کائنات کا محیر العقول نظام: اللہ کی وحدانیت کی دلیل اور ہماری غفلت

اشاعت اول، 3 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        آسمان، زمین، اور قدرتی مظاہر (دن رات، ہوائیں، بادل) میں اللہ کی نشانیاں۔

•        انسانی غفلت کہ ہم روزمرہ کے مناظر کے عادی ہو کر ان پر غور و فکر چھوڑ چکے ہیں۔

•        سائنسی حقائق کی روشنی میں قدرتِ الٰہی کا بیان (ہوائی دباؤ اور کرۂ ارض کا درجہ حرارت)۔

•        نظامِ باراں، پانی کے بخارات بننے اور گلیشیئرز کی صورت میں اللہ کے بنائے گئے 'کولڈ اسٹوریج' کا ذکر۔

•        کائنات کے خود بخود بننے کے نظریے (Probability/by chance) کا عقلی اور سائنسی رَد۔

•        انسان کی طبعی ناشکری، موت کی یاد اور سائنسدانوں کا کائنات کی کھوج میں خالق کو فراموش کر دینا۔

•        معرفتِ الٰہی (اللہ کو پہچاننا) اور عبدیت (اللہ کی بندگی اختیار کرنا) کا مفہوم۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَـاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا وَبَثَّ فِيْـهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍۖ وَتَصْرِيْفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (164)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات دن کے لگاتار آنے جانے میں، اُن کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لے کر سمندر میں تیرتی ہیں، اُس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اُتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں ﴿164﴾

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ کائنات کے ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پھیلے پڑے ہیں، اور اگر اُن پر معقولیت کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں۔ چونکہ روزمرہ ان کو دیکھتے دیکھتے ہماری نگاہیں ان کی عادی ہو گئی ہیں، اس لئے ان میں کوئی حیرت کی بات ہمیں محسوس نہیں ہوتی، ورنہ ان میں سے ایک ایک چیز ایسے محیر العقول نظام کا حصہ ہے جس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے سوا کائنات کی کسی طاقت کے بس میں نہیں ہے۔ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات جس طرح کام کر رہی ہیں، چاند اور سورج جس طرح ایک لگے بندھے نظام الاوقات کے تحت دن رات سفر میں ہیں، سمندر جس طرح نہ صرف پانی کا ذخیرہ کئے ہوئے ہے بلکہ کشتیوں کے ذریعے خشکی کے مختلف حصوں کو جوڑے ہوئے ہے، اور ان کی ضرورت کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا ہے، بادل اور ہوائیں جس انداز میں انسانوں کی زندگی کا سامان مہیا کر رہے ہیں، ان سب چیزوں کے بارے میں بدترین حماقت کے بغیر یہ سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ یہ سب کچھ خود بخود کسی خالق کے بغیر ہو رہا ہے۔ مشرکینِ عرب بھی یہ مانتے تھے کہ یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان تمام کاموں میں کئی دیوتا اس کے مددگار ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جس ذات کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ یہ سارا نظامِ کائنات اس نے بلا شرکتِ غیرے پیدا کر دیا ہے، آخر اسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کسی شریک یا مددگار کی کیا ضرورت ہے؟ لہذا جو شخص بھی اپنی عقل کو کام میں لائے گا، اسے کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل نظر آئے گی۔

حضرت نے ایک بات فرمائی ہے جس کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ وہ یہ ہے کہ ہم لوگ بعض چیزوں کے عادی ہو جاتے ہیں دیکھنے کے۔ ہمیں اس کا احساس اس لیے نہیں ہوتا۔ اگر اچانک وہ کام سامنے آجائے تو انسان بڑا حیران ہو جائے۔ مثلاً ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کے اوپر، یعنی سر کے اوپر آپ کہہ سکتے ہیں، تقریباً، یعنی 1400 پاؤنڈ کا وزن پڑا ہوا ہے۔ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ 1400 پاؤنڈ بڑی چیز ہوتی ہے۔ وہ وزن ہمارے سر کے اوپر پڑا ہوا ہے اور ہمیں محسوس بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ وزن کم ہو جائے تو پھر محسوس ہونے لگے گا، کیسے محسوس ہونے لگے گا؟ Blood pressure بڑھ جائے گا۔ یہ پہاڑوں کے اوپر جو لوگ جاتے ہیں تو اس وقت وہاں اوپر چونکہ atmospheric pressure کم ہوتا ہے، تو اس وجہ سے blood pressure زیادہ محسوس ہوتا ہے، بڑھنے لگتا ہے۔ اب اس کا ہمیں علم ہی نہیں ہے، مطلب پتا ہی نہیں ہے۔

اچھا اس طریقے سے کائنات کا، یعنی بڑی چیزیں تو چھوڑیں، ایک ذرہ انسان خود پیدا کرے، ایک ذرہ صرف، ایک ذرہ، ایک particle۔ کیونکہ جس چیز سے بنائے گا وہ چیز پہلے سے اللہ نے پیدا کی ہے، تو کیسے؟ یعنی دیکھیں، دیتا بھی اللہ ہے، طریقہ بھی اللہ سکھاتا ہے، پھر اللہ ہی ہونے دیتا ہے تو تب وہ کام ہوتا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ سارا کچھ یہ خود بخود ہو رہا ہے، یہ کیسے ہو رہا ہے؟ تو واقعتاً جیسے حضرت نے فرمایا کہ بدترین حماقت کے ساتھ ایک آدمی یہ بات کر سکتا ہے کہ خود بخود یہ چیزیں بنی ہیں۔

ایک Computer Scientist نے Permutation combination سے ایک فارمولا نکالا اور ایک بات کی کہ اگر Typewriter رکھا جائے ایک بندر کے سامنے اور وہ اس کے اوپر صرف اپنی انگلیاں مارے، تو اس کے مارنے سے خود بخود کوئی صحیح لفظ بنے، اس کی جو probability ہے وہ کیا ہے؟ آپ حیران ہوں گے۔ یعنی اکائی، دہائی، سینکڑا، ہزار، دس ہزار، لاکھ، دس لاکھ، کروڑ، دس کروڑ، ارب، کھرب ہا میں سے ایک دفعہ یہ امکان ہے کہ خود بخود ایک لفظ بن جائے، ایک صحیح لفظ بن جائے۔ یہ اس نے کیلکولیشن کی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ہماری حالت ہے کہ ہم ان تمام چیزوں کو بالکل ہی ignore کرتے ہیں۔

تو یہ ہماری ساری چیزیں جو ہیں باقاعدہ ایک ترتیب سے خود، ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہوئی ہیں۔ ہر چیز کا دوسرے کے اوپر اثر ہے۔ تھوڑا سا غور کرلیں، ہماری زمین جو ہے اس کا جو average temperature surface ہے، وہ minus 20 degree centigrade ہے۔ فاصلے کے لحاظ سے، سورج سے فاصلے کے لحاظ سے۔ لیکن یہ جو اس کے اوپر فضا ہے، ہوا ہے، یہ ہوا ایک blanket کا کام کر رہی ہے، ایک کمبل کا کام کر رہی ہے۔ جیسے پورے زمین نے کمبل اوڑھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا average temperature plus 20 degree centigrade ہے۔ اب یہ کوئی ایسے بائی چانس (by chance) تو نہیں بنا نا؟

اگر آپ تھوڑا سا اس کو analyze کرنا چاہتے ہیں تو دیکھیں اگر سورج پورا دن چمکے اور رات کو بادل آئے اور رات کو بادل رہیں پوری رات، یعنی مغرب سے لے کر صبح طلوع تک، وہ آنے والا دن گرم ہوگا، وہ رات بھی گرم ہوگی۔ اور اگر یہ ہے کہ وہ رات کو بھی بادل نہ ہو، دن کو بھی گرم ہو تو وہ رات ٹھنڈی ہوگی، یعنی سردیوں کی بات کر رہا ہوں، وہ ٹھنڈی ہوگی۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے کہ بادلوں نے اس heat کو روک دیا باہر جانے سے۔ تو یہ بہت ساری باتیں ہماری جو یعنی سمندروں سے یہ پانی کا اڑنا، بخارات بن کر ایک نظام ہے۔ پھر وہ ہوائیں ان کو لے جاتی ہیں، پھر جہاں حکم ہوتا ہے وہاں برسا دیتی ہیں، اوپر پہاڑوں پہ برسا دیتی ہیں، وہ پھر نیچے آتی ہیں۔ پھر نیچے آکر اس میں چشمے بنے ہیں، دریا بنتے ہیں۔ اور سارا ایک نظام بنتا ہے۔ یعنی پانی جو ہے یہ حالت ہے کہ اگر اللہ پاک مزید پانی نہ برسائے تو وہ کنوؤں کے اندر پانی خشک ہو جائے، دریا تو چھوڑیں کنوؤں کے اندر پانی خشک ہو جائے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے سارا نظام بادلوں کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ یہ بادل اٹھتے ہیں اور ہوائیں ان کو لے جاتی ہیں، اور پھر وہیں پہاڑوں پہ برسا دیتی ہیں، پھر وہاں سے پانی آتے ہیں۔ اور بڑے بڑے Glacier بنے ہوئے ہیں جی برف، یہ اللہ پاک نے Cold storage بنائے ہوئے ہیں پانی کے۔ ایک خاص مقدار میں اس کو پگھلاتے ہیں اور وہ نیچے آتے ہیں۔ اگر یکدم پگھل جائیں تو بس سب کچھ کو اڑا لے جائے، مطلب بالکل سب کچھ ختم ہو جائے، سیلاب آجائے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک نے یہ سارا انتظام وہ جو کیا ہوا ہے ہمارے لیے، وہ خود بخود نہیں ہوا بلکہ اللہ پاک نے کیا ہے۔ ہم جتنا بھی غور کریں گے، افسوس کی بات یہ ہے کہ سائنسدان جو مسلمان نہ ہو اور مطلب یہ ہے کہ وہ کوشش کرتا ہے، چیزوں کو دریافت کرتا رہتا ہے، لیکن یہ نہیں دریافت کرتا کہ کس نے کیا ہے۔ پورے papers میں دیکھتا ہوں publish ہو جاتے ہیں، پورے پیپر میں کہیں پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ یہ کام اللہ پاک نے کیا ہے۔ بس اپنے آپ کو پروجیکٹ (project) کرتے ہیں، میں نے یہ بھی کیا، میں نے یہ کیا۔ آپ نے صرف Explore کر دیا ہے۔ ہے تو سارا کام اللہ پاک کا، اس کا تو ذکر نہیں۔ تو انسان بڑا ناشکرا ہے۔

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ، وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ، وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ۔

یعنی اللہ پاک نے فرمایا کہ بیشک یہ انسان بڑا ناشکرا ہے اور یہ خود اس پر گواہ بھی ہے، جانتا ہے کہ اس کی حالت یہ ہے۔ ہاں اور اس کو خیر کی بہت طلب بھی ہے، مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے ساری چیزیں جمع کرنا اپنی مرضی کے مطابق بہت طلب بھی ہے۔ ہاں! تو أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ۔ ہاں مطلب یہ ہے کہ اصل بات یہ ہے قبر کی جو زندگی ہے بھول گیا ہے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو یہ اپنا انجام بھی یاد رکھنا چاہیے اور موجودہ حالت میں جو کچھ اللہ پاک نے ہمیں دیا ہے اس کا ادراک کرکے، احساس کرکے اللہ پاک کا شکر کرنا چاہیے اور اللہ پاک کی وحدانیت کا قائل ہونا چاہیے اور اس کی مرضی کے مطابق سارے کام کرنے چاہیے۔ یہ جو پہلے والا حصہ ہے یہ اللہ کی معرفت ہے اور یہ جو دوسرا والا حصہ ہے یہ عبدیت ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح معنوں میں بندگی عطا فرما دے اور اپنے رب کو پہچاننے کی ہمیں توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


کائنات کا محیر العقول نظام: اللہ کی وحدانیت کی دلیل اور ہماری غفلت - درسِ قرآن - دوسرا دور