اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّـيْـهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ ۚ اَيْنَ مَا تَكُـوْنُـوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (148) وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۗ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (149)
صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمُ.
اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رُخ کرتا ہے۔ لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے، اللہ تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔
اصل میں اس وقت بہت Conceptual تبدیلیاں آ رہی تھیں۔ یعنی جو چیزیں گہری ہوگئی تھیں دلوں میں اور غلط تھیں، ان کو نکالا جا رہا تھا۔ تو یہاں پر بھی چونکہ
جو لوگ قبلے کی تبدیلی پر اعتراض کر رہے تھے ان پر حجت تمام کرنے کے بعد مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے قبلے الگ بنا رکھے ہیں، اور تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں اُن کو کسی ایک قبلے پر جمع کر سکو۔ لہذا اب ان لوگوں سے قبلے کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں اپنے کام میں لگ جانا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نامہٴ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اضافہ کرو، اور اس کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخری انجام یہ ہوگا کہ تمام مذہبوں والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس بلائے گا اور اُس وقت ان سب کی تُرکی تمام ہو جائے گی۔ وہاں سب کا قبلہ ایک ہی ہو جائے گا، کیونکہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
اصل میں واقعی انسان کی نیت اگر مستحکم ہو تو پھر کوئی ان کو ہلا نہیں سکتا۔ اور کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تو اب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اپنے طور پر قبلے بنائے ہوئے ہیں، تو ان کو تو اگر وہ تبدیل نہیں ہونا چاہتے ہوں، کسی طریقے سے بھی گویا کہ وہ اپنی رائے بدلنا نہیں چاہتے ہوں، تو ایسی صورت میں ان پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے اعمال میں ترقی کرنی چاہیے۔
یہ ہمارے لیے گویا کہ وہ جو بحثوں والا سلسلہ ہے اس کو ختم کرنے کے لیے بتایا گیا کہ بعض لوگ بحث برائے بحث کرتے ہیں۔ تو بحث برائے بحث نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے نتیجے کو دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہے۔ اگر اس کا نتیجہ نہیں نکل رہا تو پھر اپنے آپ کو اس سے نکالنا چاہیے۔ بعض دفعہ بے نتیجہ بحث جو ہے انسان کو اصل کام سے روک دیتا ہے۔ یہ بعض لوگوں کا ذہن مناظراتی ہوتا ہے۔ مناظرہ کوئی بری چیز نہیں ہے، اچھی چیز ہے مطلب اس سے کچھ چیزیں سامنے آتی ہیں، لیکن مناظراتی ذہن ٹھیک نہیں ہے۔
ٹھیک ہے نا؟ جیسے انگریزی زبان بری چیز نہیں ہے، زبان ہے بس، ٹھیک ہے جی، کوئی کیا زبان رکھتا ہے کوئی کیا زبان رکھتا ہے، لیکن انگریزیت بری چیز ہے۔ یعنی اس سے متاثر ہو کے ان کا تمام کلچر لے لینا اور دوسری چیزوں کو چھوڑ دینا، یہ بری چیز ہے۔ تو اس کا مطلب اسی طریقے سے مناظرہ کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن مناظراتی ذہن جو ہے یہ بہت بری چیز ہے، اس سے پھر نقصان ہوتا ہے۔ اس سے انسان اپنے جو اوقات ہیں، وہ فائدے جو وہ حاصل کر سکتا ہے، اس کو کھو دیتا ہے۔
ایسے لوگوں کو گویا کہ یہ تاثر دینا ضروری ہے کہ آپ کا بحث کس مقصد کے لیے ہے؟ اگر وہ مقصد حاصل نہیں ہو رہا تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ بس ٹھیک ہے آپ نے اپنی بات پہنچا دی دلائل کے ساتھ۔ اب اس کے بعد وہ مانتا ہے، یہ اس کی اپنی بات ہے، اس کا اپنا فائدہ ہے۔ نہیں مانتا، اپنا نقصان ہے۔ تم اپنا نقصان ان کے لیے کیوں کر رہے ہو؟ تم جو کچھ کر سکتے ہو کیوں نہیں کر رہے ہو؟
بس یہی اصل میں بنیادی بات تھی تو میں نے عرض کیا کہ یہ اصل میں Conceptual تبدیلیاں جو آ رہی تھیں اس کے لیے اللہ جل شانہ صحابہ کرامؓ کی ذہن سازی فرما رہے تھے کہ وہ آئندہ کے لیے کیسے زندگی گزاریں۔
یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿148﴾ اور تم جہاں سے بھی (سفر کے لئے) نکلو، اپنا منہ (نماز کے وقت) مسجدِ حرام کی طرف کرو۔ اور یقیناً یہی بات حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے
اللہ تعالیٰ نے مسجدِ حرام کی طرف رُخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے۔ اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتانی مقصود ہے۔ دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کا رُخ کرنا صرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو، بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے، اور کہیں دُور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اللہ تعالیٰ نے "سمت" کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ کعبے کا رُخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سو فی صد سیدھ میں ہو۔ بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبے کی طرف رُخ کرنے کا حکم پورا ہو جائے گا۔ اور انسان اس معاملے میں اتنا ہی مکلف ہے کہ وہ اپنے بہترین ذرائع استعمال کر کے سمت صحیح متعین کر لے۔ ایسا کر لینے کے بعد اس کی نماز ہو جائے گی۔
یہ بھی ایک دوسری بات ہے جس سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نکال دیا اور اگر اس میں بھی کوئی پھنس جائے تو نکلنا پھر بڑا مشکل ہے۔ یہ علامہ مشرقی نے کتابیں لکھی تھیں "ملا کا غلط مذہب نمبر 9"، اور اس میں اس نے قبلہ کے بارے میں یہ لکھا تھا کہ یہ فلاں جگہ کا قبلہ وہ جو شہروں کا ہے وہ بیت المقدس ہے۔ فلاں جگہ کا جو ہے نا وہ کراچی ہے، فلاں جگہ کا یہ ہے، فلاں جگہ کا یہ ہے۔ مطلب اس نے اپنی طرف سے... انہوں نے کہا میں آپ کو صحیح طریقہ بتاتا ہوں۔ یہ سکولوں کا نقشہ لے لو اور اس پر آپ ایک سرا مکہ کے تار کا لے لو اور دوسرا جہاں کا قبلہ معلوم کرنا ہے اس کا لے لو۔ تو یہ تار جس طریقے سے جس سمت میں شمال کے ساتھ زاویہ بنائے گی، تو بس وہ اس کا قبلہ ہے۔
اب دیکھو یہ interpose تھے Mathematics کے اور بڑے High learned آدمی تھے، لیکن بغاوت اور تکبر کی وجہ سے اس کا دماغ ایسے اللہ نے ماؤف کر دیا کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھے کہ Spherical Trigonometry، Plane Trigonometry پہ Fit نہیں ہوتی۔ زمین گول ہے، Sphere کی طرح ہے، یہ پھیلا ہوا نہیں ہے۔ مطلب چپٹا نہیں ہے۔ تو انہوں نے سکول کا نقشہ جو ہے وہ تو چپٹا ہوا ہے مطلب کہ وہ اس طرح... تو اس سے کریں تو اس سے بہت بڑا فرق آ جاتا ہے اور اس نے سب لوگوں کے قبلوں کو غلط قرار دیا حالانکہ وہ خود اپنی غلطی پہ تھے۔
اس کا اصول یہ ہے، اصول میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اصول اس کا کیا ہے؟ کہ خانہ کعبہ کے اوپر اگر بہت اونچا آسمان تک آپ کہہ سکتے ہیں، یعنی مطلب ہے کہ ایک Rod کھڑا کریں اس جگہ کے قریب... تو وہ راڈ جہاں جہاں سے جس سمت میں نظر آئے گا وہ قبلہ ہے۔ اور اس کا آسان ترتیب یہ ہے کہ جب سورج خانہ کعبہ پہ ہو جس دن، دو دن ہوتا ہے نا وہ سال میں، ایک جولائی میں ایک مئی میں۔ بالکل عین دوپہر کے وقت یہ خانہ کعبہ کے اوپر ہوتا ہے یعنی مطلب مکہ مکرمہ کے اوپر۔ اس وقت سورج جس طرف نظر آ رہا ہوگا تو وہ قبلہ ہوگا وہاں کا، جہاں جہاں سے نظر آ رہا ہوگا۔
اب اس کے ذریعے سے جب ٹیسٹ کر لیا تو ان کے قبلے سارے غلط تھے، علامہ مشرقی کے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ وہ اصولاً غلط تھے۔ وہ چپٹی زمین پر تھے اور یہ جو ہے نا یہ Spherical ہے۔ تو اتنی بڑی غلطی اس نے کی تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ چونکہ اس نے "سمت" کا لفظ... انہوں نے یہاں تک کہا بالکل خانہ کعبہ کی سیدھ میں ہونا چاہیے، خدا کے بندے قرآن ایک بات کرتا ہے تو دوسری بات کرتا ہے، کیسے کہتے ہو؟ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام ہے۔ تو یہ جو ہے نا خوامخواہ کج بحثی جس کو کہتے ہیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے آسانی پیدا فرمائی ہے۔ آپ اگر مسجدِ حرام کے اندر ہیں، عین خانہ کعبہ کی طرف رخ۔ مسجد حرام سے باہر ہیں تو مسجد حرام کی طرف رخ اور مکہ مکرمہ سے باہر ہیں تو مکہ مکرمہ کی طرف رخ۔ مطلب یہ ہے کہ مکہ مکرمہ... مسجد حرام بھی اس کو کہتے ہیں نا، مطلب اس کا نام مسجد حرام بھی ہے۔ تو مکہ مکرمہ کی طرف۔ تو پھر جب دور جائیں تو جس طرف مسجد حرام ہے یا مکہ ہے، اس طرف کا رخ۔
تو اس کے لیے پھر علماء کرام نے مزید تحقیق کرکے اور مسئلہ معلوم کرکے فرمایا کہ اگر چوکور کمرہ ہو، چوکور کمرہ ہو اور ان میں سے کوئی ایک دیوار بالکل اس کے وسط میں خانہ کعبہ کی سمت ہو، وسط میں، تو اس کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک اگر کسی کا رخ آجائے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ یعنی 45 درجے، 45 درجے کی گنجائش۔ اب میں ادھر مرکز میں ہوں تو یہ بھی کونا ہے، یہ بھی کونا ہے، تو میں ادھر سے رخ کروں بھی ٹھیک ہے، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی ٹھیک ہے۔ کیونکہ سمت ایک ہی ہے، مطلب میرے سامنے یہی دیوار آ رہی ہے نا؟ اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے آپ کون سی دیوار کی طرف رخ کرتے ہیں؟ یہ۔ ادھر بھی جواب یہ ہوگا، ادھر بھی یہ ہوگا، ادھر بھی یہ ہوگا، ادھر بھی یہ ہوگا، ادھر بھی یہ ہوگا۔ ہر جگہ یہ ایک دیوار آئے گی۔
کیونکہ سمتیں چار ہیں نا، تو بس ٹھیک ہے جی بس جس سمت میں جو ہے نا وہ آ جائے، تو بس ٹھیک ہے۔ اصل میں تو چھ سمتیں ہیں نا؟ اوپر، نیچے اور دائیں، بائیں، آگے، پیچھے۔ تو اوپر نیچے تو اس میں ہے نہیں، تو باقی چار سمتیں رہ گئیں۔ تو دائیں، بائیں، آگے، پیچھے۔ یہ ہے، تو اب اگر آگے کی طرف ہے تو وہی ہے اور اگر پیچھے کی طرف ہے تو وہی ہے، اگر دائیں کی طرف ہے تو وہی ہے، اگر بائیں کی طرف ہے تو وہی ہے، ان میں سے ایک سمت ہے۔ تو وہ سمت تقریباً... وہ سمت 90 Degree کو Cover کرتا ہے۔ 360 درجے ہوتے ہیں نا تو چار سمتیں ہیں، تو کتنے درجے ایک پر آ گئے ایک سمت پر؟ نوے آ گئے نا؟ تو بس نوے درجے... نوے درجے کے اندر اندر آپ کی سمت ہے، تو کتنی آسانی ہو گئی؟
تو یہ اصل میں گویا کہ Conceptual mistakes وہ انسان کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے جو بلاوجہ خوامخواہ ہمارا وقت کھا جائے۔ یہ جو آتا ہے نا: وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔ تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ خوامخواہ اپنا وقت لگائے رکھیں گے اس کے اوپر Discussion اور وہ اپنی جگہ سے ہلے گا نہیں!
وہ کہتے ہیں ایک دفعہ۔۔۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ ایک عیسائی تھا... پادری، وہ ایک ایرانی جو Atheist تھا، دہریہ، اس کو سمجھا رہا تھا عیسائیت۔ تو وہ جو دہریہ تھا وہ چڑھ گیا، اس نے کہا کہ تم مجھے کیا سمجھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وہ خدا کا بیٹا ہے۔ اس نے کہا جاؤ اپنا کام کرو، جو اس کے باپ کو نہیں مانتا تو اس کے بیٹے کو کیوں مانے گا؟ مطلب یہ ہے کہ وہ گویا کہ اس نے بنیادی بات بتائی نا کہ بھئی میں تو خدا مانتا نہیں ہوں تو پھر تم میرے اوپر وقت کیوں ضائع کر رہے ہو؟
تو بات بالکل یہی ہے کہ جو بنیادی بات ہے اس کو... اس کو لو۔ آیا وہ مانتا ہے یا نہیں؟ تو یہ بنیاد جو اس طرح جیسے ایک Line ہوتا ہے نا، تو ایک آدمی جیسے خدا کو نہیں مانتا، تو آپ اس کے ساتھ ادھر سے بات شروع کریں کہ خدا ماننا ہے۔ یہ نہیں کہ اسلام کے کسی اصول کا بتا دو کہ اس پر عمل کرنا ہے، وہ... وہ بعد کی بات ہے۔ پھر اگر خدا وہ مانتا ہے، تو پھر اس کو ایک ماننا، کیونکہ کئی خدا بھی لوگ مانتے ہیں، تو ایک ماننا، اس پہ آ جاؤ۔ اگر وہ اس کو بھی مانتا ہے، تو پھر پیغمبروں کا بتاؤ۔ کیونکہ اللہ کے ساتھ... خدا کے ساتھ صرف ایک ہی تعلق کا ذریعہ ہے اور وہ پیغمبر ہوتا ہے۔ تو پھر پیغمبر کی بات کہہ دو کہ پیغمبر مانے وہ... کہ وہ مانتا ہے یا نہیں مانتا، یعنی پہلے یہ چیک کرو۔
اگر وہ مانتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر اسی پہ بات ہوگی۔ اگر پیغمبر وہ مانتا ہے تو پھر اس کے بعد آگے جاؤ یعنی آپ ﷺ آخری پیغمبر ہیں۔ پھر اس کے بعد پھر ان کا جو دین وہ لایا ہے، وہ کیسے لایا ہے؟ صحابہ کرامؓ کون تھے؟ محدثین کون تھے؟ تمام چیزیں۔ وہ آہستہ آہستہ... تو مطلب یہ ہے کہ آپ ایک Systematic انداز میں آ رہے ہوں گے، آپ کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔
تو یہ ہمارے چیئرمین صاحب تھے، وہ انصر پرویز صاحب، وہ ہمارے Teacher تھے پہلے۔ تو میں میز پر بیٹھا تھا، ناشتہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا میں ان شاءاللہ پانچ منٹ میں حقیقت بیان کر سکتا ہوں کسی کو بھی۔ اس نے کہا یہ بہت بڑا دعویٰ ہے، کیسے کر سکتے ہو؟ تو میں نے کہا کہ میں سب سے پہلے اپنے لیے جگہ ڈھونڈ لیتا ہوں کہ میں کہاں سے شروع کروں؟ انہوں نے کہا کیسے؟ میں نے کہا اگر کوئی خدا کو نہیں مانتا تو اس کو میں پیغمبر کی بات نہیں بتاتا۔ تو پہلے خدا کی بات کرتا ہوں، پھر اس کے بعد پیغمبر کی بات آتی ہے، پھر اس کے بعد اس کی مزید تفصیلات۔ تو یہ چیزیں چند منٹوں میں طے ہو جاتی ہیں۔ اب اگر وہ مانتا ہے تو ٹھیک ہے، اس پہ محنت کرتا ہوں یعنی اگر مجھے نظر آجائے کہ بس وہ اس میں ہے جگہ۔ نہیں ہے تو پھر خاموش ہو جاتا ہوں۔ کہتا ہوں یہ ٹھیک ہے پھر، یہ پھر ٹھیک ہے، یہ ہو سکتا ہے۔
تو مقصد یہ ہے کہ بلاوجہ خوامخواہ اپنے آپ کو... حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ میں بلاوجہ کی بحث سے بہت وہ کرتا ہوں۔ کہتے ہیں مجھے مناظرے میں شکست دینا بہت آسان ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے میں اس بات پہ بات کرتا ہی نہیں ہوں نا جو دوسرا وہ مانتا ہی نہیں ہے، خوامخواہ ایک صحیح بات کو مانتا نہیں، دلائل کے ساتھ وہ ہے، وہ نہیں مانتا، اس کا مطلب ہے کہ وہ ماننا چاہتا ہی نہیں ہے۔ جب ماننا چاہتا ہی نہیں ہے تو پھر میں اس پہ مغز کیوں لگاؤں؟ تو میں پیچھے ہو جاتا ہوں۔
تو یہ بات صحیح ہے کہ خوامخواہ اپنے وقت کو انسان کیوں ضائع کرے بلاوجہ؟ جو صحیح جگہ ہے وقت لگانے کا وہیں پر ہی وقت استعمال... ایک بات اور بتا دوں، میں ایک دور میں کچھ سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی کام کر چکا تھا، یعنی حمایت کے لحاظ درجے میں۔ تو Convincing کے لیے ہم پھر رہے ہوتے تھے نا، تو یہ سیاسی لوگ بڑے ماہر ہوتے ہیں ان چیزوں میں، ہر ایک کا اپنا Field ہوتا ہے نا۔ تو جس وقت یہ الیکشن کا وقت آ جاتا نا اور یہ ووٹ وغیرہ، تو وہ کسی پہ وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی بحث میں لگ جاتا تو کہتے اچھا بس ہمارے لیے دعا فرمائیں، بس وہ آگے چلے جاتے۔ یعنی ان کے ساتھ بحث نہیں کرتے تھے، کیونکہ بحث کا وقت تھا نہیں اگر ایک کے ساتھ آپ بحث کرنے بیٹھ جائیں تو اس میں آپ سو آدمیوں تک اپنی بات پہنچا سکتے تھے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ صرف لوگ آپ کے انتظار میں ہوں کہ آپ اس کے ساتھ ملتے ہیں یا نہیں ملتے۔ اگر نہیں ملتے تو پھر ووٹ نہیں دیتے۔ ہوتے ہیں نا گاؤں وغیرہ میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر آپ صرف ملے نہیں نا تو بھی بس... "جی اتنا اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں، میرے پاس آئے ہی نہیں"۔ بس آپ نے ووٹ ضائع کر دیا۔ تو وہ جو ہے نا وہ یعنی اس چیز کو کرتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بوڑھے اور جوان، ان میں فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک بوڑھے کو جتنی دیر میں Convince کر سکتے ہیں، اس میں آپ سو جوانوں کو Convince کر سکتے ہیں۔ کیونکہ بوڑھوں کا ذہن اچھا ہے یا برا ہے، پکا ہو گیا ہے۔ اب اس کے بعد اس سے نکلنا آسان بات نہیں ہے۔ تو اس پہ محنت کرنے کی بجائے آپ... میں نے ایک دفعہ کہا، بھئی میرا طریقہ کار جو ہے نا وہ یہ ہے کہ میں گھر کے جوانوں کو لے لیتا ہوں۔ تو وہ جو ان کے بوڑھے والدین ہیں ان کے پیچھے خود ہی آ جاتے ہیں۔ کہتا ہاں یہ تو بڑا اچھا طریقہ ہے۔ میں نے کہا ہوتا تو یہی ہے! ہوتا تو یہی ہے بجائے اس کے کہ میں ان کو Convince کروں، ان کے بچے ان کو Convince کریں نا۔ اچھی بات نہیں ہے؟ ان کی بات سمجھ بھی جائیں گے، تو محبت بھی ہوگی ان کے ساتھ، میرے ساتھ ان کا کوئی Concern نہیں ہے۔ تو یہ کہ میں ان کے بچوں پہ، کیونکہ ان کے بچے جو ہے نا وہ آسانی سے مان جاتے ہیں، تو ان پہ محنت کرتا ہوں، جب وہ آ جاتے ہیں، پھر اس کے بعد وہ اپنے والدین کو بھی ساتھ لے آتے ہیں۔
تو بات بالکل صحیح ہے، مطلب Systematic انداز میں کام ہونا چاہیے، پھر بہت آسانی کے ساتھ ساری چیزیں ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر چیز کی جو صحیح حقیقت ہے اور صحیح طریقہ ہے وہ سمجھا دے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔