اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَـهُـمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۖ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَـمِيْعًا وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ (165) اِذْ تَبَـرَّاَ الَّـذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّـذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِـهِـمُ الْاَسْبَابُ (166) وَقَالَ الَّـذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَـرَّاَ مِنْـهُـمْ كَمَا تَبَـرَّءُوْا مِنَّا ۗ كَذٰلِكَ يُرِيْـهِـمُ اللّٰهُ اَعْمَالَـهُـمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْـهِـمْ ۖ وَمَا هُـمْ بِخَارِجِيْنَ مِنَ النَّارِ (167)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اور (اس کے باوجود) لوگوں میں کچھ وہ بھی ہیں جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کی خدائی میں اس طرح شریک قرار دیتے ہیں کہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسے اللہ کی محبت (رکھنی چاہئے)۔ اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ اور کاش کہ یہ ظالم جب (دنیا میں) کوئی تکلیف دیکھتے ہیں اُسی وقت یہ سمجھ لیا کریں کہ تمام تر طاقت اللہ ہی کو حاصل ہے، اور یہ کہ اللہ کا عذاب (آخرت میں) اُس وقت بڑا سخت ہو گا ﴿165﴾ جب وہ (پیشوا) جن کے پیچھے یہ لوگ چلتے رہے ہیں، اپنے پیروکاروں سے مکمل بے تعلقی کا اعلان کریں گے، اور یہ سب لوگ عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے، اور ان کے تمام باہمی رشتے کٹ کر رہ جائیں گے ﴿166﴾ اور جنہوں نے ان (پیشواؤں) کی پیروی کی تھی وہ کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر (دنیا میں) لوٹنے کا موقع دے دیا جائے، تو ہم بھی ان (پیشواؤں) سے اسی طرح بے تعلقی کا اعلان کریں جیسے انہوں نے ہم سے بے تعلقی کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح اللہ انہیں دکھادے گا کہ ان کے اعمال (آج) اُن کے لئے حسرت ہی حسرت بن چکے ہیں، اور اب وہ کسی صورت دوزخ سے نکلنے والے نہیں ہیں ﴿167﴾
یہ جو ہے نا اصل میں جو لوگ کسی اور کو اپنا وہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارا ملجا و ماوٰی ہے اور ان کے ساتھ ایسی محبت رکھتے تھے جیسے اللہ کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے۔ تو یہ طریقہ ظاہر ہے ان کا اپنے اوپر ظلم ہے۔ اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں، وہ پھر اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں، وہ کسی اور سے اس سے زیادہ محبت نہیں رکھتے۔
تو اصل میں یہ جو ظلم کرنے والے ہیں اپنے اوپر، اگر یہ ذرا تھوڑا سا غور کر لیں تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ تمام تر طاقت تو اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اور جو اللہ کا عذاب ہے وہ تو آخرت میں بہت ہی زیادہ سخت ہوگا۔ یعنی انسان ان تمام باتوں کا جو کہ یہاں ہو رہی ہیں، اس پہ غور کر لے کہ یہ اصل میں طاقت کس کی ہے؟ مثال کے طور پر جس کی بھی آپ طاقت مانتے ہیں، تو کیا اس کی طاقت کو ختم کرنے والے کوئی ہے؟
مثلاً میں کہہ دوں کہ بھئی SHO بہت بڑا ہے، اور یہ باندھ سکتا ہے، کھول سکتا ہے، یہ کر سکتا ہے، وہ کر سکتا ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ DSP جو ہے نا وہ SHO کو بھی وہ کر سکتا ہے، مطلب اس کی طاقت کو ختم کر سکتا ہے کسی طرح۔ پھر DSP کے لیے SP ہے۔ SP کے لیے پھر DIG ہے، پھر IG ہے، پھر اس کے بعد وزیراعلیٰ ہے، پھر اس کے بعد وزیراعظم ہے، پھر اس کے بعد ۔۔۔ مطلب یہ سلسلہ پھر اخیر میں اگر دیکھیں تو اللہ ہی ہے۔ تو اللہ کے سامنے کوئی بھی دم نہیں مار سکتا۔
ہم لوگوں نے جو Individual سطح پر غور کیا اور Collectively غور نہیں کیا، اس سے نقصان ہوا، اس سے نقصان ہوا۔ یعنی اگر ہم لوگ اس پورے کے پورے نظام کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہ نظام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تو اگر اللہ چاہے تو ذرہ بھر بھی نہیں چل سکتا۔
Electronic circuit ہے کوئی، وہ سارا کا سارا نظام چلتا ہے۔ اس کے اندر صرف ایک پرزہ خراب ہو جائے، پھر وہ نظام چلے گا؟ کوئی ایک پرزہ اگر جو اس میں involve ہے سب میں، تو اگر وہ خراب ہو جائے تو۔۔۔ حالانکہ وہ سارا باقی ٹھیک ہے، لیکن وہ صرف ایک پرزہ اگر خراب ہو جائے تو وہ پورا نظام نہیں چلتا۔ تو اسی طریقے سے یہ جتنے بھی نظام چل رہے ہیں، سارے ٹھیک ٹھیک چل رہے ہیں تو اس کو سارے ٹھیک ٹھیک چلانے والا کوئی ہے، ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کی contradiction کر کے ختم کر لیں گے سب کچھ۔
تو یہ سارا سارا نظام جو ٹھیک ٹھیک چل رہا ہے تو اس کو کنٹرول کرنے والا کوئی ہے۔ جس پہ ہم جو ہے نا غور کر لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ اصل طاقت تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اگر اللہ پاک نہ چاہیں تو یہ نظام ذرہ بھر بھی نہیں چل سکتا، پورے کا پورا نظام فیل ہو جائے گا۔
یا یوں سمجھ لیجیے کہ گاڑی چل رہی ہے۔ گاڑی کو Driver چلا رہا ہے۔ اب گاڑی کے سارے نظام چل رہے ہیں، صرف یہ Driver غلطی کر لے تو باقی سارے نظام ظاہر ہے کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے، Accident ہو جائے گا۔ جہاز کو دیکھیں، ریل کو دیکھیں، پورا نظام گویا کہ وہ ایک چلانے والا چلاتا ہے۔ اسی طریقے سے پورے دنیا کا نظام جو ہے، یہ اللہ جل شانہ چلاتے ہیں۔ اور اللہ جل شانہ اگر نہ چلائیں تو کوئی نظام بھی نہیں چل سکتا۔
تو بس اس وجہ سے ہمیں اندازہ لگانا ہے کہ تمام تر طاقت تو اللہ ہی کو حاصل ہے۔ تو جب یہاں پر ساری طاقت اللہ کو حاصل ہے تو پھر وہاں پر تو ہے ہی، وہاں تو پھر اور کوئی تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ تو وہاں کا عذاب جو ہے وہ بھی بڑا سخت ہے۔ لہذا ہمیں اللہ پاک کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اور جس وجہ سے انسان کسی سے محبت رکھتا ہے، تو یا کمال ہوتا ہے یا جمال ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کا کمال بھی مکمل ہے، اللہ تعالیٰ کا جمال بھی۔ اس وجہ سے محبت اللہ ہی کے ساتھ رکھنی چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو یہ سمجھ عطا فرما دیں۔
پھر یہ جو پیشوا ہیں، مطلب یہاں پر جو Leaders ہیں، جن کے پیچھے لوگ چلتے ہیں۔ تو وہاں پر یہ جب ان کے اوپر خود پڑ جائے گی تو وہ کہیں گے ہم نے تو ان کو نہیں کہا تھا، ہمارا تو ان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔ تو یہ بہت سخت غصہ ہو جائیں گے اور کہیں گے کاش ہمیں دوبارہ اگر دنیا میں بھیجا جائے تو ہم بھی ان سے اس طرح ہی لاتعلقی کا اعلان کر دیں جس طریقے سے انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ لیکن پھر کیا ہو سکتا ہے؟
یہاں لوگ لیڈروں کے لیے کیا کیا کچھ نہیں کرتے۔ لیکن یہاں پر بھی لیڈر جو ہے نا وہ۔۔۔ جس کو کہتے ہیں نا وہ کرتے ہیں خود غرضی۔ اپنے لیے سب کچھ کرتے ہیں، دوسروں کے لیے نہیں، جن کو بنیاد بناتے ہیں ان کے لیے پھر کچھ نہیں کرتے۔ لیکن یہاں تو کچھ کرنے کے Position میں ہے امتحاناً، تو وہاں تو یہ بھی نہیں ہوگا۔ تو سب لوگ اپنے آپ کو Declare کر لیں گے کہ بھئی ہمارا تو آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں، کوئی لین دین نہیں۔ تو پھر یہ بھی کہیں گے لیکن اس وقت پھر کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔
اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔