الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! ام سلیم رضي الله عنها کو بچے کی موت پر صبر کرنے کا عظیم بدلہ، اس کے بارے میں حدیث شریف ہے۔
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ الصَّبِيِّ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى... أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَعَرَّسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ... مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَقَالَ: أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا، فَمَضَغَهَا... ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيْهِ، فَجَعَلَهَا فِي... فِي... فِي فِي الصَّبِيِّ، ثُمَّ حَنَّكَهُ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ... ابْنُ عُيَيْنَةَ... فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: فَرَأَيْتُ تِسْعَةَ أَوْلَادٍ كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأُوا... وَقَرَأُوا الْقُرْآنَ، يَعْنِي مِنْ أَوْلَادِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَوْلُودِ.
حضرت انس رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضي الله عنه کا ایک لڑکا بیمار تھا۔ ابو طلحہ رضي الله عنه گھر سے نکلے تو اس کا انتقال ہو گیا۔ واپس آئے تو لڑکے کے بارے میں پوچھا۔ لڑکے کی والدہ ام سلیم رضي الله عنها نے جواب دیا، پہلے کی نسبت بہت زیادہ سکون میں ہے۔ ان کے سامنے رات کا... رات کھانا رکھ دیا، اس نے کھانا کھایا، بیوی سے مجامعت کی۔ اس کے بعد ام سلیم نے کہا لڑکے کو دفن کرو۔
صبح کے وقت ابو طلحہ رضي الله عنه رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ سنایا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے رات کو ہم بستری کی تھی؟ ابو طلحہ رضي الله عنه نے کہا، جواب دیا، جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! ان دونوں کے لیے برکت عطا فرما۔ چنانچہ ام سلیم رضي الله عنها کے... یہاں لڑکا پیدا... تولد ہوا۔
انس بن مالک رضي الله عنه کہتے ہیں کہ مجھے ابو طلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ جواب دیا، ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھا، اس طرح ان کو تحنیک فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے اس عبداللہ رضي الله عنه کی اولاد سے نو لڑکوں کو دیکھا، ان سب نے قرآن پاک پڑھا... پڑھا تھا۔
یہ اس حدیث شریف میں... حضرت ام سلیم رضي... انصاریہ رضي الله عنها کے صبر و تحمل اور شوہر کے ساتھ وفاشعاری کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ بچے کا انتقال ہو گیا، وہ بھی نرینہ اولاد کا۔ اس سے پہلے بھی ایک لڑکا جس کا نام عمیر تھا اس کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ نیز ماں کو بچے سے کس قدر محبت ہوتی ہے، باپ کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔ دوسری طرف شوہر کے ساتھ وفاداری کہ اگر شوہر کے بچے کی انتقال کی خبر سنیں تو معلوم نہیں کتنے دن تک کھانا پینا اور آرام اور راحت اس سے محروم ہو جائیں گے۔ اس لیے خود اپنے کلیجے پر صبر و ضبط کا پتھر رکھ کر شوہر کے لیے بتکلف آراستہ ہو کر اس کی طبعی خواہش کی... کی ترغیب دی۔ ان سب باتوں نے ام سلیم رضي الله عنها کی خدا پرستی، شوہر کے ساتھ خدمت گزاری، ایک قابل تقلید... قابل تقلید شخصیت بنا دی۔
دوسرا اس میں تحنیک کے بارے میں ہے۔ کہ تحنیک کہتے ہیں کھجور وغیرہ چبا کر بچے کی تالو میں مل لینا، اس کی شریعت میں بہت اہمیت ہے۔ کتب احادیث میں تحنیک کے بہت سارے واقعات ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضي الله عنهم اجمعین اپنے نومولود بچوں کو آپ ﷺ کی خدمت میں لے جایا کرتے تھے۔ اور آپ ﷺ سے دعائے برکت اور تحنیک کراتے تھے۔ اس لیے ممنوع... علماء نے لکھا ہے کہ نومولود بچہ کسی دیندار عالم یا صالح بزرگ کے پاس لے جا کر اس کے لیے دعائے خیر و برکت کرانا چاہیے اور چھوہارا چبا کر اس کے منہ میں بھی لگا دے۔ اگر چھوہارا نہ ہو تو کوئی میٹھی چیز یا شہد وغیرہ لگا دی جائے۔ عموماً لوگوں نے اس بنیادی سنت کو چھوڑ دیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا، ایک دوسری روایت میں... روایت میں آتا ہے، جس کے راوی ابن عمر رضي الله عنه ہیں، فرماتے ہیں:
أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
اس طریقے سے... عورت کا اپنے شوہر کے لیے جو زینت ہے کرنا، یہ بھی جائز ہے۔ کیونکہ یہاں سے مطلب ہے کہ پھر پہلے سے کہیں زیادہ بناؤ سنگھار کر کے ان کے پاس آئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت زیب و زینت کرے تو یہ جائز ہے۔ بشرطیکہ زیب و زینت شوہر کے لیے ہو۔ نامحرم اس کو نہ دیکھے۔ اور زینت اس طرح نہ ہو کہ بالکل حلیہ ہی بدل جائے۔ جس کو تغییر خلق اللہ سے تعبیر کیا جا... تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور زینت میں تشبہ بالکفار نہ ہو جائے۔ کیونکہ ایک روایت میں ہے:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَىاس طرح اس زینت میں تشبہ بالرجال بھی نہ ہو، کیونکہ آپ ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو تشبہ بالرجال کرتی ہیں، Boy cut جو مطلب وہ کرتی ہیں نا...
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِیہ عورت... مطلب جو ہے نا مرد جو اس طرح وہ بناتے ہیں وہ... ہاں جی، تو یہ سب لعنت کی چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرما دے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین...
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ...