ماہِ رمضان کے فضائل: روحانی تربیت، جدید سائنسی حقائق اور بری عادات کا علاج

دفتر اول: مکتوب نمبر 45 - (اشاعتِ اول) بدھ، 30 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ ﷺ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.


معزز خواتین و حضرات!

ابھی چونکہ آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ تو کوشش ہم کر رہے ہیں کہ ہمارا اپنا جو program عمومی ہے جو چل رہا ہے، اس پر بھی عمل ہو اور ساتھ ساتھ رمضان شریف کی جو برکات ہیں ان کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس وجہ سے حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کے ان مکتوبات شریف کی تشریح ان دنوں میں کی جا رہی ہے جو رمضان شریف سے متعلق ہیں۔


ویسے تو ظاہر ہے حضرت کا ہر مکتوب انتہائی قابلِ قدر اور کافی علوم کا ذخیرہ ہے، لیکن موقع کی بات جو ہوتی ہے وہ بہت زیادہ اہم ہوتی ہے، ہر چیز کا اپنا ایک موقع ہوتا ہے۔ تو چونکہ ابھی رمضان شریف آ رہا ہے، تو اس وجہ سے حضرت کے مکتوبات میں سے بھی ان مکتوبات کو ہم چن رہے ہیں جو رمضان شریف سے متعلق ہیں۔


پچھلی دفعہ مکتوب نمبر چار جو دفتر اول کا تھا، اس میں رمضان شریف کے بارے میں اپنے شیخ کو جو حضرت نے لکھا تھا اس کی تشریح ہوئی تھی۔ آج ان شاءاللہ مکتوب نمبر 45 جو دفتر اول کی ہے، یہ شیخ فرید کے نام صادر فرمایا تھا۔ تو اس کی تشریح ان شاءاللہ کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی سرداری و شرافت کی پناہ والے شیخ فرید کی طرف صادر فرمایا۔ یہ مکتوب آپ نے اپنے پیر دستگیر کے اس دنیائے فانی سے رحلت فرمانے کے بعد لکھا تھا اور چونکہ آپ کے پیر و مرشد بزرگوار کی خانقاہ کے فقراء کی ظاہری تقویت شیخ فرید موصوف سے منسوب تھی اس لئے اس کے شکر کا اظہار فرمایا ہے اور انسان کی جامعیت کی وجہ بیان کی ہے جو کہ انسان کے کمال کا سبب بھی ہے اور اس کے نقصان کا سبب بھی اور ساتھ ہی ماہ مبارک رمضان شریف کے فضائل اور اس کے مناسب امور ذکر فرمائے ہیں۔

اب حضرت فرماتے ہیں:

اور چونکہ آپ کا بزرگ عنایت نامہ رمضان المبارک کے مہینے میں شرف صدور لایا ہے اس لئے (اس فقیر کے) دل میں خیال آیا کہ اس بڑی قدر و منزلت والے مہینے کے کچھ فضائل لکھے جائیں۔

جاننا چاہئے کہ رمضان المبارک کا مہینہ بہت بزرگی والا مہینہ ہے، نفلی عبادات نماز، ذکر اور صدقہ وغیرہ جو اس مہینے میں ادا کی جائے وہ دوسرے دنوں کے فرض ادا کرنے کے برابر ہوتے ہیں اور اس مہینے میں کسی فرض عبادت کا ادا کرنا دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے ادا کرنے کے برابر ہے۔ ایک فضیلت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس مبارک مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اس کو بخش دیتے ہیں اور اس کی گردن کو دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیتے ہیں اور اس (افطار کرانے والے) کو اس روزہ دار کے اجر کے برابر عطا فرماتے ہیں بغیر اس کہ اس روزہ دار کے اجر میں سے کچھ کم کریں اور اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے غلاموں سے خدمت لینے میں کمی کرے تو حق سبحانہ و تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرما دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں آنحضرت علیہ الصلوۃ و التحیۃ قیدیوں کو آزاد فرما دیا کرتے تھے اور جو شخص آپ ﷺ سے جو کچھ مانگتا آپ اس کو عطا فرما دیتے تھے۔

اگر کسی شخص کو اس ماہ مبارک میں خیرات اور اعمال صالحہ کی توفیق حاصل ہو جائے تو تمام سال اس کو ان اعمال کی توفیق شامل حال رہتی ہے اور اگر کسی کا یہ مہینہ اعمال صالحہ سے پراگندگی و کوتاہی میں گذرا تو اس کا تمام سال پراگندگی و کوتاہی میں گذرتا ہے (لہذا) جہاں تک ہو سکے اس مہینے میں اعمال صالحہ پر جمعیت و پابندی میں کوشش کرنی چاہئے اور اس مہینے کو غنیمت جاننا چاہئے۔

یہ بات جو ہے... اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ ہر انسان کی صلاحیتیں بھی ہوتی ہیں اور کچھ نفسیاتی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ جیسے ہم کھانا کھاتے ہیں اور کھانا ایک ترتیب کے ساتھ ہضم ہوتا ہے۔ اس کے لیے جو عوامل ہیں، وہ معدے میں ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ جو ہمارا لعاب شامل ہوتا ہے، اور بہت ساری اور چیزیں، secretions اس میں ہوتی ہیں۔ تو یہ ایک اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ ہضم کرنے کا بنایا ہے، تو وہ جاری رہتا ہے بغیر ہمارے سوچے سمجھے، اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہماری طبیعت پر جو چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں، خود بخود... اس میں ہمارا کوئی ارادے کا دخل نہیں ہوتا، خود بخود اثر انداز ہوتی ہیں۔ تو یہ چیزیں بھی ایسی ہیں جیسے اللہ نے مقرر کی ہیں۔

اب ہم لوگ صرف اس کو دریافت کرتے ہیں۔ یہ Doctor لوگ جو ہوتے ہیں وہ ان کو دریافت کرتے ہیں، نفسیاتی ماہرین اس کو دریافت کرتے ہیں اور جو ہوشیار لوگ ہیں اس سے اندازہ لگاتے ہیں۔ تو پھر وہ اپنے لیے کچھ لائحہ عمل بنا لیتے ہیں۔ اب مثلاً آج کل کی جدید research بتاتا ہوں۔ اسی حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اگر کسی کو کسی چیز کی لت پڑ جائے، جس کو آج کل کے medical term میں addiction کہتے ہیں۔ یہی نا ڈاکٹر صاحب؟ addiction کہتے ہیں نا؟ ہاں اس کو addiction کہتے ہیں۔ تو اگر کسی چیز کی addiction ہو جائے، تو یہ چیز ایسی ہے کہ انسان کا نفسیاتی معاملہ ہے یہ۔ وہ نہ بھی چاہے پھر بھی ہوتا ہے۔ اور جب ہوتا ہے تو پھر اس کے آگے مجبور ہوتا ہے۔ اور یہ مجبوری اس درجے کی ہوتی ہے کہ باقاعدہ اس پہ، اس کی physiology پہ اثرات آ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی anatomy پہ بھی اثرات آ جاتے ہیں۔ یہ مہروں میں جو مسئلہ ہو جاتا ہے نا... تو anatomy پہ بھی اثرات آ جاتے ہیں۔ تو پھر اس کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔

اب یہ چیزیں، ظاہر ہے مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں، secular چیزیں ہیں۔ یہ کافر ڈاکٹر بھی اس پہ کام کر رہے ہیں، مسلمان ڈاکٹر بھی اس پہ کام کر رہے ہیں۔ ان کی بھی research ہے، ہماری بھی research ہے، چل رہی ہیں چیزیں یہ ساری۔ تو ایک جاپانی جو ماہر ڈاکٹر ہے ان چیزوں کا، اس نے ایک research پیش کی، جس پر اس کو Nobel Prize ملا۔ اور وہ research یہ ہے کہ انسان اگر پورے سال میں تقریباً 4 ہفتے کے لگ بھگ، 12 سے 16 گھنٹے... 12 سے 16 گھنٹے۔ اگر وہ بھوکا رہے، تو اس کے جسم کے جو healthy cells ہیں وہ اس کے بیمار cells کو کھا جاتے ہیں۔ گویا ایک صفائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ صفائی جو انسان... جیسے Junk food انسان کھاتا ہے تو پھر یہ immunity جو ہے نا اس کو ختم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اس طرح مطلب یہ جو سلسلہ، یہ چلتا ہے۔

تو فرمایا کہ وہ جو unhealthy cells ہیں جیسے cancer کے cell ہیں، دوسرے cell، وہ کھانا شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے انسان کو صحت ہوتی ہے۔ اب یہ research آج کل آئی ہے۔ لیکن رمضان شریف کب سے شروع ہے؟ اللہ پاک فرماتے ہیں:


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

یعنی یہ صرف ہماری امت کے لیے نہیں، اس سے پہلی امتوں کے لیے بھی تھا۔ تو یہ سلسلہ پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ اب رمضان شریف کا مہینہ ہی ہوتا ہے، اور تقریباً 12 سے16، 20 گھنٹے اس تک بھی ہوتا ہے۔ اور اس میں بھوک و پیاس ہی ہوتا ہے۔ اچھا، اس میں پھر دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک ہوتا ہے reversible phenomenon، ایک ہوتا ہے irreversible phenomenon۔ میں ایک دفعہ سفر کر رہا تھا رویتِ ہلال کمیٹی کے سلسلے میں کراچی جا رہا تھا جہاز میں، میرے ساتھ ایک Polish engineer بیٹھا ہوا تھا۔ تو چونکہ رمضان شریف کا مہینہ تھا تو اس نے مجھ سے خود ہی پوچھا کہ کیا آپ بھی روزہ رکھتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں، میرا بھی روزہ ہے۔ اس نے کہا یہ روزہ بڑی اچھی چیز ہے لیکن یہ آپ لوگوں کا روزے میں عجیب بات یہ ہے کہ آپ لوگ پانی بھی نہیں پیتے۔ پانی تو صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ آپ جو نہیں پیتے نا، یہ ٹھیک نہیں کرتے۔ اب وہ اپنے ظاہر ہے اس کے لحاظ سے... میں نے کہا ہم نے ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ پانی نہ پینے سے جو نقصان ہوتا ہے وہ اگر 48 گھنٹے سے 72 گھنٹے کے اندر اندر اگر پانی مل جائے تو وہ reversible ہو جاتا ہے، وہ واپس ہو جاتا ہے نقصان۔ وہ ختم ہو جاتا ہے۔ ہاں، اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پھر permanent damage ہو سکتا ہے۔ اور ہمارا کوئی بھی روزہ 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا ہمیں وہ نقصان permanent نہیں ہوتا، وقتی ہوتا ہے اور واپس ہو جاتا ہے۔ کہتا ہے پھر تو ٹھیک ہے۔ پھر تو ٹھیک ہے۔

مقصد یہ ہے کہ یہ جو ہمارا جو روزہ ہے، اس میں وقتی طور پر تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن وہ جو دیرپا فائدہ ہے... دنیا کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں۔ آخرت کا تو بہت بڑا فائدہ ہے نا، وہ تو ابھی میں عرض کروں گا ان شاءاللہ۔ لیکن یہ دنیا کی بات کر رہا ہوں، وہ جو ہے نا ماشاءاللہ وہ بہت زیادہ ہے۔ یہ تو ایک بات ہو گئی۔

اب addiction کی بات پہ آتا ہوں۔ آج کل کی research ہے۔ آپ ڈاکٹر حضرات سے پوچھ سکتے ہیں اور اگر net سے آپ معلوم کرنا چاہیں ابھی بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ 3 ہفتے تک اگر آپ جس چیز میں addict ہیں، اس سے پرہیز کریں۔ اس کو ہاتھ نہ لگائیں۔ تو وہ addiction واپس ہو جائے گی۔ وہ ختم ہو جائے گی۔ بڑوں کے لیے یہ ہے۔ چھوٹوں کے لیے، children کے لیے ایک ہفتہ ہے۔ اگر اپنے بچوں کو آپ ایک ہفتہ بچائیں اس سے تو پھر ان کی عادت ختم ہو جائے گی۔ اور بڑوں کی 3 ہفتے کی بات ہے۔ اب دیکھیں جیسے ہم لوگوں کو mobile کی لت پڑ گئی ہے۔ ہر وقت mobile، ہر وقت mobile۔ ٹھیک ہے، اس میں مفید چیزیں بھی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مفید چیزیں نہیں ہیں، نقصان دہ چیزیں زیادہ ہیں۔ اللہ پاک نے شراب کے بارے میں فرمایا کہ اس میں کچھ فائدے ہیں لوگوں کے لیے لیکن اس کا گناہ فائدے سے زیادہ ہے۔


وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا

اس وجہ سے اس کی ممانعت ہے۔ تو اس طرح mobile جو ہے اس میں فائدے بھی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ ابھی میں آپ کے سامنے بات کر رہا ہوں، اور مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے تو میں search کر کے، میرا بیان جاری رہے گا اور میں آپ کو بتا دوں گا حوالے سے۔ کوئی قرآن کی آیت اگر معلوم کرنا چاہوں، حدیث شریف معلوم کرنا چاہوں، یہ ہو جاتا ہے آج کل، یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔

لیکن میں آپ کو بات بتاؤں۔ میں ایک دفعہ تفسیرِ عثمانی download کرنا چاہتا تھا۔ Search پہ میں نے لگا دیا۔ تفسیرِ عثمانی نکل آئی۔ لیکن سائیڈوں پہ وہ گندی sites، بالکل ساتھ ہی۔ ایک دفعہ میں اپنا بیان کوئی دیکھ رہا تھا، مطلب اس پہ، جو ساتھیوں نے ڈالا ہوا تھا۔ وہ جب میں نے search کر لیا، تو اس کے آگے پیچھے گندی sites۔ غلط چیزیں۔ تو میں نے ان سے شکوہ کیا، میں نے کہا آپ نے اس کو گندی جگہ پہ کیوں ڈالا ہوا ہے؟ میں نے ان ساتھیوں سے میں نے شکوہ کیا۔ انہوں نے روہانسی آواز میں کہا کہ کیا کریں ہم نے تو صحیح جگہ پہ ڈالا تھا، لیکن یہ باقاعدہ اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ کس چیز کو لوگ زیادہ دیکھتے ہیں، تو وہاں پر یہ چیزیں ڈال لیتے ہیں۔ اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ ہم صرف اپنے website میں اس کو ڈالیں، وہاں یہ لوگ enter نہیں ہو سکتے۔ باقی اس کا کوئی علاج نہیں۔ ایک پورا دنیا کے اندر یہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یعنی اس وقت وہ لوگ جو دنیا دار ہیں، وہ بھی اس سے تنگ ہیں۔

وہ کہتے ہیں ہماری تمام چیزیں متاثر ہو گئی ہیں۔ جرمنی میں، میں تھا تو وہاں میں نے ایک عرب سے سودا کر لیا پورے سامان کا، کیونکہ وہ اپنے ملک جا رہا تھا۔ اس کے گھر میں جتنا سامان تھا اس سے میں نے 500 مارک میں خرید لیا۔ بڑا سستا سودا تھا۔ اس میں ایک TV بھی تھا۔ تو میں نے گھر والوں سے کہا کہ یہ TV تو میں توڑ دوں گا۔ تو چونکہ میں نے اس سے کہا اس عرب ساتھی سے کہا، میں نے کہا چونکہ ٹیلی ویژن ہمارے نزدیک کوئی اچھی چیز نہیں ہے، تو میں اس کو سودا میں شامل نہیں، میں آپ کو 500 مارک ہی دوں گا لیکن یہ آپ سودا میں شامل نہیں ہو گا، یہ ویسے آپ دیں گے۔ میں نے کہا ایسا نہ ہو پورا سودا اس میں متاثر ہو جائے۔ تو خیر بہرحال یہ کہ اس نے کہا اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا، لہٰذا اس نے کہا ٹھیک ہے۔


تو میں نے کہا کہ اس کو میں توڑتا ہوں، تو گھر والے ذرا آپ کو پتہ ہے کہ ذرا نرم دل ہوتے ہیں عورتوں کا مزاج کچھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں آپ توڑیں نہیں، آپ کسی کو دے دیں۔ تو میں نے کہا کسی مسلمان کو تو نہیں دے سکتا، چلو کسی عیسائی کو دے دوں گا، یہ اگرچہ میری غلطی تھی، مجھے اس وقت خیال نہیں آیا، عیسائی کو بھی نہیں دیا جا سکتا۔ غلط چیز آپ کسی کافر کو بھی نہیں دے سکتے۔ تو خیر ایسا ہے کہ وہ اس وقت خیال نہیں کیا، تو کِلیاں ایک ہمارے colleague تھے۔ اس کو میں نے کہا کہ آپ کو میں gift کرنا چاہتا ہوں لیکن وجہ بتاتا ہوں آپ کو کہ چونکہ ہمارے ہاں یہ ٹھیک نہیں ہے تو میں آپ کو اس لیے دینا چاہتا ہوں۔ اس نے فوراً مجھے کہا، آپ ہمارے گھر میں آئے تھے نا؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے ہمارے گھر میں TV دیکھا تھا؟ میں نے کہا میں تو آپ کے گھر کے ہر کمرے میں تو نہیں گیا تھا۔ مجھے کیا خیال تھا کہ آپ کے گھر میں نہیں ہے، ممکن ہے جس کمرے میں آپ نے مجھے بٹھایا تھا اس میں نہ ہو، باقی کمروں میں ہو۔ کہتے نہیں ہمارے گھر میں نہیں ہے۔ اور پہلے تھا۔ پہلے تھا۔


کہتے ہیں ایک دن ہم سب جمع ہو گئے اور ہم نے اس پر meeting کی کہ کیا وجہ ہے ہمارے آپس میں تعلقات میں بے حسی آ گئی ہے۔ ایک دوسرے کا پرسان نہیں ہے۔ ہر ایک آتا ہے، اس کا دوسروں کے ساتھ کوئی relation نہیں ہے، وجہ کیا ہے؟ تو سب کی finding یہ نکلی کہ television اس کا وجہ ہے۔ آکر لوگ ٹیلی ویژن پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کو کسی اور سے سروکار نہیں ہوتا، تو یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے ہم سب نے مل کے ٹی وی کو گھر سے نکال دیا۔

میں نے کہا کِلیاں آپ نے مجھے اتنی اچھی بات بتائی کہ اگر آپ لیتے تو اتنا خوش نہ ہوتا، اب میں زیادہ خوش ہوں۔ اب میں اپنے ملک کے لوگوں کو آپ کی یہ finding بتاؤں گا۔ کہ دیکھیں وہاں کے لوگ کیا سوچ رہے ہیں اب۔ جن کے بارے میں ہم سوچتے ہیں نا کہ وہ تو بڑے modern ہیں اور یہ developed اور یہ چیزیں، وہ کیا سوچ رہے ہیں؟ تو خیر پھر اس ٹی وی کو ہم نے تو توڑ دیا۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہیں اسلام آباد کا واقعہ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ اس کے گھر میں ٹی وی تھا۔ تو اس نے ایک خواب دیکھا۔ خواب دیکھا اور میرے پاس آ گیا، مجھے کہا شاہ صاحب میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ میں نے کہا کیا۔ کہتے ہیں میں گھر میں بیٹھا تھا، knocking ہو گئی، اچانک میرے دل میں آیا کہ کہیں آپ ﷺ نہ ہوں۔ تو کہتے ہیں جب دروازہ کھولا تو واقعی آپ ﷺ تھے۔ پیچھے بہت سارے لوگ بھی تھے۔ میں بڑا خوش بھی ہو گیا، حیران بھی ہو گیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ کا ادھر آنا کیسے؟ آپ تو ہمارے لیے بڑی سعادت کی بات ہو گئی کہ آپ تشریف لائیں گے ہمارے گھر میں تو ہمارے گھر میں سبحان اللہ بڑی برکت ہو جائے گی۔ کہتے: میں نے کہا آپ ہمارے گھر میں تشریف لائیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا، میں کیسے آ سکتا ہوں، میرے پیچھے تو بہت سارے لوگ ہیں۔ میں نے کہا حضرت، صرف آپ تھوڑی دیر کے لیے آ جائیں تاکہ ہمارے گھر میں برکت ہو۔ کہتے ہیں آپ ﷺ پھر تشریف لے آئے، تو سامنے برامدے میں ٹیلی ویژن لگا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کے آپ ﷺ رک گئے۔ اور فرمایا یہ جو ہے نا، یہ آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے کاٹ دے گا۔ ادھر سے واپس۔


کہتے ہیں جب یہ خواب دیکھا تو جاگ گیا تو فوراً میں نے تو نیت کی کہ اس ٹی وی کو نکالنا ہے۔ گھر والوں سے کہا۔ گھر والوں نے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے، اس کو نکالتے ہیں۔ اس میں سب سے چھوٹا بیٹا جو ہے، اس نے کہا سب سے پہلا پتھر میں ماروں گا، یعنی اس کو۔ پھر ہم ادھر خیابان میں تھے نا، تو چھپر والی مسجد۔ تو بہرحال یہ کہ پھر وہ ہمارے پاس آ گیا کہ اب کیا کریں؟ میں نے کہا فیصلہ تو آپ کر چکے ہیں، تو اس میں مزید ہم کیا کر سکتے ہیں، تو چلو ٹھیک ہے جی ان شاءاللہ اس کو توڑتے ہیں۔ تو پھر وہ لے آئے اور پھر اس پر میں نے جس طرح ابھی بات کر رہا ہوں اس طرح بیان کر لیا۔ اور بیان کے بعد اس کے بچے کو پہلا پتھر مارنے کے لیے کہا اس نے مارا، پھر سب نے اس کو توڑا۔ اور الحمدللہ اس کا بڑا اثر ہوا۔ وہاں پر، حاضرین پہ بڑا اثر ہوا ماشاءاللہ۔

تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ چیزیں ہیں، اب ٹھیک ہے ہم لوگ اپنے جو busy life ہے اس میں بھلے busy ہو کر ہم ان چیزوں کو sense نہیں کر رہے ہیں کہ اس کے اثرات ہماری نفسیات کے اوپر کیا ہیں، ہماری روحانیت کے اوپر کیا ہیں۔ یہ ہم لوگ محسوس نہیں کر پا رہے ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے تو صحیح۔ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ نفسیات بھی ایک پورا ایک نظام ہے، وہ خود بخود ہوتا ہے۔ تو یہ اس طرح addiction جو ہے یہ بھی ایک خود بخود process ہے جو ہوتا ہے۔ تو اس addiction کو توڑنے کے لیے جو 3 ہفتے کا time آج کل کے research والوں نے بتایا ہے، تو رمضان شریف 4 ہفتے ہوتا ہے۔ تو 4 ہفتے ہمارے پاس پورا chance ہیں۔ کہ ہم اس میں ان چیزوں سے بالکل disconnect ہو جائیں۔ ان شاءاللہ یہ addiction ٹوٹ جائے گا۔

اب ذرا تھوڑا سا میں عرض کروں کہ ابھی حضرت نے اس میں ابھی فرمایا کہ جو رمضان شریف میں اچھے اعمال کرتا ہے، پورے سال ان کے اعمال وہ چلتے ہیں پھر۔ اور اگر کوئی رمضان شریف میں پرواہ نہ کرے اس کا، تو پھر پورے اعمال اس طرح پراگندگی میں گزرتے ہیں پورا سال۔ یہ ابھی فرمایا نا؟ یہ بالکل یہی چیز ہے۔ رمضان شریف کے اندر اگر کوئی ماشاءاللہ کوئی اچھائی کا کام شروع کر لے، اور اس پر قائم رہے۔ مثلاً تہجد شروع کر لے، آسان ہے تہجد پڑھنا پھر مشکل نہیں ہے نا، قران پاک کی تلاوت شروع کر لے، ذکر شروع کر لے، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی شروع کر دے، دین کی دعوت دینا شروع کر لے، مطلب جو بھی ہے، جو اچھائی کا کام ہے، اگر وہ شروع کر لے، ان شاءاللہ پورے سال وہ چلتا رہے گا۔ ماشاءاللہ، تو ہمارے پاس پورا ایک نیکیاں کمانے کا season ہے۔

اچھا پھر دیکھیں اللہ پاک کا انتظام کیا ہے، اللہ پاک تو مختارِ کل ہے نا، تو جو بھی چاہتے ہیں وہ کر لیتے ہیں۔


فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ

تو اب دیکھیں انتظام کیسے فرمایا۔ انتظام ایسے فرمایا ہے کہ برائی کے دو بڑے sources ہیں۔ جو انسان کو برائی پہ مائل کرتے ہیں۔ ایک شیطان ہے اور دوسرا نفس ہے، نفسِ امارہ۔ اب اللہ پاک نے رمضان شریف میں شیطان کو قید کیا ہوتا ہے۔ سرکش شیاطین کو اللہ پاک قید فرما دیتے ہیں۔ اب جب قید ہو جاتے ہیں تو وہ تو نہیں کر سکتے کچھ۔ اور نفس کے اوپر پیر پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ نفس کے تین بڑے خواہشات ہیں۔ جو کہ نفس کسی حالت میں بھی sacrifice نہیں کرنا چاہتا۔ کھانا، پینا اور مباشرت۔ یہ تین بڑے خواہشات ہیں۔ تو اللہ پاک نے باقاعدہ اس کے لیے پورا نظام بنایا ہوا ہے اس کو ان تین خواہشات کو جائز طریقے سے پورا کرنے کے لیے پورا ایک نظام ہے۔ اس نظام کے مطابق 11 مہینے پوری اجازت ہوتی ہے اس کی۔ 11 مہینے پوری اجازت ہوتی ہے۔ اب 12واں مہینہ جو ہے نا اس کا، یہ کہ اس میں ان کو وقتی طور پر باقی 11 مہینوں کے اندر جو اس کے مفاسد ہو سکتے ہیں، اس کو control کرنے کے لیے روک دیتے ہیں۔ ایک محدود وقت میں، صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔ اب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ جو روکنا ہے، تربیتاً ہے۔ یہ روکنا تربیتاً ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی اس پر عمل کر لے تو اس کی تربیت ہو جائے گی۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان تین چیزوں کو روک دوں اور باقی جتنی برائیاں اس کے لیے میں کھلے بندوں آزاد رہوں۔ کیوں؟ وہ تو ایک sense ہے نا انسان کو خود ہی چاہیے کہ ایک چیز ہے جو کہ وقتی طور پر روکا گیا ہے، ویسے حلال ہے۔ اور دوسری چیز by default حرام ہے، پہلے سے حرام ہے۔ جیسے شراب حرام ہے، جھوٹ حرام ہے، دھوکہ حرام ہے، غیبت حرام ہے۔ اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو ہر حالت میں حرام ہیں۔ تو رمضان شریف میں تو اس کا حرام ہونا زیادہ ہو جائے گا۔ کم تو نہیں ہو گا۔ تو اگر کوئی شخص اس sense کو اپنا لے، اور دیکھ لے کہ میں نے رمضان شریف میں ان چیزوں کو نہیں کرنا۔

یہاں تک protection دی گئی ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ لڑے۔ تو اس کے ساتھ نہ الجھے، بلکہ اتنا کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔ إِنِّي صَائِمٌ، کہ میں تو روزے دار ہوں۔ بس اپنے آپ کو ہٹا لے۔ اس میں زیادہ اس میں involve نہ ہو۔ تو اس کا یہ ہو گا کہ آپ کا وہ بھی، جو اس میں نقصان ہو سکتا ہے، اس سے بھی بچ جاؤ گے۔ تو رمضان شریف میں انسان کو گویا کہ اپنے آپ کو رمضان کے قلعے میں بند کرنا چاہیے۔ تو ان شاءاللہ جو برائیوں کی جو لت ہے جو ہمیں پڑ گئی ہے، ان چیزوں سے ہم ان شاءاللہ آسانی کے ساتھ نجات پا جائیں گے۔ پھر ہمیں باقی دنوں میں بہت آسانی کے ساتھ ان پر قابو پانے کی توفیق ہو جائے گی۔

ماہِ رمضان کے فضائل: روحانی تربیت، جدید سائنسی حقائق اور بری عادات کا علاج - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور