رمضان المبارک: حصولِ تقویٰ، ولایت کا راستہ اور اصلاحی اعتکاف کی اہمیت

(اشاعتِ اول) جمعہ،16جون، 2017

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رمضان کی فضیلت: ماہِ صیام کی اہمیت، تکوینی فضل اور اللہ کے قرب کا حصول۔

روزے کا اصل مقصد: روزے کے ذریعے تقویٰ کا حصول اور مقامِ ولایت تک رسائی۔

اولیاء اللہ کا مقام: اولیاء اللہ کے بارے میں افراط و تفریط کا رد اور ان کا حقیقی قرآنی تصور۔

حقیقی روزہ بمقابلہ فاقہ: روزے کو محض بھوکا رہنے کے بجائے جھوٹ اور غیبت سے پاک رکھنے کی تاکید۔

نفس کا تزکیہ: شیاطین کی قید کے دوران نفس پر قابو پانے اور نیکیوں میں اضافے کے بہترین مواقع۔

اعتکاف کا فلسفہ: گناہوں کے ماحول سے کٹ کر مسجد (اللہ کے گھر) میں قلعہ بند ہو جانا۔

اصلاحی اعتکاف کی تاریخ: حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ کے شروع کردہ "اصلاحی اعتکاف" کے عالمی ثمرات۔

تراویح کی فضیلت: نمازِ تراویح کے ذریعے قیام اللیل اور تلاوتِ قرآن کے قلبی انوارات کا حصول۔

متبادل لائحہ عمل: اعتکاف نہ کر سکنے والوں کے لیے گھروں میں عبادات، ذکر اور تکبیرِ اولیٰ کا آسان خاکہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

اَمَّا بَعْدُ

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّٰهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ﴾

وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ((الصَّوْمُ جُنَّةٌ)).

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.


بزرگو اور دوستو! ہمارے لیے بہت ہی خوش قسمتی ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں رمضان شریف کا مہینہ عنایت فرما دیا۔ یہ تکوینی فضل ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب رجب کا چاند دیکھا تو دعا فرمائی:

((اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ))

اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہمیں پہنچا دے۔ دو مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا فرمانا کہ رمضان شریف تک ہمیں پہنچا دے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

رمضان شریف کا مہینہ اصل میں اللہ جل شانہ کے نوازنے کا مہینہ ہے، اصلاحِ نفس کا مہینہ ہے، اللہ پاک کے قریب ہونے کا مہینہ ہے، قرآن کا مہینہ ہے۔

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾

اس لحاظ سے اگر اس مہینے میں چند باتوں کا خیال رکھا جائے اور ان کو اچھی طرح سمجھا جائے، تو امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ رمضان شریف کے ختم کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تعلق کے لیے قبول فرما لیں گے۔

ابھی میں نے... یہ کوئی میں ویسے مبالغہ آمیزی نہیں کر رہا، ابھی میں آپ کی خدمت میں یہ بات عرض کر لوں گا کہ یہ قرآن پاک سے ثابت ہے۔ ابھی میں نے جو آیاتِ کریمہ تلاوت کی ہیں، اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: اے مومنو! یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ایسا خطاب قرآن پاک میں سنیں تو بے ساختہ دل سے "الحمد للہ" کہنا چاہیے۔ الحمد للہ کہ اللہ پاک نے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمایا کہ ہم اللہ پاک کے خطاب کے اہل ہیں اور ہم بھی ایمان رکھتے ہیں الحمد للہ، اللہ پاک اس ایمان کو سلامت رکھے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں: اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو، یعنی تقویٰ دار بن جاؤ، متقی بن جاؤ۔ اس بات کو یاد رکھ لیں۔

دوسری آیتِ کریمہ جو میں نے تلاوت کی ہے، اس میں اللہ پاک فرماتے ہیں:

﴿أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّٰهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ، الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ﴾

آگاہ ہو جاؤ! بے شک جو اللہ کے دوست ہیں، )جو اولیاء اللہ ہیں(، ان کو نہ خوف لاحق ہوگا، نہ وہ غمگین ہوں گے اور دو چیزوں سے ماشاء اللہ مزین ہوں گے: ایک ایمان رکھتے ہوں گے اور دوسرا انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا۔

پس پتہ چلا کہ ایمان والوں کو اگر تقویٰ حاصل ہو جائے تو وہ ولی اللہ بن جاتے ہیں۔ پکی بات ہے؟ ایمان والوں کو اگر تقویٰ مل جائے وہ ولی اللہ بن جاتے ہیں۔ اور رمضان شریف میں ایمان والوں سے خطاب کیا گیا ہے کہ تم رمضان شریف کے روزے رکھو تو تمہیں تقویٰ حاصل ہو جائے گا۔ اب ان دو آیتوں کو ملا دیں تو پتہ چل گیا کہ تم رمضان شریف کے روزے رکھ کر اللہ کا ولی بن جاؤ۔ بالکل یہی بات ہے نا؟ تو بس پتہ چلا کہ اگر ہم رمضان شریف کے روزے واقعی صحیح طور پر رکھ لیں گے، جیسا کہ ان کا حق ہے، ان شاء اللہ اولیاء اللہ بن جائیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں بنا دے۔

کتنے بڑے ولی بن جائیں گے، یہ بھی بتا دیتا ہوں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾

بے شک تم میں زیادہ معزز اور مکرم اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو زیادہ متقی ہیں۔ پس جس نے زیادہ تقویٰ حاصل کر لیا وہ زیادہ اللہ کے قریب ہو گیا، وہ زیادہ بڑا ولی اللہ ہو گیا۔

اصل میں اولیاء اللہ کے بارے میں لوگوں میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو اولیاء اللہ کو خدا تعالیٰ کے ساتھ ملا دیتے ہیں اور عجیب و غریب مخلوق بنا لیتے ہیں جو کہ ہوتے نہیں ہیں، کیونکہ اللہ، اللہ ہے، مخلوق، مخلوق ہے۔ اور دوسری طرف بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اولیاء اللہ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ اولیاء اللہ، اللہ کے دوست ہیں۔ جو اللہ کے دوست ہوں گے تو ان کی بات کیا ہوگی؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو اللہ کے ولی کو ایذا پہنچاتے ہیں، کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ اعلانِ جنگ ہوتا ہے۔

تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس لیے جو اولیاء اللہ ہیں وہ بڑے لوگ ہیں، اللہ کرے کہ ہم بھی ان کے راستے پہ چلیں۔

تو ان کا طریقہ کیا ہے؟ تقویٰ حاصل کرنا۔ تو رمضان شریف کے روزے ہمارے سامنے ہیں، اب تقویٰ کیسے ہوگا؟ کس کو تقویٰ کہیں گے؟ بتا دیتے ہیں۔

روزے کی definition جو ہے وہ یہ ہے کہ جس میں تین چیزوں پہ پابندی ہو: صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک، اس میں انسان کھائے، پیئے نہ اور مباشرت کے قریب نہ جائے، تو وہ روزہ دار ہے۔ یہ تین باتیں اگر کسی کو حاصل ہیں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک، تو یہ روزہ دار ہے۔ روزہ فرض اس کا ہو گیا، اس کو ہم روزہ دار کہیں گے، سب لوگ ان کو روزہ دار مانیں گے۔ لیکن اللہ پاک کے ہاں حقیقی روزہ دار ہے یا نہیں ہے؟ یہ الگ بات ہے۔ یہ الگ بات ہے۔

تو اس کی بات یہ ہے کہ دیکھیں، مسجد پہنچنا بڑی بات ہے، سبحان اللہ، مسجد پہنچنا بڑی بات ہے۔ لیکن مسجد کے اندر دنیا کی باتیں کرنا بری بات ہے۔ حتیٰ کہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی دنیا کی باتیں مسجد میں کرتا ہے تو ان کو فرشتے پہلے کہتے ہیں: "اے اللہ کے ولی! چپ ہو جا۔ اے اللہ کے ولی! چپ ہو جا"، دو دفعہ اس طرح کہتے ہیں۔ اور تیسری دفعہ بھی کوئی کرے تو پھر کہتے ہیں: "اے اللہ کے دشمن! چپ ہو جا۔"

اب جو مسجد ہے وہ بہت اونچی جگہ ہے، خدا کا گھر ہے۔ اس کے اندر دنیا کی بات بھی اگر کوئی کرتا ہے تو وہ جرم بن جاتا ہے۔ تو اسی طریقے سے اونچی جگہ پر اگر کوئی پہنچتا ہے تو اس کے اونچے تقاضے ہوتے ہیں۔ اونچے تقاضے ہوتے ہیں۔ آپ کسی چھوٹے افسر کے پاس جائیں گے تو اس کا چھوٹا Protocol ہوگا، بڑے افسر کے پاس جائیں گے تو بڑا Protocol ہوگا۔ اس کے بڑے مسائل ہوں گے۔ اسی طریقے سے یہ جو اللہ کی پسندیدہ جگہیں ہیں، وہاں پر اگر کوئی جاتا ہے تو اس کا پھر سبحان اللہ کچھ تقاضے ہوں گے۔

اور دوسری طرف کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں برکات بہت زیادہ ہوتی ہیں، جیسے رمضان شریف کا روزہ۔ مطلب کسی نے رمضان شریف میں روزہ رکھا۔ اب اس کو دیکھو، ایک تو رمضان شریف کا مہینہ ہے، دوسرا رمضان شریف کا روزہ ہے۔ تو رمضان شریف کے مہینے میں بھی اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ باقی دنوں سے مختلف ہے۔ اس کی سزا باقی دنوں سے مختلف ہے۔ اور پھر روزہ رکھتے ہوئے اگر کوئی کرے؟ تو اور بھی سخت ہے۔

اس وجہ سے فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کا روزہ صرف فاقہ بنتا ہے، صرف فاقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے فاقہ کیا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کو روزے کے وہ چیزیں حاصل نہیں ہوتیں جو روزے والوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ جیسے بعض نمازیوں کو صرف اٹھک بیٹھک بس حاصل ہوتا ہے، اس سے زیادہ ان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طریقے سے بعض زکوٰۃ والوں کو صرف مال کی کمی حاصل ہوتی ہے، وہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ اس طرح بعض روزہ داروں کو صرف بھوکا رہنا حاصل ہوتا ہے، اس سے زیادہ ان کو حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں تقویٰ نہیں ہوتا۔

اب تقویٰ کا مطلب کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بعض چیزوں سے رک جانا جن سے اللہ پاک نے رکنے کا حکم فرمایا ہے۔ اور اللہ پاک کی ناراضگی سے بچنے کے لیے کچھ کاموں کو کرنا، اوامر و نواہی کا خیال رکھنا، تقویٰ اس کا ذریعہ ہے۔

اب جب دیکھیں، اگر خدانخواستہ اللہ معاف فرمائے، اگر میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ اگر میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں غیبت کر رہا ہوں۔ اگر میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں چغلی کھا رہا ہوں۔ اگر میں نے روزہ رکھا ہے، میں کرپشن کر رہا ہوں، دھوکہ کر رہا ہوں۔ اب اس کے ہوتے ہوئے مجھے بتائیں میرے روزے کی کیا حالت ہوگی؟ کیا اس روزے کے اندر جان ہے؟ قطعاً نہیں۔ اس وجہ سے تقویٰ حاصل نہیں ہوتا اس روزے سے۔ ایسے روزے سے تقویٰ حاصل نہیں ہوتا۔

بلکہ میں یوں کہہ سکتا ہوں، سب سے بڑی بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ رمضان شریف کے مہینے میں اللہ پاک نے رمضان کے زمانے کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی کسی بھی قسم کے ایسے نقصان سے بچ جائے، شیاطین کو قید فرما دیتے ہیں۔ شیاطین قید ہو جاتے ہیں۔ اب آپ کے سامنے صرف آپ کا نفس ہے۔ آپ کے سامنے آپ کا صرف نفس ہے۔ اب شیاطین قید ہیں گویا کہ گولہ باری سے بچے ہوئے ہیں آپ، جو باہر کی خارجی گولہ باری ہے اس سے آپ بچے ہوئے ہیں۔

آپ حضرات جانتے ہیں کہ آرمی والے جب پتہ چل جاتا ہے کہ گولہ باری نہیں ہو رہی ہے، فائرنگ نہیں ہو رہی ہے، تو پھر وہ ایڈوانس جتنا کرنا چاہتے ہیں کر لیتے ہیں، اپنے آپ کو محفوظ جگہوں پر پہنچانے کے لیے۔ یہ ان کا طریقہ ہوتا ہے۔ اب آپ دیکھ لیں، شیاطین بند ہیں، آپ کے پاس موقع ہے، آپ کتنا آگے بڑھنا چاہتے ہیں بڑھ سکتے ہیں۔ جتنا آگے بڑھنا چاہیں آپ بڑھ سکتے ہیں۔ اب صرف آپ کے نفس کی بات ہے نا۔

تو اب نفس کی وہ مخالفت جو شیطان کی موجودگی میں ہے وہ زیادہ ہوگا؟ یا نفس کی وہ مخالفت جو شیطان کے قید ہونے کی صورت میں ہو وہ زیادہ ہوگا؟ کم ہو جائے گا نا؟ کیونکہ ظاہر ہے شیطان تو وسوسہ ڈالتا ہے نا، وسوسہ ڈالتا ہے نفس کے ذریعے سے۔ نفس کے ذریعے سے۔ یعنی نفس کوئی چیز چاہتا ہے تو شیطان آپ کے دل میں وسوسہ پھونکے گا کہ دیکھو یہ کر لو، ایسی چیز تمہیں مل جائے گی۔ اب وہ وسوسہ کا ذریعہ نفس کو بناتا ہے۔ اب شیطان بند ہے لہذا وہ وسوسہ نہیں ڈال سکتا۔ اب صرف تمہارے سامنے نفس ہے۔

نفس کو دباؤ روزے کے ذریعے سے۔ نفس کو دباؤ روزے کے ذریعے سے۔ تو روزہ تین چیزیں تو آپ نے بند کر ہی لی نا۔ مطلب کھانا پینا، مباشرت تو بند ہو گیا۔ تو نفس کے اوپر اتنا بڑا بوجھ پڑ گیا ہے کہ اگر مزید بوجھ اس پہ ڈالنا چاہے تو یہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کوئی زیادہ مزاحمت نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے آپ جھوٹ سے بچنا چاہیں بہت آسان۔ غیبت سے بچنا چاہیں بہت آسان۔ دھوکہ سے بچنا چاہیں بہت آسان۔ لیکن اگر کوئی اس حالت میں بھی نہیں بچتا تو اس کا مطلب کیا ہے پھر؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ معاملہ پھر بہت خطرناک ہو جاتا ہے نا۔

دیکھو نا شیطان بھی بند ہے، نفس کے اوپر بھی پہلے سے کافی زور پڑا ہوا ہے، اب صرف آپ کو ہمت کرنی ہے کہ آپ نے ان چیزوں سے بچنا ہے جن چیزوں سے اللہ پاک نے روکا ہے۔ اب ان چیزوں سے آپ رکیں گے تو یہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ ہمارے جو دنیا دار لوگ ہوتے ہیں Investment کرتے ہیں نا، Investment کرتے ہیں۔ Investment سے مال بڑھتا ہے۔ تو اگر آپ روزہ کی حالت میں Investment کریں، ہمت کر لیں، آگے بڑھ لیں، نیکیاں کر لیں، برائی سے بچ جائیں، اس سے ماشاء اللہ آپ کی صلاحیت بڑھتی جائے گی۔

کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص کوئی نیکی کرتا ہے، اس نیکی کا اجر فوری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کو دوسری نیکی آسانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔ اور اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کا فوری نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کو دوسری برائی آسان ہو جاتی ہے۔

اب ذرا غور فرمائیں، آپ کے پاس آسانیاں ہیں، نفس کی طرف سے بھی آسانی ہو گئی اور شیطان بھی بند ہے۔ اس حالت میں نیکی کرنا آسان ہے۔ اس آسان نیکی کو کر لو۔ تو میں آپ کو ایک اور بات بتا دوں۔

عام مارکیٹ کا قانون کیا ہے؟ عام مارکیٹ کا قانون تو یہ ہے کہ اگر چیزیں کم ہو جائیں... تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یا چیزیں آسان ہو جائیں تو قیمت کم ہو جاتی ہے۔ یہی بات ہے نا؟ عام مارکیٹ کا تو یہی قانون ہے۔ لیکن اللہ پاک نے رمضان کے لیے یہ قانون نہیں رکھا۔

رمضان شریف میں نیکی کرنا آسان ہو گیا نا؟ نیکی کرنا آسان ہو گیا اور برائی کرنا مشکل ہو گیا۔ اس کے باوجود رمضان شریف کی نیکی کا اجر زیادہ ہے عام دنوں کی نیکی سے۔ بلکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو کوئی نفل عمل کرتا ہے رمضان شریف میں، اس کو فرضوں کا اجر ملتا ہے۔ اور جو فرضوں کا عمل کرتا ہے وہ 70 گنا اجر حاصل کرتا ہے۔

اب تھوڑا سا غور کر لیں کہ اللہ پاک کی مہربانی کتنی ہے۔ اب اس لحاظ سے میں کہوں گا کہ آپ کو نیکیاں کرنے کی جو آسانی ہے، تو الحمد للہ اس کی وجہ سے آپ کو... یعنی گویا کہ اجر میں کمی نہیں کی جائے گی بلکہ اجر بڑھ جائے گا اور مزید توفیقات سے آپ کو نوازا جائے گا۔ اس وجہ سے یہ رمضان شریف کا مہینہ اصلاح کا مہینہ ہے۔ رمضان شریف کا مہینہ اصلاح کا مہینہ ہے۔ جو کوئی اصلاح کی نیت کر لے نا، ان شاء اللہ اس کو بھی فائدہ ہوگا۔ جو صرف اصلاح کی نیت کرتا ہے۔ اور اگر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کر لیتا ہے تو پھر تو نور علیٰ نور۔

اب میں عرض کرتا ہوں ماشاء اللہ اصل نکتے کی طرف آتا ہوں۔

آخری عشرے میں ایک بہت بڑا عمل ہوتا ہے جو اعتکاف کہلاتا ہے۔ جیسے روزہ جو ہے یہ انسان کو متقی بناتا ہے، تو اعتکاف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ گناہوں سے بچاتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو قلعہ بند کر دیتا ہے۔ یعنی جو گناہوں کے اڈے ہیں، ان سب سے کٹ کے آپ صرف اور صرف اللہ کے پاس آ گئے۔ اللہ کے پاس آ گئے۔ اللہ کے گھر میں آ گئے نا۔ اللہ کے گھر میں آ گئے۔

اللہ تعالیٰ کو یہ عمل اتنا محبوب ہے کہ آپ جس Zone میں ہیں، جس ایریا میں ہیں جس کو مسجد کہتے ہیں، اس میں آپ کو دس دن کے لیے Compulsory طور پر Alert حالت میں رکھا جائے گا۔ کیسے؟

رمضان میں آپ بھول سے کھا پی لیں، روزہ نہیں ٹوٹتا۔ رمضان میں آپ بھول سے کھا پی لیں روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اعتکاف میں آپ بھولے سے بھی اگر مسجد کے حدود سے نکل گئے، اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ پس پتہ چلا کہ اعتکاف میں اللہ جل شانہ آپ کی بہت زیادہ Care کرنا چاہتا ہے، بہت زیادہ آپ کو بچانا... کہ آپ کسی طریقے سے بھی آپ محفوظ جگہ سے ہلیں نہیں۔ یہ جو ہے نا بہت ضروری ہے۔

جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اب اعتکاف میں کیا کرنا چاہیے؟

دیکھو شیطان تو بند ہو گیا۔ نفس کے اوپر پیر رکھا گیا۔ اعتکاف میں آپ بری جگہوں سے کاٹ دیے گئے۔ بہترین جگہ پر آپ پہنچا دیے گئے۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ اس سے زیادہ اچھا موقع اور کیا ہوگا کہ آپ کو اللہ پاک نے مہیا فرما دیا۔ اس وجہ سے بہت زیادہ Care رکھنی چاہیے کہ میرا اعتکاف واقعتا ایسا ہو جائے کہ میں جب اس سے نکلوں تو اللہ پاک نے مجھے قبول فرما لیا ہو۔ ہاں، بہت زیادہ۔

اب میں آپ کو ایک عرض کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ وقتا فوقتا اپنے بندوں سے خیر کے راستے چلا دیتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ وہ تشریف لائے تھے، انہوں نے بہت زیادہ اصلاح فرمائی اس امت کی، الحمد للہ۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ آئے، بہت زیادہ اصلاح انہوں نے فرمائی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ آ گئے، انہوں نے بڑی اصلاح فرمائی۔ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، انہوں نے بہت زیادہ اصلاح فرمائی۔

اچھا، کچھ کام اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے لیتے ہیں۔ تو مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جو کام لیا گیا وہ بتاتا ہوں۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، حضرت خود ارشاد فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: "زکریا کا دل تو بہت یہاں آنے کو چاہتا ہے، لیکن میرا جی چاہے کہ ان سے کچھ اور کام لیا جائے۔"

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "یا رسول اللہ! میرا بھی جی چاہتا ہے کہ ان سے کچھ اور کام لے لیا جائے۔"

اب خواب سے بیدار ہوئے، بڑے حیران ہوئے کہ پتہ نہیں میں کیا کام کر سکتا ہوں؟ آپ حضرات نے کتابیں پڑھی ہوں گی حضرت کی، کیا فرماتے ہیں اپنے آپ کو، "خطاکار، نابکار، سیاہ کار، گناہگار"، پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا کیا فرماتے ہیں۔ ایسی حالت میں حضرت حیران تھے کہ مجھ سے کیا کام لیا جائے گا؟ میں کس کام کے قابل ہوں؟

تو اپنے کچھ جاننے والوں سے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا، یہ تو نہیں فرمایا نا کہ کام کرو، یہ فرمایا کام لیا جائے گا نا؟ جی بالکل یہی۔ فرمایا پھر لے لیا جائے گا۔ جو لینے والے ہیں وہ لے لیں گے۔ تو پھر کیا کام لیا گیا؟ آپ کو میں بتاتا ہوں۔

یہ آخری پانچ سالوں کی بات ہے۔ آخری پانچ سال جو حضرت کے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کے اوپر ایک حال طاری کر دیا۔ اور وہ حال کیا تھا؟ کہ ہر مسجد کو خانقاہ بنا دو۔ ہر مسجد کو خانقاہ بنا دو۔ کیونکہ آج کل خانقاہیں بہت کم ہو گئی ہیں۔ لوگ اصلاح کی طرف مائل نہیں ہیں۔ جو جگہیں آباد تھیں وہ ویران ہو رہی ہیں۔ ایسی صورت میں کسی ایسے طریقے سے کام کرنا چاہیے کہ سب کو وہ جو خانقاہوں سے مقصود ہے وہ حاصل ہو جائے۔ اس کے لیے حضرت نے "اصلاحی اعتکاف" شروع کر دیا۔ اصلاحی اعتکاف۔

یہ حضرت کے ہاں شروع ہوا، 40 دن کا اعتکاف۔ یعنی شعبان کے آخری دس دن سے لے کے پورا رمضان شریف۔ اور کمال کی بات ہے کہ حضرت نے پانچ اعتکاف کیے ہیں آخری پانچ سالوں میں، چار کفرستانوں میں کیے ہیں۔ انڈیا میں، جنوبی افریقہ میں، انگلینڈ میں، برما میں۔ ایک صرف مسلمان ملک میں کیا ہے، پاکستان میں۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ الحمد للہ میں اس میں پہنچ گیا تھا، اللہ کا شکر ہے۔ حضرت تشریف لائے تھے فیصل آباد میں تو میں بھی حاضر ہوا تھا۔

اس وقت الحمد للہ اللہ پاک نے وہ منظر ہمیں دکھایا کہ ایک ایک صف میں 17، 17 شیخ الحدیث حضرات موجود ہیں، مشائخ موجود ہیں، علماء موجود ہیں۔

اور حضرت مفتی محمود گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت کے خلیفہ تھے اور مفتی اعظم تھے ہندوستان کے، وہ حضرت کے سامنے ظہر کی نماز کے بعد ذکر کی مجلس کا اجرا فرماتے، یعنی افتتاح فرماتے۔ پھر حضرت کے خلوت خانے سے پردے ہٹ جاتے اور حضرت بھی ذکر کرتے، سارے لوگ ساتھ ذکر کرتے۔ ماشاء اللہ ہم نے خود الحمد للہ دیکھا ہے، اس میں ہم شامل ہوئے ہیں۔

مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو حضرت نے اس پیرانہ سالی میں کہ اس میں چار آدمی حضرت کو اٹھاتے تھے۔ اس پیرانہ سالی میں اتنے لمبے لمبے سفر کرنا۔ ایک بات۔

دوسری بات کہ حضرت مدینہ منورہ میں مقیم تھے وہاں فوت ہونے کے لیے۔ وہاں فوت ہونے کے لیے مقیم تھے آخری جو دور تھا حضرت کا۔ اب ایسی حالت میں مدینہ منورہ سے 40 دن باہر رہنا، یہ معمولی بات ہے ایسے لوگوں کے لیے؟ جن کا یہ فکر ہو کہ مجھے مدینہ منورہ میں موت آ جائے، یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کوئی بہت اونچا عمل ہے جس کی وجہ سے حضرت نے ماشاء اللہ اتنی قربانی کی کہ وہ باہر تشریف لائے۔

تو بہرحال یہ میں آپ کو بتاؤں اس کا فائدہ بھی ہوا۔ فائدہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ الحمد للہ حضرت کی برکت سے پوری دنیا کے اندر اصلاحی اعتکاف شروع ہو گئے ہیں۔ پوری دنیا کے اندر۔ نتیجتاً آج کل انگلینڈ میں بھی اصلاحی اعتکاف ہو رہے ہیں، امریکہ میں بھی ہو رہے ہیں، انڈیا میں بھی ہو رہے ہیں، پاکستان میں بھی ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ پنڈی میں بھی ہو رہے ہیں۔ ہر جگہ پر ہو رہے ہیں۔

ہاں یہ الگ بات ہے کہ بعض دفعہ معلومات نہیں ہوتیں۔ بعض دفعہ معلومات نہیں ہوتیں، آدمی سمجھتا ہے بھئی یہ کیا ہے، کچھ لوگ جمع ہو گئے، کچھ بھی نہیں۔ ٹھیک ہے جی، موت کے بعد پتہ چل جائے گا کہ کون کیا کر رہا تھا۔ یہ تو ہر ایک کی قسمت کی بات ہے، کس کو کون سی بات سمجھ آ جاتی ہے۔

تو میں عرض کرتا ہوں یہ اولیاء اللہ کے ہاں طریقہ چلا آ رہا تھا۔ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں جو اعتکاف ہوتا تھا، جو حضرات ادھر جاتے رہے ہیں ان کو پتہ ہوگا۔ جو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں جاتے رہے ہیں ان کو پتہ ہوگا، سلہٹ میں ان کا اعتکاف ہوتا تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ... دوسرے حضرات کا۔ لیکن وہ اپنی اپنی جگہ پہ تھا، یہ حضرت کا تھا "اصلاحی اعتکاف" پوری دنیا کے اندر عام کرنے کا، یہ الگ فکر ہے۔

لیکن بہرحال میں آپ کو بتا دوں اس کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا الحمد للہ۔ اس اعتکاف میں دس دن لگانا جو ہوتا ہے، وہ کہہ سکتے ہیں پورے سال کی محنت سے زیادہ ہوتی ہے۔ پورے سال کی! وجہ یہ ہے کہ شیطان بند ہے، نفس کے اوپر پیر رکھا گیا ہے اور ساتھ آپ محفوظ جگہ پہ ہیں اور پھر آپ وہ اعمال کر رہے ہیں جس کے لیے آپ کو شیطان نہیں چھوڑنا چاہتا۔ وہ اعمال کر رہے ہیں جو آپ کے نفس کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ وہ اعمال ہیں جو آپ کو ماحول نہیں کرنے دینا چاہتا۔ آپ ماحول سے کٹ گئے، شیطان سے کٹ گئے، نفس کے بوجھ سے آزاد ہو گئے، اب بھی اگر آپ نہیں کریں گے تو پھر کس وقت کریں گے؟

لہذا اصلاحی اعتکاف میں فائدہ بہت ہوتا ہے۔ بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ اب میں آپ کو بتاؤں اصلاحی اعتکاف کیا ہوتا ہے؟

الحمد للہ اللہ کا احسان ہے۔ دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ رمضان شریف کے اندر تراویح، اس کو لوگ بعض دفعہ بوجھ سمجھتے ہیں۔ بوجھ سمجھتے ہیں۔ اور واقعتاً مطلب بوجھ لگتے ہیں کہ بھئی عام دنوں میں آپ نو رکعت عشاء کی پڑھتے ہیں، اس میں 29 رکعت پڑھتے ہیں۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے؟ آپ کو تراویح کے بیس رکعتوں سے اللہ تعالیٰ کا کیا بڑھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا تو کچھ بھی نہیں بڑھتا۔ جو ملتا ہے آپ کو ملتا ہے نا۔ تو کیا ملتا ہے؟ اس میں آپ کو قرآن کا نور ملتا ہے۔ نمبر ون۔

دوسرا آپ کو قیام، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا جو مقام ہے وہ ملتا ہے۔ آخر آپ حضرات جانتے ہیں کہ جو ایمان و احتساب کے ساتھ لیلۃ القدر میں کھڑا ہو گیا اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ہے نا یہ بات؟ تو "من قام"، قام کا لفظ ہے، تو کیا مطلب ہے؟ نماز ہے نا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ان میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا سیکھ لیں، اس میں اللہ تعالیٰ کا قرآن سننا سیکھ لیں۔ قرآن بہت بڑی بات ہے۔ اللہ پاک کا کلام ہے۔ اللہ کا کلام ہے، اللہ کی ایک صفت ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کلام کی برکت سے، اس کلام کے طفیل ہم اللہ پاک کے بہت قریب ہو سکتے ہیں۔ بہت قریب ہو سکتے ہیں۔

دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو آواز آ رہی تھی درخت سے کہ "میں اللہ ہوں"۔ تو درخت تو خدا نہیں تھا۔ درخت تو خدا نہیں تھا لیکن کلام اللہ کا تھا۔ اسی طریقے سے جو ہمارا مولانا صاحب قاری صاحب جو پڑھا رہا ہے، وہ بھی خدا نہیں ہے لیکن ادھر سے جو آواز آ رہی ہے، جو الفاظ آ رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ آپ اس کیفیت کے ساتھ اس کو سنیں نا۔ اس کیفیت کے ساتھ سنیں کہ اللہ پاک فرما رہے ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے تھے: "جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے بات کروں تو نماز پڑھتا ہوں۔ اور جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے بات کرے تو قرآن سنتا ہوں۔" جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے بات کرے تو پھر کیا کرتا ہوں؟ قرآن سنتا ہوں۔ تراویح میں دونوں اکٹھے نہیں ہوئے؟ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ لہذا تراویح بہت بڑا عمل ہے، اس میں ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ ایک بات۔

دوسری بات میں عرض کرتا ہوں، الحمد للہ اللہ کا احسان ہے، ایک ختم بھی ہو جائے نا ایک ختم کسی کا قرآن تراویح میں، تقریباً حساب کیا گیا چھ ارب نیکیاں ملتی ہیں۔ چھ ارب نیکیاں! آپ خود حساب لگا سکتے ہیں میں بتا دوں گا۔ چھ ارب نیکیاں ملتی ہیں۔ اور روزانہ ایک قرآن ختم کرے غیر رمضان میں، 365 ختم کر لے، اس کی ایک ارب نیکیاں ملتی ہیں۔ یعنی صرف ایک قرآن آپ ختم کریں تراویح میں تو آپ کو ملیں گی کتنی؟ چھ ارب نیکیاں۔ اور اگر آپ پورے غیر رمضان میں ہر روز ایک ختم کر لیا کریں، تو آپ کو 365 دنوں میں کتنی ملیں گی؟ ایک ارب نیکیاں۔ اب بتاؤ چھ گنا تو اس میں ہو گیا۔

تو اللہ کا شکر ہے ہمارا جو اعتکاف ہے، جہاں پر الحمد للہ ہم کرتے ہیں اصلاحی اعتکاف حضرت کے طریقے پر، اس میں تین قرآن ختم ہوتے ہیں الحمد للہ۔ تراویح میں تین قرآن ختم ہوتے ہیں۔ تین دنوں میں ایک، تین دنوں میں دوسرا، تین دن میں تیسرا۔ درمیان میں حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے طریقے پہ مراقبہ کیا جاتا ہے۔ جو حضرت کا طریقہ تھا، مراقبہ کرتے تھے۔ کیونکہ ترویحہ میں آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں، خاموش بھی بیٹھ سکتے ہیں، لیکن ہم لوگ مراقبہ کرتے ہیں۔ مراقبے سے وہ جو قرآن پاک کے انوارات ہیں وہ ماشاء اللہ آپ کے قلب کے اوپر منعکس ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اور تیسری بات یہ ہے کہ الحمد للہ اس میں جو موٹی موٹی دین کی باتیں ہیں، جو اس وقت کے مناسب ہوتی ہیں وہ بھی ساری ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ صبح عقائد کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جو تصوف کے بارے میں تعلیم ہوتی ہے بارہ بجے سے ایک بجے تک۔ اور عصر کے بعد بھی تعلیم ہوتی ہے۔ یہ ساری چیزیں مل کر الحمد للہ ایک پورا کورس بن جاتا ہے۔

لہذا اگر کوئی کسی بھی جگہ جائے، اصلاحی اعتکاف کر لے، ہمارا وہ نہیں ہے کہ ہم صرف خاص ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہمارے پاس بھی آنا چاہتا ہے تو راستے کھلے ہیں، الحمد للہ آ سکتے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے ایسے لوگ جو بائی چانس آئے، بائی چانس، مطلب ظاہر ہے کہ پہلے سے کسی اور جگہ اعتکاف کرتے تھے، بائی چانس ایک دن آئے اور اللہ کا شکر ہے وہیں کھڑے ہو گئے۔ قرآن کے اپنے انوارات ہیں، ایسے ہو گئے کہ پھر اب کسی اور جگہ جا ہی نہیں رہے۔ اب وہیں پر اعتکاف کر رہے ہیں۔ کئی سالوں سے مسلسل اعتکاف کر رہے ہیں۔ اس طرح ہر سال ماشاء اللہ لوگ بڑھتے ہیں۔

تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں یہ جو آنے والے جو اب چند روز ہیں ان کو معمولی نہ سمجھیں۔ ایک تو اپنے مسجد کا اعتکاف ہے نا، وہ تو لازم ہے سنتِ کفایہ کے طور پر۔ سنتِ مؤکدہ ہے علی الکفایہ۔ یعنی کم از کم ایک شخص محلے سے تو ہونا چاہیے جو مسجد میں ہو، سب کی طرف سے نمائندے کے طور پر، یہ تو ہونا چاہیے۔ اس وجہ سے اگر آپ صرف ایک ہیں تو میں آپ کو دعوت نہیں دوں گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہیں تو پھر تو دعوت دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ایک سے تو کفایت پوری ہو جائے گی، محلے والوں کی بات پوری ہو جاتی ہے، پھر بعد میں دوسری جگہوں پر آ سکتے ہیں۔

تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں، ایک تو یہ عرض کرنا تھا، دوسرا مختصر عرض کرتا ہوں کیونکہ ٹائم پورا ہو گیا۔

اگر کوئی اعتکاف نہیں کر سکتا تو محروم تو اس کو بھی نہیں ہونا چاہیے نا۔ محروم تو اس کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے میں آسان ترین نسخہ بتاتا ہوں۔ سب سے پہلے یہ کام کریں کہ اپنے گھروں سے وہ چیزیں نکال لیں جو گناہوں کا ذریعہ ہے۔ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، جو گناہوں کا ذریعہ ہے ان کو گھروں سے نکال لیں۔ پہلی بات۔ تصویریں وغیرہ بھی اگر گھر میں ہو تو کم از کم رمضان شریف کے ان دنوں میں تو نکال لو۔ یہ اب...

اور دو نمازیں جو مغرب اور عشاء کی آ رہی ہیں وہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھیں۔ مسجد آتے وقت بھی ذکر کریں، مسجد سے جاتے ہوئے بھی ذکر کریں۔ لوگوں کے ساتھ نہ آئیں، نہ لوگوں کے ساتھ جائیں۔ بالکل ڈسکشن چھوڑ دیں۔ ڈسکشن چھوڑ دیں، ڈسکشن اوروں کے حوالے کر دیں۔ بھئی ہمارا کام ڈسکشن نہیں، اب تو ہم صرف اللہ تعالیٰ کے ہیں۔

اچھا، یا آرام کرو یا کام کرو۔ اگر آپ کام نہیں کر رہے تو پھر آرام کرو تاکہ تازہ دم ہو جائیں۔ اور اگر آرام ہو گیا ہے تو پھر کام کرو۔ کام کیا ہے؟ قرآن پاک پڑھو، ذکر کرو، اور نماز پڑھو، اور دعائیں کرو۔ یہ ماشاء اللہ اس سے... تو ویسے ایک ترتیب بتا دیتا ہوں، ویسے کوئی لازم نہیں، آپ اپنی طرف سے بھی کر سکتے ہیں۔

مثلاً: آدھا پارہ آپ نے قرآن پاک کا تلاوت کر لیا۔ چار رکعت نماز پڑھ لیے نفل۔ اس کے بعد آپ نے پانچ سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا، پانچ سو مرتبہ کلمہ طیبہ، پانچ سو مرتبہ استغفار۔ پھر اس کے بعد مسنون اور قرآنی دعائیں آپ پڑھیں۔ پھر اس کے بعد اپنی زبان میں دعائیں کر لیں۔ پھر اس کے بعد چار رکعت، پھر اس کے بعد آدھا پارہ تلاوت، پھر اس کے بعد دوبارہ... جتنا آپ کی بس ہے اتنا چلتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔



رمضان المبارک: حصولِ تقویٰ، ولایت کا راستہ اور اصلاحی اعتکاف کی اہمیت - جمعہ بیان