اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آج جمعرات ہے اور جمعرات کے دن ہمارے ہاں آج کل سیرت پاک ﷺ کے بارے میں بات مختصر ہوتی ہے۔
چونکہ رمضان شریف کا مہینہ ہے اور رمضان شریف کے مہینے کے لحاظ سے آپ ﷺ کی سیرت پاک میں جو مواد ہے، اس کو بیان کرنا زیادہ مناسب ہے دونوں کے لحاظ سے۔ تو اس وجہ سے آج یہی کیا جا رہا ہے،
ایامِ روزہ کی تحدید:
روزہ ایک قسم کی دوا ہے اور دوا کو بقدرِ دوا ہی ہونا چاہئے تھا اگر پورا سال اس دوا میں صرف کر دیا جاتا تو یہ ایک غیر طبعی علاج ہوتا، اور مسلمانوں کی جسمانی جدوجہد کا خاتمہ ہو جاتا، اور ان کی شگفتگیِ مزاج مٹ جاتی، جو عبادات کا اثر قبول کرتی ہے لیکن اگر ایک دو روز کا تنگ اور محدود زمانہ رکھا جاتا تو یہ اتنی کم مدت تھی کہ اس میں دوا کا فائدہ بھی ظاہر نہ ہوتا اس لئے اسلام نے روزہ کے لئے سال کے 12 مہینوں میں سے صرف ایک مہینہ کا زمانہ اس کے لئے مقرر کیا۔ اس ایک مہینہ کی تخصیص کی بھی ضرورت تھی تاکہ تمام افرادِ امت بیک وقت اس فرض کو ادا کر کے اسلام کے نظامِ وحدت کا مظاہرہ کریں اور اس کے لئے وہی زمانہ موزوں تھا جس میں خود قرآن نازل ہونا شروع ہوا یعنی رمضان۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ اس کے بعد جب تک زندہ رہے اور تمام صحابہ نے یہ مہینہ ہمیشہ روزہ میں گزارا، اور آج تک کل امتِ محمدیہ پوری دنیا میں اسی مہینہ کو ماہِ صیام مانتی ہے اور پورے مہینہ بھر حسبِ توفیق روزہ رکھتی ہے۔ چونکہ روزہ بہر حال مشقت کی چیز ہے اس لئے قرآن پاک میں ماہِ رمضان کے روزوں کی تحدید اور فرضیت نہایت بلاغت کے ساتھ تدریجی طور سے کی گئی ہے تاکہ نفسِ انسانی آہستہ آہستہ اس اہم ذمہ داری کو اٹھانے کے قابل ہو۔ پہلے تو زمانہ کی تخصیص کے بغیر یہ کہا گیا ہے:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 183)
اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔
اس کے بعد تسلی دی گئی کہ یہ کچھ تم ہی پر اکیلے فرض نہیں کیا گیا بلکہ:
﴿كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 183)
جیسا کہ تم سے پہلی قوموں پر بھی فرض کیا گیا تھا۔
اب بھی مدت نہیں بتائی گئی اس کے بعد فرمایا گیا۔
﴿اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
چند گنے ہوئے دن۔
مدت کی تعیین اب بھی نہیں البتہ اس بلیغ انداز سے زمانہ صیام کی تخفیف کا ذکر کیا گیا جس سے سننے والے پر فوراً بوجھ نہ پڑ جائے اور فرمایا چند گنے ہوئے دن۔ اس کے بعد اسلامی روزوں کی آسانیوں کا ذکر شروع کر دیا گیا تاکہ طبیعت متوجہ رہے۔
﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
تو جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں کی گنتی۔
مگر اسی طرزِ ادا سے معلوم ہو گیا کہ یہ روزے کسی ایک خاص زمانہ میں فرض ہوں گے کہ اگر خاص زمانہ نہ ہوتا تو یہ کہنا بیکار ہوتا کہ اگر تم بیمار یا مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں رکھو، نیز یہ بھی اشارہ پتہ چلتا ہے کہ جو دن ہوں گے وہ گنے ہوئے مقرر ہوں گے ورنہ "مَّعْدُوْدٰتٍ" (گنے ہوئے) "عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ" (دوسرے دنوں کی گنتی) اور پھر آگے چل کر "وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ" (تاکہ تم شمار کو پورا کر لو) نہ کہا جاتا، پھر اس کے بعد دوسری آسانی بتائی:
﴿وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
اور جو بمشکل روزہ رکھ سکتا ہو وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے۔
اب کہا جاتا ہے کہ ”مگر اس اجازت کے بعد بھی روزہ ہی رکھو تو بہتر ہے“۔
﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 184)
تو جو کوئی شوق سے کوئی نیکی کرے تو یہ بہتر ہے اس کے لئے، اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
ان آیتوں میں دیکھئے کہ قضا اور کفارہ کی اجازت کے باوجود روزہ رکھنا مستحسن فرمایا اور روزہ کی اہمیت ظاہر کی۔ اتنی تمہیدوں کے بعد روزہ کے گنے ہوئے دنوں کی تعیین کی جاتی ہے کہ وہ ایک مہینہ ہے اور جس کو ہلکا کر کے دکھانے کے لئے فرمایا گیا تھا کہ "اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ" چند گنے ہوئے دن۔ ظاہر ہے کہ سال کے 365 دنوں میں انتیس اور تیس دنوں کے روزے چند گنتی کے دن ہی تو ہیں۔ بہر حال رمضان کو ماہِ صیام قرار دینے سے پہلے اس مہینہ کی عظمت اور اہمیت بتائی گئی فرمایا:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 185)
وہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل کی تمیز کی دلیلیں ہیں۔
اب وہ مناسب موقع آیا جس میں یہ فرمایا جائے کہ ان چند دنوں کے روزے اسی رمضان میں جس کی یہ عظمت ہے تم پر فرض کئے گئے ارشاد ہوا:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
(سورہ البقرہ، آیت 185)
تو جو اس مہینہ کو پاوے تو اس مہینہ بھر کے روزے رکھے۔
اب پورے ماہِ رمضان کے روزوں کی تعیین و تحدید اور "اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ" کی تشریح ہو گئی، عربی کا محاورہ یہ ہے کہ جو ظرفِ زمان لے کر ترکیب نحوی میں اپنے فعل کا مفعول فیہ ہوتا ہے وہ فعل اس ظرفِ زمانہ کو محیط ہوتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہنا ہو کہ اس نے مہینہ بھر روزہ رکھا تو کہیں گے "صَامَ شَهْرًا" اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ مہینہ میں چند دن روزے رکھے بلکہ ایک مہینہ پورا سمجھا جائے گا اور اگر یوں کہنا ہو کہ اس نے ایک سال روزہ رکھا تو عربی میں یوں کہیں گے "صَامَ سَنَةً" (سال بھر روزہ رکھا) اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس آیت پاک میں پورے رمضان بھر روزہ رکھنے کا ذکر ہے اور چونکہ لفظِ شہر یعنی مہینہ کہا گیا ہے اس لئے مہینہ کے شروع سے ان روزوں کا آغاز اور مہینہ کے ختم پر ان کا خاتمہ ہو گا۔ قمری مہینہ جس کا عرب میں رواج تھا اس کے مہینے کبھی تیس اور کبھی 29 دن کے ہوتے ہیں جیسی روایت ہو وہی ماہِ صیام پر بھی صادق آئے گا جیسا کہ سرورِ کائنات ﷺ تمام صحابہ کرام خلفائے راشدین اور جمیع فرقِ اسلام کے عمل اور تواتر سے ثابت اور واضح ہے اور احادیثِ صحیحہ میں اس کی پوری تصریحات مذکور ہیں۔
تفسیر... یہ ایک علم ہے، قرآن پاک کی تفسیر۔ اور تشریح... یہ حدیث شریف کی تشریح، شرح۔
تو اب تفسیر کس طرح ہونی چاہیے؟ تو اس میں یہ والی بات ہے کہ "فسّر يُفَسّر تفسيراً" کا کیا مطلب ہے؟ نہیں... "فسّر" کا کیا مطلب ہے؟ بیان کرنا۔
تو بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ "فسّر يُفَسّر تفسيراً"، تو مطلب اس کو بیان کرنا۔ اب بیان میں وہ تمام چیزیں آ جاتی ہیں جو اس سے متعلق ہوتی ہیں۔
لیکن دیکھیں نا! یہ ساری چیزیں اگر ایک اس انداز میں لکھی گئیں کہ یہ اس کا مطلب یہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے، تو اس سے اتنا زیادہ لوگوں کو یہ چیزیں راسخ نہ ہوتیں۔ انہوں نے بالکل شانِ نزول کو بنیاد بنا کر، اس آیت کو بنیاد بنا کر، سب چیزوں کا موقع بہ موقع بتا دیا کہ یہ اس لیے ہے، اور یہ اس لیے، اور یہ اس لیے ہے، اور یہ اس لیے اور یہ اس لیے۔
اب سب کو ملا کے دیکھیں تو بہترین تفسیر بن جاتی ہے۔ ان سب کو ملا کے اگر اس کو دیکھا جائے۔ کہ دیکھیں پہلے "أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ" فرمایا۔ کیوں؟ اس لیے کہ زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ اس میں ہمارے لیے ایک پیغام ہے کہ جب ہم کچھ کام دے رہے ہیں تو جو لوگ کام کرنے والے ہوں گے، ان کے احساسات کا خیال رکھیں۔ ان کی ذہن سازی کریں۔ ان کا قلب سازی کریں۔ ان کو اپنے ساتھ لے لیں۔ بلکہ وہ خود ہی اس چیز کو اپنا سمجھیں۔
یہ آج کل کا Motivation کا بھی اصول ہے۔ آج کل کے Motivation کا اصول یہی ہے کہ کام اس طرح بتاؤ کہ اس کو اپنا کام سمجھے۔
تو یہاں پر دیکھیں، جس طریقے سے Step by step بات ہوئی ہے، پھر پتہ چلتا ہے کہ اللہ جل شانہ جو قادرِ مطلق ہے اور احکم الحاکمین ہے۔ اگر وہ حاکمانہ انداز میں بھی فرما دے: "تمہیں یہ کام کرنا پڑے گا!"۔ کرنا پڑے گا؟ کوئی درمیان میں اس قسم کی بات نہیں ہو سکتی۔
لیکن نہیں۔ اللہ جل شانہ جو احکم الحاکمین ہے، اس نے بھی اس انداز میں، گویا Dictation کے انداز میں نہیں بتایا بلکہ سمجھانے کے انداز میں بتایا، حکیمانہ انداز میں بتایا۔ حکیمانہ انداز میں بتایا۔
حاکمانہ انداز بھی ہوتا ہے، حکیمانہ انداز بھی ہوتا ہے۔ فرشتوں تک کے ساتھ یہ معاملہ ہوا کہ فرشتوں سے جب پوچھا گیا:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً
تو:
قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ
اب جو اتنی ان کی سمجھ تھی، اس کے مطابق بات کر لی۔ اس وقت حاکمانہ بتا دیا:
قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
اللہ پاک نے فرمایا میں جو جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔ یہ حاکمانہ جواب تھا۔
بس فرشتوں نے فوراً Surrender کیا۔
قَالُواْ سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
اب یہاں تک بات ہو گئی حاکمانہ کا... جواب Surrender میں مل گیا۔ اب Surrender کے بعد پھر حاکمانہ بات نہیں فرماتے اللہ تعالیٰ۔ پھر حکیمانہ انداز پہ آتے ہیں۔ حاکمانہ انداز Surrender کرنے کے لیے تھا۔ Surrender تو ہو گئے۔ اب اس کے بعد... اب اس کے بعد کیا ہے؟ اس کے بعد حکیمانہ انداز ہے۔
حکیمانہ انداز کیا ہے؟
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاء هَـؤُلاء إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
یعنی آدم علیہ السلام کو بھی کچھ نام سکھائے گئے اور ان کو بھی وہی نام سکھائے گئے۔ اور پھر فرمایا کہ اب بتاؤ۔ پوچھیں ہم سے۔ یہ گویا کہ استعداد دکھانی تھی کہ میں نے آدم علیہ السلام کو کیا استعداد دی ہے اور فرشتوں کو کیا دی ہے۔
تھوڑی سی مثال اگر عرض کر لوں... اگرچہ مثال بڑا مشکل ہے... لیکن عرض کر ہی لیتا ہوں۔ دل میں اللہ پاک نے ڈالا ہے اس وقت تو میں عرض کر لیتا ہوں۔
Computer... بہت تیز سمجھا جاتا ہے۔ Computer بہت تیز سمجھا جاتا ہے۔ اور جب نئے نئے Computer آئے نا، تو لوگ Computer سے اتنے مرعوب تھے کہ بل وغیرہ جب بجلی کے Computer سے آنے لگے، تو کہتے Computer سے بنا ہوا بل ہے، یعنی اس میں غلطی کا امکان بالکل نہیں ہے۔
ہمارا جو بیج (Batch) ہے، یہ Computer کے ساتھ ساتھ جوان ہوا ہے۔ مطلب ہم لوگ وہ لوگ ہیں جن کو Computer کے "الف، با" کے ساتھ جوان کیا گیا ہے مطلب ابتدا ہی سے۔ تو ظاہر ہے لہذا ہمیں بالکل ان کے تمام Consequences sequence اس کا اچھی طرح علم ہوا ہے۔
ان دنوں یہ بات Computer والی بات بڑی رعب کی ہوتی تھی کہ Computer سے یہ چیز بنائی گئی ہے۔ تو مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے میس (Mess) بل میں ایک Error ڈال دیا خود قصداً۔ وہ سارا غلط ہو گیا تو میں نے کہا دیکھو Computer نے بنایا ہوا ہے۔
بھئی Computer نے بنایا تھوڑا ہے! آپ نے Computer کو جو کہا ہے، اس نے وہی کیا ہے۔ تو غلطی کرے گا تو Computer بھی وہی غلطی کرے گا۔
Computer خود تو کچھ نہیں کرتا۔ Computer ایک بچے سے بھی زیادہ نادان ہے۔ بچے کی بھی Learning capability ہوتی ہے، Computer کی Learning capability نہیں ہے۔ Computer cannot learn. Computer can do what you ask that to do and with the procedure you have told.
مطلب یہ Of course وہ Computer کی بات ہے۔
تو لوگوں پہ بڑا رعب تھا، ان کے ذریعے سے اس کو پتہ چل گیا کہ بھئی Computer... تو ہم پھر بعد میں کہتے ہیں، بھئی Computer کے ذریعے سے جو بل بنا ہے، وہ کسی انسان نے Data دیا ہے۔ تو اس میں دو قسم کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ Computer programming میں بھی اگر کوئی غلطی ہو گی، وہ بھی انسان کی ہو گی۔ اور اگر صحیح بنایا ہو گا، وہ بھی کسی انسان نے بنایا ہو گا۔ اور دوسرا Data feed جو کیا جاتا ہے، اگر Computer program بالکل صحیح بھی ہے، لیکن آپ Data ہی غلط Feed کر لیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ جواب آپ کو پھر غلط دے گا کیونکہ آپ نے Data غلط دیا ہے۔ وہ خود تو کچھ نہیں کر سکتا۔
تو Computer جو ہے، یہ خود کچھ نہیں کر سکتا، وہ آپ کے اوپر Wholly solely dependent ہے۔ لیکن Speed اس کی زیادہ ہے۔ لیکن یہ Speed جو ہے، یہ Sequential زیادہ ہے۔ Parallel processing، Computer میں بہت کچھ کرنا پڑتا ہے پھر۔ جبکہ انسان کا Parallel processing بہت زیادہ ہے۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ اب مجھے بتاؤ کہ آپ کا جتنا دماغ کے اندر Storage ہے، Computer اتنا کر سکتا ہے؟ جتنے Lenses ہماری آنکھ کے اندر ہے، یعنی جتنے Millions، ان سب کا Data لے کر اس کو استعمال کرنا اور اس سے پھر ایک Data resolve کرنا، یہ پھر اپنے کیمرے لگاؤ نا اتنے، پھر پتہ چلے گا۔ کیوں آپ تو کیمروں کے Expert ہیں نا بتاؤ؟
ہمارے چار کیمرے ہوتے ہیں، اس میں ٹک ٹک ٹک ٹک... مطلب ظاہر ہے وہ کچھ نہ کچھ سپیڈ کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ مجھے گھر والے کہتے ہیں یہ کیا ہے جمپ (Jump) جو لگاتے ہیں، ادھر رک گیا پھر ادھر پہنچ گیا فوراً! میں نے کہا یہ Computer کی کمزوری ہے۔
تو اب یہ ہے کہ مطلب اتنے Millions کیمرے ہماری آنکھ کے اندر لگے ہوئے ہیں۔ اور پھر اس کے ذریعے سے دماغ کے اندر وہ فوراً Process ہو جاتا ہے۔ ایک بات... چلو مان لیا... مان لیا نا؟
دوسری بات بتاتا ہوں۔ مثانہ یہ... اور یہ کڈنی (Kidney)... یہ کڈنی کو آپ مشین بنا دیں نا، اور پھر اس مشین سے آپ چیزیں صاف کریں، پھر دیکھو کیا ہوتا ہے؟ Computer کے ذریعے سے وہ چلے گا مشین۔ لیکن دیکھو اس کی سپیڈ کیا ہو گی؟ ہاں؟ وہ Slowly process کرے گا۔ جبکہ آپ کا جو پورا نظام ہے، اتنا زبردست... اتنے Systems ہیں ہمارے جسم کے اندر، اتنے Systems ہیں... یہ Digestion کا سسٹم لے لو، سانس لینے کا سسٹم لے لو، دیکھنے کا سسٹم لے لو، بولنے کا سسٹم لے لو، پسینے کا سسٹم لے لو، مثانے کا سسٹم لے لو، ہارٹ (Heart) کا سسٹم لے لو... اتنے Process اتنے... آپ کر کے دکھاؤ نا Factory آپ کی بن جائے گی اور اس سپیڈ کی نہیں ہو گی۔
تو پتہ چلا کہ Computer کا سپیڈ بھی ہم سے زیادہ نہیں ہے۔ صرف Sequential speed زیادہ ہے۔ Sequential speed تو اگر اس کو بھی ہم کر لیتے ہیں تو وہ بھی زیادہ ہو جاتا، لیکن اللہ پاک نے اس کو تو عملی طور پہ بنایا ہے نا، عمل کے لیے بنایا ہے، اس کو حساب کتاب بنانے کے لیے تو نہیں کیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ دیکھو نا! یہ جو چیز ہے Computer... بہت تیز سمجھا جاتا ہے لیکن اصل میں کیا ہے؟ بس یہی چیز تھی۔
0فرشتوں کو جو حکم دیا جاتا ہے، کر لیا۔ وہ جو اپنی طور پہ باتیں ہیں، وہ جو انسان کو سکھائی گئیں، فرشتوں کو نہیں سکھائی گئیں۔ یہ وہ والا "وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاء هَـؤُلاء إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"۔ تو انہوں نے فوراً اپنی Limitation کو معلوم کیا: "قَالُواْ سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"۔
فوراً انہوں نے کہا کہ یا اللہ تو پاک ہے، ہمیں تو وہ علم بس ہے جتنا تو نے دے دیا ہے۔ "إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"۔ بس یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔
اب اگر میں ذرا تھوڑا سا، تھوڑا سا، تھوڑا سا، تھوڑا سا، تھوڑا سا اس کے اندر ایک بات عرض کر لوں، اللہ مجھے معاف کرے غلطی نہ ہو جائے، سمجھانے کے لیے عرض کر رہا ہوں۔
فرشتوں نے کیا کہا؟ "قَالُواْ سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"۔
یعنی جو کچھ ہم کر رہے ہیں، وہ تو تیری وجہ سے کر رہے ہیں، تو جتنا ہمیں بتاتا ہے اتنا ہم کرتے ہیں اور ویسے ہی کرتے ہیں۔ ہمارا اپنا درمیان میں تو سوچنے والا نظام ہے ہی نہیں۔
سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ہمارا تو اپنا سوچنے والا نظام ہے ہی نہیں۔
فرشتوں کی ہے بھی یہی تعریف کہ ان کو جو کہا جاتا ہے، وہ کر لیتے ہیں۔ اور اس کا کوئی انکار وغیرہ ان میں نہیں ہوتا۔ یعنی ادھر Order آگیا، ادھر Implement ہو گیا۔ درمیان میں کوئی سوچ نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو مکلف ہی نہیں کیا اس کا۔ انسان کو مکلف کیا! فرق یہی ہے۔
انسان کو مکلف کیا سوچنے کا، سمجھنے کا، اختیار دے دیا۔ انسان بھی جن چیزوں پہ اختیار نہیں ہے جیسے فرشتوں کا نہیں ہے، تو اس میں نہیں پوچھتا اللہ تعالیٰ۔ جن چیزوں کا اختیار نہیں ہے انسان کو، اس میں اللہ تعالیٰ ان سے نہیں پوچھتا۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے نہیں پوچھے گا کہ تو اندھا کیوں تھا؟ اختیار نہیں ہے۔ کسی سے نہیں پوچھے گا تیرا فلاں ہاتھ کام کیوں نہیں کر رہا تھا؟ ہاں اگر اس کی غلطی کی وجہ سے ایسے ہو چکا ہو تو پھر پوچھ سکتا ہے۔
تو جو چیزیں انسان کے بس میں نہیں ہیں، گرمی کیوں ہے، سردی کیوں ہے، اس کے بارے میں اللہ پاک انسان سے نہیں پوچھے گا۔ ہاں گرمی میں جو کام کرنے تھے کیے تھے یا نہیں کیے تھے؟ سردی میں جو کام کرنے تھے کیے تھے یا نہیں کیے تھے؟ صبح کے وقت جو کام کرنے تھے... صبح کیوں ہوئی، نہیں ہوئی؟ اس کا نہیں پوچھے گا۔ صبح کیوں ہوئی، نہیں ہوئی؟ اس کا نہیں پوچھے گا۔ لیکن صبح کے وقت جو کام کرنے تھے کیے، نہیں کیے؟ شام کے وقت جو کام کرنے تھے کیے، نہیں کیے؟
یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیں جہاں اختیار ہے، وہاں پر حساب ہے۔ جہاں پر اختیار ہے، وہاں پر حساب ہے۔
فرشتوں کا اختیار نہیں ہے، حساب بھی نہیں۔ Computer کی غلطی Computer programmer کی غلطی مانی جاتی ہے۔ Computer کی غلطی نہیں مانی جاتی۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو جب اس وقت اس قسم کی بات ہے، تو اللہ جل شانہ چونکہ براہِ راست فرشتوں کو حکم دیتا ہے، ان کا درمیان میں سوچنے والی بات ہی نہیں ہوتی، ان سے حساب بھی نہیں ہے۔
اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ تم حساب کرو۔
وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
چاہیے کہ ہر شخص دیکھ بھال لے کل کے لیے وہ کیا بھیج رہا ہے۔
یہ بات ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں انسانیت کے شرف کے مطابق جو ڈیوٹی دی گئی ہے اس کو اچھی طرح سمجھیں۔
فرشتوں کو اللہ جل شانہ نے اپنے نظام کو چلانے والا بنایا ہے As it is۔ اس میں ان کا اختیار نہیں چلتا۔ جبکہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، لہذا جو کام اچھا کرتا ہے اس کا اس کو صلہ ملتا ہے، جو کام خراب کرتا ہے اس پہ اس کو سزا ملتی ہے۔ اس میں آتا ہے نا کہ جس نے کوئی اچھا کیا اپنے لیے کیا، جس نے برا کیا تو اپنے لیے برا کیا۔ کیسی آیت ہے؟ "مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا"۔ صاف بات ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اپنی ذمہ داری کو جان لے۔ ارادہ ہے، ارادہ اس کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ارادہ اس کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ثبوتیہ کا ظہور ظلی طور پر انسان کے اندر ہوتا ہے۔ یعنی بعض صفاتِ ثبوتیہ کا جیسے دیکھنا ہے، سننا ہے، بولنا ہے۔ یہ صفات۔
تو اس وجہ سے انسان کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے...
اب اس میں بات یہ ہے کہ جو چونکہ یہ چیز انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے، تو لہذا اس کو اپنا کام صحیح طور سے کرنے کے لیے وہ جو عوامل اس کو برائی کی طرف لے جاتے ہیں، اس پہ چیک (Check) لگانا ہو گا۔
تو وہ دو ہیں۔ اگر وہ دو یا نہ رہیں یا ٹھیک ہو جائیں، تو کام بن جائے گا۔ پھر انسان بہت آگے چلا جائے گا۔
ایک شیطان ہے اور دوسرا نفس ہے۔ ایک شیطان ہے، دوسرا نفس ہے۔
اب دیکھو! رمضان شریف میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ لہذا ایک چیز تو ہٹا دی گئی، سرکش جنات کو اور شیاطین کو قید کر دیا گیا۔ وہ ایک چیز تو ہٹا دی گئی۔ اب صرف ایک رہ گیا: نفس۔
تو اس نفس کو کنٹرول کرنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ رمضان میں رکھ دی گئیں۔ رمضان کے اندر ہی یہ رکھ دی گئیں۔
لہذا
Be with the system, you will get the benefits of that.
کیا کہا؟
Be with the system and you will get the benefits of that.
تو رمضان شریف کے جو حکمت ہے، اس کے ساتھ ساتھ رہو۔ آپ کو رمضان شریف کے برکات حاصل ہو جائیں گے۔ آپ کو رمضان شریف کے برکات حاصل ہو جائیں گے۔
تو کیا ہے ساتھ ساتھ رہنے کا کیا مطلب؟
ایک تو اللہ پاک نے اس میں دن میں کچھ رکھا ہے، اس میں رات میں کچھ رکھا ہے۔ دن کے حصہ دن میں لو، رات کا حصہ رات میں لو۔ اور اس کے لیے پھر یہ کرو کہ دن کو دن رکھو، رات کو رات رکھو۔ یعنی دن والی چیزیں رات میں تلاش نہ کرو، رات والی چیزیں دن میں تلاش نہ کرو۔ تو اس کا طریقہ پھر یہی ہو گا کہ آپ سحری اخیر وقت تک لے جائیں اور روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں۔ جائز جلدی... جائز جلدی۔ ٹھیک ہے نا؟
یہ والی بات ہے۔ یہ جو کراہت آتی ہے کیوں آتی ہے؟ اس لیے آتی ہے کہ آپ نے سسٹم کو چیلنج کر دیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ سسٹم کو چیلنج کر دیا۔ آپ سسٹم کے ساتھ نہیں رہے۔ اگرچہ چیلنج اس حد تک نہیں کیا کہ انکار کیا ہے۔ انکار نہیں کیا، صرف سستی کی ہے، ناسمجھی کی ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟
لہذا کراہت کی حد تک بات رہ گئی۔ اور اگر آپ نے اس کا بالکل اس سے وہ کر لیا تو پھر تو... پھر تو روزہ ہی چلا جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟
تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ روزہ میں جو اللہ تعالیٰ نے نظام رکھا ہے، اس نظام کے ساتھ ساتھ رہو۔ اس سے آگے پیچھے نہ رہو۔ سسٹم کے ساتھ ساتھ رہو۔
Be with the system.
ہاں جی! یہ تو ہمارے معاشرت کا زبردست اصول ہے نا
Be with the system.
تو اب یہ جو رمضان شریف ہے اس میں ایک تو یہ والی بات ہے کہ دن کے وقت دن کا کام، رات کے وقت رات کے کام۔ دن کے وقت کا کام: اپنے روزہ کی حفاظت کرو۔ دو طرح سے حفاظت: ایک ان کاموں سے بچنا جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور ایک ان کاموں سے بچنا جس سے روزہ کمزور ہو جاتا ہے۔
کمزور کن چیزوں سے ہو جاتا ہے؟ وہ کام جو پہلے سے منع ہیں لیکن وہ روزے کو Define نہیں کرتے۔ روزے کو Define کرنے والے تین چیزیں ہیں: کھانا، پینا اور مباشرت۔ اس سے محدود وقت کے درمیان جو بتایا گیا ہے رکنا، یہ روزے کو define کرتا ہے۔ لیکن روزے کو کمزور کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟ غیبت پہلے سے حرام ہے، جھوٹ پہلے سے حرام ہے، حرام مال کمانا پہلے سے حرام ہے۔ اس طرح بد نظری پہلے سے... اس طرح دوسری چیزیں۔
اب یہ جو چیزیں پہلے سے حرام ہیں، ان کو رمضان شریف میں بالکل نہ ہونے دینا ورنہ روزہ کمزور ہو جائے گا۔ چونکہ روزے کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ تقویٰ اس کا حصول ہے، تقویٰ کا حصول ہے۔ تو تقویٰ کا حصول اگر آپ تقویٰ کی definition کے خلاف جائیں گے تو تقویٰ کمزور ہو گا یا نہیں ہو گا؟ تو تقویٰ کی definition کیا ہے؟ فجور کا مقابلہ۔
لہذا جتنے جتنے فجور آپ سے ہوں گے، بے شک وہ روزے کی definition نہیں کریں گے لیکن تقویٰ کی definition تو کر رہے ہیں نا۔ یہ الہامی علوم ہیں، الحمد للہ یہ اس میں ہمارا کوئی کام نہیں ہے۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ یعنی روزے کی definition والے تو تین اعمال ہیں۔ لیکن تقویٰ کی definition والے بہت سارے اعمال ہیں۔ تمام فجور، اس سے رکنا، یہ جو ہے نا کیا ہے؟ یہ تقویٰ کی definition ہے۔ اب اگر ان فجور کو ہونے دیا گیا، تو آپ نے تقویٰ کی definition کو follow نہیں کیا، نتیجۃً تقویٰ اس میں کمزور ہوتا جائے گا۔ جب تقویٰ کمزور ہو گا تو روزے کا نتیجہ کیا ہے؟ تقویٰ ہے۔ تو روزہ کمزور ہوا یا نہیں ہوا؟ سمجھ میں آگئی نا بات؟ روزہ کمزور ہو گیا۔
اس لحاظ سے یہ "علومِ عظیمہ" میں آتا ہے۔ تو تقویٰ کا جو یہ ہے باب... اس کو صحیح کرنے کے لیے ہمیں اپنے روزے پر چیک لگانا پڑے گا کہ اس میں ہم کیا کیا کر رہے ہیں۔ اور اس کے حساب سے اپنے آپ کو رکھنا پڑے گا۔
بس صرف یہ والی بات ہے کہ زمانی لحاظ سے بھی آپ نے اس کو کرنا ہے، کیونکہ timings bound ہیں نا مطلب جو صبح صادق اور غروبِ آفتاب۔ زمانی لحاظ سے بھی اس کو کرنا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے اندر جو تقویٰ کو define کرنے والی چیزیں ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے اور سب سے زیادہ روزے کو define کرنے والی جو چیزیں ہیں اس کا بھی رکھنا ہے، تو پھر ان شاءاللہ آپ کا روزہ کامل ہو جائے گا۔
یہ تو روزہ کامل کرنے کے لیے بات ہو گئی جو دن کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ جو دن کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں، اس کی بات ہو گئی۔ اب رات کے والی چیزیں۔
رات والی چیزیں کیا ہے؟ سب سے پہلی بات:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ
کہ جو نماز ہے، وہ بے حیائی کی باتوں سے روکتی ہے اور منکرات سے بچاتی ہے۔ تو یہ والی بات... اب آپ کی نماز جو ہے، ایک تو اس کی quantity بڑھائی گئی، رکعتوں کی تعداد بڑھائی گئی۔ دوسری اس میں کیفیت improve کرنا ہے۔
کیفیت improve کرنے کے لیے قرآن، جو اللہ کا کلام ہے، اس کا سہارا لینا ہے۔ مطلب یوں کہہ سکتے ہیں، خشوع آپ کی داخلی چیز ہے، قرآن آپ کی خارجی چیز ہے۔ خشوع کے ذریعے سے نماز داخلی طور پر مضبوط کرو، اور قرآن کے ذریعے سے اس کو خارجی طور پر مضبوط کرو۔ ٹھیک ہے نا؟
تو کیا ہو گا؟ یہ جو آپ کا معاملہ اب چل رہا ہے نماز کا تراویح کی صورت میں، ان شاءاللہ آپ کی جو رمضان کی جو راتیں ہیں، جس مقصد کے لیے، وہ ماشاءاللہ وہ کام آپ پورا کریں گے۔
ایک بات۔ دوسری بات یہ کہ سحری کے وقت تہجد اور اس کی دعائیں، وہ بھی آپ کی رات کے اعمال کا تعین کرتی ہیں۔ اور تیسری بات، بالخصوص لیلۃ القدر میں ایک ایک لمحہ کمانا۔ تو یہ رات کے اعمال ہیں۔
اب دیکھیں رمضان شریف کا مہینہ کا جو بنیادی مقصد ہے، روزہ رکھنا اور تقویٰ حاصل کرنا، وہ دن پر dependent ہے۔ لیکن اس کا معراج رات میں ہے۔ اس کا جو معراج ہے وہ رات میں ہے۔ دن میں بنیاد ہے اور رات میں معراج ہے۔ کیا خیال ہے کسی کتاب میں یہ چیزیں ہم نے پڑھی ہیں؟ نہیں پڑھیں۔ کہ جو دن ہے اس کا جو ہے نا ہم کیا کریں؟ بنیاد مضبوط کریں اور رات میں معراج۔ سبحان اللہ۔
"اَلصَّلٰوةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ"۔ تو پہلے سے فرمایا گیا نا۔
"وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ"۔ "إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ"۔ "أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"۔ یہ ساری باتیں کیا ہیں؟ یہ رات کے لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہے۔ دن میں بھی ہے کیونکہ دن میں جو نمازیں ہیں وہ نہیں ہیں؟... دن میں بھی ہیں۔ لیکن رات میں اکثر حصہ ہے۔ رات میں اکثر حصہ ہے۔
تو اس لحاظ سے نفس کی اور دل کی دونوں کا علاج سبحان اللہ رمضان شریف میں موجود ہے۔ نفس کا علاج بھی موجود ہے، دل کا علاج بھی موجود ہے۔ اور جس وقت آپ اس تمام چیزوں کو سمجھ جائیں تو عقل کا علاج بھی موجود ہے۔ یعنی اس کے ساتھ اگر آپ کو وجہ... تو ظاہر ہے تو آپ کا عقل کا علاج بھی موجود ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ رمضان شریف مکمل اصلاح کا مہینہ ہے۔
اس پہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ ایک پورا سلسلہ مواعظ کا شروع کیا تھا جس میں ایک روح الصیام ہے، ایک روح الصلوٰۃ ہے، روح القرآن ہے مطلب اس طرح وہ... تراویح کا، اور پھر اس کے بعد روح الارواح کا بھی ہے مطلب مواعظ۔ میرے خیال میں ہمارے پاس ہوں گی ان شاءاللہ، پڑی ہوں گی۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ چیزیں ہمیں رمضان شریف کے حساب سے سمجھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔