الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لَنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ وَأَفْضَلُ أَفْرَادِ الزَّمَانِ وَشَرَعَ لَنَا الِاعْتِكَافَ فِي بُيُوتِ الرَّحْمَنِ. وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَيِّدُ أَهْلِ الْبَوَادِي وَالْعُمْرَانِ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ سَادَاتِ أَهْلِ الْإِيمَانِ وَالْعِرْفَانِ. أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ حَانَ الْعَشْرُ الْأَخِيرُ مِنْ رَمَضَانَ، هُوَ زَمَانُ الِاعْتِكَافِ وَزَمَانُ تَحَرِّي لَيْلَةِ الْقَدْرِ لِنَيْلِ الْأَجْرِ وَالرِّضْوَانِ. وَقَدْ نَطَقَ بِفَضْلِهِمُ الْحَدِيثُ وَالْقُرْآنُ. فَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ". وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّهِ: "فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ". وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ". وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الْمُعْتَكِفِ: "هُوَ يَعْتَكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا". وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ". وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: "مَنْ شَهِدَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي جَمَاعَةٍ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْهَا وَكَأَنَّهُ تَفْسِيرٌ لِلْمَرْفُوعِ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ فَالَّذِي شَهِدَ فِي جَمَاعَةٍ لَمْ يُحْرَمْ خَيْرَهَا". أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ. صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات!
آپ ﷺ نے رمضان شریف کے فضائل جو بیان فرمائے تھے، تو فرمایا: شَهْرٌ مُبَارَكٌ، مبارک مہینہ ہے۔ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، اس میں ایک رات ہے جو لیلۃ القدر ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو رمضان کے برکات ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن لیلۃ قدر کے برکات یہ باقاعدہ بطور گویا کہ ترجیح یعنی آپ ﷺ نے بتایا ہے رمضان شریف کے لیے ترغیب کے طور پر کہ اس میں لیلۃ القدر ہے۔ تو لیلۃ القدر جو ہے، یہ اس لحاظ سے بہت زیادہ اہم رات ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی علماء ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی امت کے کم عمری کا بہت احساس تھا کہ یہ زیادہ عبادت نہیں کر سکتے۔ یعنی وقت تھوڑا ہے۔ زیادہ سے زیادہ عمر ان کا جو average ہے وہ تقریباً ساٹھ ستر سال ہوتا ہے۔ تو یہ ساٹھ ستر سال میں جتنا وہ کر سکتے ہیں وہ کریں گے، جبکہ گزشتہ امتوں میں بڑی لمبی لمبی عمریں تھیں۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تو تبلیغ کی ہے۔ اس طرح آدم علیہ السلام کا، اس طرح ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، اس طرح دوسرے جو ہمارے پیغمبر تھے، ان کی عمریں لمبی لمبی تھیں اور ساتھ اسحاق علیہ السلام کا دو سو سال سے بھی زیادہ تھی۔ اس طرح کے ان کے امتی تھے ان کی بھی بڑی لمبی لمبی عمریں تھیں، تو ان کو بڑا موقع حاصل تھا۔ اب آپ ﷺ چونکہ اللہ پاک کے محبوب ہیں، تو یقیناً آپ ﷺ سب کچھ وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کے دل میں اللہ جل شانہ نے امت کی جو محبت رکھی تھی، اس کی وجہ سے آپ ﷺ اپنی امت کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ تو اس میں یہ فکر بھی تھی کہ ان کو زیادہ chance نہیں مل پا رہا۔ اس پر اللہ جل شانہ نے آپ ﷺ کی اس فکر کی برکت سے ایک خاص رات، لیلۃ القدر اس امت کو عطا فرمائی۔ جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔
یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔ آج کل یہ بھی ایک fashion بن چکا ہے نا، جو کام نہیں کرنا ہو تو کہتے ہیں یہ ضعیف حدیث ہے۔ یہ بھی ایک بڑی عجیب بات ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی چیز کے بارے میں دس صحیح احادیث شریفہ موجود ہیں، قرآن کی آیتیں موجود ہوں، اور ایک ضعیف حدیث بھی کسی نے بیان کی اس سلسلے میں، اور کہتے ہیں نہیں جی یہ ضعیف حدیث ہے۔ بھئی ضعیف حدیث ہے لیکن وہ جو صحیح حدیث ہے اس کو بھی تو دیکھو نا! وہ جو قرآن کی آیت ہے اس کو بھی تو۔
جیسے ذکر کے بارے میں، اب ذکر کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ "وَاذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا"۔ اس طریقے سے "فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ"۔ ہاں، اس طرح "إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ" اس طرح یہ بہت ساری آیتیں قرآن پاک کی، ذکر کے بارے میں آئی ہیں اور اس طرح احادیث صحیحہ، اس کے موجود ہیں۔ اب یہ ہے کہ اگر کوئی حدیث شریف مثال کے طور پر علماء نے ضعیف بھی بیان کی ہے، ذرا مزید ترغیب کے لیے، تو اس سے وہ ضعیف... اس سے وہ صحیح حدیث تو متاثر نہیں ہو سکتی، نہ اس سے وہ قرآن کی آیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ وہ تو بالکل اپنی جگہ پر مسلّم ہے۔ تو آج کل یہ fashion ہے کہ کسی کام کو نہیں کرنا ہو تو بس ضعیف حدیث کہہ کر جو ہے نا بالکل آگے... "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"۔
نہ کرو اگر نہیں کرنا چاہتے ہو تو دوسروں کو کیوں روکتے ہو؟ یہ کام غلط ہے۔ دوسروں کو روکنا تو شیطان کا کام ہے، نیک کام سے۔ تو شیطان بننا چاہتے ہو؟ تو نیک کام کی تو حوصلہ افزائی کرو۔ یہ فضائل میں جو ضعیف حدیث کی اجازت ہے، یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ نیک کام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ورنہ صحیح بات ہے کہ ضعیف حدیث ضعیف ہوتا ہے، صحیح حدیث صحیح ہوتا ہے۔ لیکن اس حوصلہ افزائی کے لیے کہ عین ممکن ہے کوئی اس کی وجہ سے وہ کام کر لے تو وہ کام بذاتِ خود تو صحیح ہے نا؟ مثلاً نماز کوئی نہیں پڑھتا۔ اگر کوئی مثال کے طور پر کسی ضعیف حدیث کا حوالہ دے کر نماز کا بہت بڑا اجر اس کو بتا دے اور اس کی وجہ سے نماز پڑھ لے تو نماز تو قرآن سے ثابت ہے، حدیث سے ثابت ہے، صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اس میں تو اس نے کوئی نقصان نہیں کیا نا۔ نماز اگر پڑھ لی تو اس کا تو فائدہ ہو گیا۔ کوئی تبلیغ میں جماعت میں نہیں جاتا، تو کوئی اگر اس کی تبلیغ کے فضائل بیان کرتا ہے تو اگر ضعیف حدیث کے بھی ہو، تو کم از کم اس کو تبلیغ میں جانے کا موقع تو مل جائے گا۔ کوئی علم حاصل نہیں کرنا چاہتا، اس کو علم کے فضائل بتا دو۔ اس میں اگر ضعیف حدیث بھی آ گئی اور اس کی وجہ سے اس نے علم حاصل کرنا شروع کر دیا، تو اس کو علم کی فضیلت تو حاصل ہو جائے گی نا۔ وہ تو ختم نہیں ہوئی نا۔ تو یہ بات آج کل میں اس لیے بات کر رہا ہوں کہ آج کل ہر طرح سے مسائل ہیں۔ اور وہ جو مذہب کے رنگ میں مذہب کی مخالفت ہوتی ہے، وہ بہت خطرناک ہوتی ہے، وہ بہت مشکلات ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے میں نے خاص طور پہ عرض کیا کہ یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے، یہ قرآن کی سورۃ ہے۔ سورۂ قدر اس کا نام ہے۔ پورا نام ہی اس کا سورۂ قدر ہے۔
اور اللہ جل شانہ نے اس کو بڑی شان سے بیان فرمایا: "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ"۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے انداز کو دیکھ لیں کہ اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اللہ پاک فرماتے ہیں تمہیں کیا پتا لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ "وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ"۔ "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ"۔ لیلۃ القدر تو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ ہزار مہینوں سے افضل رات کا مطلب سمجھتے ہیں کہ کیا ہے؟ ہزار مہینے تقریباً بنتے ہیں تراسی (83) سال۔ پس میرے خیال میں اگر تراسی سال تک مسلسل انسان عبادت کرے اور لیلۃ القدر نہ پائے، اور دوسرا شخص ہے جو لیلۃ القدر پائے ایک، اور وہ تراسی سال وہ عبادت نہ کر سکے (فرائض تو کرنے پڑتے ہیں، وہ تو ظاہر ہے وہ تو لازم ہیں، یعنی کوئی نفلی عبادت نہ کر سکے کوئی ایسا کام نہ کر سکے جس سے انسان کا مقام بڑھتا ہو آگے) وہ نہ کر سکے، تو اس کا مقام اس سے اونچا ہے۔ وہ لیلۃ القدر والے کا۔ "خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ" فرمایا، یعنی اس سے اونچا ہے، . اس سے زیادہ ہے۔ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
پھر اس کی شان مزید بیان فرمائی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ"۔ اس میں ماشاءاللہ فرشتے اترتے ہیں۔حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سرپرستی میں وہ اترتے ہیں اور ماشاءاللہ وہاں پر جو کھڑے ہوتے ہیں، نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، جو بیٹھے ہوتے ہیں، جو دعائیں کر رہے ہوتے ہیں، ان سب کے لیے دعا فرماتے ہیں۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض خوش نصیب لوگوں کے ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں۔ جس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کو کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ کپکپی... مطلب جسم ہمارا انسانی ہے، اور جبرائیل علیہ السلام فرشتہ ہے۔ اب فرشتہ کا جسم نورانی جسم جو ہے، اور انسان کا یہ جسم جو ہے، وہ اگر ٹکراتا ہے آپس میں، تو انسان میں تو برداشت نہیں ہے۔ تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ تو اس طرح اور بہت سارے... اب یعنی مطلب بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ کتابوں میں بہت سارے واقعات لکھے ہوئے ہیں، اور وہ واقعات کو ہم غلط نہیں کہتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مختلف رنگ ہیں۔ شہد نہیں شہد؟ جرمنی میں میں نے دیکھا تھا کہ شہد جو ہے مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں تو زیادہ تر براؤن (brown) ہوتا ہے نا یہاں، یا سفید ہوتا ہے، پاکستان میں مطلب یا براؤن ہوتا ہے یا سفید ہوتا ہے۔ وہاں ہم نے سبز شہد دیکھا ہے، سرخ دیکھا ہے، کالا دیکھا ہے، براؤن دیکھا ہے، اس طرح مختلف رنگوں کا شہد وہاں پر ہے، مطلب وہ پایا جاتا ہے۔ تو اللہ پاک کی شانوں کا بھی، اللہ پاک کے رحمتوں کا بھی مختلف رنگ ہے۔
تو اب ظاہر ہے مختلف طریقوں سے ظہور ہو سکتا ہے۔ تو کچھ لوگوں نے دیکھا کہ سمندر کے پانی کو منہ میں ڈالا تو کڑوا ہوتا ہے، وہ میٹھا تھا۔ کسی نے یہ دیکھا۔ کسی نے دیکھا کہ چیزیں سجدے میں پڑی ہوئی ہیں۔ درخت بھی سجدے میں ہیں اور بھی ہیں۔ کسی نے روشنی دیکھی۔ اور ایک دفعہ ایک عجیب مشاہدہ ہوا، ہم حضرت مولانا اشرف سارا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں تھے، وہ ستائیسویں رات تھی۔ کمال کی بات یہ ہے کہ پشاور کے حساب سے اٹھائیسویں تھی۔ اور پاکستان کے حساب سے چھبیسویں تھی۔ اور بلوچستان کے حساب سے ستائیسویں تھی، اور وہ اصل میں ستائیسویں کی تھی۔ یعنی اس دفعہ ایسا ہی تھا نا۔ اچھا ستائیسویں کی رات تھی۔ اور ہم حضرت کے ہاں تراویح پڑھ رہے تھے، حضرت بھی تھے اس میں۔ سورہ یٰسین شریف آ رہا تھا۔ سورہ یٰسین شریف قاری صاحب پڑھ رہے تھے۔ وہ ایسی عجیب آواز اور ایسی عجیب مٹھاس، کہ ہم تو حیران ہو گئے کہ بھئی یہ تو وہی قاری صاحب ہیں۔ یہ وہی قاری صاحب ہیں۔ تو خیر جس وقت نماز پوری ہو گئی تو میرے ساتھ ہی کوئی لاہور کا آدمی آیا آیا ہوا تھا نا، لاہور سے آیا ہوا تھا۔ مجھے کہتا ہے: "یہ قاری صاحب کو سورہ یٰسین شریف کچھ زیادہ ہی یاد ہے!" میں نے کہا، "چپ رہو! معاملہ کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ معاملہ یعنی دوسرا ہے۔" تو وہ کبھی اس طرح بھی ہو جاتا ہے۔ مطلب اللہ کو پتا ہے، اللہ پاک جو چاہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔
تو خیر بہرحال یہ کہ اس رات خلافِ معمول حضرت نے کچھ بات بھی فرمائی۔ خلافِ معمول حضرت کا معمول نہیں تھا مطلب راتوں میں بیان کرنے کا، کچھ تھوڑی سی بات رمضان شریف کے بارے میں بات فرمائی۔
اور اس طرح مطلب یہ ہے کہ وہ پھر ہم یہاں پر آئے، تو یہاں پر بھی بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مکاشفہ کروایا تھا، اُسی رات، مکاشفہ کروایا تھا۔ تو ہم نے کہا دیکھو نا، یہاں چھبیسویں تھی۔ اور پشاور جس میں ہم پڑھ رہے تھے، اٹھائیسویں تھی۔ لیکن حقیقت میں چونکہ ستائیسویں تھی، تو وہاں پر بھی یہ حالت اور یہاں پر بھی یہ حالت۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو، یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں، کہ ان کو ہم ذرا یعنی ایسے نہ کہیں کہ "اوہ! فلاں نے تو اس طرح دیکھا ہے۔" بھئی جس نے بھی دیکھا ہے، وہ اس کو پتا ہے۔ ہم اس کا کیوں انکار کر لیں؟ ہاں البتہ یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مقصود یہ چیز ہے۔ مقصود نہ تو وہ مٹھاس تھی سورہ یٰسین شریف میں جو، نہ وہ روشنی ہے جو نظر آتی ہے، نہ وہ سمندر کے پانی کا میٹھا ہونا، یہ تو صرف علامات ہیں۔ علامات ہیں۔ مقصود کیا ہے؟
اب مثال کے طور پر دیکھو! اگر آپ کو کسی جگہ سے انعام ایک کروڑ روپیہ آ رہا ہے، مثال کے طور پر، اس ایک کروڑ روپے کا انعام اگر آپ کو سفید لفافے میں آ جائے پھر بھی ایک کروڑ روپے ہیں۔ اگر آپ کو سرخ لفافے میں آ جائے تو بھی ایک کروڑ روپے ہیں۔ اگر آپ کے پاس نیلے لفافے میں آ جائے پھر بھی وہ ایک کروڑ روپے ہیں۔ تو آپ کا جو فائدہ ہے وہ تو ایک کروڑ روپے کے ساتھ ہے۔ آپ کا اس لفافے کے رنگ کے ساتھ تو نہیں ہے! لفافے کا رنگ جو بھی ہو۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو لیلۃ القدر ہے، یہ جب کسی کو مل جائے، اور یہ مشکل نہیں ہے ملنا اس کا۔ یہ اب صاف عرض کرتا ہوں۔ اصل میں میرے بعض باتوں کو لوگ ذرا تھوڑا سا وہ کرتے ہیں، بہت آسان ہے الحمد للہ، بہت آسان ہے۔ لیکن اگر اس کی روح کو سمجھا جائے۔ اور اگر اپنی طرف سے کہانیوں پر زور دیا جائے، تو پھر مشکل ہے۔ پھر مشکل ہے۔ وہ ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ سنا ہے لوگوں سے، کہ اس نے کوئی تنکا پکڑا ہوا تھا، کہتا ہے: "یا اللہ اس کو سونے کا بنا دے، یا اللہ اس کو... ہم نے کہا اگر لیلۃ القدر ہوا تو یہ سونے کا بن جائے گا!" اوئے خدا کے بندے! یہ تو کیا کر رہا ہے؟ اور کس چیز کے ساتھ کر رہا ہے؟ اگر سونے کا بن بھی جائے تو کیا ہو گیا؟ یہاں کی دنیا کی فانی چیز مل گئی نا! اگر آپ کے لیے پوری دنیا سونے کا ہو گیا، اور آپ کا بن گیا، اور اس وقت پانچ منٹ کے بعد آپ مر گئے۔ تو آپ کو کیا فائدہ؟ بھئی کوئی ایسی چیز لو جو آپ اپنے ساتھ لے جا سکیں۔ جو آپ کا ہے۔
یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ
قرآن پاک میں صاف فرمایا گیا ہے کہ اس دن کسی کا چہرہ سفید ہوگا، کسی کا سیاہ ہوگا۔ وہ اصل چیز ہے۔
وہاں پر اگر آپ کو سفید چہرہ مل گیا، وہاں پر اگر آپ کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ سے مل گیا، وہاں پر آپ کو جنت کے دروازے سے اندر کر دیا گیا، وہاں پر اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی صحبت عطا فرما دی، بس وہی تو سب سے اہم چیزیں ہیں۔ وہ اگر آپ کو مل جائے تو پھر یہاں پر آپ کو فقیری بھی کرنی پڑے تو فقیری بھی بہت بڑی بات ہے۔ لیکن وہاں آپ کو وہ نعمت مل جائے جس کے لیے وہ ساری چیزیں ہم کرتے ہیں ادھر۔ تو اس وجہ سے میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ لیلۃ القدر کو آپ اس معنوں میں لے لیں۔ یہاں کی دنیا کی چیزوں کے ساتھ اٹیچ نہ کریں۔ اس کے ساتھ بہت بڑے مسائل ہیں ہمارے۔
اول تو دین کی طرف لوگ آتے نہیں ہیں۔ اللہ پاک ہمیں معاف فرمائے، یہ ہماری عادت ہے۔ یعنی میں وجہ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ ادھر ادھر دیکھ رہے ہوں گے، اول تو دین کی طرف لوگ آتے نہیں ہیں۔ اگر دین کی طرف آنا شروع کر لیں، تو فوراً اس میں دنیا کی نیت ہو جاتی ہے۔ کہ ہمیں دنیا کی کون سی چیز اس میں مل رہی ہے؟ مثلاً کسی اللہ والے کے ساتھ ملاقات ہو جائے نا، اب اللہ والوں سے کیا لینا ہے؟ ظاہر ہے ہمارے پاس اب کیا ہونا ہے؟ اللہ والوں سے کیا لینا ہوتا ہے؟ اللہ والوں سے اللہ کا تعلق لینا ہوتا ہے۔ وہی چیز جو کہ اللہ والوں کے ساتھ خاص ہے۔ اگر آپ نے اللہ والوں سے دنیا مانگی، یا دنیا کی نیت سے شامل ہو گئے تو کبھی کبھی منہ پر وہ دنیا مار دی جاتی ہے کہ لے لو یہ، ٹھیک ہے، تم یہی چاہتے ہو نا، لے لو۔ اور مل بھی جاتی ہے۔ لیکن اپنا خانہ خراب کر دیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے کیا مل گیا ان کو؟ ایسا ہوتا ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ اللہ والوں سے اگر آپ نے لینا ہے تو اللہ کا تعلق لے لیں۔ رمضان شریف سے اگر آپ نے لینا ہے تو؟ سبحان اللہ! اللہ کا تعلق لے لیں۔ قرآن پاک سے اگر آپ نے لینا ہے تو؟ اللہ کا تعلق لینا ہے۔ اب ایسے حافظِ قرآن... توبہ استغفراللہ! جلدی جلدی جلدی جلدی پڑھ رہا ہے کیونکہ "تین مسجدوں میں میں تراویح پڑھاؤں گا تو مجھے زیادہ پیسے مل جائیں گے"۔ ایسے ہی ہوتا ہے نا کہ نہیں ہوتا؟ تو انہوں نے قرآن سے کیا لے لیا؟ انہوں نے قرآن سے دنیا لے لیا۔ انہوں نے قرآن سے قرآن والا نہیں لیا۔ یہی بات ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ جو سادہ لوگ ہیں، جو کچھ بھی نہیں جانتے، وہ قرآن کو دیکھ کر دعا کرتے ہیں کہ "یا اللہ اس میں جو کچھ ہے ہمیں عطا فرما دے!" ان کو صرف اس دعا سے بہت کچھ مل جاتا ہے۔ اس سے مل جاتا ہے۔ ایک حافظِ قرآن کی قدر کرتے ہیں کہ "یہ قرآن والا ہے، اس کے سینے میں قرآن ہے، اس کی طرف میں نے پیر نہیں کرنا" اس کو اس پر بہت کچھ مل جاتا ہے۔ اور حافظِ قرآن ان سے کیا لینا چاہتا ہے؟ وہ دنیا لینا چاہتا ہے۔ اس سے دنیا لینا چاہتا ہے۔ وہ کسی نے کہا مطلب ہے ذرا تھوڑا سا یعنی شغلی قسم کا آدمی ہوگا۔ ہوتے ہیں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ تو ایک اس قسم کے صاحب سے کہہ دیا، کہتے ہیں "میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔" خواب کیا دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ دو کنویں ہیں۔ ایک فضلہ کا ہے اور ایک شہد کا ہے۔ تو آپ شہد کے کنویں میں گر گئے اور میں فضلہ کے کنویں میں گر گیا۔ تو کہتے ہیں: "ہاں! آپ دنیا دار ہیں اور میں دین دار ہوں، یہی تو بات ہے۔ اس کا اس کی تعبیر یہی ہے۔" انہوں نے کہا: "نہیں! خواب ختم نہیں ہوا۔ خواب ختم نہیں ہوا ہے۔ اس طرح ہے کہ جب ہم باہر نکلے تو ہمیں بتایا گیا کہ ایک دوسرے کو چاٹیں۔ تاکہ دونوں صاف ہو جائیں۔ تو آپ مجھے چاٹ رہے ہیں، میں آپ کو چاٹ رہا ہوں!" سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اصل میں یہی بات ہے۔ جو نعمت اللہ پاک نے قرآن والوں کو دی ہے، تو اس نعمت کو جان لیں کہ وہ نعمت کیا ہے۔ اس طریقے سے جو نعمت اللہ والوں کے گھر کی کسی کو دی ہے، تو اس نعمت کو جان لیں کہ کیا ہے۔ یہ، یہ بہت اہم بات ہے۔ تو بہرحال یہ تو درمیان کی بات آ گئی۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ اللہ پاک خود پوچھ رہے ہیں: "وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ"۔ تمہیں کیا پتا لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ"۔ یہاں نہیں فرمایا کہ اس میں آپ کو زمین کی بادشاہت مل جائے گی۔ یہاں پر آپ کا پوسٹ بن جائے گا، آپ کی یہ ہو جائے گی، آپ کی دکان سج جائے گی۔ یہ نہیں فرمایا! کیا فرمایا؟ "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ"۔ کیسے ہے؟ آپ نے اگر ایک قرآن پاک کا پارہ پڑھ لیا اس لیلۃ القدر کی رات میں، تو گویا کہ آپ نے ہزار مہینے، یا تراسی سال، ہر رات کے اندر ایک پارہ پڑھا ہے۔ اب اس کو جتنا بڑھانا چاہیں۔ آپ دو پارے پڑھ لیں، آپ تین پارے پڑھ لیں، دس پارے پڑھ لیں، پورا قرآن پڑھ لیں۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ لیلۃ القدر کے ساتھ جو لفظ آتا ہے ذرا تھوڑا سا غور فرمائیں۔ "ایمان اور احتساب" کی نیت سے۔ یہ ساتھ ساتھ آتا ہے۔ لیلۃ القدر کے لیے بھی آتا ہے، رمضان شریف کے لیے بھی آتا ہے۔ یہ "إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا"، "إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا"۔
"إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا" کا مطلب ہے کہ یہ میں چیز دیکھ نہیں رہا لیکن میں اس کے بارے میں سن رہا ہوں پیغمبر سے، اور پیغمبر کی بات پر میرا ایمان ہے۔ "إِيمَانًا" کا مطلب یہ ہے۔ یہ میرے مشاہدے کی بات نہیں ہے، یہ میں آپ ﷺ پر ایمان کی وجہ سے... کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے، اس کے بارے میں آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اس میں یہ آیا ہوا ہے اس لیے میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ "إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا"، اور ثواب کی نیت سے۔ پیسے بٹورنے کی نیت سے نہیں، ثواب کی نیت سے۔ اگر کوئی شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے، فرمایا: "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" معاف ہو جاتے ہیں۔ اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ایسے جیسے کہ مطلب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو بات ہے، ایک اور بات بھی عرض کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور سمجھانے کی بھی۔
دیکھیں مغفرت ہے نا مغفرت، اور ہدایت، یہ دو لفظ ہیں۔ ہدایت دنیا میں ہے۔ اور مغفرت وہاں پر ہے۔ ٹھیک ہے نا! اگر یہاں ہدایت مل جائے اور وہاں مغفرت مل جائے تو سب کچھ مل گیا۔ اگر یہاں ہدایت مل جائے اور وہاں مغفرت مل جائے۔ تو سب کچھ مل گیا۔
تو مغفرت کا ذرا لوگ تھوڑا سا underestimate کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے، تو ہم لوگ تو ظاہر ہے اپنے خیالات میں رہنے والے لوگ ہیں نا، تو اگر کوئی نیک آدمی ہو اور وہ نیک آدمی اس کے لیے آپ کہیں: "اللہ ان کی مغفرت فرمائے" تو طبیعت پہ بوجھ آتا ہے کہ "دیکھو اس نے صرف یہ کہا"۔ یعنی مغفرت کو اتنی value نہیں دے رہے۔ حالانکہ دیکھو حدیث شریف کیا ہے، میں ابھی جو سنا لیا میں نے۔ مغفرت بہت بڑی چیز ہے۔ بہت بڑی چیز ہے۔ دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، مغفرت کا مطلب کیا ہے؟ "إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ"۔ بیشک کائنات کی تخلیق میں، دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ عقلمند کون لوگ ہیں؟ "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ"۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے والے ہیں۔ دیکھو اللہ پاک نے ان کو عقلمند فرمایا ہے۔ اب عقلمندوں کی ایک بات اللہ پاک آپ کو بتانا چاہتا ہے تو وہ بات لینے کی کوشش کرنی چاہیے نہیں؟ اللہ تعالیٰ جن کو عقلمند کہہ رہے ہیں۔ اور پھر ان کی بات ان کی زبان کی بات آپ کو بتا رہے ہیں، تو کیا ہے؟ "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"۔ اور کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے والے۔ "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا"۔ اے رب ہمارے، تو نے ان تمام چیزوں کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔ عارفین بن جاتے ہیں، عارف! جس کو عارف کہتے ہیں۔ "سُبْحَانَكَ"، تو پاک ہے ان تمام چیزوں سے۔ بے شک تو نے بنایا ہے لیکن تو اس سے پاک ہے، تجھ پر اس کا ان چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ ہاں! "سُبْحَانَكَ، فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"۔ پس ہمیں عذاب جہنم سے نجات عطا فرما۔ یہ عارفین کی زبان کا کلمہ ہے، اللہ پاک بیان فرما رہے ہیں۔ کیا فرما رہے ہیں؟ "پس ہمیں عذاب جہنم سے نجات عطا فرما"۔ تو عذابِ جہنم سے نجات ہو جائے تو اور کیا چاہیے آپ کو؟ یہ تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عظیم، کامیابی فرمایا۔ فوزِ عظیم جس کو ہم کہتے ہیں۔ اسی کو اللہ پاک نے ایک اور جگہ پر فرمایا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ "فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ"۔ وہ کامیاب ہو گیا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ ان چیزوں کو underestimate کیا جاتا ہے۔
میں ایک صاحب، شہید ہو گئے تھے۔ ان کی مطلب تعزیت کے لیے گیا تھا ان کے والد صاحب سے ملا۔ اس پہ بڑے جذبات طاری تھے، ظاہر ہے شہید بیٹے کی وجہ سے۔ تو ہم نے کہا: "جی دعا کر لیں جی۔" "اوہ! شہید کے لیے کیا دعا؟ وہ تو بخشا بخشایا ہے۔" میں نے کہا اس خدا کے بندے کو کم از کم کچھ تھوڑا بہت تو سمجھنا چاہیے نا۔ میں نے کہا حضرت، درود شریف کیا ہے آپ کو پتا ہے؟ درود شریف کیا چیز ہے؟ یہ آپ ﷺ کے لیے دعا ہے۔ تو آپ ﷺ بخشے بخشائے نہیں ہیں؟ بس پھر، کان کھل گئے۔ میں نے کہا: "آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہر ایک کو دعا کی ضرورت ہے۔" دعا سے انکار؟ یہ کون سی بات کر رہے ہیں آپ؟ مجھے بھی محتاجی ہے، آپ کو... آخر آپ ﷺ جیسے، "خاتم النبیین"، وہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ عمرے کے لیے آ رہے ہیں، تو عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں: "بھائی، اپنے بھائی کو دعا میں نہ بھول جانا!" حضور ﷺ عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں: "اپنے بھائی کو دعا میں نہ بھول جانا!" تو اس کا مطلب میں آپ کو بتاؤں کہ بھئی ہم جذباتی لوگ ہیں۔ ہم لوگ ناسمجھ لوگ ہیں۔ ہم لوگ چیزوں کو نہیں پہچانتے، ہم لوگ مطلب اس کے بارے میں صحیح بات نہیں سمجھتے۔ تو اصل بات کیا ہے؟ وہ اصل بات یہ ہے: مغفرت! اور ہدایت! یہ دو بڑی باتیں ہیں۔
یہ دو اگر مغفرت وہاں مل جائے اور ہدایت یہاں مل جائے، تو آپ... ہمیں سب کچھ مل گیا، ہمیں سب کچھ مل گیا۔ یہاں پر ہم ہدایت مانگتے ہیں: "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ"۔ اور یہاں پر جو اعمال ہم کرتے ہیں اس کے انعام کے طور پہ اللہ فرماتے ہیں ان کی مغفرت ہو جائے گی۔ اس کی گردن آگ سے چھڑا دی جائے گی۔ یہ فرماتے ہیں نا مطلب آپ فضائلِ رمضان کی جو ہم نے حدیثیں بیان کیں، تو کیا تھی؟ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو ان چیزوں پہ نظر رکھنی چاہیے کہ لیلۃ القدر ہے کس لیے؟ اس وجہ سے آپ ﷺ سے جس وقت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا: "یا رسول اللہ، اگر میں یہ رات پاؤں تو اس میں میں کیا مانگوں؟" اس میں میں کیا مانگوں؟ تو آپ ﷺ نے کون سی دعا سکھائی؟ "اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ"۔ اے اللہ، تو معاف کرنے والا ہے۔ "تُحِبُّ الْعَفْوَ"، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ "فَاعْفُ عَنِّي"، پس مجھے بھی معاف کر دے۔ کن سے، کن کو کہہ رہے ہیں؟ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا، ام المؤمنین، نصف علم رکھنے والی خاتون۔ ان کو ان سے جو ہے نا مطلب آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ یہ مانگو اللہ تعالیٰ سے، "اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي"۔
اس میں ہمیں لیلۃ القدر میں، اب دیکھیں میں نے عرض کیا نا کہ سب سے، بہت آسان کام ہے، مشکل نہیں ہے،
تو آپ کہیں گے بھئی یہ کیسے عجیب بات کر رہے ہو، اتنی بڑی چیز اور آسان؟ سب سے آسان طریقہ اعتکاف ہے۔ لیلۃ القدر کو پانے کا۔ سب سے آسان طریقہ۔ کیوں؟ اگر آپ اعتکاف نہیں کر رہے۔ بے شک آپ کتنا ہی زیادہ متوجہ ہوں لیکن آخر باہر کی چیزیں آپ کو کھینچ رہی ہوں گی، متاثر کر رہی ہوں گی۔
تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو ہم اعتکاف میں جائیں، سب سے پہلے تو ہم اپنی مغفرت کے لیے جائیں۔ کہ ہماری مغفرت ہو جائے۔ یہ بڑی بات ہے۔ دوسری بات، ہمیں یہاں پر ہدایت ملے۔ دیکھو ہدایت کس کو کہتے ہیں؟ سبحان اللہ، سبحان اللہ! اللہ پاک کا کلام ہے اس کو اللہ پاک نے ہدایت فرمایا۔ "هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ"۔ متقین لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ اچھا متقین کون لوگ ہیں؟ جس نے نفس کی بری چیزوں کا انکار کیا ہو۔ نفس کے برے تقاضوں کا انکار کیا ہو۔ ایمانی جذبے کے ساتھ۔ "يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ"۔ ایمانی جذبے کے ساتھ نفس کے رذائل کو روکا، وہ متقی، وہ متقی ہے۔ اچھا کیونکہ نفس کے اندر دو چیزیں ہیں: فجور اور تقویٰ۔ فجور نہیں ہے تو تقویٰ ہے۔ فجور نہیں ہے تو تقویٰ ہے۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ اب آپ کو اگر رمضان شریف کے، وجہ سے آپ کو سبحان اللہ تقویٰ مل رہا ہے۔ تقویٰ مل رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی یاد آپ کو اعتکاف کے ذریعے سے اور تراویح کے ذریعے سے مل رہی ہے۔ یہ دونوں مل کر آپ کے ہدایت کا سامان کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ پھر آپ کو قرآن different نظر آئے گا۔ جب آپ کی یہ کیفیت بن جائے گی۔ اس وقت قرآن وہ بھی پڑھتے ہیں جو... ایسے پڑھتے ہیں کہ کسی کو سمجھ نہیں آتا۔ صرف پیسوں کے لیے۔ اور وہ بھی قرآن پڑھتے ہیں جو کہ ایک ایک لفظ میں علوم کے سمندر پاتے ہیں۔ وہ بھی قرآن پڑھنے والے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ تقویٰ والی بات لگی ہوئی ہے نا، "هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ"۔
اب اگر آپ اس نیت سے آپ اعتکاف میں داخل ہو جائیں۔ کہ مجھے ہدایت مل جائے، اور میری مغفرت ہو جائے۔ میری یہ دنیا بھی اچھی ہو جائے اور وہ دنیا بھی اچھی ہو جائے۔ تو سبحان اللہ! آپ کے لیے اعتکاف بہت بڑی دولت ہے۔ پھر یہ ہے کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر پورا وعظ فرمایا ہے۔ اور اس میں یہ فرمایا ہے... "روح الصیام" ہے اور اعتکاف کا علیحدہ ایک وعظ ہے۔ اس میں حضرت نے فرمایا کہ مشائخ جو مجاہدات کراتے ہیں، وہ سارے کے سارے مجاہدات رمضان میں اگر کوئی اعتکاف کرے تو اس میں موجود ہیں۔ اس میں موجود ہیں۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ دیکھو چار بڑے بڑے مجاہدے بیان کیے جاتے ہیں: تقلیلِ طعام، تقلیلِ منام، تقلیلِ کلام، تقلیلِ خلط مع الانام۔ کم کھانا، کم سونا، اور کم بولنا، اور کم ناجنس لوگوں کے ساتھ ملنا۔ یہ چار مجاہدات ہیں۔ فرمایا تقلیلِ طعام تو روزے کے ساتھ ہو گیا۔ کیونکہ وقت تبدیل ہو گیا اس کا۔ اس وقت آپ نہیں کھاتے جب آپ کی طبیعت مانگ رہی ہے۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے تقلیلِ طعام تو اس سے ہو گیا۔ تقلیلِ منام، تراویح میں آپ کو خوب نیند آ رہی ہے پھر بھی آپ کھڑے ہو کے پڑھ رہے ہیں، کیونکہ آپ کو پتا ہے کہ سنت ہے رسول ﷺ کی، قرآن بھی اس میں سن رہے ہیں، تو آپ تقلیلِ منام تو اس میں ہو گیا۔ پھر سحری کے لیے جلدی اٹھنا ہوتا ہے۔ تو رات کا یہ پچھلا، پہلا حصہ اور اگلا حصہ اس میں آپ نے کمی کر دی، لہٰذا آپ کو تقلیلِ منام حاصل ہو گیا۔ تقلیلِ کلام، اگر آپ مسجد میں اعتکاف کر رہے ہیں تو پھر تو آپ کے ساتھ کتنے لوگ کتنے بات کریں گے؟ ضروری بات ہی کریں گے، تو تقلیلِ کلام بھی ہو گیا۔ اور تقلیلِ خلط مع الانام، اعتکاف میں جو آپ کے پاس آئیں گے، ان سے ہی آپ بات کر سکتے ہیں نا، کسی اور کے پاس تو آپ نہیں جا سکتے، تو تقلیلِ خلط مع الانام بھی ہو گیا۔ سبحان اللہ! چاروں کے چاروں مجاہدے اس کے اندر موجود ہیں۔
اور مجاہدہ کس لیے ہوتا ہے؟ نفس کو قابو کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ نفس کو قابو کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اب اگر آپ ان اعمال کے ذریعے سے نفس کو قابو کروائیں، سبحان اللہ! مسنون طریقے سے آپ کا ماشاءاللہ اصلاح کا کام شروع ہو گیا۔ اور آپ کو فائدہ ہو جائے گا۔ اس وجہ سے مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے الحمد للہ، آخری عمر میں، آخری عمر میں جب کہ چار افراد... میں نے حضرت کو خود دیکھا ہے جی۔ چار افراد اٹھاتے تھے حضرت کو، اتنی بھی جان نہیں تھی۔ لیکن دیکھیں... اور رائیونڈ میں آپ تشریف لائے تھے، تو بیان ہو رہا تھا مولانا محمد عمر پالن پوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا۔ تو حضرت کو لایا گیا، چار آدمی اٹھا کے لائے اور سٹیج پر بٹھا دیا۔ تو حضرت مولانا صاحب نے اپنا بیان روک لیا اور فرمایا: "دیکھو ان کو! دیکھو ان کو، خوب دیکھو! پھر بعد میں ارمان کرو گے۔ پھر نہیں ملیں گے۔" یہ آنکھیں... ہاں، مطلب جن نے ان کو دیکھا ہوں گے، مختلف آنکھیں ہوں گی۔ اب دیکھو یہ مطلب، حضرت نے مطلب اسی وقت سمجھا دیا نا بات، کہ اللہ والوں کو دیکھنا کیا ہوتا ہے؟
تو خیر حضرت جو ہے نا مطلب تشریف لائے تھے فیصل آباد وہاں پر اعتکاف فرمایا تھا۔ یہ ایک اعتکاف تھا جو کہ مسلمان ممالک... ملک میں تھا۔ باقی چار اعتکاف مزید وہ سارے کافر ملکوں میں تھے۔ انگلینڈ میں کیا، جنوبی افریقہ میں کیا، برما میں کیا، انڈیا میں کیا۔ یہ چار غیر مسلم ممالک میں اور ایک پاکستان میں۔ اور آخری سال بھی پاکستان آنے کا ارادہ تھا لیکن فوت ہو گئے۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ حضرت نے بالکل آخری عمر میں... اب دیکھو بالکل آخری، اس کے بعد پھر زندگی نے وفا نہیں کی۔ لیکن آخری پانچ سال حضرت نے اس کام کو دیے۔ تو اس کام کی اہمیت کا آپ اندازہ کریں نا! اب دیکھو حضرت کی معرفت کا کیا حال ہوگا اس وقت؟ تو یوں جو ہے نا مطلب یہ کام، جو شروع فرمایا، تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی... اس میں یہ بات پتا چلتا ہے کہ ایک ہے مسنون اعتکاف، یہ تو سارے لوگ کر سکتے ہیں۔ ایک ہے اصلاحی اعتکاف، جس میں اپنے نفس کی اصلاح کی نیت سے انسان شامل ہوتا ہے۔ یہ کسی شیخ کی نگرانی میں جب کیا جاتا ہے تو پھر بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ میں آپ کو بتاؤں، دیکھو دو چیزیں جمع ہو جائیں تو بس کام بن جاتا ہے۔ دو چیزیں جمع ہو جائیں اصلاح کے میدان میں تو کام بن جاتا ہے: جذب اور سلوک۔ جذب کیا ہے؟ دل کو سنوارنا۔ دل میں اللہ کی محبت کو پیدا کرنا۔ اور سلوک کیا ہے؟ نفس کو زیر کرنا۔ نفس کو زیر کرنا، نفس کو قابو کرنا، یہی سلوک ہے۔ اب دونوں کا سامان الحمد للہ اعتکاف میں موجود ہے۔ اگر شیخ کی نگرانی میں ہو، تو سبحان اللہ، دل بھی آپ کا بن رہا ہے، قرآن کے ذریعے سے اور ذکر کے ذریعے سے اور صحبتِ شیخ کے ذریعے سے۔ دل بھی آپ کا بن رہا ہے۔ اور ساتھ ساتھ آپ کا ماشاءاللہ، نفس پہ بھی قابو ہو رہا ہے ان مجاہدات کے ذریعے سے۔ تقلیلِ طعام، تقلیلِ منام، تقلیلِ کلام، تقلیلِ خلط مع الانام، اس کے ذریعے سے اب نفس کے اوپر قابو بھی ہو رہا ہے۔ تو فائدہ ہوگا یا نہیں ہوگا؟ اس لیے فرماتے ہیں کہ یہ اعتکاف میں، اگر کسی شیخ کی نگرانی میں کیا جائے، جتنی اصلاح ہوتی ہے، پورے سال میں اتنی نہیں ہوتی۔
اور یہ بھی عرض کرتا ہوں، رمضان شریف کے بارے میں فرمایا، جس کا رمضان جیسے گزرا، اس کی باقی زندگی اس طرح گزرے گی۔ جس کا رمضان جیسے گزرا، اسی طرح باقی زندگی گزرے گی۔ تو ماشاءاللہ، اگر رمضان ہم اچھی گزار لیں تو باقی زندگی ہماری اچھی گزرے تو کتنی اچھی بات ہے! تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ ہم اپنی نیتوں کو درست کر لیں۔ اعتکاف میں شوشا کی نیت سے نہ جائیں کہ باہر آئیں گے تو ہمارے ہار پہنائے جائیں گے اور یہ اعتکاف کر لیا اور یہ ہو گیا، یہ حاجیوں کی جو نیت ہوتی ہے کہ ہم باہر آ گئے... ہم بن جائیں اللہ کے بن جائیں۔ اپنے نفس کے چکر سے نکل آئیں۔ ہمارا دل بن جائے۔ اس کے لیے مطلب جو ہے نا ہم اعتکاف کریں۔
بزرگی کی نیت سے نہیں! بزرگی... ہمارے حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ بزرگی کو خوب نکالتے تھے! تو یہ مطلب یہ بزرگی کیا ہے؟ ایک جراثیم ہے مطلب، لگ جائے تو پھر تو انسان کے سب، سارے اعمال کو کھا جائے۔ تو یہ مطلب ہے وہ ہمارے حضرت کے ہاں ایک مجذوب سا تھا، تو وہ فرماتے: "بزرگا، بزرگی بڑی دور ہے، بڑی لمبی کھجور ہے۔" تو اس طرح مطلب یہ ہوتا ہے کہ واقعی لوگ بزرگی کی نیت سے شامل ہوں کہ "میں بڑا بزرگ بن جاؤں"۔ اے خدا کے بندے، اللہ کا بندہ بن جاؤ! بس اتنی بات ہے، اس سے زیادہ آپ سے مطالبہ نہیں ہے۔ بزرگی اللہ دے دیتا ہے، اگر دیتا ہے تو۔ وہ آپ نیت نہیں کر سکتے۔ آپ نیت کریں اللہ کے بندہ بننے کے لیے، عبدیت کی نیت کریں۔ عبدیت کی! کہ میں اللہ کا بندہ بن جاؤں۔ اس کی نیت کرو۔ آپ ﷺ نے بھی فرمایا، اللہ پاک نے بھی فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کرنے دیا جو کرنا چاہتا تھا، اور پھر بعد میں صرف تمنائیں کرتا رہا، تمنائیں کرتا رہا۔" تو یہ جو ہے نا مطلب باقاعدہ ساری چیزیں بڑی clearly بتائی گئی ہیں۔ اب ہم لوگوں کو ذرا عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
ان شاءاللہ، یہ بہت مطلب جو ہے نا، نیکیوں کا سیزن (season) ہے۔ اور اللہ پاک کے قریب ہونے کا دور ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیاب فرما دے۔ اور اس رمضان شریف کے اینڈ (end) پر اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عطا فرمائے جو اللہ پاک اپنے محبوب لوگوں کو دینا چاہتے ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: اعتکاف کی حقیقت، شبِ قدر کی فضیلت اور اعمالِ صالحہ کا ذوق
متبادل عنوان: شبِ قدر کی تلاش: علامات، برکات اور ہماری غفلتیں
اہم موضوعات:
آخری عشرے اور شبِ قدر کی اہمیت و فضیلت۔
پچھلی امتوں کی طویل عمروں کے مقابلے میں امتِ محمدیہ ﷺ کو شبِ قدر کا عظیم تحفہ۔
ضعیف احادیث کا مفہوم اور نیک اعمال میں ان کی ترغیب کی اہمیت۔
شبِ قدر کی ظاہری علامات (پانی میٹھا ہونا، روشنی، فرشتوں کا مصافحہ) اور ان کا اصل مقصد۔
دعا کی قبولیت: دنیاوی مقاصد اور سٹیٹس (status) کے بجائے ہدایت اور مغفرت طلب کرنا۔
خواتین اور مردوں کے لیے اعتکاف کے مسائل، شرائط اور مراعات۔
مسنون اور اصلاحی اعتکاف میں فرق: تقلیلِ طعام، کلام، منام اور خلط مع الانام کے ذریعے نفس پر قابو (جذب و سلوک)۔
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے رمضان المبارک کے آخری عشرے، شبِ قدر اور اعتکاف کی اہمیت و فضیلت پر نہایت جامع روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں کی عمریں طویل تھیں، لیکن امتِ محمدیہ ﷺ کی کم عمری کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کا تحفہ عطا فرمایا جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اس بات پر زور دیا کہ شبِ قدر کی ظاہری علامات (جیسے پانی کا میٹھا ہونا یا روشنی نظر آنا) اصل مقصود نہیں ہیں، بلکہ اصل کامیابی اللہ سے ہدایت اور مغفرت طلب کرنا ہے۔ آپ نے قرآن اور اللہ والوں سے دنیاوی مفادات مانگنے کی روش پر تنقید کی اور خالصتاً اللہ کا تعلق مانگنے کی تلقین کی۔ نیز، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اعتکاف کو نفس کی اصلاح (سلوک) اور دل میں اللہ کی محبت (جذب) پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور چار بنیادی مجاہدات (کم کھانا، کم سونا، کم بولنا اور کم ملنا جلنا) کے ذریعے روحانی ترقی کا راستہ واضح کیا۔ آخر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے بھی گھر میں اعتکاف کی آسانیاں اور فضیلت بیان فرمائی۔