تحویلِ قبلہ: نبی کریم ﷺ کی قلبی تمنا اور اللہ کا حکم

اشاعت اول، 29 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         تحویلِ قبلہ کا پس منظر اور نبی کریم ﷺ کا اشتیاق

•         انسانی طبعی رجحان اور اللہ تعالیٰ کی مرضی و اطاعت کا فرق

•         بیت اللہ کی قدامت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کی نسبت

•         یہود اور نصاریٰ کے الگ الگ قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللحم) کا تذکرہ

•         اہل کتاب کا رسول اللہ ﷺ اور قبلے کی حقانیت کو اپنی اولاد کی طرح پہچاننا

•         ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر حق کو جان بوجھ کر چھپانا

•         اللہ کے احکامات پر بغیر کسی شک کے کامل یقین اور عمل کی تلقین

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى السَّمَآءِ ۖ فَلَنُـوَلِّيَنَّكَ قِبْلَـةً تَـرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنْتُـمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ ۗ وَاِنَّ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِـمْ ۗ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ (144)

(اے پیغمبر!) ہم تمہارے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ ہم تمہارا رُخ ضرور اُس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے۔

جب بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ حکم عارضی ہے، اور چونکہ بیت اللہ بیت المقدس کے مقابلے میں زیادہ قدیم بھی تھا اور اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادیں بھی وابستہ تھیں، اس لئے آپ کی طبعی خواہش بھی یہی تھی کہ اُسی کو قبلہ بنایا جائے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبلے کی تبدیلی کے انتظار اور اشتیاق میں کبھی کبھی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے تھے۔ اس آیت میں آپ کی اسی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

اصل میں ہر انسان کی اپنی طبیعت ہوتی ہے، خواہش بھی ہوتی ہے، لیکن مرضی اس کی اپنی نہیں ہوتی، مرضی اللہ پاک کی چلتی ہے۔ تو پیغمبر سے زیادہ اس چیز سے واقف کون ہوگا؟ تو طبیعت تو یہی تھی لیکن مرضی اللہ کی تھی، لہٰذا حکم پر عمل تھا۔ البتہ طبیعت کا تقاضا تھا کہ اللہ پاک سے گویا کہ قلبی تمنا تھی کہ قبلہ وہ ہوجائے بیت اللہ۔

اس کی وجہ ظاہر ہے کئی وجوہات تھیں، جیسے ابھی حضرت نے بتا دیا ہے کہ ایک تو یہ کہ بیت اللہ قدیم ہے بیت المقدس سے، اور دوسری بات یہ ہے کہ پہلے بھی اسی طرف ہی نماز پڑھتے آرہے تھے، تو اس میں بات تو یہی تھی اور عرب جہاں پر آپ ﷺ تھے حجاز، تو وہاں تو یہی تھا، تو اس وجہ سے طبعی طور پر تو یہی بات تھی، لیکن اللہ کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

تو لہٰذا پسند تو یہی تھا لیکن اللہ پاک کی مرضی بھی یہی تھی، تو اس وجہ سے پھر آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے لیکن ظاہر ہے اللہ کے حکم کے انتظار میں۔ اور پھر اللہ پاک نے اس کا بیان بھی فرما دیا کہ ہم تمہارے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، چنانچہ ہم تمہارا رخ ضرور اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے۔

لو اب اپنا رُخ مسجدِ حرام کی سمت کر لو۔ اور (آئندہ) جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کا رُخ (نماز پڑھتے ہوئے) اُسی کی طرف رکھا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہی بات حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔ ﴿144﴾

یعنی اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قبلے کی تبدیلی کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بالکل برحق ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے تھے، اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ میں کعبہ تعمیر کیا تھا، بلکہ بعض مؤرخین نے خود تورات کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تمام اولاد (بشمول حضرت اسحاق علیہ السلام) کا قبلہ کعبہ ہی تھا۔ (اس کی تحقیق کے لئے دیکھئے مولانا حمید الدین فراہی کا رسالہ "ذبیح کون ہے؟" ص 35 تا 38)۔

وَلَئِنْ اَتَيْتَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَـتَـهُـمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُـمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَـةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِيْنَ (145) اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُـمْ ۖ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْـهُـمْ لَيَكْـتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ (146) اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَـرِيْنَ (147)

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اگر تم ان کے پاس ہر قسم کی نشانیاں لے آؤ تب بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ تم ان کے قبلے پر عمل کرنے والے ہو، نہ یہ ایک دوسرے کے قبلے پر عمل کرنے والے ہیں

یہودی بیت المقدس کو اپنا قبلہ مانتے تھے اور عیسائی بیت اللحم کو جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی۔

تو یہ دونوں ایک دوسرے کے قبلے کی طرف نہیں منہ کرتے۔

اور جو علم تمہارے پاس آچکا ہے اس کے بعد اگر کہیں تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کر لی تو اس صورت میں یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا ﴿145﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اتنی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔

اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ کعبے کے قبلہ ہونے کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں جیسا کہ اوپر گزرا، اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے ہیں کہ یہ وہی رسول ہیں جن کی خبر پچھلے انبیائے کرام کے صحیفوں میں دی جا چکی ہے۔ لیکن ضد کی بنا پر ان حقائق کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔

اور یقین جانو کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے حق کو جان بوجھ کر چھپا رکھا ہے۔ ﴿146﴾ اور حق وہی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لہذا شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہو جانا۔ ﴿147﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنے تمام احکام پر دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

تحویلِ قبلہ: نبی کریم ﷺ کی قلبی تمنا اور اللہ کا حکم - درسِ قرآن - دوسرا دور