قرآنی احکام: صبر و استقامت، آزمائش اور حیاتِ شہداء و انبیاء

اشاعت اول، یکم فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        سورۃ البقرہ کی آیات کے تناظر میں صبر اور نماز سے اللہ کی مدد طلب کرنا۔

•        صبر کا حقیقی قرآنی مفہوم (تکلیف پر طبعی رنج جائز ہے، لیکن اللہ کے فیصلے سے شکوہ نہ ہو)۔

•        دنیاوی مصائب میں کافر اور مومن کے رویے کا فرق اور مومن کے لیے اجر و درجات کی بلندی۔

•        اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہداء کی حیات کا قرآنی تصور۔

•        حیاتِ شہداء کی نسبت سے حیاتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا عقلی اور فقہی ثبوت (مماتی عقیدے کا رد)۔

•        مصیبت کے وقت 'إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ' پڑھنے کی حکمت، ملکیتِ الٰہی کا اقرار اور تسلیم و رضا۔


اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿153﴾ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ ﴿154﴾ وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿155﴾ اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (156) اُولٰٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِـمْ وَرَحْـمَةٌ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُهْتَدُوْنَ (157)

اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو

صبر اور نماز۔

اس سورت کی آیت نمبر 40 سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا، وہ پورا ہوگیا، اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے، کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا، اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں۔ جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہو رہے تھے یا ہونے والے تھے۔ لہذا اب مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ دین حق کے راستے میں یہ آزمائشیں تو پیش آنی ہیں۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہ کر صبر کا مظاہرہ کرے۔ واضح رہے کہ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمے پر روئے نہیں۔ صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جو رونا بے اختیار آجائے وہ بھی بے صبری میں داخل نہیں۔ البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ صدمے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آپریشن کرے تو انسان کو تکلیف تو ہوتی ہے اور بعض اوقات اس تکلیف کی وجہ سے انسان بے ساختہ چلا بھی اٹھتا ہے، لیکن اسے ڈاکٹر سے شکایت نہیں ہوتی، کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کی ہمدردی میں اور اس کی مصلحت کی خاطر کر رہا ہے۔

تکلیفیں کس کو نہیں آتیں دنیا میں؟ اگر کافر ہے تو کیا اس کو تکلیفیں نہیں آتیں؟ اس کو بھی تکلیفیں آتی ہیں۔ لیکن اس کے پاس کوئی مداوا نہیں ہے اس کا، کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو تسلی دے۔ اس کے پاس تسلی کا سامان نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا سب کچھ یہی دنیا ہے۔ تو دنیا میں اگر تکلیف ہے تو مصیبت ہے۔ تو کیسے اپنے آپ کو وہ کرے؟

مسلمان کے لیے بہت بڑی بات ہے کہ مسلمان کو ہر تکلیف پر اجر ملتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ اور رفعِ درجات ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسلمان کے اوپر چونکہ شیطان بہت زیادہ زور لگاتا ہے تو اس کو ہی مختلف وسوسے ڈال کر یعنی گویا کہ اللہ پاک سے شکایت کروانا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ اللہ پاک سے دور ہو۔ بجائے اس کے کہ قریب ہو جائے، دور ہو جائے۔ تو یہ گویا کہ اس سے بچانے کے لیے ہے، کہ شیطان کافروں کو کچھ نہیں کہتا۔ حالانکہ دیکھیں نا ان کی جو تکلیف ہے اس کا کوئی حاصل نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کے لیے کوئی وسوسہ وغیرہ نہیں ڈالتا۔ لیکن یہاں پر وہ وسوسے ڈالے جاتے ہیں کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ یہی تو لوگ ہیں جو کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تو ہمیں اللہ پاک کی حفاظت میں آنا چاہیے اور جو اللہ پاک نے ایسے موقع پر ہمیں ارشاد فرمایا ہوتا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں طریقہ بتایا ہوتا ہے اس کے مطابق ہمیں وہ حال گزارنا چاہیے۔ تو یہاں سب سے پہلے فرمایا:

يٰٓأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا

اے ایمان والو!

تو ایمان والوں سے خطاب ہے۔

اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ

صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ پاک سے مدد حاصل کرو۔

یعنی دو بڑے ذرائع ہیں، ایک نفس پہ پیر رکھنا ہے اور ایک اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔ تو دونوں کے ذریعے سے یعنی دل اور جان جس کو ہم کہہ سکتے ہیں، دل و جان سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ تو

إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔( 153)

بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

سبحان اللہ!

اب آگے جا کر ارشاد ہو رہا ہے:

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ( 154)

بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ﴿153﴾ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو۔ دراصل وہ زندہ ہیں، مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا ﴿154﴾ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ﴿155﴾

اَلَّذِيْنَ إِذَآ أَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْٓا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرة: 156)

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ "ہم سب اللہ ہی کے ہیں، اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"

یعنی صبر کا موقع کس کام کا ہے؟ وہ اللہ پاک نے پہلے تو فرمایا نا صبر اور نماز کے ذریعے سے مدد حاصل کر لو۔ پھر اب صبر کا موقع کس کام کا ہے، اس میں کیا ہونا چاہیے، وہ بتا دیتے ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، اور چونکہ ہم اس کے ہیں، اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو۔ دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے، اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر ان شاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے۔ جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی کا نام صبر ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ بے اختیار آنسو بھی نکل رہے ہوں۔

تو یہ گویا کہ ابھی دوبارہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں۔ کہ جو لوگ شہید ہو جائیں، تو ان کو مردہ نہ کہو۔ یہ بہت معرکۃ الآراء آیت ہے اور سمجھنے والی ہے، کہ جو شہداء ہیں، ان کو مردہ نہ کہو۔ وہ زندہ ہیں۔ البتہ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ اور ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔ تو پتہ چلا کہ ان کی ایک زندگی ہے۔ تو اس زندگی کو ہمیں ماننا چاہیے، ہمیں ان کو مردہ نہیں کہنا چاہیے۔

تو ایک بہت بڑے عالم نے ایک بڑی عجیب بات فرمائی، بہت زبردست اور صحیح۔ وہ یہ کہ کمال کی بات ہے کہ چار قسم کے برگزیدہ لوگ ہیں۔ سب سے پہلے انبیاء ہیں۔ پھر اس کے بعد صدیقین ہیں۔ پھر اس کے بعد شہداء ہیں۔ پھر اس کے بعد صالحین ہیں۔ تو تیسرے نمبر پر شہداء آتے ہیں۔ تو ان کے بارے میں تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ان کو مردہ نہ کہو۔ تو جو 33 فیصد سے پاس (Pass) ہونے والے ہیں، ان کو تو مردہ نہ کہو۔ اور جو پہلے نمبر پر ہیں، ان کو مردہ کہہ سکتے ہو؟ یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ اور جو مماتی لوگ ہیں نا، یہ ان کے لیے بڑا سخت جواب ہے۔ کہ کیسے انبیاء کرام کو مردہ کہہ سکتے ہو؟ یعنی وہ پہلے نمبر پر ہیں۔

اچھا دوسری بات یہ ہے کہ فقہ میں باقاعدہ اس کی نظیر موجود ہے۔ کہ انبیاء کرام کی ازواج مطہرات کے ساتھ شادی نہیں ہو سکتی کسی کی۔ اور شہداء کی بیویوں کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے انبیاء کی حیات جو ہے، وہ شہداء کی حیات سے زیادہ strong ہے۔ تو تم کیسے ان کو مردہ کہتے ہو؟ تو یہ بہت اہم بات اس میں تھی، اس وجہ سے میں نے کہا کہ اس کو خصوصی طور پر عرض کروں۔

اللہ اکبر!

دوسری بات یہ ہے کہ اللہ پاک کو اختیار ہے کہ ہمیں کسی طرح بھی آزمائے۔ کیونکہ ہم اس کے ہیں۔ یہ الماری ہماری ہے، یہ کتابیں ہماری ہیں، تو ہم یہ کتابیں اوپر رکھیں، نیچے رکھیں، الماری سے باہر رکھیں، کوئی ہمیں کچھ کہہ سکتا ہے؟ کیوں کر رہے ہو اس طرح؟ چونکہ ظاہر ہے مطلب... کہتے ہیں جی اپنا مال ہے ان کا جیسے بھی رکھے۔ اسی طریقے سے ہم اللہ پاک کے ہیں۔ جب ہم اللہ کے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں بھی رکھے، جیسے بھی رکھے، جس طرح بھی رکھے، جیسے بھی برتے۔ ہاں، البتہ چونکہ ہمیں پتہ ہے کہ اللہ پاک ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ لہذا اس کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ ہمیں کچھ دینا چاہتا ہے اس کے ذریعے سے۔ تو اگر یہ بات ہو تو پھر صبر کرنا بڑا آسان ہو جاتا ہے۔ آدمی مان لیتا ہے کہ ہاں بیشک مجھے پتہ نہیں ہے، لیکن اللہ پاک نے میرے لیے کوئی خیر کا فیصلہ ہی فرمایا ہے۔

تو ان کے لیے پھر فرمایا کہ

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ "ہم سب اللہ ہی کے ہیں، اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے" ﴿156﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں ﴿157﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو بھی ہدایت پر قائم رکھے اور ہدایت کے لیے ذریعہ بنا دے۔ اور اپنا تعلقِ خاص ہم سب کو نصیب فرمائے، ہم سے راضی ہو جائے، ایسا راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔

وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ أَجْمَعِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.


قرآنی احکام: صبر و استقامت، آزمائش اور حیاتِ شہداء و انبیاء - درسِ قرآن - دوسرا دور