تحویلِ قبلہ کی حکمت، مقاصدِ بعثتِ رسول ﷺ اور تزکیہ و تصوف کی حقیقت

اشاعت اول، 31 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         تحویلِ قبلہ (بیت المقدس سے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے) کا حکم اور اس میں پوشیدہ حکمتِ الٰہی۔

•         یہود اور مشرکین کے اعتراضات، کٹھ حجتی کی حقیقت اور اس سے گریز کی تلقین۔

•         حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت اور امتِ مسلمہ کا انتخاب۔

•         نبی کریم ﷺ کے چار بنیادی فرائضِ منصبی: تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہِ نفس۔

•         قرآن فہمی کے لیے معلم (نبی ﷺ) اور سنت و احادیث کی ناگزیر ضرورت۔

•         انسانی عقل پر شریعت و حکمتِ نبوی کی برتری (مسح کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی مثال)۔

•         تزکیہ، علمِ احسان اور تصوف کی اصل تعریف اور اس کی عملی اہمیت۔

•         تصوف پر ہونے والے اعتراضات کے عقلی و منطقی جوابات (اچھے اور برے پیشہ ور افراد کی مثال)۔

•         محض زبانی باتوں کے بجائے باطنی و روحانی بیماریوں کے عملی علاج کی ضرورت۔

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۗ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿150﴾ كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿151﴾ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ ﴿152﴾

اور جہاں سے بھی تم نکلو، اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو۔ اور تم جہاں کہیں ہو، اپنے چہرے اسی کی طرف رکھو، تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت بازی کا موقع نہ ملے

جب تک بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لئے یہ لوگ ہمارے قبلے کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑ کر ان سے سنگین انحراف کر لیا ہے۔ اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہوگئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قرار دے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے تو ان دونوں کی حجتیں ختم ہو جائیں گی۔ البتہ وہ کٹھ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے، ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا، لیکن مسلمانوں کو ان سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

یہ اصل میں گویا کہ اس کا، اس کا یہ تشریح ہے: ﴿فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِيْ﴾ (البقرة: 150) (پس لوگوں سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو)۔

اصل بات یہ ہے کہ اللہ جل شَانُہ کا ہر کام حکمت کے ساتھ ہوتا ہے، یہ تو کم از کم... دوسری بات یہ کہ امتحان والا عنصر باقی رہتا ہے۔ امتحان والا عنصر باقی رہتا ہے۔ تو اب یہ اس انداز میں ہے کہ لوگوں کو حجت بازی کا موقع ملتا ہے۔ لیکن حجت بازی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اس میں دلائل بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ البتہ یہ بات ہے کہ لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

مثلاً یہ قبلہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا، اس میں حکمت یہ تھی کہ لوگوں پر یہ بات کھل جائے کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنا مقصود نہیں، نہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا مقصود ہے۔ اصل میں تو اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنا مقصود ہے۔ اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے، اس چیز کو واضح کرنے کے لیے، اس چیز کو دلوں میں راسخ کرنے کے لیے، قبلہ کچھ عرصے کے لیے بیت المقدس کی طرف قرار دیا گیا۔

اب وہی امتحان والا عنصر باقی رہتا ہے، تو اس سے یہودیوں کو یہ موقع مل گیا کہ... دیکھو نا ہمارا قبلہ صحیح ہے نا تبھی تو یہ رخ ہمارے قبلے کی طرف کیا۔ ورنہ یہ تو ادھر ہی پیدا ہوئے ہیں، مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، ان کو تو... لیکن یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کرنا شروع کر لیا تو یہی صحیح ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھتے کہ دیکھو نا جیسے کہ قرآن میں ہے کہ "ایمان لاتے ہیں جو تجھ پر اترا ہے اور جو تجھ سے پہلے اترا ہے"۔

تو ظاہر ہے ہم ان کو غلط تو نہیں قرار دیتے، موسیٰ عليہ السلام کا طریقہ غلط نہیں تھا، عیسیٰ عليہ السلام کا طریقہ غلط نہیں تھا۔ یہ تو صرف اور صرف ایک حکمت کو واضح کرنے کے لیے یہ بات کی گئی۔ تو اب ان کو کہنے کا موقع مل گیا اور جو دوسرے مشرکین تھے ان کو بھی موقع مل گیا کہ وہ کہتے ہیں کمال ہے، یہ تو اپنے لوگ ہیں، ادھر کے لوگ ہیں، انہوں نے قبلہ ان کی طرف کیوں کیا؟ یہ تو بہت سنگین غلطی ہے۔ تو یہ ان کی بات۔ لیکن جس وقت واپسی ہو گئی تو اس پر ان کے منہ تو بند ہو گئے جو یہ کہتے تھے۔ اور یہ حکمت بھی پوری ہو گئی۔

البتہ وہ کٹھ حجت لوگ جو کہ ہمیشہ ہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ان کو موقع مل گیا، کبھی ادھر ہو کبھی ادھر، یہ کیا بات ہے؟ اور اس قسم کی باتیں جو ہے نا وہ... تو ظاہر ہے اس طرح تو ہو گا جب ایک حکمت پوری ہو گی تو اس کے ساتھ Side effects تو ہوں گے۔ اس کے ساتھ اور چیزیں تو ہوں گی، بالخصوص وہ امتحان والا عنصر وہ تو باقی رہے گا۔

البتہ ان میں جو لوگ ظلم کے خوگر ہیں، (وہ کبھی خاموش نہ ہوں گے) سو ان کا کچھ خوف نہ رکھو، ہاں میرا خوف رکھو۔ اور تاکہ میں تم پر اپنا انعام مکمل کر دوں، اور تاکہ تم ہدایت حاصل کر لو ﴿150﴾ (یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے، اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے ﴿151﴾ لہذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو، اور میری ناشکری نہ کرو ﴿152﴾

حضرت ابراہیم نے کعبے کی تعمیر کے وقت جو دعا مانگی تھی، اس آیت میں اس کا ایک جواب ہے۔ وہ یہ تھی

کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرماں بردار ہو۔ اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجیے (دیکھئے پیچھے آیات 128-129) اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کو "معتدل امت" قرار دے کر پیدا فرمایا (دیکھئے آیت 143) اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بنا کر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی عطا کردی جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنا دیا گیا ہے،

یعنی اب تو جو لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور اسلام پر نہیں ہیں، تو وہ تو ظاہر ہے مسلمان ہی نہیں ہیں۔ لیکن دنیا میں جہاں پر بھی مسلمان ہوں گے، چاہے وہ یہودیوں سے مسلمان ہوئے ہوں، چاہے عیسائیوں سے مسلمان ہوئے ہوں، چاہے مشرکین سے مسلمان ہوئے ہوں، چاہے Atheist سے مسلمان ہوئے ہوں، ان کا قبلہ تو کعبہ ہی ہے۔ اور وہ ہمیشہ کے لیے ہے، اس میں اب تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بنا کر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی عطا کردی جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنا دیا گیا ہے، اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری دعا قبول کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے درمیان بھیج دیا ہے جو انہی خصوصیات اور فرائض منصبی کے حامل ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لئے مانگے تھے۔ ان میں سے پہلا فریضہ آیات کی تلاوت کا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات کو تلاوت کرنا بذات خود ایک مقصد اور ایک نیکی ہے، خواہ وہ تلاوت بغیر سمجھے کی جائے، کیونکہ قرآن کے معنی کی تعلیم آگے ایک مستقل فریضے کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ دوسرا مقصد قرآن کریم کی تعلیم ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بغیر قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآن کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اہل عرب عربی زبان سے خوب واقف تھے، انہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی استاد کی ضرورت نہیں تھی۔ تیسرے آپ کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ "حکمت" کی تعلیم دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت، دانائی اور عقلمندی وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی۔ اس سے نہ صرف آپ کی احادیث کا حجت ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کا کوئی حکم کسی کو اپنی عقل کے لحاظ سے حکمت کے خلاف محسوس ہو تو اعتبار اس کی عقل کا نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی حکمت کا ہے۔

جیسے حضرت علی كَرَّمَ اللہ وَجْہہ نے فرمایا تھا کہ: "اگر میں اپنی عقل سے کام لیتا تو میں موزے کو تلوے سے مسح کرتا۔ لیکن میں اس طرح نہیں کرتا، میں اوپر سے کرتا ہوں کیونکہ آپ ﷺنے ایسا کیا ہے۔"

تو یہ والے اپنی عقل کو نہیں بلکہ آپ ﷺ ہی کی بات پر چلنا عقلمندی ہے۔ عقلمندی یہی ہے۔

چوتھا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو پاکیزہ بنائیں۔ اس سے مراد آپ کی عملی تربیت ہے جس کے ذریعے آپ نے صحابہ کرام کے اخلاق اور باطنی صفات کو گندے جذبات سے پاک کر کے انہیں اعلیٰ درجے کی خصوصیات سے آراستہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و سنت کا صرف کتابی علم بھی انسان کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہے جب تک اس نے اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی عملی تربیت نہ لی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اپنی صحبت سے سرفراز فرما کر ان کی تربیت فرمائی، پھر صحابہ نے تابعین کی، اور تابعین نے تبع تابعین کی اسی طرح تربیت کی اور یہ سلسلہ صدیوں سے اسی طرح چلا آتا ہے۔ باطنی اخلاق کی اسی تربیت کا علم "علم احسان" یا "تزکیہ" کہلاتا ہے اور تصوف بھی درحقیقت اسی علم کا نام تھا، اگرچہ بعض نااہلوں نے اس میں غلط خیالات کی ملاوٹ کر کے بعض مرتبہ اسے خراب بھی کر دیا، لیکن اس کی اصل وہی تزکیہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے یہاں فرمایا ہے، اور ہر دور میں تصوف کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہے ہیں۔

اصل میں واقعتاً اتنے Facts ہیں اور اتنی واضح باتیں ہیں اور اتنی زیادہ ثابت شدہ باتیں ہیں۔ بس صرف وہی کٹھ حجتی والی جو بات ہے وہ رہ جاتی ہے، جیسے کعبہ کے بارے میں بات ہو رہی تھی، تو تصوف کے بارے میں بھی ایسی ہی بات ہے کہ اس میں کٹھ حجتی ہوتی ہے۔

نمبر ایک کٹھ حجتی یہ ہے کہ دیکھو دنیا میں بہت سارے ڈاکٹر ہیں۔ اچھے بھی ہیں، خراب بھی ہیں۔ ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو صرف اپنے پیسوں کے لیے آپ سے Extra X-ray کرواتے ہیں، بلاوجہ کے آپریشن (Operation) کراتے ہیں۔ اس طرح گردے تک بھی بیچ دینے والے ڈاکٹر بھی ہیں۔ اس طرح اور... اب یہ ڈاکٹر ہی ہیں نا؟ اچھا لیکن اچھے ڈاکٹروں کو کوئی بھی نہیں چھوڑتا ان کی وجہ سے۔

ایسے انجینئر بھی ہیں جو بڑے Corrupt ہیں۔ وہ جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ ابھی مردان میں وہ پُل ابھی بنا نہیں ہے کہ وہ گر پڑا۔ یعنی ابھی افتتاح بھی نہیں ہوا، کہ وہ گر پڑا۔ وہ پرانا پُل قائم ہے اور موجودہ پُل جو ابھی بنا نہیں وہ نیچے گر گیا سارا۔ تو مقصد یہ ہے کہ ظاہر ہے وہ کرپشن ہوئی اس میں۔ تو یہ کرپشن والے انجینئر بھی ہیں لیکن بڑے اچھے انجینئر بھی ہیں۔ اس طرح غلط استاد بھی ہیں اور صحیح استاد بھی ہیں۔ غلط دکاندار بھی ہیں، صحیح دکاندار بھی ہیں۔ غلط لیڈر بھی ہیں، صحیح لیڈر بھی ہیں۔ تو ہر ایک قوم میں، ہر ایک طبقے میں اچھے برے موجود ہیں۔ سب کے لیے ہمارا یہ قانون ہے کہ بروں کی وجہ سے اچھوں کو نہ چھوڑو۔

لیکن تصوف کے بارے میں بعض کٹھ حجت یہ کہتے ہیں کہ بھئی اس میں ایسے اور اس میں ایسے... بھئی ہیں نا، انکار تو نہیں ہے۔ بلکہ جو لوگ ہیں غلط، وہ صحیح صوفی ان کے آپ سے زیادہ مخالف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو تو پتہ ہے نا، ان کو تو ساری چیزوں کا علم ہے کہ بھئی یہ کیا گڑبڑ کر رہے ہیں۔ تو لہٰذا وہ تو سب سے زیادہ خلاف ہوں گے اس کے۔ لیکن آپ کہتے ہیں نہیں بس یہ خراب ہے تو یہ بھی خراب ہے، یہ کون سا اصول ہے؟ کون سا طریقہ ہے؟ صرف وہی کٹھ حجتی والی بات ہے۔ تو کٹھ حجتی کا کوئی جواب نہیں ہے۔

تو تزکیہ جو ہے یہ چلا آ رہا ہے اسی وقت سے۔ آپ ﷺ نے یہ کیا ہے سب سے پہلے۔ مطلب دیکھو نا علم بھی آپ ﷺ کی طرف سے آیا ہے نا۔ یعنی وہ علم جو آج ہمیں علماء سکھا رہے ہیں وہ اصل میں تو Origin تو آپ ﷺ سے ہے۔ اگر آپ ﷺ نہ سکھاتے تو یہ علماء کیا سکھاتے؟ کہاں سے سکھاتے؟ تو اسی طریقے سے تزکیہ بھی پہلے ابتداء میں تو آپ ﷺ نے کیا ہے۔ پھر اس کے بعد اس تزکیے سے سیکھ کر آگے معاملہ چلا ہے۔

لیکن وہ اس کی ایک عملی صورت ہے۔ یعنی گویا کہ قرآن و حدیث جو علمی صورت ہے، اس کو عمل میں لانے کے بعد اس کی جو عملی صورت بنتی ہے وہ تزکیہ ہے۔ یعنی قرآن آپ کو حسد سے روکتا ہے، حسد صرف باتوں سے تو نہیں ختم ہوتا۔ تو جس طریقے سے ختم ہو گا وہ تصوف ہو گا۔ اس کو ہم تصوف کہتے ہیں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اچھا! تکبر کو دور کرنے کا حکم ہے قرآن پاک میں اور احادیث شریفہ میں، تو اب ظاہر ہے باتوں سے تو ختم نہیں ہوتا۔ تو جس طریقے سے بھی ختم ہو گا وہ تصوف ہو گا۔ ہم اس کو تصوف کہتے ہیں۔

تزکیہ کا مطلب ہے کہ جو ہمارے اندر خراب عوامل ہیں، چاہے وہ دماغی ہیں، چاہے وہ قلبی ہیں، چاہے نفسانی ہیں؛ ان سب کو کھرچ کر، صاف کر کے، منشائے الٰہی کے مطابق ہم سب چیزوں کو سامنے لائیں، یہ تصوف ہے، یہ تزکیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جو گندگی ہمارے نفس کی اور غلط محبت کی جو شامل ہوئی ہے ان تمام چیزوں میں یا Misconceptions، تو ان تمام چیزوں کو Remove کر کے بالکل واضح، نتھرا ستھرا دین، اس پہ چلنا، یہی اصل میں تصوف ہے۔

تو اب اتنے اونچے معیار کی چیز کو ایسے صفر سے ضرب دینا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ میں اکثر کہا کرتا ہوں جو تصوف کے مخالف بھی ہیں، وہ بھی جب خطبہ پڑھتے ہیں تو وہ شروع کرتے ہیں کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں تقویٰ کی۔ تو کیا آپ کی وصیت آپ نے کر لی تو سارے لوگ متقین ہو گئے؟ آپ نے کن کو متقی بنایا؟ ذرا اس کی مثال بھی دے دیں نا۔ بھئی کوئی باتوں سے متقی بنتا ہے؟ باتوں سے تو کوئی بھی متقی نہیں بنتا۔

اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ باتوں سے جیسے کوئی بیمار صحیح نہیں ہوتا، اس طریقے سے جو باتیں ہیں ان سے انسان کی روحانی بیماریاں بھی ٹھیک نہیں ہوتیں، اس کے لیے بھی علاج ہی کرنا پڑتا ہے۔

تو بس یہی اصل میں بات ہے کہ ہم لوگوں کو کٹھ حجتی سے باز آنا چاہیے اور جو اصل چیز ہے اس کو حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۙ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۚ وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ ۚ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.



تحویلِ قبلہ کی حکمت، مقاصدِ بعثتِ رسول ﷺ اور تزکیہ و تصوف کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور