دنیا کی حقیقت، خوابِ غفلت اور سکونِ قلب کا اصل راستہ

دفتر اول حکایت نمبر 18 - (اشاعتِ اول)، منگل، 30 جولائی، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•       دنیاوی بیداری اور کامیابی درحقیقت آخرت سے غفلت کی گہری نیند ہے۔

•       دلوں کا حقیقی سکون بمقابلہ دنیاوی مشاغل اور بے اطمینانی۔

•       اہل اللہ کی صحبت کے روحانی ثمرات اور وقت کی برکت۔

•       دنیاوی خواہشات اور مال و زر کی ہوس کا سائے کے شکار سے تقابل۔

•       اولاد کی خالصتاً دنیاوی تربیت کے نقصانات اور عبرت ناک انجام۔

•       اللہ اور اس کے نیک بندوں سے تعلق جوڑنے کی اہمیت۔


اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


معزز خواتین و حضرات!

منگل کو ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ

5

جو کہ دنیا کے لئے بیدار ہے


سبحان اللہ! اب دیکھو اب ساری چیزیں سمجھ میں آئیں گی آپ کو کہ حضرت کیا کہنا چاہتے ہیں۔

جو کہ دنیا کے لئے بیدار ہے

خواب غفلت سے گویا سرشار ہے

خوابِ غفلت سے گویا سرشار ہے، یعنی جو دنیا کے اندر بہت آگے بڑھ رہا ہے اور یہ اور وہ اور سارا کچھ، تو سمجھ لو کہ آخرت سے وہ فارغ ہے۔

اس کی بیداری ہے خواب سے بھی بدتر

واسطے یاں کے چھوڑے جو واں کا ثمر



جو یہاں کے لیے وہاں کے ثمرات چھوڑ دے تو ظاہر ہے وہ کیا کما رہا ہے؟ تھوڑے پہ قناعت کر رہا ہے۔

کہتے ہیں ایک بادشاہ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک زاہد آئے، جس کو ہم لوگ ملنگ کہتے ہیں یا جو بھی کہتے ہیں، وہ آئے۔ تو ان کو کہتے ہیں: "السلام علیکم یا ایہا الزاہد!" بادشاہ کو کہتے ہیں۔ تو بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ زاہد میں ہوں یا آپ ہیں؟ یعنی آپ مجھے زاہد کیسے کہہ رہے ہیں؟ یعنی میں تو... یعنی ایسا ہوں، بادشاہ ہوں۔ فرمایا اچھا بتاؤ کہ یہاں کی نعمتیں زیادہ ہیں یا وہاں کی؟ انہوں نے کہا وہاں کی۔ انہوں نے کہا آپ نے یہاں کی نعمتیں قبول کی ہیں یا وہاں کی؟ تو فوراً سمجھ گئے، کہتے ہیں ہاں بالکل آپ صحیح کہتے ہیں، میں زاہد ہوں۔ اب دیکھو میسج کمیونیکیٹ (Message communicate) کر دیا نا کہ اصل بات کیا ہے۔

5

جو کہ دنیا کے لئے بیدار ہے

خواب غفلت سے گویا سرشار ہے

اس کی بیداری ہے خواب سے بھی بدتر

واسطے یاں کے چھوڑے جو واں کا ثمر

جو شخص (کاروبارِ دنیا میں زیادہ) بیدار ہے وہ (خدا کی طرف سے گویا غفلت کی) گہری نیند سو رہا ہے اس کی یہ بیداری اس کے خواب سے بھی بدتر ہے۔

6

واسطے غافل حق کے بیداری ہے خوب

مستی ِٔ غفلت سے ہوشیاری ہے خوب

جو شخص (خدا کی طرف سے) غافل ہے اس کا بیدار ہونا اچھا ہے، غفلت کے مست کے لیے پوری ہوشیاری مناسب ہے۔


7

قید ہے دنیا کی بیداری جو ہے

اس کا شور شر گہماگہمی جو ہے

جب ہماری جان خدا (کے خیال) سے بیدار نہ ہو تو ہماری بیداری گویا ہمارے لیے ایک جیل خانہ ہے (جس میں ہم مقید ہیں)۔ عالمِ دنیا کی بیداری جو تعلقات سے پُر ہے حقیقت میں قید خانہ ہے، اور تعلقات گویا بیڑیاں اور ہتھکڑیاں ہیں۔

یہ بالکل فیکٹس (Facts) ہیں۔


حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ "اے میرے بندے تو میری عبادت کے لیے فارغ کر دے اپنے آپ کو، تو میں تیرے دل کو تفکرات سے خالی کر دوں گا۔ اور اگر تو ایسا نہیں کرتا، تو پھر تیرے دل کے اندر اتنے مشاغل بھر دوں گا کہ تو موت تک اس سے اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکے گا۔" اور آج کل دیکھیں، جو لوگ دین کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں، ان کے مشاغل کی کیا صورتحال ہے؟ یعنی ایک سے ایک بڑھ کے مشغلے، شوق اور پتا نہیں کیا اور... یعنی حتیٰ کہ یعنی معمولی معمولی باتوں کے لیے بہت قیمتی قیمتی وقت ضائع کر لیتے ہیں۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی چیز ہے کہ جب ادھر کے لیے نہیں ہے نا۔


ہم دیکھتے ہیں یہ جو لوگ نماز وغیرہ نہیں پڑھتے، تو صبح جب واک (Walk) کے لیے ہم جاتے تھے تو یہ کتوں کو باقاعدہ سیر کراتے تھے۔ اب دیکھیں... اگر اُدھر نہیں ہے تو پھر اِدھر ہے۔ اب دیکھو یورپ اور امریکہ میں اور دوسری جگہوں پہ اگر دیکھیں تو ہر چیز کے اندر کتا دخیل ہے۔ مطلب ان کی خدمت میں لگے ہیں، کوئی کس چیز کی خدمت میں، کوئی کس چیز کی خدمت میں لگا ہے۔ فضول شوق ہے۔ آپ حیران ہوں گے میں ہم جرمنی میں تھے، تو یکم فروری، ان کو وہ "فاشنگ" (Fasching) کہتے ہیں، فاشنگ۔ فاشنگ ان کی اپنی اصطلاح ہے۔ وہ یہ کہ سردی ختم ہو گئی اب موسم تبدیل ہو رہا ہے۔ اس خوشی میں وہ بوڑھے بوڑھے لوگ، عورتیں، مرد، عجیب و غریب خلقت بنا کے وہ آتے ہیں۔ کسی نے ادھر سرخی ڈالی ہوتی ہے، کسی نے یہاں پر منہ بنایا ہوتا ہے، کسی نے کپڑے عجیب و غریب بنائے ہوتے ہیں اور اس طرح وہ کانوائے (Convoy) جا رہے ہوتے ہیں اور بس لوگ ان کے ساتھ ساتھ جا رہے ہوتے ہیں۔ اب بتاؤ یہ کیا چیز ہے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ ان کا دل اطمینان سے خالی ہے۔ نتیجتاً اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لیے یہ قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔


یہاں پر جس وقت میں گاڑیوں میں... جب میں کبھی روڈ پہ جاتا ہوں تو میرے ساتھ کوئی گاڑی گزرتی ہے وہ ڈرم میوزک (Drum Music) جس میں لگا ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کا دل بالکل خالی ہے، اطمینان سے۔ یہ اپنے آپ کو اس طریقے سے اطمینان دلانا چاہتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں میں اطمینان کہاں ہے؟ اس میں تو اور بے اطمینانی ہوتی ہے۔


ہمارے مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ معذور تھے، مفلوج تھے، اور طرح طرح کی بیماریاں حضرت کو تھیں۔ لیکن جو پروفیسر لوگ اور یہ جو بڑے سینئر قسم کے لوگ ٹینشن (Tension) میں ہوتے ہیں نا ملازمتوں کی، کبھی کیا ہوتا ہے کبھی کیا ہوتا ہے، تو ان کو ٹینشن پڑ جاتی۔ تو لوگ کہتے ہیں مولانا صاحب کی مجلس میں جا کر بیٹھ جاؤ تو آپ کو سکون ہو جائے گا۔ اب دیکھو مولانا صاحب کی یہ حالت لیکن ان کے ساتھ بیٹھنے والوں کو جو سکون ہوتا ہے، تو مولانا صاحب کی کیا حالت ہو گی؟ یہ خود اندازہ کر لیں۔ تو یہ مطلب ہے کہ سکون جو ہے یہ ایک الگ چیز ہے، اس کا پیمانہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ سکون کیا ہوتا ہے؟ سکون کس کو ملتا ہے؟ وہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے، اس کے مطابق دیتے ہیں۔ ورنہ صحیح بات ہے کہ اللہ سے کٹ کے پریشانی ہی پریشانی ہے، مصیبت ہی مصیبت ہے، تکلیف ہی تکلیف ہے۔ یہ تعلقات جو ہیں یہ بیڑیاں ہیں اور دنیا ہمارا قید خانہ ہے۔ البتہ اس میں انسان گرفتار ہے۔


8

نہ صفائی پاکیزگی لطف و فر

نہ بسوئے آسمان راہ سفر


(جان دن بھر اس حالت میں ہے کہ خیال کی پائمالی سے اور نفع و نقصان اور خوفِ زوال سے) نہ اس میں صفائی رہتی ہے نہ پاکیزگی اور قوت نہ (اس کو) آسمان کی طرف کا راہِ سفر (یعنی مشغول بحق ہونے کا موقع ملتا ہے۔)

مطلب: دنیا کے مشاغل و تردُّدات عروجِ روحانی سے مانع ہیں۔

بہت سارے لوگ اب دیکھتے ہیں وہ چاہتے بھی ہیں، مثال کے طور پر، کہ ہم لوگ ذرا... تو جب ان سے بات... "یار جی کام تو اچھا ہے لیکن ٹائم نہیں ہے۔ ٹائم نہیں ہے۔ وقت نہیں ہے۔ وہ جو فلاں کام ہے، فلاں کام ہے، فلاں کام ہے"۔ اسی میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔


اس پر میں آپ کو ایک اور بات سناتا ہوں۔ جو ہمارا experience ہے۔ ہم سٹوڈنٹ تھے پشاور یونیورسٹی میں، مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں جایا کرتے تھے عصر سے لے کے مغرب تک۔ چونکہ حضرت کا وقت یہی تھا۔ معذور تھے ظاہر ہے۔ کبھی کبھی مغرب کے بعد بھی بیٹھنے کا موقع ملتا، بہت Rare، لیکن عصر سے لے کے مغرب تک حضرات کے لیے کھلی اجازت ہوتی تھی۔ تو جو سٹوڈنٹس ہماری طرح آتے تھے، ان کو یہ فائدہ ہوا، کم از کم مجھے، کہ یونیورسٹی میں جو غلط چیزیں تھیں... ہوتی ہیں غلط چیزیں سٹوڈنٹس ہوتے ہیں، دوسرے لوگ ہوتے ہیں... تو ان غلط چیزوں کا ہمیں پتا بھی نہیں تھا کہ ہیں۔ علم بھی نہیں تھا۔ علم بعد میں رسالوں کے ذریعے سے ہوا، جو رسالوں میں لطیفے ہوتے ہیں نا تو اس سے پتا چلا کہ اچھا یہ چیزیں بھی ادھر ہیں۔ تو ہمیں بعد میں رسالوں کے ذریعے سے پتا چلا، ویسے مطلب ہمیں معلوم نہیں ہوا۔ روڈ نمبر ٹو (Road no. 2) کی اصطلاح چل رہی تھی، پتا نہیں روڈ نمبر ٹو کیا چیز ہے... مطلب ہمیں پتا نہیں تھا بھئی یہ روڈ نمبر ٹو روڈ نمبر ٹو کر رہے ہیں کیا بات ہے؟ وہ تحقیق کی تو کیا مسائل تھے۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں... تو ہمیں پتا ہی نہیں لگا۔ تو ایک تو یہ بات۔


دوسری بات یہ ہے کہ ہم لوگ مولانا صاحب کی مجلس میں ضرور جاتے تھے، وہ ایک گھنٹہ ہمارا لگتا تھا، لیکن اس کے بعد جو صفائی ہوتی تھی مطلب ہے کہ ادھر ادھر چیزوں سے کٹ کٹا کے ہم سٹڈی (Study) کے لیے متوجہ ہوتے، تو وہ بالکل Pure Study ہوتی تھی، اس میں اور باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ جبکہ یہ جو دوسرے لوگ ہوتے تھے، وہ تو ظاہر ہے کبھی فلمیں دیکھنا، کبھی کیا کرنا، کبھی سیر کرنا، کبھی گپ شپ لگانا، یہ اس قسم کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ اور ہمارا طریقہ یہ تھا کہ دن کو پڑھتے اور رات کو عشاء کی نماز کے بعد فوراً سو جاتے۔ روم میٹ (Roommate) ہمارے پری میڈیکل (Pre-medical) کا تھا اور میں پری انجینئرنگ (Pre-engineering)، تو وہ گروپ سٹڈی (Group Study) کرتے تھے۔ تو وہ اکٹھے ہو جاتے تھے، تو میں آ کر کہتا: "روم میٹ! جب تم لوگ سٹڈی کر لو تو پھر مجھے اٹھا لو۔" اور میں ان کو سلام کر کے چارپائی پہ لیٹ جاتا۔ میں سو جاتا اور وہ آپس میں پورے گپ شپ کے ساتھ سٹڈی کر رہے ہیں۔ رات کے دو بجے جس وقت وہ ختم کر دیتے تو مجھے پھر جگا دیتے۔ میں دو سے تین بجے تک... بعض چیزوں سے فارغ ہو کر پھر بیٹھ جاتا سٹڈی پر۔ تقریباً چار بجے، ساڑھے چار بجے تک سٹڈی... لیکن اس میں اتنا فائدہ ہوتا کہ پوری رات پڑھنے سے زیادہ فائدہ ہوتا تھا کیوں کہ فریش مائنڈ (Fresh mind) ہوتا تھا۔


اب یہ کیا چیزیں تھیں؟ یہ مولانا صاحب کی برکت تھی۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اس چیز کو نہیں دیکھتے کہ ان کا وقت بچا کتنا ہے؟ اس کو دیکھتے ہیں وقت لگا کتنا ہے۔ تو والدین ان چیزوں سے چھڑاتے ہیں بچوں کو۔ وہ کسی بزرگ کے پاس جائیں گے تو ان کا وقت لگ جائے گا، وہ تو منع کرتے ہیں، وہ یہ مولوی بن جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا... پریشان ہوتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ کیا ہے۔ بھئی مجھے آپ بتاؤ، اگر آپ کو ایک فری سائیکاٹرسٹ (Psychiatrist) مل جائے جو آپ کے قدم قدم ہیلپ (Help) کرے آپ کے ساتھ، وہ کتنا فائدہ ہوگا آپ کو؟ تو یہ مشائخ تو سائیکاٹرسٹ سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماشاءاللہ جب یہ تسلی دے دیتے ہیں تو آدمی کو تسلی ہو جاتی ہے اور پھر ماشاءاللہ فری مائنڈ کے ساتھ وہ پڑھتے ہیں اور مطلب کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ ان چیزوں کو نہیں جانتے۔


9

خواب میں ہے عاشق خیالی دنیا کا خاص

ہر خیالی چیز سے رکھے ہی وہ آس


(مشغول بحق کو مصروف بخواب نہ سمجھو بلکہ) مصروفِ خواب (در حقیقت) وہ (خیالی پلاؤ پکانے والا طالبِ دنیا) ہے۔ جو ہر خیالی چیز سے (امرِ واقع کی سی) امید رکھے اور اس سے بات چیت کرے۔

واقعی لوگ بہت سارے لوگ صرف assumptions پہ چلتے ہیں۔ اپنے لیے assume کر لیتے ہیں ایسا ہوگا، ایسا ہوگا، ایسا ہوگا، پھر وہ کام شروع کر لیتے ہیں۔ پھر بعد میں ٹھوکر لگتی ہے تو پھر پتا چلتا ہے اوہ اچھا یہ تو... یہ چیز تو حاصل نہیں ہوا۔ تو خیالی پلاؤ لوگ پکاتے رہتے ہیں اپنے مائنڈ (mind) کے مطابق۔ جبکہ جو مشغول بحق ہوتا ہے، اس کے سامنے پوری ایک روشنی ہے۔ اور وہ روشنی یہ ہے کہ سب کام اللہ کرتے ہیں، اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے، اور پھر اللہ پاک کے بھیجے ہوئے نتیجے پر صبر کرتا ہے۔ بس وہ ماشاءاللہ پوری زندگی وہ یہ کام کرتا ہے۔ لہٰذا وہ مصروفِ خواب نہیں ہے، بلکہ مصروفِ خواب وہ ہے جو خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔


حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ دو آدمی جا رہے تھے، . سامنے سے کتا آیا۔ تو اس نے اس کتے کو سلام کر دیا۔ انہوں نے کہا بھئی کتے کو کیسے سلام کر دیا؟ اس نے کہا عین ممکن ہے یہ جن ہو اور اگر مجھ سے راضی ہو جائے تو پھر میرے کام آ جائے۔ مجھے بس چیزیں دینے لگے۔ تو کہتے ہیں دیکھو نا یہ جو طماع لوگ ہوتے ہیں نا جو طمع کرتے ہیں، وہ کتنے دور تک سوچتے ہیں۔ حالانکہ فرمایا کہ جو شریف جن ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی رذیل صورتوں میں نہیں آتے۔ جو شریف جن ہوتے ہیں وہ رذیل صورتوں میں، کتے کی صورت میں، اس کی صورت میں وہ نہیں آتے۔ تو اس کو اتنا بھی علم نہیں تھا، وہ کتے کو سلام کر رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اپنے نفس کی چاہتوں کو سلام کر رہا ہے۔ اپنے نفس کی چاہتوں کو سلام کر رہا ہے۔

اوپر مسلسل ذکر آ رہا تھا کہ دنیا کے بیدار دراصل غفلت کی نیند میں سو رہے ہیں اور جن خاصانِ خدا پر یادِ حق کی مستی طاری ہے وہ بیدار ہیں۔ اب تاکید فرماتے ہیں۔ مؤخر الذکر حضرات کی سُکر و مستی کے لحاظ سے ان کو غرقِ خواب مت سمجھو بلکہ غرقِ خواب تو وہ ہے جس پر اپنی بیہودہ آرزوؤں اور لغو تمناؤں کا نشہ طاری رہتا ہے اور بفحوائے "مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِهٖ جب بات کرتا ہے تو اپنی خیالی باتوں کی رٹ لگاتا ہے اور اپنے تخّیلاتِ باطلہ کو حقیقت سمجھ کر ان سے اپنے سود و بہبود کی امید رکھتا ہے۔

یا اللہ یا کریم! آج کل کی سیاسی دنیا میں اگر ہم دیکھیں تو لوگ کیسے کیسے لوگوں سے امیدیں رکھتے ہیں، حالانکہ دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے کیا کیا کیا ہے۔ اور پھر اسی میں لگے رہتے ہیں اور ڈسکشن (discussions) کرتے رہتے ہیں، اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔ اس کی بہت آسانی سے مثال دی جا سکتی ہے۔ تو یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہُ﴾ (الجاثیہ: 23)

یعنی ”اے پیغمبر کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر بھی نظر کی جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔“


10

خیال سے اس کو کیا ملے گا وجد و حال

بلکہ واسطے اس کے ہوں بس صد وبال

(اس ہوس پرست کا خیال) ایسا (عارفانہ ذوق) نہیں (ہوتا) کہ (اہلِ حال کی طرح) خیال سے وجد میں آ جائے (اور کسی عاشقانہ کیفیت کا ادراک کرے) بلکہ اس کا وہ خیال اس کے لیے سو سو طرح کا وبال بن جاتا ہے۔

خیالات کی دنیا میں رہتا ہے، مالیخولیا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے خیالات کی دنیا سے باہر چونکہ نہیں آتا، تو اپنی پریکٹیکل لائف (Practical life) میں پھر وہ چیز پرفارم (Perform) نہیں کر سکتا جو کہ اس کو پرفارم کرنا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنی وقت کی صحیح مینجمنٹ نہیں کر پاتا اور جس چیز کو سب سے زیادہ ٹائم دینا چاہیے ہوتا ہے اس کو بالکل ٹائم نہیں دیتا، یعنی آخرت کی فکر۔ اس کے بارے میں اس کے پاس ٹائم نہیں ہوتا، جبکہ دنیا کی معمولی معمولی چیزوں کے بارے میں اس کے پاس ٹائم ہوتا ہے۔ یہ بات ہے۔


11

خواب شیطان کو پاتا ہے حور

اپنی خواہش سے ہو وہ پاکی سے دور

وہ (اس) خواب میں شیطان کو حور وش پاتا ہے۔ پھر از راہِ خواہش اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے۔

مطلب: شعر سابق میں اہلِ ہوس کے خیال کو وبال کہا تھا یہاں اس کی تفصیل کسی قدر بیان کرتے ہیں۔


12

وہ گرائے شورہ میں اپنی منی

جاگ اٹھے تو دیکھے کہ کوئی نہیں


جونہی کہ وہ (سونے والا) تخمِ نسل (یعنی اپنا آبِ منی صحبتِ شیطان کی) شور زمین میں گراتا ہے تو وہ جاگ پڑتا ہے اور وہ خیال (کا ہم صحبت) اس کے سامنے سے غائب ہو جاتا ہے۔

وہ تو اس کا خیال ہوتا ہے، خیالی دنیا میں ہو جاتا ہے جیسے احتلام ہوتا ہے۔


13

پائے سر کمزور اور اپنا تن پلید

خواب میں ظاہر، ظاہر میں ناپدید


(اب) وہ سر کی کمزوری (محسوس کرتا ہے) اور بدن کو نجس پاتا ہے۔ افسوس ہے ایسی خیالی تصویر جو (خواب میں) ظاہر اور (فی الحقیقۃ) غیر ظاہر ہے (اور محتلم کو وبال میں ڈال جاتی ہے)


14

جیسے اڑتا اک پرندہ ہو اوپر

ساتھ چلے زمیں پہ سایہ ادھر

یعنی پرندہ اوپر اڑ رہا ہے اور نیچے زمین پر اس کا سایہ چل رہا ہے۔

جیسے اڑتا اک پرندہ ہو اوپر

ساتھ چلے زمیں پہ سایہ ادھر

اس شخص کی مثال ایسی ہے کہ ایک پرندہ اوپر اوپر اڑ رہا ہے اور اس کا سایہ پرندے کی طرح زمین پر اڑتا جاتا ہے۔

15

بھولا صیاد اس ہی سائے کو شکار

کرنا چاہے لیک رہ جائے تھک ہار

ایک بے وقوف اس سایہ کو شکار کرنے لگتا ہے اور اتنا دوڑتا ہے کہ ہار جاتا ہے۔

بھئی سائے کو کون پکڑ سکتا ہے؟ وہ ہمارے ہاں محاورے میں کہتے ہیں "بتی کے پیچھے لگا دیا"۔ تو وہ بس دوڑ رہا ہے، مطلب اس کو کبھی کوئی چیز ہاتھ نہیں آتی۔ تو دنیا ایسی چیز ہے۔ جتنا اس کے پیچھے بھاگو گے اتنا دور بھاگے گی۔ اور جتنا اس سے بھاگو گے تو پیچھے آئے گی۔ مطلب یہ اس قسم کی بات ہے۔


16

بے خبر اس سے ہے کہ سایہ ہے یہ

اصل اس سائے کا جو پایا نہیں

(اسے) اس بات کی خبر نہیں کہ یہ ہوا (میں اڑنے) والے پرندے کا عکس ہے (اسے) یہ خبر نہیں کہ اس سایہ کا اصل کہاں ہے۔

وہ تو اوپر ہے۔ ٹھیک ہے نا۔


17

تیر سائے کی طرف پھینکتا رہے

ترکش اس میں خالی یہ کرتا رہے

مطلب اس سائے کے اوپر تیر برسا رہا ہے، تو سائے کو کیا ہوتا ہے؟ وہ تیر تو زمین کو لگ رہے ہیں۔ یعنی

خواب میں خیالی تصویر کے ساتھ ملاعبت کرنے والے کی تمثیل میں اس شخص کی حالت کو پیش کیا ہے جو سایۂ مرغ کو مرغ سمجھ کر اس پر تیر آزمائی کر رہا ہے اور دونوں کا نتیجہ یکساں ہے۔ اور یہ دونوں مثالیں طالبِ دنیا کے پریشان کن خیالات کی مذمت میں لائی گئی ہیں پھر طالبِ دنیا کے متعلق فرماتے ہیں:


18

عمر کا ترکش اس کا خالی ہوا

سایہ کیا ہوتا شکار جل بھن گیا

اور اسی طرح اس (دنیا دار) کی عمر کا تیر دان خالی ہو گیا (جو مشغول بحق نہیں ہوا اور) اس کی عمر (برباد گئی) سایہ کو شکار کرنے میں دوڑتا دوڑتا جل بھن گیا۔ اس نے بے اصل تمناؤں اور بے حقیقت آرزوؤں کے حصول کے لیے عمر کھو دی۔

اب ذرا تھوڑا سا اس کی پریکٹیکل صورت بتاتا ہوں، کیوں کہ ظاہر ہے یہ چیزیں ذہن میں لانے کے لیے بھی کچھ بنیاد چاہیے۔ مثلاً ایک شخص پیسے کما رہا ہے۔ کما رہا ہے، کما رہا ہے، کما رہا ہے، کما رہا ہے، بینک بیلنس بن رہا ہے اس کا۔ پیسے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں جب تک اس کو خرچ نہ کرو۔ کوئی اپنی حیثیت اس کی ہے؟ پیسے کو کوئی کھا نہیں سکتا، پیسے کا کوئی اور کام اس سے نہیں... بس یہی ہے کہ اگر آپ خرچ کریں گے تو جس چیز پہ خرچ کریں گے وہ چیز آپ کو مل جائے گی۔ اور جو پیسے کی شوق میں مبتلا ہو وہ بخیل ہو جاتا ہے، مطلب وہ خرچ نہیں کرتا۔ تو کماتا جاتا ہے، خرچ نہیں کرتا، پیسے جمع ہوتے رہے، جمع ہوتے رہے، درمیان میں یہ چلا گیا۔ پیسے کدھر گئے؟ بس۔


یہ میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو ارب پتی لوگ ہیں، وہ ارب پتی کو مزید کمانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ساری عمر بھی خرچ کرتا جائے تو پھر بھی خرچ نہیں ہو سکیں گے، اگر صحیح طریقے سے خرچ کریں گے۔ اگر جوئے سے خرچ کریں گے تو ایک دن میں بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن مطلب ہے کہ صحیح طریقے سے خرچ کر سکیں... کرنا چاہیں گے تو پوری عمر بھی خرچ کرنا چاہیں تو نہیں خرچ کر سکیں گے۔ لیکن یہ نہیں... بس مزید "ھل من مزید، ھل من مزید، ھل من مزید"۔ وہ سلسلہ چلتا رہے گا، چلتا رہے گا اور اسی میں مر جائیں گے۔ سارے پیسے کدھر گئے؟ یا پھر یہ باہر ملکوں میں رکھیں گے، باہر ملکوں میں رکھیں گے، جب یہ مر جائیں گے... ان کے ہو جائیں گے۔ وہ تو ہوتا ہے اس طرح۔ ملک کا سرمایہ سارا ادھر چلا گیا۔


تو یہ ہے دنیا داری کا سارا چکر۔ یہ جتنے بھی بڑے بڑے لوگ ہیں نا میں آپ کو بتاؤں، میں نام نہیں لیتا لیکن ابھی recently ایک صاحب ہیں جو بہت بڑے پوسٹ پہ تھے۔ بہت بڑے پوسٹ پر تھے۔ ریٹائر ہو گئے۔ ایک وقت میں ان کے قلم کی جنبش پہ یہ سارا کچھ ہوتا تھا۔ بعد میں یہ ہوا کہ اس نے اپنے گھر کو اپنے بیٹے کے نام پہ کیا تھا اور پتا نہیں کچھ اور بھی اس طرح۔ وہ سارا بیٹوں نے لے لیا اور انہوں نے ان کو نکال دیا گھر سے۔ پولیس کو بلا لیا کہ اس کو نکال دو۔ تو جن کے لیے وہ سارا کچھ کیا تھا انہوں نے ہی ان کو گھر سے نکال دیا۔ یہ ہے دنیا کا حال۔

بھئی اگر آپ نے اپنے اولاد کو دین دار نہیں بنایا، تو پھر ان سے دین داری کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟ وہ مجھے اس پہ ایک بات آئی، وہ کوئی بھڑوا تھا نا کہ وہ... اس نے کوئی ڈیلنگ کی تھی کسی کے لیے۔ تو اس نے کہا کہ یہ ایمانداری نہیں ہے، یہ بد دیانتی ہے۔ کہتے ہیں بھڑوے سے بھی ایمانداری کی توقع کرتے ہو؟ بات تو بالکل صحیح کہی بھڑوے سے اب کیا ایمانداری کی توقع کریں گے، وہ ایماندار کدھر ہو سکتا ہے۔ تو اس طرح جس کو آپ نے دنیا دار بنا دیا، مجھے بتاؤ اس سے آپ ایمانداری کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟ وہ تو بے دین... دنیا دار ہی ہے۔ وہ تو اپنی دنیا کی چیز کو دیکھے گا، تمہیں تو نہیں دیکھے گا۔


یہاں وزیر اعظم تھے ایک، اس کا بیٹا امریکہ میں پڑھ رہا تھا، جب اس کا والد مر گیا تو اس کو وہاں اپنے کولیگز (colleagues) دوستوں نے کہا کہ: "We are very sorry that your father is dead." کہتے ہیں: "Oh yeah yeah, that old man is dead." بس That's it۔ یہ اس کی مطلب حالت تھی۔ یہ جو ہے نا آج کل کی حالت ہے، مطلب لوگ اپنے والدین کے ساتھ یہ کچھ کرتے ہیں۔


تو اس قسم کی بات ہے کہ اگر کوئی اس کو سمجھتا ہے، تو سب سے پہلے اپنا ناطہ اللہ کے ساتھ جوڑے، پھر اللہ والوں کے ساتھ جوڑے، پھر اللہ والوں کے مشورے کے ساتھ چلے۔ تو ان کے لیے دنیا بھی جنت نظیر بن سکتی ہے۔ کیوں کہ دنیا میں آخرت کے لیے جئیں گے۔ لہٰذا جنت کی جو خوشبو ہے، ان کو دنیا میں ملتی رہے گی۔ جو سکون کی حالت ہے، جو اطمینان کی حالت ہے، اس کو دنیا میں بھی مل سکتی ہے۔ کیوں کہ جنت میں اطمینان ہو گا نا کامل، تو اس کا جو خوشبو یہاں پر آئے گا کسی کو تو وہ بھی اطمینان کی صورت میں ہو گا۔ نتیجتاً وہ یہاں پر بھی مطمئن ہو گا، بے شک بظاہر لوگوں کی نظروں میں مفلوک الحال ہو یا پریشان حال ہو یا کوئی جیسے مولانا صاحب کا میں نے بتا دیا، لیکن نہیں۔ اس کے دل کی حالت سے پوچھو کہ وہ کیسا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اور دنیا دار سے پوچھو جو بڑے مزوں میں آپ کو نظر آتا ہے، آپ ان سے پوچھو جی آپ کا کیا حال ہے؟ پھر بتائے گا آپ کو کہ وہ کیا حال ہے۔ تو آپ کو حیرت ہو گی کہ بھئی جو اتنی پریشانیوں میں ڈوبا لگتا ہے، وہ تو شکر کر رہا ہے اور یہ جو نعمتوں کے اندر ڈوبا ہوا ہے یہ ناشکری کر رہا ہے، یہ کیسی بات ہے؟ ہاں، اس بات کو سمجھنے کے لیے بھی عقلِ رسا کی ضرورت ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما لے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔







دنیا کی حقیقت، خوابِ غفلت اور سکونِ قلب کا اصل راستہ - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور