رمضان المبارک میں فرائض کی اہمیت اور اوقاتِ نماز (شفقِ احمر) کی سائنسی تحقیق

فضائل رمضان، فصل اول، اشاعت اول 24 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        رمضان میں فرض اور نفل عبادات کا اجر و ثواب۔

•        سحری اور افطاری کی وجہ سے نمازِ فجر اور مغرب کی جماعت میں سستی۔

•        اوقاتِ نماز کے نقشوں میں عوامی دباؤ اور شریعت کا حکم۔

•        شفقِ احمر (سرخی) اور شفقِ ابیض (سفیدی) کے سائنسی اور مشاہداتی فرق۔

•        مفتی رشید احمد صاحبؒ کے وقتِ عشاء کے نظریے پر تحقیقی مکالمہ۔

•        وقت سے پہلے نماز پڑھنے کی ممانعت اور احتیاط کی ضرورت۔

•        نوافل (جیسے شب بیداری) کی خاطر فرض نماز (فجر) کو ضائع کرنے کا نقصان۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


حضور ﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے برابر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستر فرائض کے برابر ہے۔ اس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتا ہے اور نوافل میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضاء ہوگئی اور کم از کم جماعت تو اکثروں کی فوت ہو ہی جاتی ہے، گویا سحر کھانے کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو بالکل قضاء کر دیا یا کم از کم ناقص کر دیا، کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہلِ اصول نے اداءِ ناقص فرمایا ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو (گویا) نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں۔

"مظاہرِ حق" میں لکھا ہے کہ جو شخص بغیر عذر کے بدونِ جماعت نماز پڑھتا ہے اس کے ذمہ فرض تو ساقط ہو جاتا ہے، مگر اس کو نماز کا ثواب نہیں ملتا۔ اسی طرح دوسری نمازِ مغرب کی بھی جماعت اکثروں کی افطار کی نذر ہو جاتی ہے اور رکعتِ اولیٰ یا تکبیرِ اولیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے، اور بہت سے لوگ تو عشاء کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔

یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے آج کل۔ ہم نمازوں کے اوقات کے نقشے بناتے ہیں نا، تو مجھ پر اتنا Pressure تھا مولوی حضرات کا، مطلب ہے عام لوگوں کا نہیں، کہ اس میں کچھ رعایت کریں۔ کے پی کے (KPK) کی طرف سے بہت زیادہ تھا کہ اس میں کچھ رعایت کریں۔ آپ دیکھو نو بج کر بیس منٹ پہ اگر عشاء داخل ہوتا ہے، یہ تو ہمارے ہاں تو سارے نو بجے نماز پڑھ کے فارغ ہوجاتے ہیں۔

میں نے کہا میں کیا کروں؟ میں تو نہیں کر رہا یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم میں، میں تبدیلی کیسے کروں؟ بھئی میری بات ہو تو میں کچھ اس میں کر لوں۔ میں تو صرف جو اللہ کا حکم ہے اس کا حساب لگاتا ہوں کہ کس وقت، وقت داخل ہوتا ہے۔ میرا کام تو صرف اتنا ہے، میں اس میں کیا رعایت کر لوں؟

پھر ایک بات، بار بار جب پوچھا گیا تو پھر ان کو میں نے ایک بات بتائی۔ جو عمومی طور پر شاید کتابوں میں لکھی نہیں ہے۔ تجربے سے تعلق رکھتا ہے۔

عموماً بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شفقِ احمر جو ہے، شفقِ احمر... یہ تقریباً ایک گھنٹہ میں ختم ہو ہی جاتا ہے، شفقِ احمر۔ یہ لوگوں کا خیال ہے۔ اور مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تو خیال تھا کہ بارہ درجے پہ ختم ہوجاتا ہے، وہ تو اس سے بھی کم ہوتا ہے۔

تو ایسا ہوا کہ ہم نے مشاہدے کیے۔ چھ مہینے مشاہدات کیے، اب بتائیں! چھ مہینے مشاہدات کی کچھ Value ہوگی یا نہیں ہوگی؟

چھ مہینے مشاہدات کیے، اس میں پہلے مشاہدے نے ہمیں ہلا دیا۔ اور وہ مشاہدہ یہ تھا کہ حضرت تو فرماتے ہیں... (میں حضرت کے طریقے پہ تھا نا پہلے)... تو حضرت نے بارہ درجے کا بتایا تھا، تو اس دن ساڑھے بارہ ہوگیا۔ میں نے کہا شاید مجھے غلطی لگی ہے۔ اگلے دن کیا، ساڑھے تیرہ درجہ تھا۔ پھر اگلے دن تیرہ درجہ تھا۔ پھر کبھی چودہ، کبھی تیرہ، کبھی ساڑھے تیرہ، کبھی پندرہ، کبھی ساڑھے پندرہ... مطلب ٹھہر ہی نہیں رہا ایک جگہ پہ۔ یہ کیا بات ہے؟ بڑی عجیب بات ہے۔

اب چھ مہینے کے مشاہدات اس طرح ہوئے، تو جو بہت زیادہ لیٹ، یعنی ساڑھے پندرہ، ساڑھے سولہ پہ غائب ہوا تھا، اس وقت اتفاق سے میرے پاس حضرت ہی کے ایک مرید، میرے شاگرد تھے، وہ بھی شامل تھے مشاہدے میں۔ جب ہم نے دیکھا شفقِ احمر غائب ہوگیا، تو میں نے کہا عبدالمقتدر دیکھ رہے ہو نا سرخی اب غائب ہوئی ہے؟ جی ہاں بالکل۔ ٹائم نوٹ کرو۔ جی فلاں ٹائم ہے۔ میں نے کہا اس کو لکھ لو اپنے ساتھ، تم میرے گواہ ہوگے۔ تم میرے گواہ ہوگئے۔

خیر بہرحال یہ ہے کہ اس کو تو میں نے گواہ بنا لیا۔ پھر اس کے بعد پھر میں حضرت کے پاس چلا گیا کراچی۔ اور کراچی میں حضرت کو یہ ساری کارگزاری سنائی۔ اور شفقِ احمر کے مشاہدات سنا کر میں نے حضرت سے کہا... مجبوری تھی، کہتے ہیں وہ بات تو حق کہنی پڑتی ہے، کیا کریں حضرت تو بہت بڑے آدمی تھے، مفتی تھے بہت بڑے، لیکن یہ تو مجبوری تھی یہ تو ایک Technical چیز تھی۔

میں نے کہا حضرت! شفقِ احمر کے مشاہدات نے مجھے یہ کہنے پہ مجبور کیا کہ آپ کا وقت تو کم از کم غلط ہے۔ باقی جو اٹھارہ درجے والے لوگ ہیں ان کے اوپر سوچا جاسکتا ہے کہ صحیح ہے یا غلط ہے، وہ تجربے سے معلوم ہوگا۔ لیکن آپ کا تو کم از کم غلط ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ساڑھے پندرہ پر یا ساڑھے سولہ پر اگر شفقِ احمر غائب ہورہا ہے، اور پندرہ پر آپ بتا رہے ہیں کہ شفقِ ابیض غائب ہورہا ہے، تو یہ تو بدیہی بات ہے کہ کبھی بھی شفقِ ابیض، شفقِ احمر سے پہلے غائب نہیں ہوسکتا۔ تو لہذا آپ والا طریقہ تو...

میں نے کہا اب یہ بیشک۔۔۔ کیونکہ یہ تو پہلے ہی دن سے ہمیں پتہ چلا کہ یہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے۔ پھر میں نے سائنسدانوں سے معلوم کر لیا اپنے دفتر کے، انہوں نے کہا ہاں یہ ہوسکتا ہے کیونکہ شفقِ احمر ایک خاص رنگ ہے سرخ، جبکہ شفقِ ابیض سات رنگوں کا مجموعہ ہے۔ اس وجہ سے اس پر موسم کا اثر نہیں ہوتا لیکن شفقِ احمر پر ہوتا ہے۔ یعنی گرمی، سردی، خشکی، نمی اس کا اثر ہوتا ہے۔ تو بات بھی سمجھ میں آگئی۔ تو پھر حضرت سے میں نے کہا، تو حضرت نے اپنا جو رجوع کیا تھا سختی سے وہ اسی بنیاد پہ کیا تھا۔

تو خیر یہ تو درمیان کی بات آگئی۔ پھر اس کے بعد میں نے ان سے کہا، میں نے کہا آپ حضرات کہتے ہیں کہ شفقِ احمر شاید ایک گھنٹہ بعد یا پون گھنٹے کے بعد غائب ہوتا ہے، اس کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ساڑھے سولہ پر میں نے دیکھا ہے، کم سے کم میں نے ساڑھے بارہ پہ دیکھا ہے۔ یعنی ساڑھے بارہ سے لے کر ساڑھے سولہ کے درمیان کسی وقت بھی غائب ہوسکتا ہے۔ تو یا تو مشاہدے پہ عمل کر لو۔ مشاہدہ کرکے آپ بیشک عشاء کی نماز پڑھ لو، میں اس میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ آپ کا مشاہدہ ہوگا۔ تو مشاہدہ کے سامنے تو حساب نہیں آتا۔ لیکن اگر مشاہدہ نہیں کرتے حساب پہ کرتے ہو تو میں ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ کیونکہ میں نے ساڑھے سولہ پر بھی غائب ہوتے دیکھا ہے۔ لہذا ساڑھے سولہ... جس کو ہم کہتے ہیں نا اس میں تو یہی آپ کہیں گے نا کہ وقت تو تب داخل ہوتا ہے جب شک ختم ہوجائے، یہی ہے نا مفتی صاحب؟ جب شک ختم ہوجائے۔ تو شک تب ختم ہوگا جب ساڑھے سولہ گزر جائے، کیونکہ ساڑھے سولہ تک تو میں نے دیکھا ہے۔ تو یہ ہو سکتا ہے۔ تو لہذا میں تو ذمہ داری نہیں لیتا۔

تو ساڑھے سولہ اور اٹھارہ کے درمیان کتنا فرق ہے؟ ایک ڈیڑھ درجہ ہے نا۔ تو ڈیڑھ درجے میں کتنا فرق ہوگا؟ تقریباً ساڑھے سات منٹ گرمیوں میں یا آٹھ منٹ۔ تو آٹھ منٹ پہلے آپ کر بھی لیں گے تو کتنا ہو جائے گا؟ اس سے آپ کو کتنا فائدہ ہوگا؟ اس وجہ سے اسی کو رکھو تو اچھی بات ہے۔

تو خیر بہرحال یہ ہمارے ہاں یہ بات بہت... اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ وہ علاقے جہاں پر پہلے پڑھا جاتا تھا کافی فرق آگیا۔ مولانا شریف ہزاروی سے میں نے شکایت کی کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں، کہتے ہیں آپ کا کام ہے مسجدوں میں نقشے لگانا، یہ لوگ خود بخود آہستہ آہستہ اس پر آجائیں گے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ اب الحمدللہ ہم سے ہی نقشے بنواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔

تو مقصد یہ ہے کہ یہ چیزیں ہیں کہ لوگوں کی سستی جیسے حضرت نے فرمائی ہے بات، وہ یہی ہے کہ لوگ بس جلدی کے اس میں ہوتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے جی ہم عشاء پڑھ لیں، کیونکہ آگے تراویح بھی تو پڑھنی ہے نا۔ تو بس جتنا جلدی ہو سکتا ہے... حالانکہ اس کے بغیر...

یہاں حضرت یہاں پر ایک عیدگاہ شریف... جانتے ہیں آپ؟ عیدگاہ شریف میں وہ... وہ شب بیداری کرتے ہیں۔ اب پتہ نہیں کرتے ہیں یا نہیں کرتے لیکن پہلے کرتے تھے۔ تو جس دن ان کی شب بیداری ہوتی تھی اس دن تہجد کے فوراً بعد وقت داخل ہونے سے پہلے فجر پڑھ لیتے تھے۔ تو میں نے کہا یہ کون سا تہجد ہے؟ بھئی آپ نے نفل کے لیے فرض ہی کو ختم کر دیا، یہ کیا طریقہ ہے؟ تو یہ اصل میں آج کل یہ مسائل ہیں۔

اللہ اکبر!



جاری ہے ان شاءاللہ


رمضان المبارک میں فرائض کی اہمیت اور اوقاتِ نماز (شفقِ احمر) کی سائنسی تحقیق - فضائل رمضان