رمضان المبارک: تزکیۂ نفس، فضائل اور سحری کے اوقات کی شرعی تحقیق

احادیث از خطبات الاحکام

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رمضان کی نعمت اور شکر

روزے کا اصل مقصد (تقویٰ اور نفس کا کنٹرول)

صبحِ صادق اور سحری کے وقت پر تفصیلی تحقیق (اہم فقہی مسئلہ)

نیکیوں کے اجر میں اضافہ

افطار کرانے کی فضیلت

تین بددعائیں (جبرائیل علیہ السلام  اور آمین)

آخری عشرہ، لیلۃ القدر اور اعتکاف


رمضان المبارک: تزکیۂ نفس، فضائل اور سحری کے اوقات کی شرعی تحقیق

روزہ: تقویٰ کا ذریعہ اور 18 درجے والی سحری کی اہمیت


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهٗ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، يَدَعُ شَهْوَتَهٗ وَطَعَامَهٗ مِنْ أَجْلِي. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهٖ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهٖ. وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ. وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَآبَّهٗ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهٗ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَآئِمٌ۔

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! سب سے پہلے تو میں آپ کو ماشاءاللہ بشارت دیتا ہوں کہ آپ کو اللہ پاک نے بہت بڑی شان والے مہینے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس میں شامل ہونے کی۔ الحمد للہ۔

یہ اس لیے میں کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رجب کا چاند دیکھا تو اس وقت یہ دعا کی:

اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔

اے اللہ! ہمیں رجب و شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک پہنچا دے۔

تو جس چیز کے لیے دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو کہ رمضان شریف تک پہنچا دے، تو وہ کتنی بڑی نعمت ہے۔

الحمد للہ، اللہ پاک نے ہمیں یہ نعمت نصیب فرمائی، اس پر شکر کرنا چاہیے۔ اور یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے۔

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سورۃ ابراھیم: 7)۔ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے، میں ان کو اور مزید بڑھاؤں گا۔

وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورۃ ابراھیم: 7)۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے، انکار کرو گے، تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔

اس وجہ سے اس رمضان شریف کا بہت شکر کرنا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں توفیق عطا فرمائی اس رمضان شریف کے روزے رکھنے کی، الحمد للہ۔

اور اس میں کیا ملتا ہے؟ سبحان اللہ! یعنی یہ تو بالکل نیکیوں کا بہار ہے۔ نیکیاں تو اس میں اتنی ملتی ہیں کہ انسان حساب نہیں کر سکتا۔ ہاں! ہمت ہو... کوشش ہو لینے کی۔

اب دیکھیں اللہ پاک نے اس میں یہ انتظام فرما دیا کہ ہمارے لیے اللہ پاک نے شیاطین کو قید کر دیا۔ ابھی جو میں نے حدیث شریف پڑھی ہے اس میں یہ فرمایا گیا کہ سرکش شیاطین کو اللہ پاک جیسے رمضان شریف شروع ہو جاتا ہے، قید فرما دیتے ہیں۔

اور پھر اس کے بعد جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سارے مہینے جنت کے دروازے کھلے رہتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند رہتے ہیں۔

یعنی نیکیاں کرنا آسان ہے، برائی کرنا مشکل ہے۔ یعنی یہ چیزیں اللہ پاک نے ہمیں نصیب فرمائی ہیں۔

اب دیکھیں شیطان جب بند ہو گیا، تو جو وسوسے انسان کو نیکی سے ہٹا سکتے ہیں، وہ وسوسے نہیں ہیں۔ مطلب وہ چیز نہیں رہی۔

دوسری طرف ہمارا جو نفس ہے، جو سب سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے، اس کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ تو یہ رمضان شریف ہے ہی نفس کو کنٹرول کرنے کے لیے۔ یہ ہے ہی نفس کو کنٹرول کرنے کے لیے۔

باقاعدہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں جو فرمایا، ابھی میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورۃ البقرہ: 183)۔

اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے، جیسا کہ تم سے پچھلے لوگوں پہ فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ، تاکہ تمہیں تقویٰ حاصل ہو۔

اچھا یہ تقویٰ کیا چیز ہے؟ اصل میں اللہ پاک نے ہمارے نفس کو عجیب و غریب بنایا ہوا ہے۔ یہ اجتماعِ ضدین ہے، یعنی دو ضدوں کی... مطلب جمع ہے۔ اس کے اندر... یعنی فجور کی صلاحیت بھی ہے، انسان جو بھی... یعنی برائی کرنا چاہتا ہے تو وہ کر سکتا ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے۔ اور تقویٰ بھی اختیار کر سکتا ہے۔

اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تقویٰ اختیار کر لو، چاہے فجور اختیار کر لو۔ ہے... مطلب یہ اختیار دیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے گا، وہ مکمل کامیاب ہو گا۔

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (سورۃ الشمس: 9)۔ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، یعنی تقویٰ اختیار کر لیا۔

وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا (سورۃ الشمس: 10)۔ اور یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو اس طرح مٹی میں ملا دیا، یعنی اس کو برائیوں میں مبتلا کر دیا۔ اس کی برائیوں کی جو خواہشات ہیں، اس کے اوپر عمل کر لیا۔

تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان شریف میں جو فرمایا گیا کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورۃ البقرہ: 183)، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ، تاکہ تمہیں تقویٰ حاصل ہو، اس کا مطلب ہے کہ نفس کی وہ برائی کنٹرول ہو جائے۔

اچھا نفس کی برائی کیسے کنٹرول ہوتی ہے؟ یہ بالکل واضح بات ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کا جو نفس ہے... یہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ اگر اس کی مانو گے، تو یہ مزید منوائے گا۔ مطلب یہ مطمئن نہیں ہو گا، مزید منوائے گا۔ اور اگر دباؤ گے، تو دب جائے گا۔ جتنا دباتے جاؤ، یہ دبتا جائے گا۔ اور جتنا مانتے جاؤ گے، اتنا ہی مزید منواتا جائے گا۔

میں اس کی مثال دیتا ہوں، ہم گاؤں میں تھے، تو گاؤں میں ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ روزانہ تو پراٹھا نہیں ملتا۔ تو عید کے دن پراٹھا ملتا اور پراٹھے کا ہم بڑا انتظار کرتے تھے کہ پراٹھا ملے گا۔

جب شہر میں آ گئے تو روز پراٹھا ملنے لگا، تو اب پراٹھے میں نخرے شروع ہو گئے۔ یہ اس میں نہیں... یہ اس میں نہیں... یہ اس میں نہیں... ہاں! مطلب یہ ہے کہ اس میں مزید...

اب دیکھو ایک آدمی کو ایک گاڑی مل جائے، پھر کہتا ہے یار فلاں کے ساتھ تو دو گاڑیاں ہیں۔ تو مجھے بھی دو ملنی چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک وادی سونے کا مل جائے، تو وہ دوسری وادی سونے کی وہ کوشش کرے گا کہ اس کو یہ مل جائے۔ اس پہ مطمئن نہیں ہو گا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو نفس ہے، یہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔ قلب مطمئن ہو سکتا ہے۔ قلب مطمئن ہو سکتا ہے، اور کس چیز سے مطمئن ہوتا ہے؟ ذکرِ الٰہی سے۔

أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد: 28)۔

آگاہ ہو جاؤ! دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے۔ اللہ کی یاد سے اطمینان ہو جاتا ہے۔

دل مطمئن ہوتے ہیں، نفس مطمئن نہیں ہوتا۔ نفس کو دبانا پڑتا ہے۔ نفس کو دبانا پڑتا ہے۔ اس کو دبائے رکھو گے، تو دبے گا۔ جیسے آپ نے چھوڑ دیا اسپرنگ (Spring) کی طرح دوبارہ... اپنی پرانی جگہ پہ آ جائے گا۔ لہٰذا اس کو دبا کے رکھنا پڑتا ہے۔

اچھا اب اس کو دبا کے رکھنا آسان ہو جائے، یہ ایک چیز ہے۔ تو جب آپ اس کو دبائیں گے، دبتا جائے گا، دبتا جائے گا، دبتا جائے گا دبتا جائے گا،... حتیٰ کہ یہ آپ کی بات ماننا شروع کر لے گا۔ اس کو "نفسِ مطمئنہ" کہتے ہیں۔ اس کو نفسِ مطمئنہ کہتے ہیں۔ یعنی گویا کہ نفس نے مان لیا کہ میں نے یہ کام کر لیا، ٹھیک ہے نا۔

نفسِ مطمئنہ! اب نفسِ مطمئنہ کا پھر کیا چیز ہے؟ اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس کے بارے میں فرمایا:

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿27﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿28﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿29﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿30﴾ (سورۃ الفجر: 27-30)

"اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ جا۔ اس حالت میں کہ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا"۔ سبحان اللہ۔

اللہ پاک ہمیں نصیب فرمائے۔ یہ تو وہاں ہو گا نا، یہ تو جنت میں ہو گا ان شاءاللہ العزیز۔ البتہ اس کی تیاری یہاں پر ہے۔ اس کی تیاری یہاں پر ہے۔ تو تیاری کیا ہے؟ نفس کو کنٹرول کرنا، نفس کو دبانا۔

تو رمضان شریف کے روزے میں ہم نفس کو دباتے ہیں۔ کیسے دباتے ہیں؟ نفس کے تین بڑے خواہشات ہیں جو کسی حالت میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے:

کھانا، پینا، مباشرت۔ یہ تین اس کی ایسی خواہشات ہیں جس کو یہ ترک کبھی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ ٹھیک ہے نا! اس پہ پاؤں رکھوا دیا۔ یہ... یہ آپ نے ایک خاص وقت سے خاص وقت تک آپ نے یہ نہیں کرنا۔ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔

اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ کر رہے ہیں، ویسے اپنی مرضی سے نہیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا جیسے اللہ کا حکم ہو گا، اس وقت فوراً افطار کرنا ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم تیار رہیں کہ اے اللہ! ہم تو تیرے لیے کر رہے ہیں، اب یہ وقت ختم ہو گیا، فوراً بس افطار۔ اس میں پھر دیر نہیں کرنی۔

اور اس طرح اخیر وقت تک جو جائز وقت ہے جس میں مطلب یہ ہے کہ روزہ ابھی شروع نہیں ہوا، اس وقت تک آپ جو ہے نا مطلب کھا سکیں۔ جتنا تاخیر... جائز تاخیر... جتنی تاخیر ہو سحری میں، اتنا جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ ماشاءاللہ زیادہ اس کی ویلیو (Value) ہے۔

اب کتنی تاخیر ہو سکتی ہے؟ یہ ابھی میں نے ایک آیت پڑھی ہے وہ بھی میں آپ کو دوبارہ سناتا ہوں۔ اور اس میں چونکہ بہت اہم میسج (Message) ہے لہذا وہ میسج (Message) میں آپ کو دینا چاہتا ہوں اور وہ کیا ہے؟ اللہ پاک فرماتے ہیں:

فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ (سورۃ البقرہ: 187)۔

اور پس اب... مطلب یہ ہے کہ فائدہ اٹھاؤ اپنی بیویوں سے، اور جو اللہ پاک نے تمہارے لیے لکھا ہے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے، جو سفید دھاری ہے سیاہ دھاری سے، فجر کی۔

اگر آپ دیکھیں تو یہ جس وقت رات ہوتی ہے، تو مکمل اندھیرا ہوتا ہے اگر جہاں لائٹس (Lights) مصنوعی لائٹس (Lights) نہ ہو، مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ اس اندھیری لائٹ میں... ماشاءاللہ جو صبح صادق ہے نا وہ اس طرح ظہور ہوتا ہے کہ بالکل ایک وسیع قوس کی طرح... مطلب وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور وہ جو وسیع قوس ہوتا ہے، اس کے اندر ہلکی ہلکی سفید سی روشنی ہوتی ہے، ہلکی۔

لیکن اس کے جو سرے ہیں... مطلب دیکھو نا یہ سفیدی کا اینڈ (End) ہے اور وہ آگے جو ہے نا رات ہے۔ تو مطلب وہ آگے والا وہ سیاہ دھاری ہے، اور یہ اندر والی وہ کون سی ہے؟ سفید دھاری ہے۔ جب یہ بالکل واضح ہو جائے، ایک دوسرے سے فرق واضح ہو جائے، تو سمجھ لو کہ صبح صادق ہو گیا۔ یہ تو ہے قرآن کی بات ہے۔

اب حدیث شریف کی سن لو۔ حدیث شریف میں فرماتے ہیں کہ:

مطلب یہ ہے کہ بلال کی اذان پر، اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ مستطیل فجر سے آپ دھوکہ نہ کھائیں۔ ہاں! دھوکہ نہ کھائیں۔ جب تک... مطلب جو ہے نا کہ وہ "مستطیر" روشنی ظہور اس کا نہ ہو جائے۔ مستطیر اور مستطیل کیا ہے؟ مستطیل اس طرح ہے جیسے طولانی۔ اور مستطیر یہ پھیلاؤ... پھیلاؤ کے ساتھ۔ اس کے کم از کم یہ ہے کہ اس کا جو پھیلاؤ ہے اس کی اونچائی سے زیادہ ہو۔ یہ مستطیر ہے۔ ٹھیک ہے نا! قوس کی جیسے تعریف ہے نا، قوس ایسا ہوتا ہے... تو اگر آپ دیکھیں تو یہ فاصلہ جتنا ہوتا ہے تو اس سے ڈبل تقریباً جو ہے نا مطلب ہے کہ پھیلاؤ ہوتا ہے اس کا۔ تو یہ فرمایا گیا کہ جب یہ ہو جائے تو پھر... اب جس وقت یہ نشانی پوری ہو جائے تو اب صبح صادق ہو گیا۔

اس کے بعد کھانا پینا منع ہے اگر روزہ رکھنا ہے تو۔ کھانا پینا منع ہے، روزہ شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے جب تک یہ ظاہر نہیں ہوا، آپ کھا سکتے ہیں۔

كُلُوا وَاشْرَبُوا (سورۃ البقرہ: 187)، باقاعدہ اللہ پاک فرماتے ہیں کھا سکتے ہو، پی سکتے ہو۔ لیکن جیسے ہی یہ ہو جائے... "حَتّٰى" جس وقت وہ مرحلہ آ جائے کہ وہ سفید روشنی کا اور سیاہ روشنی کا فرق ظاہر ہو گیا اور پھیلاؤ ہو گیا ہے اس کا، اس کے بعد بس بات ختم ہو گئی۔

اب یہ بات میں آپ سے اس لیے عرض کرتا ہوں کہ ماشاءاللہ آپ اسلام آباد میں ہیں اور اسلام آباد میں ایک فتنہ ہے۔ ایک فتنہ ہے۔ نمازوں کے اوقات کے بارے میں اور سحری اور افطاری کے اوقات کے بارے میں فتنہ ہے ایک۔ وہ فتنے سے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس سے بچ جائیں۔

وہ فتنہ یہ ہے کہ... اب دیکھیں قرآن نے تو اتنا بتا دیا، حدیث شریف نے تو اتنا بتا دیا۔ اب سائنسدان حضرات جو ہیں، سائنسدان حضرات وہ اس کا حساب لگاتے ہیں کہ آخر یہ کون سا درجہ ہے سورج کے افق سے دوری کا کہ اس پر یہ مرحلہ آ سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! وہ ظاہر ہے کیلکولیشن (Calculation) انسان کر سکتا ہے۔ کہ اچھا یہ ٹائم... اتنے ٹائم پر یہ ہو گیا، تو اس ٹائم پر سورج کتنا دور تھا افق سے؟ تو یہ 18 درجے کے حساب سے بنتا ہے۔ 18 درجے کے حساب سے۔

اس 18 درجے پر فتویٰ ہے حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا، مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا، مولانا عاشق الہٰی صاحب کا اور مولانا خیر محمد صاحب کا اور یہ جتنے بھی ہمارے حضرات، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا، سب کا یہ فتویٰ ہے۔

درمیان میں ایک بزرگ گزرے ہیں ماشاءاللہ وہ بڑے اللہ والے تھے، سبحان اللہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کو یہ اشکال ہو گیا تھا تو انہوں نے اس کو 15 درجے پہ سمجھا۔ 15 درجہ ذرا تاخیر سے ہوتا ہے۔ 15 درجہ ذرا تاخیر سے ہوتا ہے۔ تو 15 درجہ اس کو سمجھا۔

تو اس وقت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ چونکہ ظاہر ہے وہ بڑے مفتی تھے، انہوں نے... حضرت نے... ان حضرات نے بات مان لی ان کی۔ ٹھیک ہے نا! بات مان لی۔ لیکن بعد میں کچھ حضرات نے متنبہ کیا کہ نہیں یہ ایسا نہیں ہے، ہمیں خود مشاہدات کرنے چاہیے۔

تو پھر مفتی صاحب اور مولانا یوسف بنوری صاحب اور یہ سب حضرات نے خود مشاہدات کیے، اور اس پہ کتاب بھی لکھی ہے۔ تو مشاہدات کر کے پتہ چلا کہ نہیں 15 نہیں ہے، 18 ہے۔ تو انہوں نے اپنا فتویٰ رجوع کر لیا... اس سے رجوع کر لیا کہ نہیں ہمارا پہلا فتویٰ جو تھا نا وہ ٹھیک نہیں تھا، یہ جو ہم نے تجربات سے جو معلوم کیا وہ ہے 18 درجے، یہ صحیح ہے، اس پر فتویٰ دے دیا۔

حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے فتویٰ پہ قائم تھے۔ الحمد للہ۔ ظاہر ہے مفتیوں کا کام یہی ہے، وہ جب تک ان کا شرح صدر نہ ہو تو ان کو تو چھوڑنا نہیں چاہیے۔

مجھے یہ کام کچھ بزرگوں کے حکم کے مطابق مطلب کرنا پڑا مشاہدات کے ذریعے سے، تو میرے مشاہدات کی تفصیل جو تھی وہ میں نے جا کر حضرت مفتی صاحب کو کراچی میں سنا دی ساری۔ مفتی صاحب کو جب میں نے ساری بات سنا دی تو حضرت نے مجھے بھری مجلس میں کہا، یعنی تین دن کے بعد:

"شبیر! میں نے آپ کی بات پر غور کر لیا ہے۔ میں پہلے سمجھتا کہ صرف 15 درجے پر ٹھیک ہو سکتا ہے، لیکن اب کہتا ہوں 18 بھی ٹھیک ہو سکتا ہے، 15 بھی ٹھیک ہو سکتا ہے، 19 بھی ٹھیک ہو سکتا ہے جیسے مراکش میں ہے، اس کی... یہ جو بات فرمائی کہ اس کا مطلب ہے کہ اب میں ایک بات... ہاں البتہ فرمایا اتنا کرو کہ 18 درجے کے مطابق آپ عشاء کی نماز، تہجد کی نماز اور سحری یہ کر لو۔ اور 15 درجے کی رعایت کر لو نماز کے لیے، کہ نماز ذرا تاخیر سے پڑھو۔"

وہ تقریباً کچھ 18، 19 منٹ کا فرق پڑتا ہے۔ اتنے تاخیر سے پڑھ لو تاکہ وہ وقت بھی داخل... اور یہ ایک اچھی بات تھی، میں نے کہا حضرت میرا بھی مسلک یہی ہے، یہ بات بالکل صحیح ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت نے بھری مجلس میں کہہ دیا، بعد میں میں نے ساری بات کتاب میں لکھ دی اور یہ کتاب حضرت تک پہنچا دی گئی، اس نے ان کی تردید بھی نہیں کی۔

لیکن ہمارے ہاں ایک بزرگ ہیں یہیں پر ملک بشیر احمد بگوی صاحب، معمر آدمی ہیں، 80 سال کی عمر کے ہیں لیکن پتہ نہیں ان کو کیا اس مسئلہ میں نظر آتا ہے۔ وہ جگہ جگہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں جی 15 درجے کے مطابق کرو تو آپ کا روزہ بھی کم ہو جائے گا اور آپ کی عشاء کی نماز بھی جلدی ہو جائے گی۔

خدا کے بندے! یہ کوئی مسئلے کا طریقہ ہے؟ یہ لوگوں کو اس طرح بتایا جاتا ہے؟ بھئی آج کل تو نفسا نفسی والی بات ہے، نفس کے پیچھے لوگ چلتے ہیں، آپ ان کو کہہ دیں کہ روزہ آپ کا کم ہو جائے گا تو سب لوگ تو اس کے پیچھے چلے جائیں گے۔ یہ تو تحقیق کی بات ہے۔ یہ روزہ کم اور زیادہ ہونے کی بات تو نہیں ہے۔ اور نہ جو ہے نا مطلب یہ کوئی اس کی بات ہے کہ آپ کی عشاء کی نماز جلدی پڑھیں گے۔

تو بہت سارے لوگ ان کے دھوکے میں آئے تھے، یہاں تقریبا 16، 17 مساجد کے علماء کرام، ان کے نام لے لیے تھے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ اتفاق کر لیا اور اس کا فتویٰ دے دیا۔

ان حضرات کے ساتھ پھر ہم نے خود ملا، گاڑی لے کے سب کے... وہ کہتے ہیں جی ہم نے تو یہ نہیں کہا تھا، وہ ہمارے پاس آئے تھے ہم نے کچھ بھی نہیں کہا تو سمجھے کہ شاید ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اے خدا کے بندوں! یہ کوئی دین کی بات ہے، دنیا کی بات ہے؟

مثال کے طور پر 18 درجہ غلط ہے، اور میں آپ سب کو 18 پر لے آؤں، تو مجھے کتنا فائدہ ہوا؟ تباہی ہو گئی نا، اگر 18 درجے غلط ہے تو میں آپ کو کیوں بتاؤں گا؟ میں تو... مطلب آپ کے 18 درجے پر مطلب روزہ کرنے کی یا نماز پڑھنے کی مجھے کیا فائدہ؟ خواہ مخواہ ایک مطلب جو ہے نا اپنے آپ کو ذمہ دار بنانے والی بات ہے۔

تو یہ تو تحقیق کی بات ہے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں نا، دوسرے حضرات فتویٰ دیں نا، یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے کہ چلو انہوں نے ذمہ داری لے لی، بجائے اس کے کہ میں ذمہ دار ہوں، کوئی اور ذمہ دار ہو جائے تو اچھی بات ہے۔ یہ اچھے لوگ تو اس طرح کرتے ہیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ چونکہ وہ بھی نقشے چھاپتا ہے۔ اگر کسی کے پاس اس کا نقشہ ہے، جس کا تقریباً 15، 20 منٹ کا فرق ہو گا ہمارے نقشے کے حساب سے، تو وہ اس نقشے پہ عمل نہ کریں، اپنے روزے خراب نہ کریں۔

یعنی یہ میں صرف آپ کو یہ بات اس لیے... کہ اپنے روزوں کو خراب نہ کریں کیونکہ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ 18 درجے کے وقت کے بعد کوئی ایک منٹ کے بعد بھی کھائے گا پیئے گا تو اس کا روزہ نہیں ہو گا۔ 18 درجے کے وقت کے مطابق اگر مطلب اس کے بعد ایک منٹ کے بعد بھی کوئی کھائے گا پیئے گا تو اس کا روزہ نہیں ہو گا۔

تو جب اتنی بات... اب مولانا تقی عثمانی صاحب کو آپ سب حضرات جانتے ہیں کہ شیخ الاسلام ہیں اس وقت، پوری دنیا میں اس کو مانا جاتا ہے۔ تو اگر ہم لوگ ان کی بات بھی نہ مانیں تو کس کی بات پھر مانیں؟ تو یہ ضد والی بات نہیں ہے، تحقیق والی بات ہے۔ اور مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس پہ تحقیق کر چکے تھے، وہ اگر بات مان گئے تو پھر اس کے بعد مزید کیا ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں چھوٹا سا، پھر آگے دوسرے موضوع پہ جاتا ہوں۔

جس وقت مفتی صاحب میری بات مان گئے نا، میں بنوری ٹاؤن میں تھا پڑھا رہا تھا، ان کا ایک شاگرد (ابھی فوت ہو گئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے) میرے پاس آئے انجینئر تھے۔ مجھے کہتے ہیں جی آپ مفتی صاحب سے بات کر چکے ہیں؟ میں نے کہا "ہاں"۔ کہتے ہیں: آپ میرے ساتھ بھی بحث کریں۔

میں نے کہا آپ کون ہوتے ہیں؟ کہتے ہیں میں اس کا شاگرد ہوں۔ میں نے کہا پھر استاد سے میری بات ہو گئی نا، پھر شاگرد سے بات کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں اگر آپ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے بات کی نہیں اور جو میں کہہ رہا ہوں جھوٹ کہہ رہا ہوں، تو آپ حضرت کے پاس پھر چلے جائیں، وہ مجھے بلا لیں، میں پھر دوبارہ حاضر ہوں گا، آپ کے سامنے ان سے بات کر لوں گا۔ یہ بات تو میں کر سکتا ہوں لیکن تیرے ساتھ میں وقت کیوں لگاؤں؟ مطلب مفتی صاحب کے تو ہزاروں شاگرد ہوں گے، تو ان ہزاروں شاگردوں کے ساتھ میں علیحدہ علیحدہ بات کروں گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟

تو وہ میرے سخت خلاف ہو گئے اور ملک بشیر احمد بگوی صاحب کو پھر اس نے تیار کیا ہے۔ مطلب وہ یہاں پر آئے تھے لال مسجد میں، تو انہوں نے اس کو تیار کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی توفیق دے دے کہ اس بات پر غور کر لے۔ آخری عمر ہے، اس وقت توبہ کا وقت ہوتا ہے۔ مطلب یہ جو آخری عمر ہوتا ہے ہمارا بھی آخری عمر ہے، تو توبہ کا وقت ہے، اس میں لڑائی جھگڑے کی بات نہیں ہے، نہ ضد کی بات ہے۔ اور صرف آپ حضرات سے میں نے اس لیے کہا کہ وہ چونکہ جگہ جگہ پھرتے ہیں اور یہ بات پہنچاتے ہیں تو آپ سے بھی میں نے عرض کیا۔

بہرحال یہ ہے کہ اب چونکہ رمضان شریف شروع ہو گیا ہے، رمضان شریف سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ فائدہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اس میں نفل نماز پڑھو گے نا، فرضوں کا اجر ملے گا۔ کوئی نفلی صدقہ دو گے تو فرض صدقہ کا اجر ملے گا۔ اس میں فرض نماز پڑھو گے تو ستر فرضوں کا اجر ملے گا۔ ستر فرضوں کا اجر ملے گا۔ یعنی اس وقت ہم جو نمازیں پڑھ رہے ہیں پانچ نمازیں، وہ 350 نمازوں کے برابر اجر مل رہا ہے۔ الحمد للہ۔ ٹھیک ہے نا! تو اب اگر 350 نمازوں میں سے ایک جماعت ہم سے مِس (Miss) اگر خدانخواستہ ہوتی ہے تو کتنا نقصان ہے؟ بڑا نقصان ہے۔ تو لہٰذا ہم لوگ فرض نمازوں کی تو بہت زیادہ مطلب جو ہے نا احتیاط کریں کہ کوئی مِس (Miss) نہ ہو جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ دیکھو یہ تکبیرِ اولیٰ ہے نا تکبیرِ اولیٰ، سبحان اللہ! یہ کیا چیز ہے؟ اگر چالیس دن تک کوئی شخص تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھے، اس سے تکبیرِ اولیٰ مِس (Miss) نہ ہو جائے۔ تکبیرِ اولیٰ کس کو کہتے ہیں؟ تکبیرِ اولیٰ اس کو کہتے ہیں کہ امام کہہ دے "اللہ اکبر" تو آپ بھی ساتھ ہی "اللہ اکبر" کہہ دیں۔ وہ جو ثناء ہے نا، ثناء پڑھنے سے پہلے پہلے آپ شامل ہو جائیں۔ یہ تکبیرِ اولیٰ ہے۔

اب اگر تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھے 40 دن تک، تو پھر کیا ہو گا؟ آپ کو تین پروانے ملیں گے... دو پروانے ملیں گے۔

ایک جہنم سے خلاصی کا، اور ایک نفاق سے بری ہونے کا۔

کتنی بڑی بات ہے! رمضان شریف میں یہ حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ کیوں؟ رمضان شریف میں ایک تو شیطان قید ہوا ہے نا، اور دوسرا جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ نفس پر بھی پیر پڑ گیا ہے، اور انسان اس میں عبادت کے لیے زیادہ مستعد ہوتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص اس کو شروع کر لے تو دیکھو کتنے دن باقی ہیں رمضان شریف میں؟ تقریبا 25، 26 دن ہیں۔ 25، 26 دن یہ ہو گئے، 14 دن اس کے بعد کر لو تو آپ کا ماشاءاللہ یہ بھی پورا ہو جائے گا، ٹھیک ہے نا۔ اور ساتھ ساتھ ماشاءاللہ وہ آپ کو اس کا اجر بہت زیادہ... بہت زیادہ مل جائے گا، ایک تو یہ بات ہے اجر ملے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس میں اگر کسی روزہ دار کا آپ افطار کرائیں گے، روزہ دار کا افطار کرائیں گے، تو جتنا اجر اس کو مل رہا ہے نا روزے کا، اتنا اجر آپ کو بھی مل جائے گا۔ سبحان اللہ! اتنا اجر آپ کو بھی مل جائے گا۔

اچھا صحابہ کرام اکثر غریب تھے۔ تو صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو اتنی وسعت نہیں ہے کہ ہم روزہ دار کو افطار کرا سکیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اجر تو ایک کھجور پر، یا تھوڑے سے دودھ پر، یا تھوڑے سے پانی پر افطار کرانے پر بھی ملتا ہے۔

لیکن اگر کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، پھر تو فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ اس کو میرے حوضِ کوثر سے پانی پلایا جائے گا۔ اور جہنم سے خلاصی اس کی ہو جائے گی۔ اس کو اس وقت تک پیاس نہیں لگے گی جب تک وہ جنت میں داخل نہ ہو جائے گا۔ اور جنت میں تو پھر وہ ہے ہی نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنے زیادہ ماشاءاللہ اس کے اندر برکتیں ہیں۔

اور پھر اس کا جو پہلا عشرہ ہے، ابھی جس میں ہم چل رہے ہیں، یہ رحمت برس رہی ہے۔ رحمت کا عشرہ ہے۔ اور پھر جو دوسرا عشرہ ہے، وہ مغفرت کا عشرہ ہے۔ اور جو تیسرا عشرہ ہے، وہ تو جہنم سے خلاصی کا عشرہ ہے۔

اب دیکھیں اس میں ایک زبردست قسم کا میسج (Message) ہے۔ اور وہ میسج (Message) یہ ہے کہ جو نیک لوگ ہوتے ہیں نیک لوگ، ان پہ تو ابتدائی سے رحمت شروع ہو جاتی ہے نا۔ جو ذرا پیچھے والے ہیں، ان کے دوسرے عشرے سے مغفرت شروع ہو جاتی ہے۔ اور جو بہت ہی گڑبڑ قسم کے لوگ ہیں، ان کی بھی آزادی ہو جاتی ہے آخری عشرے میں۔ جہنم سے خلاصی ہو جاتی ہے ان کی، ان کی گردن بھی چھوڑ دی جاتی ہے۔

اب ذرا دیکھیں اگر ان میں بھی کوئی نہیں ہے تو پھر... وہ بھی سناتا ہوں، وہ بھی سناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ "آمین" کہا منبر پر چڑھتے ہوئے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ نے ایک نئی بات کی ہے، پہلے آپ سے نہیں دیکھی، یہ آپ نے آمین کیوں کہا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام آئے تھے، اس نے تین بد دعائیں کی ہیں، میں نے اس پر آمین کہا ہے۔

پہلی بد دعا یہ تھی کہ: جو رمضان شریف کا مہینہ پائے، اور اس کی وجہ سے اس کی مغفرت نہ ہو، وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ تباہ و برباد ہو جائے۔ میں نے کہا آمین۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے فرمایا گیا کہ آمین کہو، تو میں نے آمین کہہ دیا۔

دوسرا... دوسرا آمین میں نے اس لیے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بد دعا کی جبرائیل علیہ السلام نے کہ: جس کے سامنے آپ کا نام لیا جائے اور درود شریف کوئی نہ بھیجے آپ پر، تو وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ تو میں نے کہا آمین۔

اور تیسری بات ہے: جن کے والدین میں سے کوئی... مطلب ہے بڑھاپے کو پہنچ جائے اور اس کے ذریعے سے ان کی مغفرت نہ ہو جائے خدمت کی وجہ سے، تو وہ تباہ و برباد ہو جائے، تو میں نے کہا آمین۔

اگر دیکھا جائے تو یہ تینوں باتیں شکر کی ہیں... ناشکری کی وجہ سے یہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ہمارے اوپر احسانات ہیں، اس کے باوجود ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجیں تو یہ ناشکری ہے۔ والدین، ان کی جو خدمات ہمارے لیے ہوتی ہیں، اگر ان کا ہم شکر ادا نہ کریں تو یہ ناشکری ہے، اس کی سزا ہے۔

اور رمضان شریف پہ اللہ پاک اتنا دیتے ہیں کہ اس کی مثال میں اکثر دیتا ہوں کہ جیسے دس دروازے ہوں۔ اور ہر دروازے پر مطلب جو ہے نا کھڑا ہو کہ کوئی گفٹ (Gift) آپ کو دینا چاہتے ہو۔ تو آپ گفٹ (Gift) کو دیکھ کر دوسرے دروازے کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔ پھر وہ جو ہے نا وہ آتا ہے ادھر، تو پھر دوسرے دروازے کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔ اس طرح گویا کہ ہر دروازے سے آپ جو ہے نا وہ بھاگتے ہیں کہ آپ کو وہ گفٹ (Gift) نہ ملے۔ تو پھر وہ کہا جاتا ہے جاؤ بھاڑ میں جاؤ! تجھے گفٹ (Gift) نہیں ملتا۔ اب پھر یہ ہو گا۔

تو یہ اس قسم کی صورتحال ہے کہ اگر رمضان شریف میں بھی کوئی اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، تو یہ تباہ ہو جاتا ہے، برباد، بد بخت آدمی ہے کہ اس کو مطلب اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ رمضان شریف میں اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ تو رمضان شریف میں بہت زیادہ متوجہ ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ کی طرف، ایک بات۔

دوسری بات یہ ہے کہ پھر اس کے بعد اخیر میں آتا ہے آخری عشرہ، اس میں اعتکاف بھی ہے۔ سبحان اللہ! اعتکاف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا، مسنون اعتکاف۔ اور اعتکاف کے اندر اللہ پاک نے ایک بہت بڑی نعمت رکھی ہے اور وہ ہے لیلۃ القدر۔ آخری عشرے میں ہوتی ہے لیلۃ القدر۔

لیلۃ القدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک کہتا ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿1﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿2﴾

بے شک ہم نے نازل کیا قرآن لیلۃ القدر میں، اور تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿3﴾ تو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے، ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔(سورۃ القدر: 1-3)

اس کا مطلب ہے اگر آپ نے ایک پارہ تلاوت کیا لیلۃ القدر میں، ایسا ہے جیسے ہزار مہینے آپ نے ہر رات میں ایک پارہ تلاوت کیا۔ بلکہ اس سے زیادہ، "خَيْرٌ مِّنْ" (سورۃ القدر: 3) فرمایا گیا، بلکہ اس سے زیادہ۔ تو یہ بات ہے۔

تو اب اگر اتنی بڑی سعادت مل رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخری عشرے میں ہیں... آخری عشرے میں ہیں۔ تو میں آپ کو بتاؤں کہ اگر اتنی بڑی چیز دنیا کی مل رہی ہو تو اس کے لیے کوئی دس دن کی چھٹی نہیں لے گا؟ لے گا یا نہیں لے گا؟ بھئی کاروبار بند نہیں کرے گا؟ ہاں! باقی تمام ایکٹیویٹیز (Activities) اسٹاپ (Stop) نہیں کرے گا؟ کرے گا نا!

تو یہ بھی تو ایسی چیز ہے نا، یہ تو آخرت کی... یعنی ہزار مہینے سبحان اللہ! 83 سال بنتے ہیں، 83 سال۔ یعنی گویا کہ آپ نے اس ایک رات میں عبادت کی تو آپ نے 83 سال عبادت کی ہے۔ سبحان اللہ! اب 83 سال اگر آپ کو ایک... ہر سال میں توفیق ہوتی ہے اعتکاف کی اور اس میں آپ کو یہ مل رہا ہے... تو ہر سال کے 83 سال مل رہے ہیں۔ 10 سالوں میں 830 سال، 20 سالوں میں 1660... سال، پھر جو ہے نا پھر تقریباً ڈھائی ہزار سال 30 سال میں۔ اب ماشاءاللہ کتنے لوگ لیں گے؟

بہت زیادہ اللہ پاک مطلب دینا چاہتے ہیں۔ تو اگر کوئی شخص اس میں اعتکاف کر لے تو سبحان اللہ بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے۔

اچھا اب ایک بات اور عرض کروں اس کے ساتھ ملتی جلتی، وہ یہ ہے:

نوافل اگر آپ اس میں ادا کرتے ہیں نا، تو جیسے آپ پارہ تلاوت کرتے ہیں تو نفل ہی ہے نا... مستحب ہے۔ یا نفل پڑھتے ہیں، یا کوئی نفل ذکر کرتے ہیں۔ تراویح تو خیر آپ پڑھتے ہو، سنتِ مؤکدہ ہے، فرض نماز بھی پڑھتے ہیں، وہ بھی اس کا اجر بھی بڑھ جاتا ہے۔

تو اگر فرض عمل آپ اس میں کوئی کر لے تو پھر کیسا ہو گا؟ اس کا اجر کتنا ہو گا؟ تو اب ایک بات عرض کرتا ہوں، مجھے آپ بتائیں کہ اپنی اصلاح... اپنی ذات کی اصلاح، اپنے نفس کی اصلاح، یہ فرضِ عین ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے نا: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا (سورۃ الشمس: 9-10)۔ فرض عین ہے۔

یہ فرض عین اگر آپ اس اعتکاف میں لے آئیں... پھر اس کا کتنا اجر ہو گا؟ اگر اعتکاف میں اس کو آپ لائیں تو پھر اس کا کتنا اجر ہو گا؟

یہی وہ بات تھی کہ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مجبور کیا پانچ سال آخری... آخری پانچ سال جب کہ حضرت کی ایسی حالت تھی کہ لوگ جو ہے نا ان کو چار آدمی اس کو اٹھاتے تھے... چار آدمی ان کو اٹھاتے تھے۔ میں نے حضرت کی زیارت کی ہے، فیصل آباد تشریف لائے تھے۔ تو چار آدمی ان کو اٹھاتے تھے۔ اس حالت میں حضرت نے پانچ سال اعتکاف کیے ہیں۔

اور مختلف جگہوں پہ، چار سال... چار سال انہوں نے کفرستان میں کیے ہیں؛ انگلینڈ میں، جنوبی افریقہ میں، برما میں، انڈیا میں۔ اور ایک دفعہ پاکستان میں کیا ہے فیصل آباد میں۔ ایک دفعہ کیا ہے۔

تو اب دیکھو یہ کس چیز نے مجبور کیا؟ کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اب لوگ خانقاہیں تقریباً کم ہو گئی ہیں بہت زیادہ، تو ہر مسجد کو خانقاہ بناؤ اعتکاف کے ذریعے سے۔

تو حضرت نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ الحمد للہ یہاں پر بھی ہوتا ہے، ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے الحمد للہ ہمارے اعتکاف بھی ہوتا ہے اصلاحی، اس طرح مختلف جگہوں پہ لاہور میں ہوتا ہے، کراچی میں ہوتا ہے، دوسری جگہوں پہ حضرت کی برکت سے۔

تو بہرحال اب ہمیں ذرا اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وقت کم ہے، ورنہ باتیں بہت ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين