حبِ جاہ و مال کی مذمت اور حقیقی عبدیت کا راستہ

"کتاب: کرامات قلب، کلام:"یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں"، "کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین کے روپ میں دنیا داری کا خطرہ
    1. حُبِّ جاہ اور خلافت کی طلب کے نقصانات
      1. رہنمائی اور خلافت کے لیے باطنی پختگی
        1. ظاہری مشیخت کے بجائے حقیقی عشقِ الٰہی
          1. کامل عبدیت اور رضائے الٰہی کا حصول
            1. دنیا کی عارضی لذتوں سے بچاؤ
              1. مال کی محبت اور اسراف کی ممانعت
                1. نیک صحبت کی اہمیت اور بُری صحبت سے گریز
                  1. جھوٹی شہرت اور خوشامد کا فریب
                    1. نورِ ایمان، عقل اور تزکیۂ نفس کا باہمی تعلق

                      اچھا اب دنیا کے لیے لوگ آتے ہیں۔ لیکن دنیا کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ تعویزوں کے لیے جو لوگ آتے ہیں دوسرے، یہ کم دنیا ہے، کم دنیا ہے۔ مطلب اس میں ان کے ساتھ گنجائش کی جا سکتی ہے بوقت ضرورت، کیونکہ یہ بیچارے واقعی دنیا دار نظر آتے ہیں۔ لہٰذا جو دنیا دار نظر آتے ہیں تو ان کے لیے مسئلہ، خطرہ اتنا نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے اگر اس کو سمجھ آگئی تو سمجھ جائے گا، چھوڑ دیں گے اس چیز کو۔ لیکن جو دین کے روپ میں دنیا دار ہوتے ہیں نا وہ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ وہ مسئلہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ وہ ابھی بتاتا ہوں۔


                       

                      حضرت والا کا عارفانہ کلام، کراماتِ قلب سے ہے۔

                      عنوان ہے، "یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں"۔

                      حضرت والا فرماتے ہیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       


                      نعرہ اک قلندری ہو توڑے سارے ان بتوں کو

                      دل میں اس کے حُب کو لے کر خود کو ان سے ہم بچا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       


                      جو خلیفہ بن گئے بھی تو کیا اس سے بن پڑے گا

                      بدلے اس کے یہ ہے بہتر رو کر اس کو ہم منا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       


                      جو ہیں عشق میں اس پہ قرباں وہ کریں کیا خلافت

                      وہ تو چپ کھڑے ہوں یوں کہ کہیں ہم کو نہ بلا لیں

                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       

                      یہ اس کی ایک بہت اچھی تمثیل ہے۔ مثلاً کئی لوگ اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اور ہر ایک خوش ہے۔ اتنے میں محبوب کسی شخص کو کہتا ہے، جاؤ بازار سے میرے لیے فلاں چیز لے آؤ۔ اور وہ نہیں جانا چاہتا، دل اس کا نہیں جانا چاہتا کہ وہ کہتا ہے بھئی مجھے ایسا موقع ملے تو میں کیوں جاؤں؟ لیکن حکم ہے، الْأَمْرُ فَوْقَ الْأَدَبِ۔ جانا تو ہے کیونکہ اب کہا ہے۔ اب اس وقت وہ جب بازار جائے گا تو تمام ہوش و حواس کے ساتھ سودا کرے گا۔ کیونکہ اپنے محبوب کو وہ چیز دینی ہے تو وہ بہترین چیز لے گا، بہترین طریقے سے لے گا۔ لیکن دل اس کا کدھر ہوگا؟ دل اس کا اپنے محبوب کے پاس، بے شک وہ بازار میں ہوگا۔ اب اگر کوئی دوسرا شخص ہے، وہ کہتا ہے مجھے کیوں نہیں کہا، میں بازار چلا جاتا، میں لے آتا۔ اب بتاؤ، اس کو بازار بھیجنا چاہیے اس شخص کو؟ وہ تو بازار کا ہو جائے گا کیونکہ اس کا دل بازار میں ہے، ادھر بیٹھ کر بازار میں ہے دل۔

                      تو اس کی مثال دوسرے بزرگوں نے یہ دی ہے کہ جیسے پانی نکالنا ہو نا ڈول کے ذریعے سے، کنویں سے، تو اس کے لیے جو رسی ہوتی ہے اور ڈول یہ بڑے مضبوط ہونے چاہیے۔ کیونکہ اگر مضبوط نہ ہو تو پانی سے بھر کر یہ بھاری ہو جائے گا۔ اور رسی کچی ہو، تو ٹوٹ جائے گا، تو ہمیشہ کے لیے ڈول سے فارغ۔ ڈول بھی گیا، پانی بھی گیا۔ لیکن اگر رسی مضبوط ہے تو وہ واپس آجائے گا پانی لے کے، مطلب وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تو اسی طریقے سے کچے آدمی کو خلافت دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تو دنیا کا ہو جائے گا بیچارہ۔ وہ تو دنیا کا ہو جائے گا، کیونکہ اس نے دنیا کے لیے کیا ہے، وہ تو دنیا کا ہی ہو جائے گا۔ اس لیے جب تک اس کے دل سے دنیا کی محبت مکمل نہیں نکلی ہے، تو اس کو خلافت دینا، اس کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اس کو دنیا کا بنانا ہے۔


                       


                      دنیا میں ہو جب تلک دل میلا اس سے نہ غافل ہو

                      ہے یہ جڑ خرابیوں کی جلد اس سے جاں چھڑا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں

                       


                      تجھے کیا ہے سلسلہ ہو یا نہ ہو کہ تو ہے عاشق

                      تیرا دل ہے آیا جس پہ اس میں اس کی یاد بسا لیں


                       

                      یہ ایک فارسی شعر کا اکثر، شاید ترجمہ ہوگا۔ مشہور شاعر ہیں، بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، احمد جام رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ وہ بزرگ ہیں جن کے غزل کا ایک شعر سنتے سنتے حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ فوت ہو گئے تھے۔ یہ احمد جام رحمۃ اللہ علیہ وہ بزرگ ہیں۔

                      تو ان کا یہ شعر ہے:

                      احمد تو عاشقے بمشیخت ترا چہ کار

                      دیوانہ باش، سلسلہ شد شد نشد نشد

                      اے احمد تو تو عاشق ہے، تیرا مشیخت کے ساتھ کیا کام ہے؟ دیوانہ بن جاؤ اللہ تعالیٰ کا۔ سلسلہ ہو یا نہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

                      مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں میں نہ پڑو، اصل چیز کو لو۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اللہ کا بن جاؤ۔ پھر تشکیل ہے، اگر تشکیل ہو جائے تو پھر کرو۔ ہاں پھر جو ہے نا چھوڑو بھی نہیں۔


                       


                      تجھے کیا ہے سلسلہ ہو یا نہ ہو کہ تو ہے عاشق

                      تیرا دل ہے آیا جس پہ اس میں اس کی یاد بسا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       


                      تیری جو بھی ہے تمنا، اسے دل سے کر لے رخصت

                      ہو نصیب جب ان سے خلوت، دل میں اس کو ہی بلا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں


                       


                      یعنی کچھ نہ کرنا تجویز خود سے، یہی تو مرض ہے

                      جھاڑو دے تو جھاڑو دے دیں، بیٹھ تخت پہ جب بٹھائیں


                       

                      یہ دیکھیں نا، یہ عبدیت ہے۔ عبدیت یہ ہے کہ اگر تخت پر بٹھا دیں، تخت پر بیٹھ جاؤ۔ اور اگر تختے پہ چڑھائیں، تو پھر تختے پہ چڑھ جاؤ۔ مطلب یہ نہ کہو کہ مجھے تخت پر کیوں نہیں بٹھایا۔ اس کی مرضی ہے۔ جس طرف بھی لے جائے۔ تو واقعتاً مطلب یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام کے کیسے احوال تھے۔ وہ مشہور واقعہ ہے نا ایک صحابی دوسرے صحابی سے کہتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں، تو آمین کہنا، پھر تو دعا کرے، میں آمین کہوں گا۔ تو اس میں جو پہلا تھا، اس نے یہ دعا کی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ایسے اس سے بھڑا دے، کہ میں اس کو شکست دے دوں، یہ کروں، وہ کروں، پھر اس کا مال غنیمت لے لوں، مجھے اس پہ فتح نصیب فرما۔ تو دوسرے نے دعا کی کہ یا اللہ، ایک بہت طاقتور کے ساتھ میرا مقابلہ کر لے، پھر ہمارا مقابلہ ہو، میں اس پہ وار کروں، وہ مجھ پہ وار کرے۔ پھر وہ مجھے شہید کر دے، پھر میرے ناک، کان، گلا کاٹے۔ پھر میں قیامت کے دن تیرے سامنے اس طرح پیش ہو جاؤں۔ تو، تو مجھ سے پوچھے، کہ کیا ہوا تیرے ساتھ؟ تو میں کہوں کہ یا اللہ، یہ سب تیرے لیے۔ تو کہے کہ ہاں ٹھیک، تو نے ٹھیک کہا۔ ان دونوں کے ساتھ بالکل یہی ہوا۔ دونوں کی دعائیں قبول ہو گئیں۔ ایک کو فتح ہو گیا اور دوسرے کو اس طرح ہوا۔ تو پھر وہ جو دوسرا صحابی تھا جس کو فتح ہو گیا تھا، وہ بعد میں افسوس کرتے ہیں کہ اس کی دعا میری دعا سے اچھی تھی۔ اس کی دعا میری دعا سے اچھی تھی۔ اب یہ کام کوئی صوفی کرتا تو لوگ کہتے دیکھیں صوفیوں کی باتیں کر رہا ہے، یہ تصوف، یہ تو صوفیوں کی باتیں ہیں۔ یہ تو صحابہ کی باتیں ہیں۔ اور ایسے ہی کرتے تھے وہ، صحابہ کرام۔ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ کی مثالیں ہیں۔


                       


                      یعنی کچھ نہ کرنا تجویز خود سے، یہی تو مرض ہے

                      جھاڑو دے تو جھاڑو دے دیں، بیٹھ تخت پہ جب بٹھائیں

                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں




                      آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:


                       


                      دل پہ اس کی جب نظر ہو اور دل میں بندگی ہو

                      یہ ہے زندگی کا حاصل اے شبیؔر اور کیا لیں


                       


                      یہ جو جاہ کے ہیں چکر یہ خلافتوں کی خیالیں

                      پڑے نفس کے مکر ان میں اور شیطان کی ان میں جالیں



                       

                      یہ تصوف کا ابھی پورا نچوڑ اس غزل میں آئے گا، اس میں جن چیزوں سے بچنا ہے اور جن چیزوں کو حاصل کرنا ہے، وہ ذرا اس میں آئے گا، مختلف انداز سے ظاہر ہے یہ ساری باتیں ہوتی ہیں۔ تو یہ ماشاءاللہ اس انداز سے۔



                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے


                       


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       

                      اب یہاں جو شہرت مل گیا تو یہ جھوٹی عزت ہے۔ مطلب ظاہر ہے، ایک تو عارضی ہے، اور ایک میں نے جھوٹ موٹ سے حاصل کیا ہے۔ لیکن اگر اللہ پاک عزت دے دے، وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ۔ گر اللہ پاک عزت دے وہ اصلی عزت ہے، جس کو بھی اللہ پاک دے اور وہ کن کو ہے؟

                      وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) سورة المنفقون آیت:8(


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       


                      نعمتیں جنت کی اصلی جو ہیں قربان کروں

                      کیسے دنیا کی میں اس تھوڑی سی لذت کے لیے


                       

                      ایک شہرت کی جو محبت ہے وہ جال ہے۔ دوسری لذت کی محبت ہے، جس میں لوگ پھنس جاتے ہیں۔ بڑے مکان اور اچھے کھانے اور زرق برق لباس اور اِدھر پتا نہیں خَدَم شَدَم، یہ ساری چیزیں، یہ لذات ہیں، اچھے کھانے، یہ ان میں بھی لوگ پھنس جاتے ہیں۔

                       


                      کیسے دنیا کی میں اس تھوڑی سی لذت کے لیے

                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے


                       


                      حرام مال کیوں ہم کمائیں جب مقرر ہے رزق

                      دل خراب کیوں کریں ایسی مال و دولت کے لیے


                       

                      یہ تیسرا رذیلہ کا جڑ ہے، وہ ہے حُبِّ مال۔ یعنی ایک حُبِّ جاہ تھا، دوسرا حُبِّ باہ، اور تیسرا حُبِّ مال ہے۔ اس کے لیے بھی لوگ بہت ساری چیزیں قربان کر لیتے ہیں۔ مثلاً زکوٰۃ نہیں دیں گے، رشوت لیں گے، سود لیں گے، دھوکہ کریں گے۔ یہ سب چیزیں حُبِّ مال کی وجہ سے ہیں، ، اس میں پھنس جاتے ہیں۔


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       


                      اپنا پاک مال کیوں برباد کریں اسراف سے ہم

                      اور تبذیر ہو کیوں کر شیطانیت کے لیے


                       

                      اچھا مال حلال طریقے سے بھی کمایا، لیکن اس کو حلال طریقے سے خرچ بھی تو کرنا ہے۔ تو خرچ اگر حرام طریقے سے ہو جائے، جیسے کہ تبذیر ہے یا اسراف ہے، تو ظاہر ہے وہ بھی تباہی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں مسرفین کو نہیں پسند فرماتے، اور اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ۔ بے شک جو مبذرین ہیں، جو بے جا اڑانے والے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں۔ تو ان سے بھی بچنا پڑے گا۔


                      اپنا پاک مال کیوں برباد کریں اسراف سے ہم

                      اور تبذیر ہو کیوں کر شیطانیت کے لیے



                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       


                      مجھے ہے حکم کے ہو جاؤں صادقین کے ساتھ

                      نظر انداز کروں یہ کیوں سوءِ صحبت کے لیے


                       

                      جب صادقین کے ساتھ حکم ہے، تو پھر میں ایسے لوگوں کے ساتھ کیوں بیٹھوں جن کی صحبت مجھے نقصان پہنچائے گی؟ تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا اور ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا جس سے فائدہ ہو، یہ ضروری ہے۔



                      مجھے ہے حکم کے ہو جاؤں صادقین کے ساتھ

                      نظر انداز کروں یہ کیوں سوءِ صحبت کے لیے


                       


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       


                      خراب لوگوں کے لیے کیسے آنکھ کا تارا بنوں

                      راضی کیسے رہوں ایسی فضول جرات کے لیے


                       

                      دیکھیں نا، جب خراب لوگ کسی کی تعریف کرنا شروع کر لیں، خرابیوں پر، تو وہی تباہی ہے۔ وہی تباہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس جال سے نکل ہی نہیں سکتا، پھر بڑا مشکل ہوتا ہے ایسے جال سے نکلنا، کیونکہ ظاہر ہے اس کو ایک Fame تو ملی ہوتی ہے، مشہور تو ہو جاتا ہے، ہر جگہ پر۔ تو اس نشے میں بالکل کسی کا خیال نہیں لاتا کہ مطلب کیا چیز ہے۔ یہ فلمی ایکٹر وغیرہ جو ہوتے ہیں، یا اس طرح جو سیاستدان ٹائپ لوگ ہوتے ہیں، مطلب اس طرح، تو وہ اپنے ان جالوں میں اپنے آپ کو ایسے پھنسا دیتے ہیں کہ پھر اس سے ان کا نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ بس اسی دلدل میں پھنستے جاتے ہیں، پھنستے جاتے ہیں، پھنستے جاتے ہیں۔ تو جن کو اللہ تعالیٰ بچانا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ میں اکثر ایک بات عرض کرتا ہوں، یہ جوئے ہوتے ہیں نا، جو کھیلتے ہیں بچپن میں، بلوریاں کھیلتے ہیں، یا کوئی اس طرح وہ نہیں ہوتے سگریٹ کے ڈبیوں پہ کھیلتے ہیں، وہ عجیب و غریب گیمز ہیں۔ تو وہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں جوئے۔ تو جو لوگ جیتتے ہیں نا، تو وہ بیچارے ان پہ حسرت ہوتی ہے، کیونکہ پھر وہ بعد میں جا کر واقعی جواری بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کو شہ ملتی ہے نا، تو بس وہ جیتتے جیتتے جیتتے جیتتے بس پھر پکے جواری بن جاتے ہیں، پھر سارا کچھ ڈبو دیتے ہیں۔ اور جو ہارتے ہیں تو وہ خوش قسمت ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل برداشتہ ہو کر چھوڑ دیتے ہیں، بھئی یہ ہم نہیں جیت سکتے، لہٰذا وہ بچ جاتے ہیں۔ تو جو لوگ خرابیوں کی وجہ سے یہ مشہور ہو جاتے ہیں، اور لوگ ان کی تعریفیں کرتے ہیں، تو وہ صحیح بات ہے کہ دوسری بات ان کو سمجھ ہی نہیں آتی۔ اور خوشامدی لوگ ہوتے ہیں بہت زیادہ، وہ ایسے خوشامد کرتے ہیں کہ آدمی کہتا ہے، بس جی اصل بات تو یہی ہے۔ اسی پہ خوش ہوتے ہیں، تو یہ بات ہے۔


                       


                      خراب لوگوں کے لیے کیسے آنکھ کا تارا بنوں

                      راضی کیسے رہوں ایسی فضول جرات کے لیے


                       


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے




                      آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:


                       


                      نورِ ایماں سے میری عقل یہ سمجھے شبیر

                      کہ نفس تیار ہو سلوک کی محنت کے لیے


                       


                      کیسے ناراض کروں اللہ کو شہرت کے لیے

                      اصلی کو چھوڑ دوں جھوٹی جو ہے عزت کے لیے


                       

                      اب دیکھیں نورِ ایمان، یہ دل میں ہوتا ہے۔ عقل یہ عقل ہی ہوتا ہے۔ اور اس سے سمجھ آ جائے اور سمجھ سے پھر یہ ہے کہ نفس کی محنت کے لیے تیار ہو جائے، تو مطلب گویا تینوں چیزیں اس میں آ گئیں۔ کہ نورِ ایمان، مطلب دل کے ذریعے سے Light ملتی ہے عقل کو، وہ سمجھ جاتا ہے کہ بات کیا ٹھیک ہے، اس کے لیے پھر محنت کرنا ہوتا ہے، تو اس محنت کے لیے پھر وہ نفس کے اوپر محنت کر کے وہ سلوک کی محنت کے لیے تیار کر لیتا ہے اس کو۔ تو یہ بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔


                      حبِ جاہ و مال کی مذمت اور حقیقی عبدیت کا راستہ - عارفانہ کلام