الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ:
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ اٰمِنُـوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰـهُ قَالُوْا أَنُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْـفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٝ ۖ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُـمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِيَاءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (91) وَلَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنَاتِ ثُـمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْـتُـمْ ظَالِمُوْنَ (92) وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاسْـمَعُوْا ۖ قَالُوْا سَـمِعْنَا وَعَصَيْنَا ۖ وَاُشْرِبُوْا فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْعِجْلَ بِكُـفْرِهِـمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٓ ٖ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ(93) قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الـدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (94) وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ ۗ وَاللّٰهُ عَلِـيْـمٌ بِالظَّالِمِيْنَ (95) وَلَتَجِدَنَّـهُـمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيَاةٍۚ وَمِنَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ يَوَدُّ اَحَدُهُـمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۗ وَاللّٰـهُ بَصِيْـرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (96)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام اُتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو (صرف) اُسی کلام پر ایمان رکھیں گے جو ہم پر نازل کیا گیا، (یعنی تورات) اور وہ اس کے سوا (دوسری آسمانی کتابوں) کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ بھی حق ہیں، (اور) جو کتاب ان کے پاس ہے وہ اُس کی تصدیق بھی کرتی ہیں۔ (اے پیغمبر!) تم ان سے کہو کہ اگر تم واقعی (تورات پر) ایمان رکھتے تھے تو اللہ کے نبیوں کو پہلے زمانے میں کیوں قتل کرتے رہے؟ ﴿91﴾ اور خود موسیٰ تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، پھر تم نے ان کے پیچھے پیچھے یہ ستم ڈھایا کہ گائے کے بچھڑے کو معبود بنا لیا ﴿92﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو بلند کر دیا (اور یہ کہا کہ) ”جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے تھامو اور (جو کچھ کہا جائے اسے ہوش سے) سنو۔“ کہنے لگے: ”ہم نے (پہلے بھی) سن لیا تھا، مگر عمل نہیں کیا تھا (اب بھی ایسا ہی کریں گے)“ اور (دراصل) اُن کے کفر کی نحوست سے اُن کے دلوں میں بچھڑا بسا ہوا تھا۔ آپ (اُن سے) کہئے کہ اگر تم مؤمن ہو تو کتنی بُری ہیں وہ باتیں جو تمہارا ایمان تمہیں تلقین کر رہا ہے! ﴿93﴾ آپ (اُن سے) کہئے کہ: ”اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے (جیسا کہ تمہارا کہنا ہے) تو موت کی تمنا تو کر کے دکھاؤ، اگر واقعی سچے ہو“ ﴿94﴾ اور (ہم بتائے دیتے ہیں کہ) انہوں نے اپنے جو کرتوت آگے بھیج رکھے ہیں، ان کی وجہ سے یہ کبھی ایسی تمنا نہیں کریں گے۔ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ﴿95﴾
اصل میں لوگوں کو اس کا جب پتہ چل جائے کہ کسی معاملے میں اللہ پاک فرما رہے ہیں کچھ، تو اس میں پھر انسان کی بس ہو جاتی ہے۔ انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ پاک تمام اندرونی بیرونی باتوں کو جس وقت کی بھی ہوتی ہیں وہ جانتے ہیں۔ اب یہ بات کرتے تھے آپ ﷺ سے۔ لیکن آپ ﷺ اپنی طرف سے بات نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ تو اللہ پاک کی طرف سے بات کرتے تھے۔ تو اب جو بھی یہ رسول اللہ ﷺ سے کہتے، یا رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے یا قرآن کے بارے میں کہتے، تو ادھر سے جواب چونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوتا تھا، تو جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا تھا۔ یہ مطلب بات تھی۔
اور وہ باتیں جو سوائے ان کے کسی اور کو معلوم نہیں تھیں، وہ بھی سب اللہ پاک نے اتاریں۔ ان کے پاس کوئی بات ہی نہیں رہی۔ کیونکہ وہاں دو قسم کے لوگ رہتے تھے، یا یہود رہتے تھے یا جو یہ اوس و خزرج والے رہتے تھے، جو بت پرست تھے اس وقت، اس سے پہلے۔ تو اوس و خزرج والے تو ان کی باتوں کو جانتے نہیں تھے کیونکہ وہ اہلِ کتاب نہیں تھے۔ لیکن یہ لوگ جو ہیں نا مطلب اپنے اندر ہی بس ساری باتوں کو چھپائے رکھے تھے۔ تو اللہ پاک نے ان کی باتوں کو ظاہر فرما دیا۔
تو اب دیکھیں،
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ، تو وہ کہتے ہیں ہم تو صرف اسی کلام پر ایمان رکھیں گے جو ہم پر نازل کیا گیا تھا، یعنی تورات، اور اس کے سوا دوسری آسمانی کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔
اب بظاہر یہ بات بڑی ان کی Logical تھی ان کے خیال میں کہ جو ہم پر نازل کیا ہے ہم اس پر عمل کریں گے، جو آپ پر نازل کیا ہے آپ اس پر عمل کریں۔ یہ بات بڑی بظاہر Logical لگتی ہے۔ لیکن اللہ پاک نے ان کے اندر کی بات کو رکھ لیا کہ نہیں، حالانکہ وہ بھی حق پر ہے اور جو کتاب ان کے پاس ہے وہ اس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ یہ اس کے اندر موجود ہے کہ ایک رسول آئیں گے اور یہ ہو گا، تو اس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ تو پھر یہ کیسے نہیں مانتے؟
اور پھر یہ بتایا کہ تم تورات کے بارے میں کہتے ہو کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، تو پھر ان کے کرتوت بتا دیے،
"اے پیغمبر تم ان سے کہو اگر تم واقعی تورات پر ایمان رکھتے تھے، تو اللہ کے نبیوں کو پہلے زمانے میں کیوں قتل کرتے رہے؟" جو تمہیں پتہ بھی تھا کہ یہ نبی ہیں، پھر اس کے بعد ان کو کیوں قتل کیا؟ یعنی دیکھیں نا اس وقت جو علماء ہیں، اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ۔ علماء جو ہیں نا وہ انبیاء کے وارث ہیں، تو لوگ ان کے مخالف ہیں یا نہیں؟ اور بعض لوگ شہید بھی کرتے ہیں ان کے علماء کو شہید بھی کرتے ہیں۔ تو اب یہ بات ہے کہ جیسے اس وقت کے علماء ہیں، اسی طریقے سے ان کے لیے ایسے تھے وہ انبیاء کرام کہ جیسے مطلب علماء ہوں، یعنی ان کی زیادہ وہ پروا نہیں کرتے تھے وہ، بالکل ان کے ساتھ بالکل نارمل طریقے کے ساتھ جو ہے نا مطلب وہ کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا اتنا پروا نہیں کرتے تھے تو ظاہر ہے مطلب یہ کہ اللہ پاک کی باتوں کا مذاق اڑاتے، ابھی آیا ہے نا اس میں، مطلب جو ہے نا وہ، تو پھر ظاہر ہے ان کے اوپر پھر مصیبت تو نازل ہونی تھی۔
تو پیغمبروں کے ساتھ وہ ایسا کرتے، "کہ تم اپنے…
اللہ کے نبیوں کو پہلے زمانے میں کیوں قتل کرتے رہے؟" اور خود موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، پھر تم نے ان کے پیٹھ پیچھے یہ ستم ڈھایا کہ گائے کے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
اور گائے کے بچھڑے کیا بات تھی؟ اب دیکھیں، اندازہ کریں، اس میں کچھ نہیں تھا سوائے اس بات کے کہ اس کو سونے سے ڈھالا گیا تھا، وہ سونا جو ان لوگوں نے پھینکا تھا، اسے ڈال کے بچھڑا بنایا سامری جادوگر نے۔ پھر یہ کیا کہ سامری جادوگر کے جو مطلب جو ہے نا بچھڑا تھا، اس نے یہ کیا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام کسی وقت پہ ظاہر ہوئے تھے تو اس نے دیکھا تھا کہ اس کے گھوڑے کے سم کے نیچے وہ سبزہ نکل آتا تھا۔ تو اس نے کہا یہ تو بڑی عجیب چیز ہے، بابرکت ہے، تو اس نے اس کو اٹھا کے جو ہے نا مطلب اس میں ڈال دیا اس مٹی کو، اس بچھڑے کے اندر ڈال دیا۔ اس میں ایسی چیز پیدا ہو گئی کہ وہ خوار، مطلب ایک آواز سی نکلتی تھی اس میں، ایک آواز سی نکلتی تھی۔ بھئی آواز اگر نکلتی بھی ہے تو یہ کوئی اس کے خدا ہونے کا ثبوت تو نہیں ہے نا۔ اس کے علاوہ نہ کچھ بول سکتا ہے نہ کچھ جو ہے نا مطلب یعنی کہ وہ کچھ اور کام کر سکتے ہیں، لیکن بس اس کو بنیاد بنا کے۔
تو یہ بات ہے کہ...
اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر طور کو بلند کر دیا، اور یہ کہا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے تھامو۔
یہ اصل میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل پچھلی آیت نمبر 63 میں گزر چکی ہے۔ وہ جو بچھڑے کا واقعہ ہے وہ بھی آیت 51 کے تحت آیا ہے۔
اب یہاں پر دیکھیں یہ طور کا... جو ہے نا پہاڑ طور کو جو ہے نا اس کے اوپر لایا گیا تو اس کے کئی Interpretation ہیں، کچھ لوگ... مطلب کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ بالکل اوپر کھڑا کر دیا، دوسرے حضرات کہتے ہیں نہیں جیسے مطلب زلزلہ سا آیا ہو اس طرح مطلب جو ہے نا جیسے ابھی ان کے اوپر گر جائے گا۔ تو اس وقت ان سے عہد لے لیا گیا۔ خیر بہرحال وہ تو اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے کہ واقعہ کیا تھا لیکن یہاں اس کا اتنا ذکر ہے۔
"آپ ان سے کہیے کہ اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے، جیسا کہ تمہارا کہنا ہے..."
یعنی اپنے آپ کو Chosen people کہتے تھے نا یہ، ہم Selected لوگ ہیں بس، سب بات ہماری چلے گی۔ "تو موت کی تمنا کر کے دکھاؤ اگر واقعی سچے ہو۔" "اور ہم بتائے دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جو کرتوت آگے بھیجے ہیں ان کی وجہ سے کبھی یہ ایسی تمنا نہیں کریں گے۔" یہ بات ان کے ساتھ ایسی تھی۔
یہ بھی قرآن کریم کی طرح ایک Challenge تھا جسے قبول کرنا ان کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں تھا اور بآسانی کم از کم زبان سے اعلانِ موت کی تمنا کر کے دکھا سکتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خدائی چیلنج ہے اور اس لیے ایسی تمنا کا اظہار انہیں فوراً قبر میں پہنچا دے گا، اس لیے کسی نے ایسی جرات نہیں کی۔
ہاں جی مطلب انہیں کوئی ڈر تو تھا، ہے تو پیغمبر۔ تو اگر مطلب ہم نے... ہم نے کہہ دیا کہ چلو جی ہمیں موت دے، اگر ہم جھوٹے ہیں، ہاں جی؟ یہ مباہلہ... مباہلہ اسی کو کہتے ہیں نا۔ مباہلہ آپ ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے اپنے چادر کے نیچے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حسن، حسین، ان کو بٹھا کے مطلب کہا کہ مطلب اگر... تو یہ مباہلہ کہلاتا ہے۔
تو یہ بھی اس قسم کی بات تھی کہ اگر ہم مطلب سچے ہیں تو مطلب جو ہے نا وہ ہمیں اللہ پاک موت دے دے، مطلب ظاہر ہے ہمیں تو، کیونکہ ظاہر ہے ہم تو Chosen لوگ ہیں تو وہاں تو ہمیں نوازا جائے گا، لہذا کہہ دو کہ ہم... لیکن کہتے ہیں اللہ پاک نے فرمایا ایسا نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے ہیں ان کے لیے بڑے خطرناک ہیں اور ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، یہ تو صرف زبانی بات ہے، تو اس وجہ سے کبھی بھی نہیں کہیں گے۔
آگے آتا ہے یہ بات،
"بلکہ یقیناً تم ان لوگوں کو پاؤ گے کہ انہیں زندہ رہنے کی حرص دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ ہے، یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں کا ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک ہزار سال عمر پائے، حالانکہ کسی کا بڑی عمر پا لینا اسے عذاب سے دور نہیں کر سکتا۔ اور یہ جو عمل بھی کرتے ہیں اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔
اے پیغمبر کہہ دو اگر کوئی شخص جبرائیل کا دشمن ہے..." جبرائیل علیہ السلام، تو ہوا کرے، "...انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے، جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے اور ایمان والوں کے لیے مجسم ہدایت اور خوشخبری ہے۔" بعض یہودیوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے ہیں، وہ چونکہ ہمارے لیے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لیے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ وحی لا رہا ہوتا تو ہم کچھ غور کر سکتے تھے۔ یہاں تو ان کے جواب میں نازل ہوئی تھی اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی وجہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔
یہ بھی ان کی جہالت کی انتہا تھی، اس کو پڑھی لکھی جہالت کہتے ہیں، پڑھے لکھے لوگ تھے، لیکن جاہل تھے کہ بھئی فرشتے کا تو Definition ہی یہی ہے کہ وہ خود سے کچھ نہیں کرتا۔ ان کو تو ہر چیز بتائی جاتی ہے یہ کرو، وہ کرتے ہیں، یہ کرو تو یہ کرو، یہ کرو تو یہ کرو۔ ذرا بھر بھی يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وہ جس چیز کا حکم دیا جاتا ہے وہی وہ کرتے ہیں۔ کسی اور چیز کی ان کو صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے ان کو بنایا ایسا ہے کہ وہ کچھ اور کر ہی نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر اگر کسی وقت ان کا دل کسی اور کے ساتھ... مطلب کسی اور کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتے ہو تو انتظار کریں گے کہ اللہ پاک اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اللہ پاک اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ تو اللہ پاک حکم دے گا تو کریں گے، نہیں دے گا تو نہیں کریں گے۔ تو یہ بات ہے کہ... ان کا معاملہ تو یہ ہے۔
تو جبرائیل علیہ السلام تو اپنے تو کوئی بات نہیں کرتے، اللہ پاک کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ تو اللہ پاک نے جو بھی ان کو بھیجا تھا... بھجوایا تھا، ان کے ذریعے سے بھیجا تھا وہ اللہ پاک نے بھیجا تھا۔ ہاں تم لوگوں کے اعمال تمہارے دشمن ہیں کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جس کی وجہ سے سخت باتیں آتی تھیں، نتیجتاً تمہیں نقصان ہو جاتا تھا۔ اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
سورۃ البقرہ (آیات 91 تا 98) کی تفسیر۔
یہود کا تورات پر ایمان کا جھوٹا دعویٰ اور انبیاء کا قتل۔
بچھڑے کی پوجا اور سامری جادوگر کا واقعہ۔
کوہِ طور کا اٹھایا جانا اور میثاق۔
"Chosen People" (منتخب قوم) ہونے کا زعم اور موت کی تمنا کا چیلنج (مباہلہ)۔
یہود کی زندگی کی حرص۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام سے یہود کی دشمنی اور فرشتوں کی حقیقت (Definition)۔