اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْـرًا فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِـيْمٌ (158) اِنَّ الَّـذِيْنَ يَكْـتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْـهُـدٰى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِى الْكِتَابِ ۙ اُولٰٓئِكَ يَلْعَنُهُـمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُـمُ اللَّاعِنُـوْنَ (159) اِلَّا الَّـذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُـوْا فَـاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَيْـهِـمْ ۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (160)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لئے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے۔
صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دو پہاڑیاں ہیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے دُودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ چھوڑ کر گئے تو حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں۔ حج اور عمرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قرار دیا ہے۔ اگرچہ سعی واجب ہے مگر یہاں ”کوئی گناہ نہیں“ کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دیئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹا لئے گئے، مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو۔ اس آیت نے یہ شک دُور کر دیا۔
اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقیناً قدردان (اور) جاننے والا ہے ﴿158﴾ بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لئے بیان کر چکے ہیں۔
اس میں اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی تھیں۔
تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں ﴿159﴾ ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی ہو اور اپنی اصلاح کر لی ہو اور (چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کر دیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کر لیتا ہوں۔ اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں، بڑا رحمت والا ﴿160﴾
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُـمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَآئِكَـةِ وَالنَّاسِ اَجْـمَعِيْنَ (161) خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمُ الْعَذَابُ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ (162) وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۖ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِيْـمُ (163)
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے ﴿161﴾ وہ ہمیشہ اسی پھٹکار میں رہیں گے۔ نہ ان پر سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا، اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ﴿162﴾ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں جو سب پر مہربان، بہت مہربان ہے۔ ﴿163﴾
تو یہ ماشاءاللہ یعنی جو صفا مروہ کی پہاڑیاں ہیں، ان کے بارے میں یہ آیت، جو صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں، تو نیت سے پہلے اس کو پڑھنا مستحب ہے۔ اگر کوئی اس آیت کو پڑھتا ہے اور پھر اس کے بعد سعی کی نیت کرتا ہے تو یہ مستحب ہے۔ بہرحال یہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ شعائر اللہ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا خصوصی تعلق ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اللہ جل شانہٗ یاد ہوتے ہیں اس کے ذریعے سے۔ تو یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہیں اور ان کا ادب اور احترام کرنا لازم ہے۔
اور اس کے اندر جو دوڑنا ہے، یہ اصل میں واجب ہے، یہ سعی۔ اور اصل میں تو درمیان میں چلنا ہوتا ہے عام رفتار سے، لیکن وہ جو میلین اخضرین کہلاتے ہیں یعنی دو نشانیاں جو سبز رنگ کی Lights کی ہوتی ہیں، ان کے درمیان مردوں کے لیے دوڑنا ہے، اور عورتوں کے لیے دوڑنا نہیں ہے۔ اب یہ اللہ پاک کی حکمت ہے کہ عورت دوڑی ہے، لیکن دوڑنا مردوں کے لیے ہے۔ عورت کے لیے دوڑنا نہیں ہے، کیونکہ ستر ان کے لیے بہت بڑی اہمیت ہے۔ ان کے ستر کھل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ عمل، عورتوں کے لیے دوڑنا لازمی نہیں قرار دیا گیا۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اللہ جل شانہٗ کے تمام احکامات پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔