اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات!
فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسا کہ ہمارا معمول ہے۔
حضور ﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے برابر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستر فرائض کے برابر ہے۔ اس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتا ہے اور نوافل میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضاء ہوگئی اور کم از کم جماعت تو اکثروں کی فوت ہو ہی جاتی ہے، گویا سحر کھانے کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو بالکل قضاء کر دیا یا کم از کم ناقص کر دیا، کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہلِ اصول نے اداءِ ناقص فرمایا ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو (گویا) نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں۔
"مظاہرِ حق" میں لکھا ہے کہ جو شخص بغیر عذر کے بدونِ جماعت نماز پڑھتا ہے اس کے ذمہ فرض تو ساقط ہو جاتا ہے، مگر اس کو نماز کا ثواب نہیں ملتا۔ اسی طرح دوسری نمازِ مغرب کی بھی جماعت اکثروں کی افطار کی نذر ہو جاتی ہے اور رکعتِ اولیٰ یا تکبیرِ اولیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے، اور بہت سے لوگ تو عشاء کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔
تو یہ فرمایا کہ۔۔۔ حضرت نے شکایتیں کی ہیں، فرمایا:
تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تو رمضان المبارک میں ہماری نماز کا حال ہے جو اہم ترین فرائض میں ہے کہ ایک فرض کے بدلے میں تین کو ضائع کیا۔ یہ تین تو اکثر ہیں ورنہ ظہر کی نماز قیلولہ (دوپہر کے آرام) کی نذر اور عصر کی جماعت افطاری کا سامان خریدنے کی نذر ہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح اور فرائض پر آپ خود غور فرما لیں کہ کتنا اہتمام رمضان المبارک میں ان کا کیا جاتا ہے۔ اور جب فرائض کا یہ حال ہے تو نوافل کا کیا پوچھنا۔ اشراق اور چاشت تو رمضان المبارک میں سونے کی نذر ہو ہی جاتے ہیں اور اوابین کا کیسے اہتمام ہو سکتا ہے، جبکہ ابھی روزہ کھولا ہے اور آئندہ تراویح کا سہم ہے اور تہجد کا وقت تو ہے ہی عین سحر کھانے کا وقت، پھر نوافل کی گنجائش کہاں۔۔۔؟
حالانکہ تہجد بہت آسان ہو جاتا ہے، بھئی آپ اٹھے تو ہیں نا۔ اس میں میرے خیال میں تہجد میں بنیادی طور پر جو مجاہدہ ہے وہ اٹھنے کا ہے۔ باقی مجاہدہ تو بہت کم ہے مطلب ہے آپ نے وضو کرنا ہے یا نماز پڑھنا ہے، وہ تو بہت کم ہے۔ اصل مجاہدہ تو اٹھنے کا ہے کہ انسان بستر سے اٹھ جائے۔ تو وہ آپ اٹھے تو ہیں، تو اب اگر آپ پندرہ منٹ پہلے اٹھ جائیں تو آپ ماشاء اللہ تہجد بھی پڑھ سکتے ہیں، تہجد پڑھ کے آپ سحری کر لیں۔
خیر...
لیکن یہ باتیں بے توجہی اور نہ کرنے کی ہیں کہ "تُو ہی اگر نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں"
کتنے اللہ کے بندے ہیں کہ جن کیلئے انہی اوقات میں سب چیزوں کی گنجائش نکل آتی ہے، میں نے اپنے آقا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کو متعدد رمضانوں میں دیکھا ہے کہ باوجود ضعف اور پیرانہ سالی کے مغرب کے بعد نوافل میں سوا پارہ پڑھنا یا سنانا، اور اس کے بعد آدھ گھنٹہ کھانا وغیرہ ضروریات کے بعد، ہندوستان کے قیام میں تقریباً سوا دو گھنٹے تراویح میں خرچ ہوتے تھے، اور مدینہ پاک کے قیام میں تقریباً تین گھنٹے میں عشاء اور تراویح سے فراغت ہوتی، اس کے بعد آپ حسبِ اختلافِ موسم دو تین گھنٹے آرام فرمانے کے بعد تہجد میں تلاوت فرماتے اور صبح سے نصف گھنٹہ قبل سحر تناول فرماتے۔ اس کے بعد سے صبح کی نماز تک کبھی حفظ تلاوت فرماتے اور کبھی اوراد و وظائف میں مشغول رہتے۔
اسفار یعنی چاندنی میں صبح کی نماز پڑھ کر اشراق تک مراقب رہتے اور اشراق کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ آرام فرماتے۔ اس کے بعد سے تقریباً بارہ بجے تک اور گرمیوں میں ایک بجے تک "بَذْلُ الْمَجْهُوْدِ" تحریر فرماتے اور ڈاک وغیرہ ملاحظہ فرما کر جواب لکھواتے۔ اس کے بعد ظہر کی نماز تک آرام فرماتے اور ظہر سے عصر تک تلاوت فرماتے۔ عصر سے مغرب تک تسبیح میں مشغول رہتے اور حاضرین سے بات چیت بھی فرماتے۔ "بَذْلُ الْمَجْهُوْدِ" ختم ہو جانے کے بعد صبح کا کچھ حصہ تلاوت اور کچھ کتب بینی میں "بذل المجہود" اور "وفاء الوفاء" زیادہ تر اس وقت زیرِ نظر رہتی تھی۔ یہ اس پر تھا کہ رمضان المبارک میں معمولات میں کوئی خاص تغیر نہ تھا، کہ نوافل کا یہ معمول دائمی تھا اور نوافلِ مذکورہ کا تمام سال بھی اہتمام رہتا تھا، البتہ رکعات کے طول میں رمضان المبارک میں اضافہ ہو جاتا تھا، ورنہ جن اکابر کے یہاں رمضان المبارک کے خاص معمولات مستقل تھے، ان کا اتباع تو ہر شخص سے نبھنا بھی مشکل ہے۔
حضرت اقدس مولانا شیخ الہند نور اللہ مرقدہ تراویح کے بعد سے صبح کی نماز تک نوافل میں مشغول رہتے تھے۔ اور یکے بعد دیگرے متفرق حفاظ سے کلام مجید ہی سنتے رہتے تھے۔ اور حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری قدس سرہ کے یہاں تو رمضان المبارک کا مہینہ دن و رات تلاوت ہی کا ہوتا تھا، کہ اس میں ڈاک بھی بند اور ملاقات بھی ذرا گوارا نہ تھی۔ بعض مخصوص خدام کو صرف اتنی اجازت ہوتی تھی کہ تراویح کے بعد جتنی دیر حضرت سادہ چائے کے ایک دو فنجان (پیالی) نوش فرمائیں، اتنی دیر حاضرِ خدمت ہو جایا کریں۔
تو بہرحال یہ ہے کہ ہمیں ان سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے فضائل ہم پہلے سے اچھی طرح جان لیں اور مسائل اچھی طرح جان لیں۔ ان دو چیزوں کا اہتمام بہت ضروری ہے کہ مسائل بھی اچھی طرح معلوم ہوں اور فضائل بھی اچھی طرح معلوم ہوں۔
تیسری چیز جو اس میں بہت زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ابھی سے ہم نیت کر لیں کہ رمضان شریف میں اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے۔
مثلاً اپنے موبائل کو باعزت طریقے سے رخصت کریں گے۔ اس کے لیے پہلے سے کوئی جگہ ڈھونڈ لیں کہ کہاں رکھنا ہے۔ جیسے ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے بھئی اب ڈاک کا جواب نہیں دیا جائے گا، رمضان شریف میں ڈاک کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ تو ہم بھی دوستوں سے کہہ دیں بھئی رمضان شریف میں ہمیں فون کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اگر یہ نہیں ہو سکتا تو چلو پھر وہ جو سادہ فون ہے وہ لے لیں، جس میں صرف میسجنگ ہو سکتی ہے اور ٹیلیفون سنا جا سکتا ہے۔ کم از کم سمارٹ فون نہ ہو تاکہ اس کے ساتھ مشغولی نہ ہو، واٹس ایپ وغیرہ اس قسم کی چیزیں۔ ان سے بالکل... بھئی وہ معلومات فی الحال ایک طرف رکھ دیں، وہ بعد میں حاصل ہو سکتی ہے۔ رمضان شریف میں پھر ہم کیوں اپنے اوقات کو ضائع کریں۔ تو اپنے اوقات کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
سیاسی بحث و مباحثے میں بالکل نہیں پڑنا چاہیے۔ جب ووٹ دینے کا وقت آجائے پھر مجھ سے پوچھ لیا جائے میں ان شاء اللہ بتا دوں گا۔ اس وقت بس سیاست وغیرہ لڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپس میں دوسروں کی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی کوشش... سب سے بہتر کام یہی ہے، اپنی اصلاح کی کوشش۔
وہ مثال کے طور پر دیکھو، بھئی سارے بچوں کی آپ اصلاح کریں اور اپنے بچے کو بغیر اصلاح چھوڑ دیں، تو آپ کو لوگ کیا کہیں گے؟ کہیں گے بڑا بیوقوف ہے دیکھو نا اپنے بیٹے کو چھوڑ دیا اور دوسرے لوگوں کے بیٹوں کو پڑھا رہے ہیں، یا ان کو سکھا رہے ہیں، اپنے بیٹے کو نہیں سکھا رہے۔ تو اپنے نفس کا تو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ حق ہے۔ اگر یہ ٹھیک نہیں ہوا تو پھر تو اس کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا۔ تو لہذا اپنے آپ کو سامنے رکھو کہ جو میں ہوں مجھے ٹھیک ہونا چاہیے۔ تو اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے، اللہ ہمیں کامیاب فرمائے، یقین جانیے بغیر کہے دوسروں کی اصلاح ہونی شروع ہو جائے گی، بغیر کہے۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی سے کچھ نہیں کہتے، لیکن ان کو دیکھتے دیکھتے لوگوں کی اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہے۔ کیونکہ ان کے اندر جو روحانیت ہوتی ہے وہ ایک Magnet ہے، وہ کشش ہے، وہ باقاعدہ باقی لوگوں کو کھینچتی ہے۔
میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ یہ ہمارا گھر تعمیر ہو رہا تھا نا ادھر مسجد صدیق اکبر، تو ایک مولوی صاحب تشریف لائے تھے مجھ سے ملنے کے لیے۔ ہم بات ہی کر رہے تھے اور ایک حافظ صاحب میرے شاگرد تھے وہ میرے پاس پہلے سے موجود تھے۔ تو حافظ صاحب نے جب اس مولوی صاحب کو دیکھا نا، مجھے کہا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ اس کو دیکھ کر تو میرا دل جاری ہو گیا۔ اور وہ مولوی صاحب جب آئے نا، مولوی صاحب نے مجھے کہا یہ حافظِ قرآن ہے؟ کہتے ہیں اس پہ قرآن کے انوارات ہیں۔ سبحان اللہ! یعنی قرآن کی برکت مولوی صاحب کو پتہ چل گیا اور مولوی صاحب کی روحانیت کا اس کو پتہ چل گیا۔ کس طریقے سے؟ اثر ہو گیا نا۔ اب کسی کا دل اگر جاری ہوتا ہے کسی کو دیکھ کر، تو اثر ہے نا اور کیا چیز ہے؟ کسی اور کو دیکھ کر کیوں نہیں ہوتا؟
تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ خود اپنے آپ کی اصلاح کر لیں نا، تو ان شاء اللہ دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور اگر ہم دوسروں کے پیچھے پڑے رہیں اور خود اپنی اصلاح نہیں کی، تو نہ دوسروں کی اصلاح ہوگی نہ اپنی ہوگی۔
جہاز میں جب ہم سفر کرتے ہیں نا تو اس میں ایک چیز بتاتے ہیں کہ اگر پریشر ایک دم کم ہو جائے تو آپ کے سامنے گرے گا ماسک۔ تو اگر آپ کے پاس کوئی Infant ہے، کوئی بچہ ہے گود میں، تو سب سے پہلے اپنے آپ کو ماسک لگائیں پھر اس کے بعد بچے کو لگائیں۔ اس پر غور کریں کیا وجہ ہے اس کی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بچے کو لگا رہے ہیں اتنے میں آپ بے ہوش ہو گئے، تو بچہ بھی گیا آپ بھی گئے۔ اور اگر آپ اپنے آپ کو لگا رہے ہیں تو آپ تو محفوظ ہو گئے اور آپ بچے کو بھی کوشش کر سکتے ہیں بچانے کی۔ تو دونوں بچ سکتے ہیں۔ ورنہ کم از کم ایک تو بچ جائے گا۔
تو مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ پہ ذرا توجہ کرے، اپنے آپ کو ٹھیک کرے اور رمضان شریف اس کے لیے بہت ہی اچھا موقع ہے۔ اللہ پاک ہم سب سے کام لے لے اور ہمیں اس کی برکات نصیب فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔