روزہ کی فرضیت کا پس منظر اور حکمت: فاقہ کشی یا روحانی علاج؟

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، جلد 5، روزہ کی فرضیت

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • روزے کی فرضیت کا وقت: 
    • مکی اور مدنی زندگی کا فرق: 
      • روحانی امراض کا علاج: 
        • علامہ ابن قیمؒ کا قول:
          • تقویٰ اور فجور:

            اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ


            آج جمعرات کا دن ہے اور جمعرات کے دن ہمارے ہاں آج کل سیرت کے موضوع پر بات ہوتی ہے

            فرضیتِ صیام کا مناسب موقع دو ہجری:

            اگر اسلامی عبادات کا قالب روح سے خالی ہوتا اور اس سے صرف جسم کی ریاضت مقصود ہوتی تو نماز سے پہلے روزہ فرض کیا جاتا۔ روزہ عرفِ عام میں فاقہ کشی کا نام ہے اور ممالکِ عرب کو ملک کی اقتصادی حالت کی وجہ سے اکثر یہ سعادت نصیب ہو جایا کرتی ہے۔

            ظہورِ اسلام کے بعد کفار نے مسلمانوں کو جن پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا تھا، اس نے ان کو عرب کے معمولی طریقہ کسبِ معاش کی طرف سے بھی غیر مطمئن کر دیا تھا۔ جن لوگوں نے آپ ﷺ کی حمایت کی تھی، تمام قبائل نے ان سے تمدنی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ اس حالت میں صرف روزہ ہی ایک ایسا فریضہ تھا جو عرب کی عام حالت اور مسلمانوں کی موجودہ زندگی کے لیے موزوں ہو سکتا تھا۔

            نماز و حج کی طرح اس میں کسی قسم کی مزاحمت کا بھی اندیشہ نہیں تھا، وہ ایک خاموش طریقہ عبادت تھا جو بلا روک ٹوک جاری رہ سکتا تھا۔ لیکن اسلام نے عبادات کو امراضِ روحانی کی دوا قرار دیا ہے جن کا استعمال صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب امراضِ روحانی پیدا ہو جاتے ہیں، یا ان کے پیدا ہونے کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔

            قوائے شہوانیہ اور زخارفِ دنیا کی شیفتگی اور لذاتِ حسیہ کے انہماک و توغل سے جو روحانی امراض پیدا ہو سکتے تھے، مکہ میں یہ تمام اسباب مفقود تھے۔ بلکہ خود کفار کے جور و ستم نے ان جذبات کا استیصال کر لیا تھا، اس لیے وہاں اس روحانی علاج کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

            آپ ﷺ مدینہ جب تشریف لائے تو کفار کے مظالم سے نجات ملی، انصار کے ایثارِ نفسی نے مسلمانوں کو وجہِ کفاف سے بے نیاز کر دیا، فتوحات کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور اس میں روز بروز وسعت پیدا ہوتی گئی۔ اب وقت آ گیا یا عنقریب آنے والا تھا کہ دنیا اپنی اصلی صورت میں مسلمانوں کے سامنے آ کر ان کو اپنا فریفتہ بنائے۔

            اس لیے یہ درحقیقت تداخل کا موسم تھا جس میں مرض کے پیدا ہونے سے پیشتر پرہیز کی ضرورت تھی اور وہ پرہیز تھا ’روزہ‘ جو دو ہجری میں فرض ہوا۔

            اس سے یہ شبہ دور ہو جاتا ہے جو بعض ناواقفوں کو ہوا تھا کہ چونکہ آغازِ اسلام میں مسلمانوں کو اکثر فاقہ سے دوچار ہونا پڑتا تھا اس لیے ان کو روزے کا خوگر کیا گیا۔ حالانکہ اصولِ اسلام کی رو سے فاقہ مستوں کو روزہ کی جتنی ضرورت ہے، شکم سیروں کے لیے اس سے زیادہ ضروری ہے۔

            علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ’زاد المعاد‘ میں لکھا ہے کہ:

            مرغوباتِ شہوانیہ کا ترک کرنا نہایت مشکل کام تھا اس لیے روزہ وسطِ اسلام میں فرض کیا گیا، جبکہ لوگ توحید، نماز اور احکامِ قرآنی کے خوگر ہو چکے تھے۔ اس لیے احکام کا یہ اضافہ اسی زمانے کے لیے موزوں تھا۔

            یہ دیکھیں نا! ان حضرات نے کیسے مزیدار تحقیق کی ہے۔ یعنی اس میں گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ بے بسی والا حالت نہیں ہے۔ جس وقت انسان کے پاس وسائل آ جاتے ہیں، ان وسائل میں وہ گم ہونے کا خدشہ ہو جاتا ہے۔ گویا کہ نفس کو مائل کرنے والی چیزیں عام ہو جائیں، اس وقت نفس کشی کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر روزے کا حکم ہو گیا۔

            کیونکہ روزہ کیا ہے؟ فجور کے ترک کا نام ہے۔ کیونکہ روزہ تقویٰ کے ظہور کا ذریعہ ہے۔

            يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔

            اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیا، تاکہ تم کو تقویٰ حاصل ہو۔

            تو اب تقویٰ جو ہے کیا ہوتا ہے؟ یہ فجور سے انکار ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ:

            فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔

            یعنی نفس کے اندر اللہ پاک نے دونوں چیزوں کو الہام فرما دیا۔ ایک اس میں فجور اور ایک اس میں تقویٰ۔ تو یہ فجور کیا ہے؟ فجور کا ضد تقویٰ ہے۔ لہذا فجور جب واقع ہو سکتے ہوں... جیسے ایک انسان ہے وہ بینا نہیں ہے، نابینا ہے، تو اس کو آپ کہیں گے کہ بد نظری نہ کرو؟ وہ تو کر ہی نہیں سکتا تو اس کو بد نظری سے روکنے کا کیا مطلب؟

            لیکن جو جوان ہے، جس میں پوری طاقت ہے اور جو غلطی میں پڑ سکتا ہے، ان کو آپ کہیں گے: نہیں اللہ سے ڈرو ایسا نہ کرو۔ اور وہ اس کے لیے تقویٰ ہو گا، اور وہ کیا ہو گا؟ اس کے لیے تقویٰ ہو گا۔

            تو تقویٰ جو ہے، اصل میں فجور سے رکاوٹ کا نام ہے۔ تو جب بھی مطلب ظاہر ہے کہ جس وقت شکم سیری اور اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں جس میں انسان غفلت میں جا سکتا ہے، اس غفلت سے دور کرنے کے لیے ذریعہ جو ہے نا کیا ہے؟ وہ روزہ ہے۔

            تو ماشاءاللہ اب بارہ مہینوں میں گیارہ مہینے ہم لوگ اپنے نفس کے کام میں مصروف ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کے اوپر وہ پابندیاں نہیں آئی ہوتی ہیں۔ لیکن جس وقت ایک مہینہ آ جاتا ہے تو پھر اس کا اوور ہالنگ (Overhauling) کرتے ہیں اور پھر اس کو باقی گیارہ مہینوں میں بھی اللہ کا حکم ماننے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ جس کا ذریعہ روزہ ہے۔

            اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔"


            تجزیہ اور خلاصہ:

            بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

            سب سے جامع اور بہترین عنوان:

            روزہ کی فرضیت کا پس منظر اور حکمت: فاقہ کشی یا روحانی علاج؟

            متبادل عنوان:

            خوشحالی کے دور میں نفس کی حفاظت اور روزے کا کردار

            اہم موضوعات:

            روزے کی فرضیت کا وقت: دو ہجری میں روزے کے فرض ہونے کی حکمت جب مسلمان مدینہ میں کسی حد تک خوشحال ہو رہے تھے۔

            مکی اور مدنی زندگی کا فرق: مکہ میں فاقہ کشی اور مظالم کی وجہ سے شہوانی امراض کا خطرہ نہیں تھا، اس لیے وہاں روزے کی ضرورت نہیں تھی۔

            روحانی امراض کا علاج: روزہ صرف بھوک کا نام نہیں بلکہ یہ خوشحالی (شکم سیری) سے پیدا ہونے والی غفلت اور روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔

            علامہ ابن قیمؒ کا قول: خواہشات کو ترک کرنا مشکل تھا، اس لیے روزہ اسلام کے وسط میں فرض ہوا۔

            تقویٰ اور فجور: تقویٰ کا اصل مفہوم گناہ پر قدرت رکھنے کے باوجود اللہ کے خوف سے رک جانا ہے۔


            روزہ کی فرضیت کا پس منظر اور حکمت: فاقہ کشی یا روحانی علاج؟ - درسِ سیرۃ النبی ﷺ