رمضان المبارک کے چار اہم معمولات: کلمہ طیبہ، استغفار، حصولِ جنت اور دوزخ سے پناہ

فضائل رمضان، فصل اول، اشاعت اول 30 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        رمضان کے چار اہم اعمال: کلمہ، استغفار، طلبِ جنت اور جہنم سے پناہ کی کثرت۔

•        کلمہ طیبہ کی فضیلت: حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ اور کلمے کا کائنات سے زیادہ وزنی ہونا۔

•        کلمہ گو کی قدر و منزلت: جرمنی کے واقعے کی روشنی میں ہر مسلمان کی قدروانی۔

•        روحانی پرواز اور رکاوٹ: کلمہ طیبہ روحانی بلندی (Lift) اور گناہِ کبیرہ روحانی بوجھ ہیں۔

•        قانونِ قدرت: کلمہ اور پانی جیسی اہم ترین ضروریات کی دنیا میں عام دستیابی۔

•        استغفار کے ثمرات: رزق کی کشادگی، مشکلات سے نجات اور تنگیوں کا خاتمہ۔

•        دل کی صفائی: گناہوں کی وجہ سے دل پر سیاہ دھبہ اور توبہ کے ذریعے اس کی دھلائی۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

معزز خواتین و حضرات!

اب فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسے کہ ہمارا معمول ہے۔


اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم فرمایا: اول کلمہ شہادت، احادیث میں اس کو افضل الذکر ارشاد فرمایا ہے۔ مشکوۃ میں بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دے، کہ اس کے ساتھ میں تجھے یاد کیا کروں اور دعا کیا کروں۔ وہاں سے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" ارشاد ہوا۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ یہ کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں، میں تو کوئی دعا یا ذکر مخصوص چاہتا ہوں۔ وہاں سے ارشاد ہوا کہ موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے، میرے سوا، یعنی ملائکہ اور ساتوں زمین ایک پلڑہ میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے میں کلمہ طیبہ رکھ دیا جاوے تو وہی جھک جائے گا۔

سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اب اس کا میں آپ کو ایک عجیب واقعہ بتاتا ہوں۔ جب میں جرمنی (Germany) میں تھا تو پاکستانی ساتھی جو وہاں پر تھے ہماری دوستی تھی آپس میں ملنا جلنا ہوتا تھا۔ تو وہاں ترک حضرات کافی تعداد میں ہوتے ہیں۔ مسلمان تھے، ان کی مسجدوں میں ہم نماز پڑھتے ہیں۔ ترکوں کی اپنی طبیعت ہے، ظاہر ہے وہ ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ تو بعض لوگوں کے ساتھ ان کی وہ نہیں ہوتی Compatibility۔ تو ذرا اس ساتھی کے ساتھ ان کی کچھ ان بن بن رہی ہو گی۔ تو میں ترکوں کے ساتھ چونکہ محبت رکھتا تھا اور ہم سب کرتے ہیں۔ تو میں نے اس کا ذکر کیا کہ ترک تو ایسے ہیں، ایسے ہیں، ایسے۔ کہنے لگے نہیں ابھی آپ نئے نئے آئے ہیں نا، تو آپ کو جلدی پتہ چل جائے گا کہ اصل میں یہ کیسے ہیں۔ میں نے کہا زیادہ سے زیادہ آپ کیا کہہ سکیں گے؟ کہ گنہگار ہیں۔ اس سے زیادہ تو کچھ کہہ سکتے مسلمان تو ہیں نا۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکیں گے کہ گنہگار ہیں، ٹھیک ہے مان لیا۔

یہ سارے جرمنی (Germany) جو آپ کو ٹاپ (Top) قسم کے لوگ نظر آتے ہیں، بڑے اخلاق کے لحاظ سے اور سارے جتنی اچھی صلاحیتیں ان میں ہیں، سب کو ایک پلڑے میں رکھو، اور ایک گنہگار سے گنہگار ترک کو دوسرے پلڑے میں رکھو، اللہ کے نزدیک وہ بھاری ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں جو کلمہ ہے وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ کلمہ کو آپ نے کیا سمجھا ہوا ہے؟ یہ بہت بڑی نعمت ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔

اور جو قدر کرتا ہے نا کسی چیز کا اللہ پاک اس کے تمام فوائد اس کو نصیب فرماتے ہیں۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (إبراهيم: 7) کے طفیل۔ تو کلمہ کی جو قدر کرے گا، مثلاً آپ مسلمان بھائی کی اس لیے قدر کریں کہ یہ کلمہ والا ہے، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر دانی کی وجہ سے آپ کے کلمہ کو مضبوط کر دے گا، اس میں زیادہ آپ کو استقامت نصیب فرمائے گا۔ تو یہ بات ہے۔

ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص اخلاص سے اس کلمہ کو کہے، آسمان کے دروازے اس کے لئے فوراً کھل جاتے ہیں۔

اب اخلاص کیا ہے بتاتا ہوں۔ اخلاص یہ ہے کہ اس میں آپ کا اللہ کی رضا کے علاوہ اور کوئی نیت نہ ہو۔ یہ مطلب یہ ہے کہ اخلاص ہے۔ تو اگر آپ اس کے ساتھ کوئی دنیا کی منفعت وابستہ نہیں رکھتے اور آپ اس کو صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، تو یہ اخلاص ہے۔ تو اگر آپ اس کو کریں تو فرمایا کہ

اور عرش تک پہنچنے میں کسی قسم کی روک نہیں ہوتی، بشرطیکہ کہنے والا کبائر سے بچے۔

کبائر سے مراد یہ دے کہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہنا یہ پرواز ہے۔ یعنی لفٹ (Lift) ہے جو جہاز کو اڑاتا ہے یعنی کہ بلندی پہ۔ اور کبائر جو ہے نا یہ کیا ہے؟ یہ ثقل ہے مطلب یہ ہے کہ یہ نیچے لاتا ہے۔ اب یہ اوپر جانے والی چیز اگر ہے لیکن نیچے جانے والی چیز نہیں ہے تو اوپر ہی جائے گا۔ لیکن نیچے والی چیز ہے تو پھر مقابلہ ہو گا۔ ٹھیک ہے نا، پھر مقابلہ ہو گا۔ تو اس وجہ سے نیچے والی چیز کو کم کرو بلکہ ختم کرو اور جو اوپر جانے والی چیز ہے اس کو زیادہ کرو تو خود بخود آپ لفٹ (Lift) آپ کی ہو گی۔

عادتِ اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ضرورتِ عامہ کی چیز کو کثرت سے مرحمت فرماتے ہیں۔ دنیا میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز جس قدر ضرورت کی ہوتی ہے، اتنی ہی عام ہوتی ہے۔ مثلاً پانی ہے کہ عام ضرورت کی چیز ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کی بے پایاں رحمت نے اس کو اس قدر عام کر رکھا ہے۔ اور کیمیا جیسی لغو اور بیکار چیز کو عنقا (کمیاب) کر دیا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ افضل الذکر ہے، متعدد احادیث سے اس کی تمام اذکار پر افضلیت معلوم ہوتی ہے، اس کو سب سے عام کر رکھا ہے کہ کوئی محروم نہ رہے، پھر بھی اگر کوئی محروم رہے تو اس کی بہت بڑی بدبختی ہے، بالجملہ بہت سی احادیث اس کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں، جن کو اختصاراً ترک کیا جاتا ہے۔

دوسری چیز جس کی کثرت کرنے کو حدیثِ بالا میں ارشاد فرمایا گیا، وہ استغفار ہے۔ احادیث میں استغفار کی بھی بہت ہی فضیلت وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص استغفار کی کثرت رکھتا ہے، حق تعالیٰ شانہٗ ہر تنگی میں اس کیلئے راستہ نکال دیتے ہیں۔

یہ تو باقاعدہ قرآن پاک سے ثابت ہے۔

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠﴾ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿١٢﴾ (نوح: 10-12)

اور ہر غم سے خلاصی نصیب فرماتے ہیں اور ایسی طرح روزی پہنچاتے ہیں کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی گنہگار تو ہوتا ہی ہے، بہترین گنہگار وہ ہے جو توبہ کرتا رہے۔

یعنی گناہ تو ہم سے ہوتے رہتے ہیں، چھوٹے بڑے جو بھی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے بچائے۔ لیکن جو توبہ کی عادت والا ہے نا، وہ اس کے گناہ دھلتے رہتے ہیں، ختم ہوتے رہتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے رہتے ہیں۔

ایک حدیث قریب آنے والی ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو ایک کالا نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے، اگر توبہ کرتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے، ورنہ باقی رہتا ہے۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے دو چیز کے مانگنے کا امر فرمایا ہے جن کے بغیر چارہ ہی نہیں: جنت کا حصول اور دوزخ سے امن۔ اللہ اپنے فضل سے مجھے بھی مرحمت فرمائے اور آپ سب کو بھی۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


رمضان المبارک کے چار اہم معمولات: کلمہ طیبہ، استغفار، حصولِ جنت اور دوزخ سے پناہ - فضائل رمضان