تحویلِ قبلہ کی حکمتیں اور امتِ وسط کا مقام

اشاعت اول، 28 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        تحویلِ قبلہ پر اعتراضات اور ان کا جواب

•        سمتوں کا تقدس اور اللہ کا حکم

•        "امتِ وسط" (معتدل امت) کا مفہوم

•        روزِ قیامت امتِ محمدیہ کی دیگر انبیاء کے حق میں گواہی

•        شریعتِ محمدی ﷺ کا کمال اور اعتدال

•        سابقہ شریعتوں (موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام) سے موازنہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

سَيَقُولُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَآءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿142﴾ وَكَذَالِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللهُ ۗ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿143﴾


اب یہ بے وقوف لوگ کہیں گے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے ان (مسلمانوں) کو اُس قبلے سے رُخ پھیرنے پر آمادہ کر دیا جس کی طرف وہ منہ کرتے چلے آرہے تھے؟ آپ کہہ دیجئے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت کر دیتا ہے ﴿142﴾

واقعات کا پس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کو بیت المقدس کا رُخ کرنے کا حکم دیا گیا۔ جس پر آپ تقریباً سترہ مہینے تک عمل فرماتے رہے۔ اس کے بعد دوبارہ بیت اللہ شریف کو قبلہ قرار دے دیا گیا۔ تبدیلی کا یہ حکم آگے آیت نمبر 144 میں آرہا ہے۔ یہ آیت پیشین گوئی کر رہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تبدیلی پر بڑے اعتراضات کریں گے، حالانکہ یہ حقیقت اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کے لئے کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قبلے کی کوئی خاص سمت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قبلے کی سمت میں تشریف فرما ہے۔ وہ تو ہر سمت اور ہر جگہ موجود ہے اور مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب، یہ ساری جہتیں اسی کی بنائی ہوئی ہیں۔ البتہ چونکہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرتے وقت تمام مؤمنوں کے لئے کوئی ایک سمت مقرر کر دی جائے، اس لئے یہ سمت اللہ تعالیٰ ہی اپنی حکمت کے تحت مقرر فرماتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سمت بذاتِ خود مقدس یا مقصود ہے۔ جو کچھ تقدس کسی قبلے یا اس کی سمت میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے آتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے جس سمت کو چاہے قبلہ قرار دے سکتا ہے۔ ایک مؤمن کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ آیت کے آخر میں سیدھی راہ کا جو ذکر ہے اس سے مراد اسی حقیقت کا ادراک ہے۔

اللہ اکبر!

اور (مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل اُمت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔

یعنی جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں تمام دوسری جہتوں کو چھوڑ کر کعبے کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا، اور تمہیں اسے دل وجان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن اُمت بنایا ہے۔ (تفسیر کبیر) چنانچہ اس اُمت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیامِ قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔ معتدل اُمت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس اُمت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف انکار کر دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا تھا تو اُمتِ محمدیہ کے لوگ انبیاء کرام کے حق میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے رسالت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی امتوں کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، اور اگرچہ ہم خود اس موقع پر موجود نہیں تھے لیکن ہمارے نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے باخبر ہو کر ہم کو یہ بات بتلا دی تھی اور ہمیں اُن کی بات پر اپنے ذاتی مشاہدے سے زیادہ اعتماد ہے۔

دوسری طرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی اس بات کی تصدیق فرمائیں گے۔ نیز بعض مفسرین نے اُمتِ محمدیہ کے گواہ ہونے کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ شہادت سے مراد حق کی دعوت و تبلیغ ہے، اور یہ اُمت پوری انسانیت کو اسی طرح حق کا پیغام پہنچائے گی جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہنچایا تھا۔ باتیں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں۔

بہرحال جو بات یہاں ہمارے سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک معتدل امت بنایا ہے۔ معتدل اس چیز کو کہتے ہیں جس میں افراط و تفریط نہ ہو۔ اور اس میں اللہ جل شانہ نے وہ تمام صفات جمع کر دی ہیں جو ایک معتدل امت میں ہونی چاہیے۔ اس کی تشریح زیادہ تو آپ کو سیرت النبی ﷺ میں ملے گی یعنی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے اور اس پر الحمد للہ حضرت کافی تفصیل سے بات کر چکے ہیں کہ یہ امت کیسی معتدل امت ہے۔

اصل میں وقت کے حالات کے لحاظ سے احکامات تبدیل ہوتے ہیں جیسے یہ قبلہ کے بارے میں ابھی بات گزر گئی۔ تو جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو جن حالات میں احکام دیے گئے، ان کے لیے وہ چیزیں ضروری تھیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو جو احکامات دیے گئے، ان کے لیے وہی ضروری تھیں کیونکہ ان کے حالات ایسے تھے۔ تو گویا کہ ایک چیز کو کور (Cover) کیا گیا موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں، دوسرے کو کور کیا گیا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں۔ اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا آدم علیہ السلام سے لے کے۔

چونکہ آپ ﷺ پر نبوت مکمل ہو گئی، تو اب ایک ایسا Setup دینا چاہیے تھا قیامت تک، جس میں سب لوگوں کا خیال رکھا جائے۔ یعنی جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا خیال رکھا گیا موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں، اور عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کا خیال رکھا گیا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں۔ لیکن وہ تو گزر گئے۔ اب قیامت تک کے لیے چونکہ ایک ہی دین ہو گا، اس میں تبدیلی نہیں آئے گی، لہذا وہ ایسا Setup ہو جو کہ سب کے لیے Suitable ہو۔

تو وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک کی اس میں رعایت رکھی جائے۔ یعنی افراط و تفریط سے بالکل پاک کر دیا جائے۔ افراط و تفریط سے۔ تو اس امت کو وہ تعلیمات دیے گئے۔ میں نے اس لیے عرض کیا کہ یہ میرے الفاظ پوری تشریح نہیں کر پا رہے، اس کی وجہ یہ کہ اس میں تفصیلات بہت زیادہ ہیں۔ باقاعدہ حضرت نے مثالیں دے دے کر وہ ساری چیزیں سمجھائی ہیں کہ کس طریقے سے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں زکوٰۃ کس طرح تھا؟ اور عیسیٰ علیہ السلام کے وہاں اس کا کیا رخ تھا؟ اور اب ہمارے لیے کیا ہے؟ تو وہ تو بالکل معتدل۔ اسی طریقے سے موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں نماز کیا تھا؟ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم میں کیا... اب ہمارے ہاں کیسے ہیں؟ تو باقاعدہ ہر چیز کا ماشاء اللہ، ماشاء اللہ انہوں نے مثالیں دی ہیں، تو ان کو اگر کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، ان کو ماشاء اللہ بہت فائدہ ہو گا۔


۔۔۔جاری ہے ان شاءاللہ۔۔۔

تحویلِ قبلہ کی حکمتیں اور امتِ وسط کا مقام - درسِ قرآن - دوسرا دور