اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
اُمّ سلیم کو بچے کی موت پر صبر کرنے کا عظیم بدلہ
(44) ﴿وَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ الصَّبِيِّ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ۔ فَقَالَ: أَعَرَّسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتّٰى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ بَعَثَ مَعَهٗ بِتَمَرَاتٍ فَقَالَ: أَمَعَهٗ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، ثُمَّ حَنَّكَهٗ وَ سَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وَ فِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: فَرَأَيْتُ تِسْعَةَ أَوْلَادٍ كُلُّهُمْ قَدْ قَرَؤُوا الْقُرْآنَ يَعْنِي مِنْ أَوْلَادِ عَبْدِ اللهِ الْمَوْلُودِ۔
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکلے تو اس کا انتقال ہوگیا واپس آئے تو لڑکے کے بارے میں پوچھا، لڑکے کی والدہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا پہلے کی نسبت بہت زیادہ سکون میں ہے اور اس کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھ دیا اس نے کھانا کھایا، بیوی سے مجامعت کی، اس کے بعد اُمّ سلیم نے کہا لڑکے کو دفن کرو۔ صبح کے وقت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ سنایا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے رات کو ہمبستری کی تھی؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان دونوں کے لئے برکت عطا فرما۔ چنانچہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں لڑکا تولد ہوا۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مجھے ابوطلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیج دیں، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ جواب دیا ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھا اس طرح اس کو تحنیک فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔“ (بخاری ومسلم)
بخاری کی روایت میں ہے کہ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے اس عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے 9 لڑکوں کو دیکھا ان سب نے قرآن پاک پڑھا تھا۔
اس حدیث پاک میں حضرت اُمّ سلیم انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے صبر و تحمل اور شوہر کے ساتھ وفا شعاری کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ بچے کا انتقال ہوگیا وہ بھی نرینہ اولاد کا اس سے پہلے بھی ایک لڑکا جس کا نام عمیر تھا اس کا بھی انتقال ہو چکا تھا نیز ماں کو بچے سے کس قدر محبت ہوتی ہے باپ کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔
دوسری طرف شوہر کے ساتھ وفاداری کہ اگر شوہر کو بچے کے انتقال کی خبر سنادی تو معلوم نہیں کتنے دن تک کھانا پینا اور آرام و راحت سے محروم ہوجائیں گے اس لئے خود اپنے کلیجہ پر صبر و ضبط کا پتھر رکھ کر شوہر کے لئے بتکلف آراستہ ہو کر اس کو طبعی خواہش کی بھی ترغیب دی ان سب باتوں نے اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدا پرستی، شوہر کے ساتھ خدمت گذار ایک قابل تقلید شخصیت بنا دی۔
تحنیک کہتے ہیں کھجور وغیرہ چبا کر بچے کے تالو میں مل دینا۔ اس کی شریعت میں بہت اہمیت ہے کتب حدیث میں تحنیک کے بہت سے واقعات آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے نومولود بچوں کو آپ ﷺ کی خدمت میں لے جایا کرتے اور آپ ﷺ سے دعائے برکت اور تحنیک کراتے۔ امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ نومولود بچے کو کسی دیندار عالم یا صالح بزرگ کے پاس لے جا کر اس کے لئے دعائے خیر و برکت کرانا چاہئے اور چھوارہ چبا کر اس کے منہ میں بھی لگا دے اگر چھوارہ نہ ہو تو کوئی میٹھی چیز یا شہد وغیرہ لگا دیا جائے۔ عموماً لوگوں نے اس بنیادی سنت کو چھوڑ دیا ہے۔
اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے جس کے راوی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں فرماتے ہیں اَحَبُّ الْاَسْمَاءِ اِلَی اللّٰہِ عَبْدُاللّٰہِ وَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
عورت کا اپنے شوہر کے لئے زینت کرنا جائز ہے
پھر پہلے سے کہیں زیادہ بن سنور کر ان کے پاس آئیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت زیب و زینت کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ یہ زیب و زینت شوہر کے لئے ہو، نامحرم نہ دیکھیں اور یہ زینت اس طرح نہ ہو کہ بالکل حلیہ ہی بدل جائے جس کو تغییر خلق اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس زینت میں تشبہ بالکفار نہ ہوجائے کیونکہ ایک روایت میں فرمایا گیا لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَی۔
اسی طرح اس زینت میں تشبہ بالرجال بھی نہ ہو کیونکہ آپ ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو تشبہ بالرجال کرتی ہیں۔
بوائے کٹ جو کرتی ہیں نا۔
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔
یہ مرد وہ جو اس طرح وہ بناتے ہیں )عورتوں کی طرح (۔ یہ سب لعنت کی چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ.