حسنِ معاشرت، روزہ افطار کرانے کی فضیلت اور حلال رزق کی اہمیت

فضائل رمضان، فصل اول، اشاعت اول 30 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        کتاب 'فضائلِ اعمال' (فضائلِ رمضان) کے مطالعے کا معمول اور اس کی برکات

•        امت کے برگزیدہ بندوں اور چالیس ابدال کی خصوصی اور امتیازی صفات

•        ظلم کا بدلہ معافی اور برائی کا بدلہ احسان سے دینے کی تلقین

•        پہلی وحی کے موقع پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی اور حسنِ اخلاق کی اہمیت

•        بھوکوں، ننگوں اور مسافروں کی مدد کرنے کا اخروی اجر

•        اللہ والوں پر خرچ کرنے کی برکات (حضرت سفیان ثوریؒ اور یحییٰ بن مکیؒ کا واقعہ)

•        روزہ دار کو افطار کرانے پر فرشتوں کی رحمت اور شبِ قدر میں جبرائیل علیہ السلام کا مصافحہ

•        روزے دار کو صرف 'حلال کمائی' سے افطار کرانے کی سخت تاکید اور حرام سے بچنے کی تنبیہ

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

معزز خواتین و حضرات!

اب فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسے کہ ہمارا معمول ہے۔ اس کو ان شاء اللہ ہم پڑھیں گے۔ یہ اس کی وجہ ہے کہ حضرت نے ماشاءاللہ بہت دل کے ساتھ فضائلِ اعمال لکھے ہیں۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے۔ تو اس کا اثر جو ہے وہ تو پھر ہوتا ہے نا۔

یہ بھی ہم نے اپنا اپنے آپ کو اس کا پابند کیا ہے کہ جو بھی مجلس ہو اس میں فضائلِ رمضان حضرت (مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ) کی، سے کچھ حصہ پڑھتے ہیں ماشاءاللہ۔

روح البیان میں سیوطی رحمہ اللہ کی جامع الصغیر اور سخاوی رحمہ اللہ کی مقاصد سے بروایت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے، کہ میری امت میں ہر وقت پانچ سو برگزیدہ بندے اور چالیس ابدال رہتے ہیں، جب کوئی شخص ان سے مر جاتا ہے تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ان لوگوں کے خصوصی اعمال کیا ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ظلم کرنے والوں سے درگزر کرتے ہیں، اور برائی کا معاملہ کرنے والوں سے (بھی) احسان کا برتاؤ کرتے ہیں، اور اللہ کے عطا فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا برتاؤ کرتے ہیں۔

دیکھو نا سارے معاملات یہ معاشرت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ اخلاق اور معاشرت۔

یہی وہ بات تھی نا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غارِ حرا سے تشریف لائے تھے اور پہلی وحی جو آئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کافی رعب تھا اس وحی کا۔ تو زمّلونی زمّلونی، تو اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو تسلی دی تھی، وہ کن اعمال پہ دی تھی؟ کہ آپ یہ کرتے ہیں، آپ یہ کرتے ہیں، آپ یہ کرتے ہیں... سارے اعمال کون سے تھے؟ یہی تھے۔ تو گویا کہ یہ اعمال بہت اونچے اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

اور اللہ کے عطا فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث سے نقل کیا ہے کہ جو شخص بھوکے کو روٹی کھلائے، یا ننگے کو کپڑا پہنائے، یا مسافر کو شب باشی کی جگہ دے، حق تعالیٰ شانہٗ قیامت کے ہولوں سے اس کو پناہ دیتے ہیں۔

یحییٰ بن مکی رحمہ اللہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ پر ہر ماہ ایک ہزار درہم خرچ کرتے تھے، تو حضرت سفیان رحمہ اللہ سجدے میں ان کے لئے دعا کرتے تھے کہ یا اللہ! یحییٰ نے میری دنیا کی کفایت کی تو اپنے لطف سے اس کی آخرت کی کفایت فرما۔ جب یحییٰ رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے خواب میں ان سے پوچھا کہ کیا گزری؟ انہوں نے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ کی دعا کی بدولت مغفرت ہوئی۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے روزہ افطار کرانے کی فضیلت ارشاد فرمائی۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے، اس پر رمضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں جبرئیل علیہ السلام اس سے مصافحہ کرتے ہیں، اور جس سے جبرئیل مصافحہ کرتے ہیں (اس کی علامت یہ ہے کہ) اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ ایک مشہور محدث ہیں روزانہ پچاس (50) آدمیوں کے روزہ افطار کرانے کا اہتمام کرتے تھے۔

یہاں درمیان میں ایک چیز ہے کہ حلال سے افطار کرانا۔ یہ ذمہ داری کی بات ہے۔ بھئی ایک شخص نے روزہ رکھا ہے پورے دن، آپ اس کو حرام سے روزہ افطار کرائے تو بہت نقصان کی بات ہے۔ لوگ افطار کراتے ہیں لیکن اس چیز کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ میں نے اپنے مسلمان بھائی کو حلال کھلانا ہے۔ حرام نہیں کھلانا۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔


حسنِ معاشرت، روزہ افطار کرانے کی فضیلت اور حلال رزق کی اہمیت - فضائل رمضان