قربِ الٰہی کے تقاضے: تزکیہِ نفس، شوقِ وطن اور عشق کا حقیقی نصاب

کتاب: کرامات قلب، کلام: اگر چاہیے اپنے رب کا ملن، یہ آ رہا ہے کون، نظریں جھکیں تو دل میرا بیتاب ہو گیا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • باطنی اصلاح اور تزکیۂ نفس کی اہمیت
    • شوقِ وطن اور آخرت کی تیاری
      • علم و ذکر کا حقیقی مفہوم
        • عطائے الٰہی کی رازداری اور حفاظت
          • عشقِ الٰہی کا مستند نصاب (شریعت و سنت کی پیروی)
            • اوقاتِ قبولیت کی قدر و منزلت (تہجد اور مقاماتِ مقدسہ)
              • اغیار سے حجاب: اللہ کا خاص فضل اور وقت کی بچت

                عارفانہ کلام


                تحریر و تشریح: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب (دامت برکاتہم)


                قربِ الٰہی کے تقاضے: تزکیہِ نفس، شوقِ وطن اور عشق کا حقیقی نصاب


                رب کے ملن کا راستہ: باطنی کیفیات کی حفاظت اور اتباعِ شریعت



                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن


                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن


                ہمیں چھوڑنی ہوں گی خوش فہمیاں

                سکھائے ہمیں یہ گزشتہ زمن



                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن



                جو خود رو ہیں پودے نکالیں وہ دل سے

                سنواریں محبت سے دل کا چمن


                یہ شعر جو ہے وہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ایک پشتو ڈرامہ تھا... ایگریکلچر والوں نے ریڈیو پر نشر کیا تھا وہ میں نے بچپن میں کہیں سنا تھا۔ تو اس میں ایک آدمی ہے، اس کی جو موجودہ بیوی تھی، اس کا اپنا بیٹا ہے اور دوسرا سوتیلا بیٹا ہے۔ تو وہ جو ہے نا اپنے دوست سے شکایت کر رہا ہے اپنی بیوی کا کہ کمال ہے میرا سوتیلا بیٹا اس کی بہت خدمت کر رہا ہے... کسی طرح ان کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دے رہا لیکن... وہ اس کا دل اس کے لیے صاف نہیں ہو رہا۔ مطلب یہ کہ... ذرا پر بھی کوئی، بچہ ہے آخر کوئی غلطی تو ہو جاتی ہے، تو اس پہ خوب برستی ہے اور بعض دفعہ مارتی بھی ہے، بعد میں شکایتیں مجھے لگاتی ہے۔ اس کا جو اپنا بیٹا کوئی اچھا کام کرے تو... اس کو بہت تعریف کرتی ہے اور جو برے کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں اس کو اتنا وہ نہیں ہوتا۔ تو میں تو تنگ آ گیا ہوں مطلب ہے کیا کروں؟ یعنی یہ اپنے دوست کو کہہ رہا ہے۔ دوست کو کہتا ہے، ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آخر وہ سوتیلا بیٹا ہے نا!

                لیکن پھر میں آپ کو بتاؤں... ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اس نے کہا کیا سبق حاصل کرنا چاہیے؟ کہتے ہیں دیکھو نا جو ہماری زمین ہے نا... یہ جو خودرو پودے ہیں نا یہ اس کی اپنی اصل والی اولاد ہے۔ اور جو ہم اس میں بوتے ہیں نا یہ اس کی سوتیلی اولاد ہے۔ تو اگر اس کا بس چلے تو اپنا سارا اپنی اولاد کو دے۔ سوتیلے کو اس طرح ہی بس فارغ رکھے۔ تو پھر یہ پرورش نہیں پا سکتا۔ تو اگر اپنے بیٹے اس کے ختم کر لے، تو اس سے سوتیلے اولاد کے لیے سب کچھ رہ جائے گا۔ اس لیے جڑی بوٹیاں جو ادھر خود اگتی ہیں نا اس کو ہمیں نکالنا چاہیے۔

                یہ انہوں نے ایک وہ بنا لیا اس کا۔ چونکہ Agriculture کا پروگرام تھا نا، تو انہوں نے اس میں یہ نکتہ نکالا۔ تو یہاں پر بھی وہ والی بات ہے کہ جو خودرو پودے ہیں نا ہمارے دل میں خواہشات، جو نفس کے ذریعے سے آتے ہیں، ان کو ہمیں نکالنا ہوگا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں میرا دل کہتا ہے۔ میرا دل نہیں کہتا نفس کہتا ہے۔ دل تو بیچارہ درمیان میں ویسے مفت میں مارا جا رہا ہے۔ خواہش تو نفس کی ہے نا؟ تو آپ اپنے نفس کو Control کر لو دل صاف ہو جائے گا۔ تو یہ چیز جو ہے یہاں پر بتائی گئی ہے۔



                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن



                وہ جب چاہے جو بھی رکھیں سامنے

                اُسی وقت کریں دل سے پیش جان و تن



                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن



                یہاں کے شعوب و قبائل تعارف

                مگر آخرت جو ہے جانیں وطن



                حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ اس پہ کتاب لکھی ہے "شوقِ وطن"۔ یعنی جو اصل وطن ہے ہمارا آخرت کا، اس کے لیے جمع کرنا۔ کیونکہ انسان راستے میں جب ہوتا ہے... مثال کے طور پر وہ VIP Lounge میں ہوتا ہے۔ تو جو اس کی Facilities ہیں اس پر خوش ضرور ہوگا لیکن کیا اس سے دل لگائے گا؟ نہ بھی ہو تو گزارہ کر لے گا۔ بھئی ٹھیک ہے جی بس اب نہیں ہے میں ویسے بھی یہاں پر ایک دو دن کے لیے ہوں۔ ہاں تو کون سا بس ٹھیک ہے دو تین گھنٹے ہیں نا بس گزر جائیں گے۔ پرواہ نہیں کرتے۔ جو اچھی چیزیں ہیں وہ اپنے گھر کے لیے جمع کرتے ہیں۔ بھئی گھر میں فلاں صوفہ ہونا چاہیے، فلاں کرسی ہونی چاہیے، فلاں دری ہونی چاہیے، فلاں قالین ہونا چاہیے۔ بے شک کوئی England میں بھی ہو تو سوچتا ہے کس چیز کا ہے؟ اپنے گھر کا سوچتا ہے۔ بس یہی بات ہے، ہم دنیا میں ہیں تو سوچیں اس گھر کا۔ وہاں کیا ہونا چاہیے؟ یہ تو گزارا ہے۔ ٹھیک ہے جی مطلب... گزر جائے گی بات۔ وہ کوئی بزرگ کہہ رہا تھا نا مطلب کچھ اچھے حالات تھے کہتے ہیں یہ بھی گزر جائیں گے۔ پھر بڑے مشکل حالات آئے تو کسی نے کہا، کہتے ہیں فرمایا یہ بھی گزر جائیں گے۔ مطلب یہاں کے اچھے برے حالات Permanent نہیں ہیں۔ یہ مستقل نہیں ہیں، بس چند دن کے ہیں۔ گزر جائے گی بات ختم ہو جائے گی۔

                تو یہاں پر یہ ہے کہ... تو "شوقِ وطن" کتاب جو ہے نا ہمارے حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے جنازے پہ ہم گئے تھے تو وہاں کے ان حضرات نے کہا کہ حضرت خود صحت مند تھے کوئی مسئلہ نہیں تھا ان کا۔ تو کہتے ہیں کہ صبح سے کہہ رہے تھے کہ میں نے وطن جانا ہے۔ تو ہم نے کہا وطن تو آپ کا ادھر ہی ہے اب مطلب ظاہر ہے... پہلے وہ ادھر تھے نا مہمند قبیلے سے آئے تھے نا تو سب سمجھے کہ شاید مہمند قبیلے جانا چاہتے ہیں کوئی Program ہو گیا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا اب تو آپ ادھر ہی ہیں کہتے ہیں نہیں وطن جانا ہے۔ پھر خود جو ہے نا مطلب اپنا... بستر جو ہے نا وہ لپیٹ لیا۔ اور فوت ہو گئے کہ وطن جانا ہے۔ تو مطلب یہ شوقِ وطن والی بات ہے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی ماشاءاللہ اس پہ ظہور ہو گیا نا۔ تو یہ ہے کہ اصل وطن تو ہمارا وہی ہے۔ اس کے لیے جمع کرنا ہے، اللہ توفیق عطا فرمائے۔


                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن



                ہو فرض علم حاصل کم از کم شبیؔر

                ہو دل اس کی یاد میں ہمیشہ مگن




                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن


                یہ علم و ذکر والی بات ہے۔ علم و ذکر کا نمبر ہوتا ہے نا وہ تبلیغی جماعت میں، تیسرا نمبر ہے علم و ذکر کا۔ وہی یہی ہے۔ اصل... کہ فرضِ عین علم کم از کم آتا ہو۔ اور ہر وقت اللہ یاد ہو۔ یہ علم و ذکر ہے۔ یہ جو ہم لوگ ذکر کرتے ہیں نا تسبیح پر اور یہ سارا یہ اس کی ابتدا ہے۔ اس کی ابتدا ہے۔ اصل ذکر کیا ہے؟ وہ ہے انسان کو ہر وقت اللہ یاد رہے۔ جب بھی کوئی کام کرے تو اس کو اللہ یاد رہے۔ تو یہ اصل بنیاد ہے۔ تو یہاں پر...


                اگر چاہیے اپنے رب کا ملن

                تو چاہیے درست کر دیں اپنا چلن


                یہ تو ہے وہ جو ہماری طرف سے ہونا چاہیے۔ اب ادھر سے کیا ہوتا ہے؟ یہ بھی تو ایک بات ہے نا؟ مطلب اس کا بھی تو ہونا چاہیے...



                یہ آ رہا ہے کون


                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟


                یعنی بہت کچھ ملتا ہے، بہت کچھ... لیکن ساتھ اشارہ ہوتا ہے کسی کو بتانا نہیں۔ اس لیے کہتے ہیں اپنا حال کسی پہ ظاہر نہ کرے۔ کیونکہ راستہ بند ہو جاتا ہے پھر۔ تو بہت کچھ ملتا ہے اس راستے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب سلسلہ چل پڑتا ہے دینے کا، تو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن اشارہ ہوتا ہے کہ آگے نہ بتائیں... آگے نہ بتائیں۔


                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟



                یہ کون ہے جو چپکے سے ترے دل میں ہے آیا

                دیکھ تجھ کو دھیرے دھیرے یہ اپنا رہا ہے کون؟



                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟



                اس غزل کو میں وجدی غزل کہتا ہوں یہ وجدی غزل ہے۔



                میرا اگر بنے تُو، تَو تیرا ہوں بالیقین

                اتنے یقین سے تجھ کو یہ بتلا رہا ہے کون؟



                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟



                دشمن سے بچانا ہے خود کو خیال یہ رکھنا

                اپنائیت اور پیار سے یہ سمجھا رہا ہے کون؟



                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟



                تیرا تھا وہ اُس وقت بھی، نہیں تیرا تھا کچھ بھی

                اُس وقت سے اپنا تجھے بتا رہا ہے کون؟



                ﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ اس وقت سے یہ سلسلہ چلا ہوا ہے۔

                تیرا تھا وہ اُس وقت بھی، نہیں تیرا تھا کچھ بھی

                اُس وقت سے اپنا تجھے بتا رہا ہے کون؟


                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟




                تُو کیا ہے جو ایسا لکھے، نہ پھولنا شبیؔر

                بھولے نہ بنو تجھ سے یہ لکھوا رہا ہے کون؟



                اے دل ذرا تو دیکھ کہ یہ آ رہا ہے کون؟

                یہ تجھ کو اشارے سے چپ کرا رہا ہے کون؟


                ہاں اللہ پاک کے کرم کے کوئی حد نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ بہت زیادہ نوازتے ہیں۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب اللہ پاک خود بلائے۔ جیسے تہجد کا وقت ہے۔ یا حج پہ بلاتے ہیں۔ وہاں... ایسے اوقات... اس پہ بہت نوازتے ہیں۔ تو صرف نظر چاہیے ہوتی ہے۔ مطلب سمجھنے کی نظر چاہیے ہوتی ہے۔ بصیرت چاہیے ہوتی ہے تاکہ اس کو محسوس ہو جائے۔ ویسے تو ملتا سب کچھ ہے، سب کو ہے، لیکن نظر سب کو نہیں آتا۔ خیال سب کو نہیں آتا، محسوس سب لوگ نہیں کرتے۔ ورنہ ہوتا تو ہے مطلب جیسے... جیسے تہجد کوئی بھی پڑھے اس کو ملتا تو ہے۔ بے شک اس کو پتہ لگے یا نہ لگے۔ یا جو حضرات ماشاءاللہ حج پہ جاتے ہیں تو دونوں جگہوں پہ، خانہ کعبہ پہ بھی بہت کچھ ملتا ہے اور روضہ اقدس پہ بھی بہت کچھ ملتا ہے۔ ہاں اس کی لوگ حفاظت کریں۔ اس کو واقعی اپنے ساتھ لا سکیں۔ ورنہ پھر یہ بات ہے کہ بہت سارے لوگ اس کو ادھر ہی چھوڑ دیتے ہیں، ضائع کر دیتے ہیں۔ مختلف وجوہات کی وجہ سے۔ تو یہ بات ہے کہ ملتا سب کو ہے۔ تو ایسے اوقات جیسے تہجد کا وقت ہے اس میں بھی اللہ پاک بہت دیتے ہیں۔ تو یہ اسی کا ایک ہے نمائندہ۔

                نظریں جھکیں تو دل میرا بیتاب ہو گیا


                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا


                میں نے کیا ہے شکر مگر دیکھوں تو کم کم

                پر واں سے کرم ان کا بے حساب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا



                ہر پل مرا خود سے گلہ بڑھتا ہی رہا ہے

                دنیا کے لیے اتنا کیوں خراب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا



                محبوب کی ہر بات چھپانا تو ہے لازم

                انگلی سے چھپے کیسے جو آفتاب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا



                اغیار جو کرنے لگے ہیں مجھ سے اجتناب

                یہ میرے وسوسوں کا ہی جواب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا



                چاہا ہے جو حسنِ ازل نے یاد یہ رکھنا

                حقا کہ یہی عشق کا نصاب ہوگیا


                یہ جو ہے نا یہ بہت اہم شعر ہے۔ یعنی جو طریقہ اللہ پاک نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے، تو عشق کا نصاب وہی ہے کہ بس اسی پہ چلیں۔ یہ کوئی اور بات نہیں ہے۔ یعنی شریعت پر دل سے چلنا۔ شریعت پر محبت کے ساتھ عمل کرنا اصل میں یہی عشق کا نصاب ہے۔ کوئی اور راستہ نہیں ہے، راستہ یہی ہے۔ صحابہ کرام نے یہی کیا تھا نا؟ ﴿يُرِيدُونَ وَجْهَهٗ﴾۔ یہ کیا چیز ہے؟ قرآن پاک میں ان کے بارے میں تو یہی ہے نا۔ تو یہی چیز ہے کہ اگر ہم لوگ سب کچھ اللہ کی محبت میں، قدم بقدم، بطریقِ رسول ﷺ کریں۔ یہی اصل میں... ہے بات، اس سے... اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔



                چاہا ہے جو حسنِ ازل نے یاد یہ رکھنا

                حقا کہ یہی عشق کا نصاب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل مرا بیتاب ہوگیا

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہوگیا



                رحمت کی کیا چادر مجھے اوڑھا دی ہے شبیؔر

                اغیار سے خود ہی مرا حجاب ہوگیا


                یہ عجیب شعر ہے اصل میں... واقعتاً بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ انسان کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مثلاً وہ ایسی چیزوں کے پاس جو دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں، اس کے لیے لوگ آتے ہیں اور سارا کچھ... تو جیسے ایک بزرگ تھے وہ... کسی جگہ پہ گئے تو بہت بڑا جلوس ان کے استقبال کے لیے آیا تھا۔ تو ان کا کوئی اپنا دوست بھی تھا اس علاقے میں، تو جب ان سے ملے کہتے ہیں حضرت آپ کا بہت زبردست استقبال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کے لیے صرف ایک آیا تھا۔ ظاہر ہے ان کو کشف ہو چکا ہوگا۔ اللہ کے لیے صرف ایک آیا تھا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ زیادہ لوگوں کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ... زیادہ طالبین ہیں۔ بہت سارے لوگ ویسے دنیا کے کاموں کے لیے آتے ہیں۔

                تو یہ جو ہے نا مطلب یہ... یہ... جیسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ چھپا دے نا تو یہ اس کا کرم ہے۔ مطلب یہ اگر ایسے لوگ آپ کی طرف نہ آئیں، اور کہہ دیں ہمارے کام کا نہیں ہے، یہ تو نہیں مانتا، یہ تو نہیں کرتا، تو ظاہر ہے اللہ پاک کا فضل ہے نا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا دیا۔ آپ خوامخواہ ان کو انکار کر کر کے واپس کرتے تو Time آپ کا لگ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا انتظام کر لیا کہ صرف وہی لوگ آئیں جن کو واقعی صحیح طلب ہو۔ اور جو اس مقصد کے لیے آئیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائے۔ تو اصل بات یہی ہے۔ ورنہ یہ ہے کہ واقعی وقت ضائع ہوتا ہے۔ بہت ضائع ہوتا ہے۔ تو یہ... یہاں پر یہ...


                رحمت کی کیا چادر مجھے اوڑھا دی ہے شبیؔر

                اغیار سے خود ہی مرا حجاب ہوگیا



                نظریں جھکیں تو دل میرا بیتاب ہو گیا،

                پلکوں سے رواں اشکوں کا سیلاب ہو گیا۔


                وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين


                قربِ الٰہی کے تقاضے: تزکیہِ نفس، شوقِ وطن اور عشق کا حقیقی نصاب - عارفانہ کلام