اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ ﴿139﴾ أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهٗ مِنَ اللهِ ۗ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿140﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿141﴾
کہہ دو کہ: ”کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو؟ حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ (یہ) اور (بات ہے کہ) ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں، اور تمہارے عمل تمہارے لئے۔ اور ہم نے تو اپنی بندگی اُسی کے لئے خالص کرلی ہے“ ﴿139﴾ بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں؟ (مسلمانو! ان سے) کہو: کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اُس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو؟
یعنی یہ حقیقت دراصل ان کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیائے کرام توحید خالص کا درس دیتے رہے ہیں اور ان بے بنیاد عقیدوں سے انبیائے کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے، اور اُن میں نبیِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم اُن کو چھپائے بیٹھے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ یہ صحیح بات نہیں لوگوں کے سامنے لانا چاہتے اور یہ ان کا پرانا طریقہ تھا کہ جو چیز ان کے حق میں نہیں ہوتا تھا اس کو نہیں بتاتے تھے۔ تو اس وجہ سے ان کو بار بار یہ کہا جا رہا ہے۔
اور یہاں پر یہ والی بات بھی ہے کہ اسلام جو ہے وہ تو مشترک ہے۔ یعنی ہر نبی کا دین جو ہے اسلام ہے۔ البتہ جس وقت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے اس وقت تورات پہ عمل ہو رہا تھا۔ چونکہ تورات اس وقت کتاب اتری تھی۔ پھر اس کے بعد جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو انجیل پر تھا۔ پھر جب آپ ﷺ آئے تو قرآن پر اب عمل ہوگا۔
تو یہ لوگ ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ اپنے طور پہ چونکہ یہ ان کے اندر ایک Racism اور ساتھ یہ بات ہے تعصب اور حسد، یہ چیزیں تھیں جس کی وجہ سے یہ حق کو قبول نہیں کر پا رہے تھے۔
اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے ﴿140﴾ (بہر حال!) وہ ایک اُمت تھی جو گذر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ اُن کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے؟ ﴿141﴾
مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے اعمال ان کے اپنے لیے ہیں۔ اور جو لوگ جو کچھ کر چکے ہیں اس کا ان کو اگر اچھا کیا تو اجر ملے گا اور اگر برا کیا تو سزا ملے گی۔ تو اس کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھا جائے گا۔ لیکن چونکہ ہم سے ہمارے بارے میں پوچھا جائے گا، ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، تو ہم خود اپنے اعمال کو بہتر کر دیں اور وہ کریں جو ہمارے لیے مفید ہو اور وہ نہ کریں جو کہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
ان شاء اللہ اگلی دفعہ سے یہ دوسرا پارہ شروع ہوگا۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔