اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
﴿يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات۔ پچھلی دفعہ بھی رمضان شریف کے بارے میں بات ہوئی تھی۔
روزے کے بارے میں جو حکم ہے نا قرآنی، اس میں کیا بات کی گئی ہے وہ ذرا سمجھانا چاہتا ہوں۔ بہت اہم بات ہے۔ یا کریم!
وہ قرآن پاک کی جو آیت ہے وہ یہ ہے:
فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ
اس میں ان تینوں کا ذکر آگیا جس سے روزے میں روکا جاتا ہے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا جا رہا تھا کہ پوری رات کھاؤ اور پیو، کلوا واشربوا۔ اور اس سے پہلے بھی یہ فرمایا گیا، فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ، یعنی اپنی بیویوں سے مباشرت کر سکتے ہو، جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہے اس کو حاصل کر سکتے ہو اس کے لیے۔ فرمایا
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ اس کے بارے میں فرمایا کہ
پس تمہیں اجازت دی جاتی ہے کہ تم مباشرت کرو ان بیوی اور باندیوں سے اور طلب کرو اس کو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ سفید دھاری فجر کی ظاہر ہو جائے رات کی سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر۔ پھر روزہ کو رات تک پورا کرو۔
اب اس میں کب روزہ شروع ہوتا ہے؟ اس پہ بڑا debate ہے۔ اتنی بات تو سب لوگ مانتے ہیں، صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ صبح دو قسم کی ہے: صبح کاذب اور صبح صادق۔
صبح کاذب جو ہے، اس کا لغوی ترجمہ تو ہے جھوٹی صبح۔ لیکن اس کا اصل مطلب ہے کہ اس پہ صبح کا دھوکہ ہوا۔ روشنی ہوتی ہے، لیکن وہ روشنی صبح صادق کی نہیں ہوتی۔ وہ کسی اور چیز کی روشنی ہوتی ہے لیکن اس پر صبح کا دھوکا ہو سکتا ہے۔ یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں randomly ہوتی ہیں، کبھی ہوتی ہیں، کبھی نہیں ہوتیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو باقاعدہ ایک نظام کے تحت ہوتی ہیں۔
تو ایک نظام کے تحت جو یہ صبح کاذب کی روشنی ہے وہ اصل میں سائنسدانوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ جو سیارے ہیں نا سیارے... سورج کے ارد گرد سیارے ہیں نا... عطارد، زہرہ، زمین، مریخ اور اس طرح زحل، نیپچون، یورینس، مشتری... یہ سیارے پھر رہے ہیں۔ ان کے درمیان بہت سارے ذرات ہوتے ہیں، بین السیاراتی ذرات جس کو کہتے ہیں۔ وہ ذرات پہ سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ کیونکہ سورج کے گرد گھوم رہے ہیں نا۔ سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ اب جب سورج نیچے سے اوپر آ رہا ہوتا ہے یعنی زمین کی طرف، زمین کے افق کی طرف آ رہا ہوتا ہے، تو ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ اس سے... مطلب گویا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں یہ سورج ہے اور اس کے ارد گرد یہ ذرات ہیں۔ اس طرح ذرات ہیں نا، اب یہ جس وقت یہ افق پر سورج چڑھ رہا ہے، تو سورج ابھی نیچے ہے لیکن ذرات والی روشنی تو اوپر آ گئی نا۔ کیونکہ اس کے گرد گولائی میں اس طرح وہ چل رہے ہیں نا۔ وہ ذرات والی روشنی تو اوپر آ گئی۔ وہ جو روشنی نظر آتی ہے یہ صبح کاذب ہے۔ اس کو Zodiacal light بھی کہتے ہیں ہماری انگریزی میں... Zodiac... Zodiac وہ اس کو کہتے ہیں نا وہ جو نجومیوں کا ہوتا ہے قرعہ ہوتا ہے۔ تو وہ Zodiacal light۔
تو یہ light جو ہوتی ہے، وہ سورج کی روشنی ہوتی ہے لیکن منعکس شدہ روشنی ہوتی ہے، براہ راست سورج کی روشنی نہیں ہوتی کیونکہ براہ راست سورج کی روشنی کیا ہے، وہ تو ابھی سورج ظاہر ہی نہیں ہوا نا۔ اس کی سورج کی روشنی ابھی افق پہ نہیں آئی۔ لیکن یہ جو روشنی ہے، یہ بین السیاراتی روشنی ہوتی ہے، یوں کہہ سکتے ہیں یہ بھی ایک پہیے کی شکل میں ہوتی ہے، لیکن اس کا کچھ حصہ نظر آتا ہے اور چونکہ یہ elliptical ہوتی ہے، لہٰذا یہ لمبوتری ہوتی ہے۔ اس پہ اچھی طرح غور کر لیں۔ مطلب دیکھیں نا، اگر میں اس طرح دائرہ کو ٹیڑھا کر لوں... تو پھر آپ کو کیسے نظر آئے گا دور سے؟ یہ ellipse ٹائپ نظر آئے گا نا؟ تو یہ elliptical light جو ہوتی ہے، یہ ایک لمبوتری روشنی ہوتی ہے۔ تو یہ depend کرتی ہے... کہ کتنے latitude پر ہے، اس latitude کے حساب سے یہ افق کے ساتھ angle بناتی ہے۔ تو یہ جو light ہوتی ہے، یہ چونکہ سورج کی روشنی براہ راست نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ یہ منعکس شدہ روشنی ہے۔ منعکس شدہ روشنی پر ابھی صبح شروع نہیں ہوا۔ تو یہ اس وجہ سے اس پہ دھوکا چونکہ ہو سکتا ہے اس لیے اس کو صبح کاذب کہتے ہیں۔
لیکن... اس کے فوراً بعد... وہ جو سورج کی اپنی روشنی ہر طرف پھیل رہی ہے، کیونکہ سورج تو ایک کرہ ہے نا، تو ہر طرف اس کی روشنی جا رہی ہے، تو افق پر بھی روشنی پھیل گئی نا۔ وہ جو روشنی پھیلی ہوتی ہے وہ باقاعدہ ایک قوس کی شکل میں ہوتی ہے۔ ایک قوس کی شکل میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا ایک قوس کا ایک حصہ نظر آ رہا ہوتا ہے۔ تو ایک قوس کی شکل میں ہوتی ہے، وہ elliptical نہیں ہوتی۔ کیونکہ سورج کی روشنی ہر طرف سے ہے... اور جبکہ وہ جو بین السیاراتی light ہے، اس کا اپنا ایک plane ہے، اس plane میں وہ کر رہی ہوتی ہے، تو لہٰذا وہ ایک ellipse بناتا ہے۔ جبکہ یہ جو ہے، یہ تو sphere ہے۔ تو sphere کی وجہ سے وہ ہر طرف سے باقاعدہ افق پر ایک نصف کرہ سا بن جاتا ہے، وہ light آ جاتی ہے۔ جب وہ light آتی ہے تو صبح صادق ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ جو بین السیاراتی light ہے، یہ ہر وقت، ہر موسم میں، ہر جگہ نظر نہیں آتی۔ یہ بہت زیادہ... جس کو کہتے ہیں نا مطلب یہ... اس کے قریب قریب جو ہوتے ہیں equator کے، ان علاقوں میں یہ زیادہ نظر آ سکتی ہے۔ اور اس کے لیے حالات بھی مناسب ہوں تب نظر آ سکتی ہے۔ اور ایک خاص موسم میں نظر آتی ہے۔ تو اس کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا... کہ اگر صبح کاذب ہو جائے، یعنی عمودی روشنی... آپ ﷺ نے اس کی مثال دی، صبح صادق کی روشنی ایسے نہیں ہے... یعنی ہاتھ کو اس طرح اوپر نیچے کر کے... فرمایا اس طرح ہے، اس طرح پھیلی ہوئی۔ تو پتہ چلا کہ یہ پھیلی ہوئی روشنی جو ہے افق پر جو وہ کیا ہوتا ہے... یہ صبح صادق کی روشنی ہے۔ وہ جو اس طرح لمبوتری روشنی ہے وہ نہیں ہے، ہمیں فرما دیا گیا۔ تو پتہ چلا کہ اس لمبوتری روشنی پر ہم نے کچھ نہیں کرنا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا، چاہے بلال اذان دے رہا ہو... اور چاہے لمبوتری روشنی ہو... مستطیل روشنی جس کو فرمایا۔ ان دونوں سے دھوکا نہ کھا جانا۔ بس اس وقت کا انتظار کرو، جب مستطیر روشنی، یعنی افق پر پھیلی ہوئی روشنی ظاہر ہونے لگے۔ اس وقت پھر سب بند کرو۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ... قرآن شریف میں تو "یتبین" والا لفظ ہے، یعنی تبین ہو جائے۔ اور حدیث شریف میں "مستطیر" کا لفظ ہے۔ لہٰذا یہ دونوں مترادف الفاظ ہو گئے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ کیونکہ حدیث شریف تشریح ہوتی ہے قرآن کی۔ تو یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ تو مستطیر روشنی ہو جائے تب بھی تبین ہو گیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں تبین تو ایسا ہے جیسے سب کو نظر آنے لگے۔ عجیب بات ہے۔ حدیث شریف پر پھر کیسے عمل ہوگا؟ حدیث شریف میں تو اس سے پہلے ہو چکا ہے، جب مستطیر روشنی آ گئی تو... اس پہ عمل ہو گیا، تو اب کیا قرآن کے لیے پھر انتظار کریں گے کہ نہیں وہ سب کو نظر آنی چاہیے؟ پھر جو ہے نا... نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ مستطیر ہو گیا تو تبین ہو گیا۔
یہ کچھ لوگوں نے دھوکہ دیا تھا اسلامی یونیورسٹی والوں کو۔ ان لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ان کو بڑا project کرتے تھے۔ کہ بھئی اسلامی یونیورسٹی کے فلاں فلاں پروفیسر ہمارے ساتھ ہیں اور یہ ہے، وہ ہے۔ اس میں میں مجبور ہو گیا، میں نے ان حضرات سے رابطہ کیا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اس موضوع پر، پھر میں چلا گیا وہاں پر۔ تو پھر میں نے یہ قرآن کی آیت لکھی... اور یہ حدیث شریف نیچے جو ہے نا وہ لکھی صاف۔ اور پھر میں نے کہا دیکھیں نا، ان دونوں کو compare کرو کہ کون سا لفظ کون سی چیز کے مترادف بنتا ہے۔ تو پھر اس کے معنی خود متعین کر لو۔
جب میں نے کہا، تو اسی وقت سب نے ایک دوسرے کو اشارے کیے... کہ معاملہ تو گیا... اس کے بعد ان لوگوں نے کہا بس ہم نے ان سے ہاتھ کھڑے کر دیے بس اب ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ تو معاملہ ختم ہو گیا ان کا۔ وہ میرے اوپر میرے اوپر بڑا غصہ تھا یہ دیکھو نا اس نے یہ کام میرا خراب کر دیا، یہ کر دیا، وہ کر دیا۔ بھئی خدا کے بندے آپ سارے لوگوں کا روزہ خراب کر رہے تھے تو اچھی بات تھی؟ ہم نے تو لوگوں کے روزوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ وہ کہتا تھا نہیں جی جو ابھی روزے کا وقت ہے نا اس سے پندرہ، بیس منٹ کے بعد بھی وقت ہوتا ہے، آپ کھا سکتے ہیں۔ تو لوگوں کا روزہ تو خراب ہونا تھا نا۔ تو اس وجہ سے مجبوراً چلے گئے۔
یہ میں نے بات آپ کو تفصیلاً اس لیے بتائی... کہ عین ممکن ہے کہ آپ کے سامنے بھی کوئی ایسے نقشے آ جائیں... جس میں اتنا فرق ہو... تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے... کہ بھئی یہ ہماری باتیں کچھ ویسے نہیں ہیں بے بنیاد... بلکہ اس کے پیچھے بہت... ماشاءاللہ... بزرگوں نے جو تحقیقات کی ہیں، اس کا پورا logic and knowledge ہے۔ تو خیر، ایک تو یہ بات، تو اس وجہ سے جو نقشے ہیں ہمارے نمازوں کے اوقات کے اور سحری افطاری کے اوقات کے، وہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اس کے مطابق آپ لوگ اپنا روزہ افطار کریں اور نقشوں کے اوقات کے جو sunset کے ہیں، اس کے مطابق افطار کر لیا کریں۔ اس میں ہم لوگوں نے، الحمدللہ جو adjustment ہے نا... error کا، وہ بھی کیا ہوا ہے۔
اب adjustment کا واقعہ سناتا ہوں۔
میں امریکہ گیا تھا۔ نارتھ کیرولائنا (North Carolina)۔ رمضان شریف میں۔ روزہ افطار کر رہے تھے ہم۔ ساڑھے آٹھ بجے ٹائم لکھا ہوا تھا افطار کا۔ exactly انہوں نے ساڑھے آٹھ پر افطار کر لیا۔ مجھے گھور گھور کر دیکھتے تھے، وہ عرب حضرات تھے زیادہ۔ کہ یہ کیوں افطار نہیں کر رہا؟ میں نے کہا ان کے ساتھ بحث کرنا فضول ہے کیونکہ ان کو بات سمجھ نہیں آئے گی۔ تو میں نے کہا بس مجھے چھوڑو، میں پھر بعد میں کروں گا۔ میں نے دو منٹ کے بعد افطار کر لیا۔ پھر انہوں نے پوچھا آپ نے کیوں کیا؟ میں نے کہا ابھی آپ کو میری بات سمجھ میں نہیں آئے گی، ان شاءاللہ آپ کو سمجھ میں آجائے گی بات۔
میں نے معلوم کیا تھا کہ یہ نقشے کون بناتے ہیں امریکہ میں۔ پتہ چلا ڈاکٹر کمال ابدالی صاحب بناتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال ابدالی صاحب کے ساتھ میری شناسائی تھی۔ میں نے ان کے ساتھ meeting طے کر لی۔ وہ پورٹ لینڈ (Portland) میں تھے۔ تو میں وہاں پہنچ گیا۔ ان کو ساری صورتحال میں نے بتائی، میں نے کہا، ڈاکٹر صاحب، آپ نے لوگوں کو کیوں نہیں بتایا کہ دو منٹ کا انتظار کرنا چاہیے error کو remove کرنے کے لیے؟ کیونکہ بڑے علاقے کے لیے نقشہ بنا ہوا ہے، تو جو درمیان میں error آتا ہے اس کا کون حساب کرے گا؟ یہ دو منٹ کا تو فرق پڑ سکتا ہے، اور جب تک وقت داخل ہونے کا یقین نہ ہو، آپ روزہ افطار نہیں کر سکتے، شک پہ تو افطار نہیں ہوتا۔ کیونکہ شک پہ یقین زائل نہیں ہوتا، مطلب یہ ہے کہ... دن یقینی ہے، رات کا ابھی شبہ ہے، جب تک یقین نہ ہو جائے اس وقت تک آپ تو روزہ نہیں کھول سکتے نا۔ اس نے کہا بالکل، میں نے لکھا ہے! آپ نے پڑھا نہیں ہے، میں نے تو ہر نقشے کے نیچے لکھا ہے کہ دو منٹ کے بعد افطار کرو۔ میں نے دیکھا تو واقعی لکھا ہوا تھا۔ میں نے کہا اچھا، تو اس کا مطلب ہے کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں لوگوں پہ نہیں چھوڑوں گا یہ۔ میں اپنے نقشے میں پہلے ہی دو منٹ کے بعد دے دوں گا یا تین منٹ بعد، جس کے لیے جتنا error ہے۔ تو میں اپنے نقشوں میں پہلے سے ہی adjustment کر لیتا ہوں۔ عوام زیادہ تفصیلات نہیں جانتے۔ آپ ان کو ایک target دیں گے، اس target پر وہ عمل کریں گے۔ تو اس کے بعد سے پھر ہم نے باقاعدہ... ہاں، error analysis کے لیے باقاعدہ calculations کیں۔ اس کو ڈاکٹر کمال ابدالی کو جب میں نے سمجھا دیا، وہ اچھل پڑا۔ کہتا ہے: "This is the work I have seen, an original work." کہتا ہے لوگ میرے پاس کام لاتے ہیں وہ کام پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ original work ہے، یہ پہلے نہیں ہو چکا تھا۔ بہت خوش تھے۔ اس پر error analysis programming پر۔
کیونکہ اس میں ہم علاقے کا اندازہ کر لیتے ہیں کہ کتنا بڑا علاقہ ہے نمبر ایک۔ نمبر دو، round of error۔ round of error کا مطلب ہے اگر 5 بج کر 12 منٹ 29 سیکنڈ ہیں، تو آپ اس کو کیا show کرتے ہیں؟ 5 بج کر 12 منٹ show کرتے ہیں نا۔ اور اگر 5 بج کر 12 منٹ اور 31 سیکنڈ ہوئے تو کیا show کریں گے؟ 5 بج کر 13 منٹ show کریں گے نا۔ یہ درمیان میں آدھا منٹ کا جو error ہے اس کا کون حساب کرے گا؟ تو آدھا منٹ تو پہلے سے round off کا موجود ہے۔ پھر علاقے کا error موجود ہے۔ پھر جس کو ہم کہہ سکتے ہیں instrumental error, computation error، وہ بھی کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے، وہ error ہے۔ اور بعض دفعہ جب ہم دائمی نقشے بناتے ہیں تو تیس سال میں جتنا فرق آ سکتا ہے وہ error، ان سارے errors کو ملا کر جتنا error ہوگا اس کو ہم چونکہ... conservative approach سے ہم کریں گے، ہم اس کو conservative approach کے بغیر نہیں کریں گے۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ جب تک وقت داخل ہونے کا یقین نہ ہو، اور یقین اس کو کہتے ہیں جب شک کی ساری صورتیں ختم ہو جائیں۔ تو اس پر ہم فیصلہ کرتے ہیں، تو اس طریقے سے ہم نقشے بناتے ہیں۔ وہ الحمدللہ اس کو بڑا سمجھ آ گیا۔ کہتے ہیں This is the original work I have seen۔
تو الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس۔ پھر اس پر الحمدللہ meetings جو ہو چکی ہیں۔ 18 درجے پر... اس کی اسلام آباد میں ایک ہوئی ہے... راولپنڈی میں دو جگہ پہ ہوئی ہے۔ اور ماشاءاللہ اس میں اسلام آباد، راولپنڈی کے علماء کرام سب شامل ہوئے تھے، سب نے پھر دستخط کیے ہیں۔ کہ یہ اوقات صحیح ہیں۔ کراچی کا فتویٰ ہے دارالعلوم کراچی کا، بنوری ٹاؤن کا فتویٰ ہے، خیر المدارس ملتان کا فتویٰ ہے، جامعہ اشرفیہ کا فتویٰ ہے، لاہور کا... اس طرح مختلف ماشاءاللہ مشائخ کا اور علماء کا اس پر فتاویٰ ہیں۔
اب ایک خوامخواہ ایک گروہ کھڑا ہو جائے اور کہتا ہے جی ہم ان کو نہیں مانتے تو ان کو کون مانے گا؟ جن کی بنیاد پر وہ بات کر رہے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ بات کر چکے تھے۔ بلکہ اس وقت میں عجیب بات آپ کو بتاؤں کہ جامعہ الرشید والے... وہ بھی یوں کرتے ہیں کہ اٹھارہ درجے جو ہمارے timings ہیں اس کے مطابق وہ نقشے بناتے ہیں سحری کے، اور ساتھ اذان فجر، وہ 15 درجے پہ دیتے ہیں۔ تو درمیان میں 15، 16 منٹ کا gap درمیان میں آ جاتا ہے۔ اس کی گنجائش ہے، اگر آپ نماز آدھا گھنٹہ کے بعد بھی پڑھ لیں تو کیا مسئلہ ہے؟ نماز میں تو فرق نہیں پڑتا نا۔ لیکن اگر آپ نے روزہ 5 منٹ کے بعد بھی رکھ لیا تو روزہ آپ کا خراب ہو گیا۔ نماز میں تو فرق نہیں پڑتا، نماز آپ آدھا گھنٹہ کے بعد پڑھ لیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تو ان لوگوں نے اس کو اس طرح کیا ہے۔ تو الحمدللہ اب وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
تو اگر کوئی اس پر مزید بھی نہیں مانتا تو پھر وہ تعدی ہے۔ ایسے دیوانوں کی پھر نہیں ماننی چاہیے۔ مطلب ایسے دیوانوں کی نہیں ماننی چاہیے، وہ ظاہر ہے بیچارے نہ خود سمجھتے ہیں نہ دوسروں کو سمجھنے دیتے ہیں۔ تو آج کل چونکہ جہالت کا دور ہے۔ اور جس چیز میں نفس کی پیروی کی جائے وہ تو لوگ بہت جلدی pick کرتے ہیں۔ اب نقشوں کے اوپر کیا لکھا ہوتا ہے، اب دیکھو نفس کی خواہشات کے بالکل عین مطابق۔ لکھتے ہیں، "روزہ دیر سے بند کرو، عشاء کی نماز جلدی پڑھو۔ ہمارے طریقے پہ عمل کرو"۔ اب بتاؤ... یہ کس چیز کی دعوت ہے؟ یہ دعوت کس چیز کی ہے؟ نفس کی ہے یا نہیں ہے؟ روزہ دیر سے شروع کرو اور عشاء کی نماز جلدی پڑھو۔ یہ بالکل نفس کی پیروی والی بات ہے۔ خدا کے بندے اگر تم حق کی بات بھی کرو تو دعوت نفس کی کیوں دیتے ہو؟ یہ تو بالکل ہی الٹی بات ہو گئی۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ تفصیلی طور پر میں نے اس لیے یہ بات بتائی کہ اس پر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے، confusion ہو جاتی ہے، اور لوگ اس چیز کو نہیں سمجھ پاتے۔ دیکھیں حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ ایک بڑے پائے کے مفتی تھے۔ انہی کی تحقیق تھی۔ ان کی خدمت میں مجھ جیسا چھوٹا آدمی حاضر ہو گیا۔ چھوٹا آدمی اس لیے میں کہتا ہوں 1984 کی بات ہے یہ۔ 1984 میں میری عمر تیس سال تھی۔ تو مفتی صاحب... سبحان اللہ! وہ بہت بڑے بزرگ تھے۔ تیس سال کا لڑکا ان کے سامنے بیٹھا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ حضرت آپ کے اوقات ٹھیک نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم نے یہ مشاہدات کیے ہوئے ہیں، اور ان مشاہدات کے مطابق یہ آتا ہے۔ اور حضرت سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔
اور پھر تین دن کے بعد جب میں حضرت سے ملتا ہوں، فرماتے ہیں: "شبیر ہم نے آپ کی بات پر غور کر لیا ہے۔ اب ہم نے اپنا تشدد ختم کر لیا ہے۔ پہلے میں کہتا تھا پندرہ درجے کا وقت صحیح ہوتا ہے، اب کہتا ہوں پندرہ بھی صحیح ہو سکتا ہے، اٹھارہ بھی صحیح ہو سکتا ہے، انیس بھی صحیح ہو سکتا ہے۔" یہ فرمایا۔ "لیکن ایک بات آپ ذرا خیال رکھیں... کہ آپ عشاء کی نماز، تہجد کی نماز (یہ بالکل حضرت کے الفاظ ہیں) عشاء کی نماز، تہجد کی نماز، اور روزہ، تو 18 درجے پہ کریں۔ لیکن فجر کی نماز میں ذرا پندرہ کی رعایت کریں۔" میں نے کہا حضرت میں بھی یہ مسلک رکھتا ہوں۔ کیونکہ اس میں احتیاط ہے۔ اور یہی فتاویٰ عالمگیری نے بھی لکھا ہے۔ اور حضرت اب جامعۃ الرشید کے نقشے اسی طرح چھپ رہے ہیں۔ سبحان اللہ، بات ہو گئی، ثابت ہو گئی۔ ان لوگوں نے بھی مان لی بات۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بات تو طے ہو چکی ہے۔ اب اس کو کون اٹھائے؟ اگر اٹھانے والے ہوتے تو جامعۃ الرشید والے اٹھاتے۔ کیونکہ ان کے مدرسے والے ہیں، یعنی انہی کے مدرسے کے بڑے تھے۔ انہوں نے بات اٹھانی تھی نا۔ انہوں نے تو چھوڑ دیا۔ اب اسلام آباد میں ایک انجینیئر اٹھتا ہے وہ کہتا ہے "نہیں، نہیں، نہیں، میں نہیں مانوں گا۔ میں نہیں مانوں گا، میں نہیں مانوں گا"۔ تو اس پر مجھے بات یاد آگئی معافی چاہتا ہوں، بڑی جگہ ہے لیکن... کیا کریں بات کرنی پڑتی ہے۔ یہ جب پاکستان اور ہندوستان کی لڑائی تھی نا 1965 کی، تو یہ ڈرامے باز نہیں ہوتے ریڈیو پر جو ہوتے ہیں ڈرامے کرتے ہیں؟ ادھر بھی ڈرامے باز بیٹھے ہوتے ہیں، ادھر بھی ڈرامے باز بیٹھے ہوتے ہیں نا۔ ایک دوسرے کے خلاف انہوں نے توپیں لگائی ہوتی ہیں ایک دوسرے کے خلاف۔ تو یہاں پر ایک ڈرامہ ہوتا تھا جس میں طوطا رام ہوتا تھا، وہ انڈین کا کوئی تھا نا... اس کو ظاہر کر رہے تھے۔ تو وہ ڈرامہ جب شروع ہوتا تھا تب بھی ایک شروع ہو جاتا اور اخیر میں بھی، وہ کیا ہوتا تھا؟
نہ مانی، نہ مانی طوطا رام نہ مانی!
یہ نہیں مانتے، نہیں مانتے طوطا رام نہیں مانتے۔ مطلب ہے کوئی بھی عقل کی بات نہیں مانتے۔ تو یہ طوطا راموں کی بات تو ہم نہیں مانتے۔ جو طوطا رام کی طرح ہیں، بھئی جو کوئی سمجھ کی بات نہیں مانتے، تو ان کو ہم کیا کہیں؟ ایسے لوگوں کے لیے قرآن نے بھی فرمایا: وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔ اگر جاہلوں کے ساتھ آپ کو پھر ضرورت پیش آئے تو پھر کیا کرو؟ بس سلام کر کے علیحدہ ہو جاؤ۔ بس ہم بھی سلام کر کے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ باقی وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔ لیکن صرف آپ لوگوں کو اس لیے بتایا کہ اپنے روزے ہم خراب نہ کریں۔ اپنے روزے ہم خراب نہ کریں۔ روزہ بہت بڑا عمل ہے۔ اور ایک ذرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے... حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے فتویٰ دے دیا ہے اور واضح فتویٰ دیا ہے۔ فرمایا اٹھارہ درجے اوقات کے داخل ہونے کے ایک منٹ بعد بھی اگر کسی نے کھایا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔ یہ ان کا فتویٰ ہے۔ 18 درجے کے اوقات کے ایک منٹ بعد بھی اگر کسی نے کچھ کھایا، اس کا روزہ نہیں ہوگا۔
ہاں، کتنے پہلے بند کرتے ہیں، اس میں رعایت ہے۔ اس میں بہتر یہ ہے کہ آپ اخیر وقت میں بند کر لیں۔ یہ مثلاً 4:28 پر روزہ شروع ہوگا نا۔ آپ 4:25 پہ بھی بند کر سکتے ہیں، 26 پر بھی بند کر سکتے ہیں، 27 پر بھی بند کر سکتے ہیں، 28 پر بھی بند کر سکتے ہیں۔ آپ 4:20 پر بھی بند کر سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ 28 تک کھاتے رہیں، یا پیتے رہیں، یا جو کچھ کریں۔ لیکن مطلب... یہ زیادہ بہتر ہے۔ لیکن اگر کوئی اس سے پہلے کر لے تو اس پہ کوئی رکاوٹ نہیں۔ پھر 28 کے بعد نہیں! 28 کے بعد نہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ ہے بس اتنی سی بات ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ ذرا خیال رکھنا چاہیے۔ کبھی بھی ہمیں غیر تحقیقی مواد پر نہیں کرنا چاہیے۔ دیکھو نا تحقیق کیا ہوتا ہے؟ انجینیئر، سائنسدان تحقیق کر سکتے ہیں لیکن اس کو certify کون کرتے ہیں؟ علماء کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشاہدات جو ہیں، اصل فیصلہ مشاہدات پر ہے۔ اور مشاہدات کو کون certify کرے گا؟ علماء کریں گے۔
تو علمائے کرام نے ان مشاہدات کو certify کر دیا۔ اور انہوں نے اس پر فتویٰ دے دیا۔ یہ اختلاف جو تھا نا کراچی میں بہت بڑا اختلاف ہوا تھا 1974 میں۔ تو حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور اس طرح مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمۃ اللہ علیہ اور اس طرح اور بہت سارے علمائے کرام جو اس وقت کے تھے، انہوں نے متفقہ طور پر مشاہدات کیے۔ ان مشاہدات کے نتائج کی بنیاد پر انہوں نے پھر فتویٰ دیا۔ یہی اٹھارہ درجے والا۔ تو اس پر الحمدللہ ہمارے سارے اکابر کا اتفاق ہے۔ اور جو دوسری سائیڈ تھے مفتی رشید احمد صاحب، الحمدللہ وہ بھی رجوع فرما چکے ہیں۔ تو اب تو سب کا اتفاق ہو گیا۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو کسی اور انجینیئر کی ضرورت نہیں ہے، کسی اور سائنسدان، کسی اور ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔ فتویٰ علمائے کرام کا موجود ہے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو آپ خود مشاہدات کر لیں۔
مجھے پرسوں مشاہدات ملے ہیں سکھر کے۔ ڈاکٹر کلیم اللہ... انہوں نے ماشاءاللہ... ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب بڑے بزرگ تھے، ان کے بیٹے ہیں اور ظاہر ہے شیخ بھی ہیں۔ انہوں نے خود تقریباً دو، تین مہینے مشاہدات کیے۔ ان کی پوری listing مجھے بھیجی ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ پرسوں، پرسوں مجھے ملا ہے۔ اور ماشاءاللہ ان کے ساتھ کچھ علمائے کرام مفتیان کرام بھی تھے۔ انہوں نے بالکل 18 درجے کے مشاہدات کیے، تقریباً بس قریب قریب اس کے تھے۔ تو الحمدللہ، ابھی تک مشاہدات ہیں۔ انگلینڈ میں مشاہدات ہوئے ہیں۔ یہ ساجد پٹیل صاحب جو تھے۔ ان لوگوں نے مشاہدات کیے ہیں۔ انہوں نے مجھے دیے ہوئے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے بس پھر ہم کیا کریں؟ جب مشاہدات سارے اس کی تائید کرتے ہیں... بس ایک نکتہ کی بات بتاتا ہوں۔ مشاہدات کی بنیاد پر جو فیصلے ہوتے ہیں اس میں ایک بڑی غلطی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ غلطی بھی بتا دیتا ہوں اگر کوئی خود کرنا چاہے تو اس غلطی کو ذرا note کرے۔ یہ مشاہدات چونکہ آج کل lights ہیں افق پہ، تو اس وجہ سے شہر سے باہر نکل کے کرنے ہوتے ہیں۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک دن، دو دن، تین دن کی بات نہیں ہو۔ کئی دن تک مسلسل مشاہدات ہوں۔ کئی دن تک مسلسل مشاہدات ہوں پھر آنکھیں مانوس ہوتی ہیں مشاہدات سے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ چھ سات دن کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا ہمیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ چھ سات دن کے بعد ہمیں پتہ چلنا شروع ہو گیا کہ اچھا یہ تو یہ ہو رہا ہے، یہ تو یہ ہو رہا ہے۔ تو یہ مسلسل consecutively مشاہدات کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پھر حقیقت کھلتی ہے، تو جن لوگوں نے دو، تین دن کے مشاہدات پر فیصلہ کیا، ان کو غلطی لگی۔ اور جنہوں نے مسلسل مشاہدات کیا، ان کو فائدہ ہوا ان کو پتہ چلا۔ ہم نے ایک مہینے مشاہدات کیے تھے صبح صادق کے۔ اور پھر چھ مہینے شفقِ احمر کے مشاہدات کیے۔ شفقِ احمر کے مشاہدات سے بھی بالکل وہی چیز ثابت ہو گئی۔ اس وجہ سے، الحمدللہ، ہمیں اب کوئی confusion نہیں ہے۔ اور یہ باتیں آپ کے سامنے رکھ دیں۔ آئندہ کے لیے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ ہمارے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک ہمیں حق پر رکھے۔ اور حق لوگوں تک پہنچانے کے لیے، ہمیں اللہ پاک قبول فرمائے۔ اور جو غلطی کوتاہی ہو، اسے اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، آئندہ کے لیے اس سے محفوظ فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔