب ہوتی ہے اور طلب کو پورا کرنے کا راستہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ وہ جو ان کی جو تڑپ ہے ان کو کامل کر لیتی ہے۔ یہاں کی تڑپ جھوٹ ہوتا ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ مجھ میں بڑا تڑپ ہے لیکن یہاں آ نہیں سکتا۔ تو ظاہر ہے وہ اپنے عمل سے اس کو جھوٹ ثابت کر لیتا ہے لہٰذا وہ چیز تو ان کو وہاں حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر وہ چیز نہیں ملتی جو بھلے وہاں کیونکہ ان کی طلب اصلی ہے وہ ان کا جو تڑپ ہے اصلی ہے کیونکہ ان کے پاس راستہ نہیں ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ بعض حضرات جو باہر والے ہیں مجھے اطلاع ملی ہے کچھ حضرات باقاعدہ باوضو اس طرح مجلس میں بیٹھتے ہیں جس طریقے سے یہاں پر ماشاء اللہ لوگ آتے ہیں باوضو، حالانکہ ان کا ٹائم بھی یہ نہیں ہوتا نا؟ ہمارا تو نماز کا ٹائم ہے، مغرب سے لے کے عشاء تک وضو تو درمیان میں ہوتا ہی ہے، الا ماشاء اللہ اگر کوئی کسی کا نہیں ہو تو بعد میں کر لیں گے، لیکن یہ ہے کہ Usually تو تقریباً سب کا وضو قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ لیکن جو انگلینڈ میں سنتا ہے ان کا وضو ہونا ارادی ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہاں نماز کا وقت ہی نہ ہو، وہ صرف اس کے لیے وضو کر رہا ہے، اہتمام دیکھیں۔ تو یہ جو چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ تو دیکھتا ہے؟ کیونکہ فیض تو اللہ دیتا ہے، دینے والی ذات تو اللہ کی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ کسی میں طلب ہے کسی میں وہ جو ان کو اس کے حساب کے مطابق مل جاتا ہے۔ ہمارا جو کام ہے وہ یہ کہ جو ہمارے ساتھ مثال کے طور پر دیکھ لیں جو ہمارے محلے میں ہیں کتنے لوگ ہیں جو آتے ہیں؟ سب سے کم۔ کیونکہ ان کو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم تو کسی وقت بھی آ سکتے ہیں، تو کبھی بھی نہیں آتے۔ اور جو دور والے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں جی ہم تو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ پشاور میں تھے، پشاور تو ناقدروں کی سپیشلائزیشن (Specialization) ہے، تو خیر وہ ایسا ہے کہ حضرت کے پاس دور کے مہمان بھی ہوتے تھے جیسے مانسہرہ کے کوئی ہیں، کوئی ڈیرہ اسماعیل خان کے، کوئی کہاں کے۔ تو کبھی شہر کے لوگ آ جاتے تھے، تو شہر کے لوگ ایسے ہوتے تھے جیسے مہمان، پشاور شہر کے جو لوگ آتے تھے وہ ایسے ہوتے تھے جیسے مہمان اور جو باہر والے ہوتے تھے وہ ایسے ہوتے تھے جیسے میزبان۔ تو حضرت بھی کبھی کبھی مسکرا لیتے تھے، فرمایا بھئی یہ تو ہمارے مہمان ہیں نا، یہ تو ہمارے مہمان ہیں۔ تو یہ سوچ سوچ کی بات ہے، سوچ سوچ کی بات ہے۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں تعلق کیا ہوتا ہے سن لو۔ ایک بڑے ولی اللہ مدینہ منورہ میں بیٹھے ہیں اور فاقہ کی حالت ہے، بہت پریشان، کوئی نظم نہیں، بعض دفعہ لوگوں سے پیسے گم ہو جاتے ہیں کوئی اور وجہ ہو جاتی ہے، تو فاقہ وہ غیور لوگ تھے کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے تھے، سوال نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے خود ایک صاحب ان سے لوگ ساتھی بچھڑ گئے تھے، کچھ بھی نہیں تھا ان کے پاس تو میں ان کے ساتھ ساتھیوں کو ڈھونڈ رہا تھا، اخیر میں میں ناکام ہو گیا کیونکہ اس وقت ظاہر ہے کچھ نہ کچھ کام تو ہوتا ہے۔ تو میں نے معذرت کی میں نے کہا کہ اب تو۔۔۔ میں نے کچھ پیسے ان کو دیے کر ناشتہ کر لو، تو وہ بیچارے کی بری حالت ہو گئی، کہتے ہیں میں تو لوگوں کو دیتا ہوں، میں نے کہا وہ لوگوں جو آپ دیتے ہیں وہ آپ اپنے علاقے میں دیتے ہیں اب اس وقت آپ کو کچھ کھانا تو ہے۔ تو ظاہر ہے بعض حضرات اتنے غیور ہوتے ہیں کہ وہ تو ان کو کوئی دیتا بھی ہے تو نہیں لے سکتے، چہ جائیکہ وہ سوال کرنا، تو بڑا مشکل کام ہے۔ تو وہ اسی حالت میں تھے۔ بہت تنگ ہو گئے تو روضہ اقدس کے سامنے بیٹھے اور شاید دل میں خیال آیا کہ اب تو برداشت سے باہر ہے، اب تو برداشت سے باہر ہے۔ تھوڑی دیر ہوئی ایک صاحب وہاں کھانے پینے کا لائے ہوئے ہیں ان کو بلایا، آجائیں میرے ساتھ، روانہ کیا جی، اپنے گھر لے گئے ان کو بٹھایا، خوب ان کو کھانا کھلایا۔ پھر فرمایا کہ جگہ دیکھ لیجئے۔ دیکھ لی۔ جب تک آپ ادھر رہیں تو آپ ہمارے مہمان ہیں، آپ کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے، بس ایک درخواست ہے۔ انہوں نے کہا کیا ہے؟ وہ سادات میں سے تھے اس علاقے کے، فرمایا کہ ہماری شکایت نہ کریں خدا کے لیے۔ تو انہوں نے کہا کیسے؟ کہتے ہیں ہمیں بڑی شرمندگی ہوتی ہے جب آپ ﷺ کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے۔ تو اشارہ کن کو ہوا؟ اپنی اولاد کو ہوا نا؟ اشارہ کن کو ہوا؟ اپنی اولاد کو ہوا کہ ان کو کھلاؤ۔ تو ظاہر ہے جب ایسی حالت ہوتی ہے تو اپنی اولاد ہی کو آگے ہونا ہوتا ہے نا، اپنے ساتھیوں کو آگے ہونا ہوتا ہے، تو میزبان تو وہی ہوتے ہیں نا۔ اب میزبان مہمان بن جائے یا مہمان میزبان بنے تو الٹی ترتیب ہے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ بڑی نعمتیں ہیں، اللہ جل شانہٗ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔


اس درس کے اختتام پر حضرت نے مزید وضاحت فرمائی ، جو کہ حسین احمد صاحب دامت برکاتہم نے تحریر فرمائی

مزید وضاحت:

مکتوب 263 دوسرا حصہ۔

اس مکتوب کا مرکزی مضمون یہ تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سچے طالب کو دنیا میں ہمیشہ تشنگی اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت کی مزید طلب رہتی ہے۔ یہاں دنیا میں اپنی حالت پر مکمل اطمینان ناکامی کی علامت ہے۔

اس مضمون پر ہمارے حضرت شاہ صاحب کے شعر کا ایک مصرعہ ہے،

در دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا۔

اس درس کے آخر میں حضرت شاہ صاحب نے درج ذیل ملفوظات ارشاد فرمائے ۔

فرمایا ؛

ہماری کتاب فہم التصوف بہت مفید کتاب ہے۔ اس کی ہماری خانقاہ میں تعلیم بھی ہوتی رہی ہے۔ لوگوں کو اس سے بہت فائدہ بھی ہوتا ہے۔ ایک صاحب نے مجھے کہا کہ اس کتاب کی موجودگی میں کسی دوسری کتاب کی تعلیم کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ اس کتاب فہم التصوف میں مکتوبات حضرت مجدد کی کچھ تعلیمات آئی ہیں۔ اس طرح مثنوی مولانا روم کی بھی۔ لیکن ظاہر یہ بزرگوں کی یہ کتابیں کسی ایک کتاب میں نہیں سما سکتی۔

اگر کوئی سالک اس کو پڑھ کر مزید گہرائی میں جانا چاہے ، تو اس کی رہنمائی کا بھی کوئی بندوبست ہونا چاہیے ۔

حضرت نے اس کی مثال دی جیسے فرض کریں کہ زمین کے نیچے 100 فٹ گہرائی پر پانی ہے۔ اگر کوئی شخص 70 فٹ کی ایک کھدائی اور دوسری ، 80 فٹ اور تیسری 95 فٹ تک کھدائی کرے، تو کیا اس کو پانی ملے گا؟ اس کو پانی تو نہیں ملے گا۔

اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کا فضل تو کسی پر ہوسکتا ہے، لیکن اس کی طرف سے بعض انعامات ایک خاص حد تک کوشش محنت اور طلب ظاہر کرنے پر ملتے ہیں۔ فرمایا ؛ کہ خود سوچیں مقام رضا جو ہمارا مقصود ہے، ہمیں یونہی بغیر طلب اور محنت کے ملے گا۔

فرمایا کہ الحمدللہ ہمارے ہاں حضرت مجدّد الف ثانی رح ، حضرت کاکا صاحب رح، حضرت شاہ ولی اللہ رح، حضرت شاہ اسماعیل شہید رح ، حضرت مولانا اشرف تھانوی رح اور حضرت سید سلیمان ندوی رح کی تعلیمات کا درس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک بزرگ کی اپنی خصوصیت اور اپنا رنگ تھا۔ جیسے حضرت سید سلیمان ندوی سیرت، حضرت تھانوی رح کو تفسیر میں خاص حیثیت حاصل تھی۔ ان تعلیمات سے ہر سالک اپنے رنگ اور ذوق کے مطابق فیض حاصل کرسکتا ہے۔

درس کے آخر میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ اصلاحی ذکر کے بعد سلوک کو شروع کرانا کیا صرف شیخ کی صواب دید پر ہے یا اس میں سالک کے اپنے داعیہ اور قلبی رجحان کو بھی دخل ہوگا۔

حضرت نے فرمایا کہ شیخ اور مرید کا تعلق ڈاکٹر اور مریض کے تعلق جیسا ہے۔ مریض کا کام صرف اپنی تکلیف اور حالت کا بیان کرنا ہے۔اور ڈاکٹر اس کی موجودگی حالت کے مطابق اس کو دوائی دیتا ہے۔علاج کے تمام مراحل سے مریض کو آگاہ کرنا ڈاکٹر کی زمہ داری نہیں۔

فرمایا ؛ کہ جب تک اپنا شیخ موجود ہے کسی اور شیخ کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت نے اپنے شیخ حضرت مولانا اشرف سلیمانی رح کی مجلس کا واقعہ سنایا جس میں ان کے شیخ حضرت مولانا فقیر محمد رح موجود تھے۔ لیکن مولانا اشرف صاحب کے مرید ان کی طرف متوجہ رہے، باوجود اس کے کہ وہ ان کو اپنے شیخ کی طرف متوجہ کرتے رہے۔ اسی طرح کا واقعہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رح کو اپنے شیخ اور دادا شیخ حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پیش آیا۔

نماز کی روحانی حقیقت اور مقاماتِ سلوک - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور