استقبالِ رمضان اور فضائلِ اعمال: حدیثِ سلمان فارسیؓ کی جامع تشریح

فضائل رمضان، فصل اول، اشاعت اول 23 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        مجددین اور قطبِ ارشاد کا مقام و مرتبہ اور دینی خدمات۔

•        حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ اور فضائلِ اعمال کی اہمیت۔

•        شعبان کے آخری دن نبی کریم ﷺ کا خطبہ (حدیثِ سلمان فارسیؓ)۔

•        رمضان میں اعمال کا اجر (نفل فرض کے برابر اور فرض ستر گنا)۔

•        صبر، غمخواری اور افطار کرانے کی عظیم فضیلت۔

•        رمضان کے تین عشرے (رحمت، مغفرت، جہنم سے آزادی)۔

•        رمضان میں چار چیزوں کی کثرت (کلمہ، استغفار، طلبِ جنت، پناہِ جہنم)۔

•        تراویح کی اہمیت اور جلد قرآن ختم کر کے تراویح چھوڑنے کی اصلاح۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

معزز خواتین و حضرات!

فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسا کہ ہمارا معمول ہے۔

حضرت نے یہ بہت محبت کے ساتھ یہ فضائلِ رمضان لکھے ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اس کا فائدہ ہے۔

یہ میں آپ سے عرض کروں کہ مجددین جو ہوتے ہیں نا مجددین... ان کے ساتھ ایک خاص بات ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ بات ہوتی ہے کہ چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ افراط و تفریط آجاتا ہے، خود بخود آتا ہے۔ یہ جیسے مطلب گھر ویران ہو رہا ہے خود بخود، تو اس کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ تو مجدد کے اوپر اللہ تعالیٰ اس وقت کے جو افراط و تفریط ہے، وہ کھول لیتے ہیں۔ اور پھر اس کا حل بھی۔ تو وہ بالکل دوبارہ نئے سرے سے نکھار کے لے آتے ہیں۔

تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کر لیا، پھر اس کے بعد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا، پھر سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا، اور پھر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا۔

اور دوسرے حضرات جو ہوتے ہیں، جو مشائخ ہوتے ہیں، ان میں جو حضرات قطب ہوتے ہیں، وہ ایک محور بن جاتے ہیں... مطلب ایک خاص۔ تو قطبِ ارشاد جو ہوتا ہے وہ علمی مرکز بن جاتا ہے۔ تو ہمارے حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ قطبِ ارشاد تھے۔

نتیجۃً علمی اشکالات کے جو جوابات اور یہ تمام چیزیں جو ہیں، وہ حضرت کے ذریعے سے بہت ماشاء اللہ یعنی کھلی ہیں عملی طور پر۔ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائے کہ انہوں نے حضرت سے فضائلِ اعمال لکھوائی۔ اور واقعتاً بڑی کمال کی چیز ہے یہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے۔

کل ہم نے الحمد للہ اس کا جو ابتدائیہ تھا وہ پڑھا تھا۔ یعنی حضرت نے یہ کتاب کیسے لکھی، اس کے بارے میں جو فرمایا تھا۔ آج فصلِ اول سے شروع کرتے ہیں۔

فصلِ اول: فضائلِ رمضان میں۔

یہ وہی مشہور حدیث شریف ہے جو آپ ﷺ نے اخیر شعبان میں خطبہ دیا تھا، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی۔ تو وہ حضرت نے پہلے دیا ہے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے، (شبِ قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے، جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے، ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہو گا، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے،

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑے غریب تھے زیادہ تر، مالدار تو ان میں کم تھے۔

تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ جل شانہٗ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے، یا ایک گھونٹ پانی پلا دے، یا ایک گھونٹ لسی پلا دے، اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام (خادم) کے بوجھ کو، حق تعالیٰ شانہٗ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو۔ جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو، جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔

فائدہ:

محدثین کو اس کے بعض رُواۃ (راویوں) میں کلام ہے، اول تو فضائل میں اس قدر کلام قابلِ تحمل ہے، دوسرے اس کے اکثر مضامین کی دوسری روایات مؤید ہیں۔ اس حدیث سے چند امور معلوم ہوتے ہیں: اول نبی کریم ﷺ کا اہتمام کہ شعبان کی اخیر تاریخ میں خاص طور سے وعظ فرمایا اور لوگوں کو تنبیہ فرمائی، تاکہ رمضان المبارک کا ایک سیکنڈ بھی غفلت سے نہ گزر جائے۔ پھر اس وعظ میں تمام مہینہ کی فضیلت بیان فرمانے کے بعد چند اہم امور کی طرف خاص طور سے متوجہ فرمایا۔ سب سے اول شبِ قدر کہ وہ حقیقت میں بہت ہی اہم رات ہے، ان اوراق میں اس کا بیان دوسری فصل میں مستقل آئے گا ان شاءاللہ۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ نے اس کے روزہ کو فرض کیا اور اس کے قیام یعنی تراویح کو سنت کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی خود حق سبحانہ و تقدس کی طرف سے ہے۔ پھر جن روایات میں نبی کریم ﷺ نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا کہ میں نے سنت کیا، ان سے مراد تاکید ہے کہ حضور ﷺ اس کی تاکید بہت فرماتے تھے، اسی وجہ سے سب ائمہ اس کے سنت ہونے پر متفق ہیں، برہان میں لکھا ہے کہ مسلمانوں میں روافض کے سوا کوئی شخص اس کا منکر نہیں۔

حضرت مولانا شاہ عبدالحق صاحب دہلویؒ نے "ماثبت بالسنۃ" میں بعض کتبِ فقہ سے نقل کیا ہے کہ کسی شہر کے لوگ اگر تراویح چھوڑ دیں تو اس کے چھوڑنے پر امام ان سے مقاتلہ کرے۔ اس جگہ خصوصیت سے ایک بات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جلدی سے کسی مسجد میں آٹھ دس دن میں کلام مجید سن لیں پھر چھٹی۔ یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دو سنتیں الگ الگ ہیں: تمام کلام اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے۔ اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے۔ پس اس صورت میں ایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی، البتہ جن لوگوں کو رمضان المبارک میں سفر وغیرہ یا کسی اور وجہ سے ایک جگہ تراویح پڑھنی مشکل ہو، ان کے لئے مناسب ہے کہ اول قرآن شریف چند روز میں سن لیں تاکہ قرآن شریف ناقص نہ رہے، پھر جہاں وقت ملا اور موقعہ ہوا وہاں تراویح پڑھ لی، کہ قرآن شریف بھی اس صورت میں ناقص نہیں ہوگا اور اپنے کام کا حرج بھی نہ ہوگا۔

استقبالِ رمضان اور فضائلِ اعمال: حدیثِ سلمان فارسیؓ کی جامع تشریح - فضائل رمضان