رمضان اور قرآن کا باہمی ربط اور سلسلہ نقشبندیہ میں عزیمت کی اہمیت

دفتر اول: مکتوب نمبر 4 - (اشاعتِ اول) بدھ، 23 مارچ، 2023

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•       شعبان کے آخری ایام میں رمضان کی تیاری۔

•       رمضان المبارک اور قرآنِ کریم کا گہرا باہمی تعلق (ذاتی و شیونی کمالات)۔

•       قرآنِ کریم اللہ کی صفتِ کلام ہے (غیر مخلوق)۔

•       سلسلہ نقشبندیہ کا منہج: رخصت کے بجائے "عزیمت" (پختگی) اور شرعی مجاہدہ۔

•       روزہ بطور "شرعی مجاہدہ" اور نفس کی اصلاح کا بہترین ذریعہ۔

•       اکابرین (خصوصاً حضرت مولانا اشرف صاحبؒ) کا قرآن سے عشق اور طویل نوافل۔

•      قرآنِ کریم کی مقناطیسی کشش (جذب) اور حضرت والا کا ذاتی مشاہدہ۔

•      دن (روزہ) اور رات (تراویح) کی الگ الگ برکات۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

معزز خواتین و حضرات!

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ لیکن یہ شعبان کے آخری ایام ہیں۔ اور شعبان کے آخری ایام میں رمضان کی تیاری کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ہمارا جو دین ہے، وہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ صحیح عقیدے کے ساتھ عمل کا تقاضا کرتا ہے شریعت پر۔ اور یہی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ماشاءاللہ بنیادی نظریہ ہے جو حضرت کے مکتوبات شریف میں ہمیں ملتا ہے۔ اس وجہ سے ہم نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت رمضان شریف کے بارے میں بات ہو۔

آج کل کے دور میں حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو اس کے فضائل پر کتاب ہے ’فضائل رمضان‘، وہ بہت زیادہ اہم ہے اس سلسلے میں۔ اس وجہ سے ہم نے کل سے شروع کیا ہوا ہے کہ ہر Program میں کچھ حصہ اس کا پڑھا جائے گا۔ اور چونکہ حضرت کے خصوصی مکتوبات شریف بھی موجود ہیں رمضان شریف کے بارے میں، جو پچھلے سال بھی ہوئے تھے۔ رمضان شریف میں ہوئے تھے، لیکن اس دفعہ ہم رمضان شریف سے پہلے شروع کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی سنت ہے کہ رمضان شریف کے جو فضائل ہیں وہ شعبان کے اخیر میں بیان کیے جائیں۔ آپ ﷺ نے بھی شعبان کے اخیر میں فضائل بیان فرمائے تھے۔

اس وجہ سے اس دفعہ ہم ان شاءاللہ رمضان شریف کے فضائل، ’فضائل رمضان‘ سے بھی عرض کریں گے اور ساتھ آج چونکہ حضرت کے مکتوبات شریف کا درس ہو رہا ہے، تو مکتوبات شریف میں جو رمضان شریف کے متعلق مکتوبات شریف ہیں، ان کا تذکرہ ہو گا۔

اس میں سب سے پہلے جو مکتوب نمبر ہے وہ چار (4) ہے دفترِ اول کا۔ اور یہ گزر چکا ہے۔ ہم اس کو کر چکے ہیں۔ لیکن اب دوبارہ اس کو اس نیت سے کر رہے ہیں کہ اس رمضان شریف کی خصوصیت والی بات سامنے نہیں تھی تو عمومی تشریح اس کی ہو گئی۔ لیکن اب چونکہ رمضان شریف کی تیاری کا دور ہے، تو اس میں ان شاءاللہ خصوصی طور پر اس کی طرف توجہ کی جائے گی۔

مکتوب نمبر 4، دفترِ اول

بڑی قدر و شان والے ماہ مبارک ماہ رمضان کی فضیلتوں کے بیان میں اور حقیقت محمدی علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام کے بیان میں۔

یہ عریضہ بھی اپنے پیرومرشد بزرگوار کی خدمت میں لکھا۔

عریضہ: آنجناب کا کمترین خادم گذارش کرتا ہے کہ مدت سے حضور کا کوئی گرامی نامہ صادر نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس بلند بارگاہ کے خادموں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، ہر وقت انتظار ہے۔ ماہ مبارک رمضان شریف کا آنا مبارک ہو، اس مبارک مہینے کو قرآن مجید کے ساتھ جو کہ تمام ذاتی وشیونی کمالات کا جامع ہے

ذات کا تعلق تو ہم جانتے ہیں کہ ذات کس کو کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص ہے عبداللہ۔ تو عبداللہ جو ہے اس کی ذات، اس کی ذات ہے۔ اور پھر عبداللہ کے صفات ہو سکتے ہیں، مثلاً وہ بہادر بھی ہو سکتا ہے، وہ سخی بھی ہو سکتا ہے، وہ جوان بھی ہو سکتا ہے، وہ مختلف صفات رکھنے والا ہو سکتا ہے۔ اور جو شان ہوتا ہے وہ بھی ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ تو ایک تو اللہ تعالیٰ کی ذات۔۔۔ ذاتی کمالات ہیں اور دوسرا اس اللہ پاک کی شان۔۔۔ {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} (الرحمن: 29)۔۔۔ مطلب جو ہے اللہ پاک کے جو شیون ہیں، ان کا ظہور ہو رہا ہوتا ہے۔

تو ذاتی کمالات اور شیونی کمالات، حضرت فرماتے ہیں قرآن جو ہے یہ ماشاءاللہ ان کمالات کا جامع ہے۔ اور اس مبارک مہینے کو قرآن مجید کے ساتھ تعلق ہے۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ: 185)۔

اور اس دائرۂ اصل میں داخل ہے۔

ظاہر ہے تمام چیزوں کا اصل تو اللہ پاک کی ذات ہے اور پھر اس کے شئونات ہیں۔

اور اس دائرہ اصل میں داخل ہے جس میں کسی ظلیت و فرعیت کو دخل نہیں ہے اور قابلیت اولی یعنی حقیقت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا ظل ہے۔

حقیقتِ محمدیہ۔۔۔ اس پر حضرت نے بہت کلام فرمایا ہے۔ قابلیتِ اولیٰ اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں وہیں سے پہنچ رہی ہیں سب کو۔ یعنی سب سے پہلے حاصل کرنے والے کون ہیں؟ آپ ﷺ۔ قابلیتِ اولیٰ۔ اور پھر وہاں سے سب کو مل رہی ہیں۔ إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي (صحیح بخاری)۔

جس کو کامل مناسبت حاصل ہے۔۔۔ یعنی حقیقتِ محمدیہ کو کامل مناسبت حاصل ہے قرآن کو اس کے ساتھ۔۔۔ رمضان شریف کو قرآن کے ساتھ مناسبت حاصل ہے۔

اور اسی مناسبت کی وجہ سے قرآن مجید کانزول اسی ماہ مبارک میں واقع ہوا ہے۔ آیہ کریمہ ﴿شھْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ﴾ (سورة البقرة 2 آيت 185) (رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا) میں اسی بات کا بیان ہے، اور اسی مناسبت کی وجہ سے یہ مہینہ بھی تمام بھلائیوں او برکتوں کا جامع ہے۔

یعنی اللہ کا کلام ہم میں موجود ہے۔ سبحان اللہ! یہ اللہ تعالیٰ کا بہت کرم ہے کہ اپنے کلام کو ہمارے سامنے موجود فرمایا، ظاہر فرمایا۔

یہی وجہ تھی کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کتنے کوڑے کھائے لیکن قرآن کو مخلوق نہیں کہا۔ اور بڑا مجاہدہ کیا اور اس پر تقریبا چار بادشاہیاں گزر گئیں اور صرف کچھ فلسفیانہ مباحث کی وجہ سے ایک قوم گمراہ ہو گئی تھی۔ لیکن ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے پھر دوبارہ چیزیں واپس آ گئیں۔ وہ بات کیا تھی؟ کہ ایک کلام ہمارا اور آپ کا ہے اور ایک اللہ پاک کا کلام ہے۔ مخلوق کا کلام مخلوق ہے۔ لیکن اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے، وہ اللہ پاک کی صفت ہے۔ صفتِ کلام، آٹھ جو صفاتِ ثمانیہ کہتے ہیں اس کو، ان میں سے ایک ہے۔ یعنی صفتِ کلام، اس کا ایک مظہر ہے۔

تو اس وجہ سے قرآن ہمارے درمیان موجود اور رمضان شریف ہمارے درمیان موجود۔ سبحان اللہ! تو قرآن کی تلاوت سے، قرآن کے فہم سے، قرآن پر عمل سے ہم اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قریب فرما دے۔ آمین۔ اور رمضان شریف کی قدردانی سے، رمضان شریف میں وہ اعمال کرنے سے جو اس میں منصوص ہے، اس کے ذریعے سے ہم اللہ پاک کے قریب ہو سکتے ہیں۔ یہ دو بڑی نعمتیں اللہ پاک نے ہمیں دی ہیں۔

اس وجہ سے جو ماشاءاللہ سمجھدار ہیں، عارفین ہیں، وہ ان دونوں کو رمضان شریف میں جمع کرتے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ تیس (30) ختمِ قرآن کرتے تھے۔ معمول تھا حضرت کا۔ روزانہ وہ ایک قرآن پاک ختم، یعنی پارہ ایک تیس دفعہ پڑھتے۔ حضرت ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کو قرآن کے ساتھ عشق تھا۔ اور رمضان شریف میں اس کا ظہور ہو جاتا تھا کہ حضرت کے ہاں بس قرآن ہی کا معمول ہوتا تھا۔

چونکہ ہمارے احناف میں نوافل کی جو جماعت ہے وہ ظاہر ہے اس کی دعوت نہیں دی جا سکتی۔ اگر ویسے بغیر اہتمام کے دو تین افراد ہو جائیں تو ہو جاتی ہے ورنہ ویسے وہ پھر کراہت آ جاتی ہے۔ تو حضرت کے ہاں باقاعدہ تراویح میں پانچ ختمِ قرآن ہوتے تھے رمضان شریف میں۔ خیر بظاہر ہمارے لیے بھی یہ بات عجیب ہے لیکن آپ کو ایک اور عجیب لگے گی کہ حضرت مفلوج تھے۔ اور کئی بیماریاں ایسی لگی ہوئی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بیماری بھی ہم کو لگے تو شاید ہم بس اپنے آپ کو ساری چیزوں سے معذور سمجھیں۔ یعنی دل کی بیماری تھی، استھما (Asthma)، سانس کی بیماری تھی، السر (Ulcer) تھا، اور فالج مطلب چلنے پھرنے سے معذور تھے اور بھی بلڈ پریشر (Blood Pressure) اور شوگر (Sugar) یہ ساری چیزیں۔ لیکن حضرت، حضرت تھے۔ قرآن کے ساتھ اتنا عشق تھا۔ پہلے دس راتوں میں ایک ختمِ قرآن۔ پھر دس راتوں میں دوسرا ختمِ قرآن۔ پھر جو راتیں لمبی ہوتی تھیں تو اس میں چھ راتوں میں تیسرا ختمِ قرآن۔ ستائیسویں کو ایک رات میں۔ اور اٹھائیسویں انتیسویں کو دو راتوں میں۔ یہ حضرت کا معمول تھا۔ حضرت کے پیچھے ہم نے بھی الحمدللہ پڑھی ہے۔ حضرت کے ساتھ، پیچھے تو نہیں، حضرت تو امامت نہیں کر رہے تھے، حضرت کے ساتھ۔ اور ماشاءاللہ ایک واقعہ بڑا عجیب میرے سامنے ہوا ہے وہ میں عرض کرتا ہوں کہ وہ حضرت کے اس عشق کو ظاہر کرتا ہے۔

اٹھائیسویں کو چھٹی ہو گئی یونیورسٹی (University) کی۔ انتیسویں کو لوگ جا رہے تھے اپنے اپنے گاؤں۔ اٹھائیسویں کو آدھا قرآن سنا گیا معمول کے مطابق۔ اب آدھا قرآن اس کا باقی ہے۔ ویسے چار ختم ہم پہلے کر چکے ہیں حضرت کے ساتھ۔ لیکن یہ جو پانچواں ختم ہے اس میں آدھا سن چکے ہیں اور آدھا ابھی باقی ہے۔ تو حضرت سے اجازت لے رہے ہیں کہ حضرت اجازت ہے ہم کل جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اس آدھے قرآن کا کیا کرو گے؟ وہ جو ابھی باقی ہے۔ اب وہ گم سم۔۔۔ کیا کہیں؟ اب گھر والوں کو لے جانا ظاہر ہے اس میں مجبوری اور ساتھ حضرت نے عجیب سوال کیا۔ پھر حضرت نے خود ہی حل بتا دیا۔ بھئی حافظوں کو کہہ دو کچھ منت سماجت کر لو اگر وہ آپ کو نوافل میں سنا سکیں۔ تو وہ حافظ کرام بھی ماشاءاللہ صحیح حافظ تھے ان کو تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی تو مان گئے۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت کو تو جانا نہیں تھا! انہوں نے تو یہی اگلی رات میں سننا تھا۔ حضرت بھی شامل ہو گئے اور ہمیں جرأت نہیں ہو سکی۔ تو حضرت کو ایسا ماشاءاللہ وہ تھا۔ بس نیت باندھ لیتے تو بس پھر دنیا بدل جاتی ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ آج کل بھی ایسے حضرات گزرے ہیں، ماشاءاللہ۔ تو قرآن کا تعلق رمضان شریف کے ساتھ، سبحان اللہ! تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کے بارے میں فرما رہے ہیں۔

اور اسی مناسبت کی وجہ سے یہ مہینہ بھی تمام بھلائیوں او برکتوں کا جامع ہے، جو برکت اور بھلائی تمام سال میں جس کسی شخص کو اور جس راستہ سے بھی پہنچتی ہے وہ اس عظیم الشان ماہ مبارک کی برکتوں کے بے پایاں سمندر کا ایک قطرہ ہے

سبحان اللہ! یہ بتانا آج کل ضروری ہے یا نہیں ہے؟ مطلب دیکھیں۔۔۔ ہم لوگ تو ویسے ہی گزار دیتے ہیں نا۔

اور اس ماہ مبارک میں دل جمعی کا حاصل ہونا تمام سال کی جمعیت حاصل ہونے کا سبب ہے اور اس ماہ مبارک کا تفرقہ (انتشار پراگندگی) تمام سال کے تفرقہ کا سبب ہے۔ پس اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس پر مہینہ اس حالت میں گذر گیا کہ وہ اس سے راضی و خوش ہوا اور اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس پر یہ مہینہ ناراض ہوا اور وہ شخص اس ماہ مبارک کی خیرات و برکات سے محروم رہا۔ اور ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید کا ختم کرنا اس ماہ مبارک میں اسی لئے سنت ہوا ہو تاکہ تمام اصلی کمالات اور ظلی برکات حاصل ہو جائیں۔

چونکہ اصل کے ساتھ اس کا تعلق ہے، پھر اس کے ظلی برکات بھی ہیں۔

پس جس نے ان دونوں (یعنی کمالات اصلی و برکات ظلی) کو جمع کیا امید ہے کہ وہ اس ماہ مبارک کی برکتوں اور نیکیوں سے محروم نہیں رہے گا۔ جو برکتیں اس ماہ مبارک کے دنوں سے وابستہ ہیں وہ اور ہیں جو برکتیں اس ماہ مبارک کی راتوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ اور ہیں۔

دن کو روزہ ہے اور رات کو تراویح ہے اور قیام اللیل ہے۔ دن کو نفس، ماشاءاللہ اس کی اصلاح ہو رہی ہے۔ یعنی نفس کی اصلاح میں روزے کو بڑا دخل ہے۔ روزے کو بڑا دخل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کی تین پسندیدہ ترین چیزیں جو ہیں وہ کھانا، پینا اور مباشرت ہے۔ یہ تین چیزیں اس کی۔۔۔ ان چیزوں کو چھوڑ نہیں سکتا۔ تو اللہ جل شانہ نے روزے میں ان چیزوں کو ایک خاص وقت میں یہ نہ کرنے کا مجاہدہ دیا ہے ہمیں۔ تو یہ مشروع مجاہدہ ہے، مطلب شرعی مجاہدہ ہے۔ اور اس شرعی مجاہدے کے ذریعے سے نفس کی جو اصلاح ہے، وہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس شرعی مجاہدے کے ذریعے سے۔

اصل میں جو اختیاری مجاہدہ ہے نا، وہ شرعی مجاہدے میں کمی کی وجہ سے کرنی پڑتی ہے۔ اگر کسی کو شرعی مجاہدہ پورا حاصل ہو جائے تو اس کو اختیاری مجاہدے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ہمارے نقشبندی سلسلے میں مجاہدہ ہے۔ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ اس میں مجاہدہ نہیں ہے۔ وہ مجاہدہ یہی مجاہدہ ہے۔ شرعی مجاہدہ اور مسنون اعمال، اس میں عزیمت کو اختیار کرنا، یہ مجاہدہ ہے ہمارے ہاں۔ یہ بہت اہم بات عرض کر رہا ہوں۔ نقشبندی سلسلے میں رخصت نہیں اختیار کی جاتی۔

اب دیکھیں، یا تو اختیاری مجاہدے کے ذریعے سے کمزوری دور کرو اور پھر اعمال میں رخصت اختیار کرو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یا پھر یہ ہے کہ رخصت کو خیرباد کہہ دو اور شرعی مجاہدوں میں عزیمت اختیار کر لو۔ اب اگر آپ نے شرعی مجاہدے کو بھی رخصت کر دیا۔۔۔ یعنی اس میں عظیم رخصت اختیار کر لیا۔۔۔ اور آپ یہاں بھی رخصت لے رہے ہیں، مجھے بتاؤ کون سے نقشبندی ہو تم پھر؟ کہاں پر تمہاری نقشبندیت چلی گئی؟ نقشبندیت اس کو کہتے ہیں؟ حضرت کے مکتوب شریف سے اندازہ کر لیں نا کہ کیا فرما رہے ہیں۔

شریعت پر استقامت، شریعت کے ایک ایک حکم پر استقامت اختیار کرنا یہ نقشبندیت ہے۔ شریعت میں رخصت کو اختیار کرنا یہ نقشبندیت نہیں ہے۔ یہ بالکل اہم بات میں عرض کر رہا ہوں۔ اب اپنے لیے باتیں بنائی ہیں، عورتوں کے ساتھ اختلاط ہو رہا ہے، پرواہ نہیں ہے، رخصت ہے، خدا کے بندو! تمہارے لیے نہیں ہے، کسی کو اگر ہے تو تمہارے لیے نہیں ہے۔ معاملات کے اندر، اور چیزوں کے اندر، یہ بہت غلط بات ہے۔ یہ نقشبندی سلسلے کو بدنام کرنے والی بات ہے۔ نقشبندی سلسلہ انتہائی پاک سلسلہ ہے، الحمدللہ۔ اس کا تعلق منصوص اعمال کے ساتھ ہے۔ اس وجہ سے اس کا یہی کمال ہے۔ اور اسی حُسن سے یہ ماشاءاللہ لوگوں کو ترقی ہوتی ہے۔ اگر یہ آپ نے نکال دیا پھر کہاں نقشبندیت رہ گئی؟ پھر تو نقشبندیت نہیں رہی۔

تو یہ جو مجاہدہ ہے، وہ اس کے اندر موجود ہے۔ نماز کے اندر بھی مجاہدہ ہے، سبحان اللہ۔ وہ نماز کا مجاہدہ وہ سبحان اللہ وہ انسان کے اندر عبدیت پیدا کرتا ہے۔ فروتنی پیدا کرتا ہے، عاجزی پیدا کرتا ہے۔ اور جو روزے کا مجاہدہ ہے، یہ نفس کے اوپر پیر رکھنے والی بات ہے کہ نفس کی بات نہیں ماننی۔ بس۔ نفس جو بھی کہے، جتنا چیخے، اس کی کوئی بات نہیں۔

اب دیکھیں ایک آدمی روزہ رکھتا ہے۔ وہ تین چیزیں جو جائز ہیں، حلال ہیں، شریعت کے حکم کے مطابق ان سے تو وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے، یہ نہیں کرتا۔ تو روزہ ہم کہیں گے کہ ہو گیا۔ اس کو دوبارہ روزہ رکھنا نہیں پڑے گا۔ لیکن روزے کی برکات سے وہ محروم ہو گیا اگر وہ روزے کے اندر وہ جو حرام چیزیں ہیں ویسے بھی، اگر اس سے باز نہیں آیا۔ مثلاً وہ جھوٹ سے باز نہیں آیا، چغلی سے باز نہیں آیا، حسد کینے سے باز نہیں آیا، جدال سے باز نہیں آیا۔ یہاں تک کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ لڑے تو ان کو کہہ دو "انا صائم"، میں روزہ دار ہوں، میں نہیں لڑوں گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ آپ کو بہت اونچی نسبت حاصل ہے۔ اس اونچی نسبت کو کیوں ضائع کر رہے ہو؟

تو یہ۔۔۔ یہ جو بات ہے کہ روزہ میں اصل میں ان چیزوں کو اگر ہم نہیں اختیار کرتے، یہ چیزیں ہم حاصل نہیں کرتے، یعنی اپنے اوپر یہ پابندی نہیں لگاتے۔۔۔ تو پھر کیا ہے؟ ہم نے واقعی حلال چیزوں سے تو اپنے آپ کو۔۔۔ بلکہ حدیث شریف میں بھی ایسے ہی ہے نا؟ وہ جو دو عورتوں کو روزہ لگ گیا تھا، آپ ﷺ نے یہی تو فرمایا تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ اگر ہم نے صحیح معنوں میں رکھا، تو نفس کی اصلاح بہت ساری ہو جاتی ہے الحمدللہ۔ حدیث شریف میں آتا ہے روزہ ڈھال ہے اگر اس کو پھاڑا نہ جائے۔

تو روزہ بہت ماشاءاللہ اس کے اندر۔۔۔ پھر دیکھیں اس ماہِ رمضان میں روزے کا بھی ہے الحمدللہ۔ ساتھ تراویح کی نماز ہے۔ تراویح کی نماز کیا ہے؟ یہ فرض نماز تو ہم نے پڑھ لی، عشاء کی۔ سنتِ مؤکدہ بھی دو رکعت پڑھ لیے۔ وتر بھی پڑھ سکتے تھے لیکن مؤخر کر دیے گئے۔ اس میں بیس (20) رکعت تراویح آپ کو پڑھنی پڑ رہی ہے۔ ایک لحاظ سے تو یہ مجاہدہ ہو گیا کہ آپ کو آرام کا تقاضا ہے، کیونکہ آپ نے روزہ رکھا ہے اور پھر اس کے بعد کھانا کھایا ہے، اس سے خود بخود انسان کے اوپر ایک آرام کے تقاضے کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن نہیں، آپ نے کھڑا ہونا ہے اللہ کے سامنے۔ بیس رکعت۔

پھر اس کے اندر ایک اور سنت، قرآن پاک سننا یا قرآن پاک سنانا۔ یہ ماشاءاللہ ایک علیحدہ سنت ہے۔ اب قرآن جو ہے، سبحان اللہ! اس کے جو انوارات ہیں، اگر آپ اس کی طرف متوجہ ہیں، تو قرآن ویسے بھی رمضان شریف کا مہینہ اللہ پاک کے دینے کا مہینہ ہے۔ دیتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ، بہانے بہانے سے دیتا ہے۔ تو اب اگر قرآن کی طرف آپ متوجہ ہیں اور قرآن آپ سن رہے ہیں واقعی دل سے، تو پھر قرآن کی برکات بھی آپ کی طرف متوجہ ہوں گی۔

اور اس کے لیے بے شک آپ صوفی نہ ہوں! اس کے لیے صوفی ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ قرآن پاک کی قدر کرتے ہیں اور قرآن کو واقعی سنتے ہیں، تو اس کی جو برکات ہیں وہ آپ کے دل پر خود بخود آئیں گی۔ اس کے لیے کسی مراقبے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بذاتِ خود ایک مراقبہ ہے کہ آپ اللہ کی طرف متوجہ ہیں، اللہ کے کلام کی طرف متوجہ ہیں۔ بہت ماشاءاللہ۔۔۔

تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں۔۔۔ ورنہ میں آپ کو اس کا ایک زبردست قسم کا معجزہ بتاتا ہوں جو کم از کم میرے ساتھ ہوا ہے، میں خود اپنا بتا سکتا ہوں، باقی لوگوں کا میں کیا عرض کروں۔ جیسے میں نے عرض کیا کہ ستائیسویں کو حضرت کے ہاں ایک رات میں ختم قرآن ہوا کرتا تھا۔ تو میں اس ڈر سے کہ حضرت کے ہاں بڑا سنا جاتا ہے، بہت زیادہ، تو میں حضرت کے ہاں تراویح نہیں پڑھتا تھا، عام مسجد میں پڑھتا تھا۔ یہ بھی بتاؤں اس وقت میں حضرت سے بیعت نہیں تھا۔ بیعت تو میں بعد میں ہوا ہوں۔ لیکن حضرت کے پاس میرا آنا جانا روزِ اول سے الحمدللہ شروع تھا۔ تو حضرت ہی کو ہم سب کچھ سمجھتے تھے، ماشاءاللہ، اپنے لیے۔

تو خیر ایسا ہوا کہ مجھے ڈاکٹر فدا صاحب نے کہا، "شبیر! آپ ہمارے ساتھ تراویح کیوں نہیں پڑھتے؟" میں نے کہا، "حضرت! آپ لوگ بہت زیادہ سنتے ہیں، میں اتنا نہیں سن سکتا۔" تو انہوں نے فرمایا، "اچھا ٹھیک ہے ایک دن آ جاؤ، اگر مزہ آ جائے تو آتے رہنا، نہیں تو پھر جہاں پڑھنا چاہو وہیں پڑھ لیا کرو۔" میں نے کہا یہ تو آسان بات ہے، جی بالکل ٹھیک ہے میں آ جاتا ہوں۔ اب نہ ڈاکٹر صاحب کو شاید احساس تھا اور نہ مجھے پتہ تھا کہ آج ستائیسویں ہے۔ خیال نہیں تھا۔ یعنی ہماری غفلت کی انتہا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ستائیسویں کا بھی پتہ نہیں تھا۔ خیر ایسا ہوا کہ پہنچ گیا۔

حضرت کا کمرہ تھا، اس سے بھی چھوٹا تھا۔ یعنی یہ جو نیا کمرہ ہے، اس سے چھوٹا۔ دو صفیں تھیں۔ ایک ڈاکٹر صاحب تھے، ماشاءاللہ، بہت زبردست مضبوط جسم والے اور حفظ بھی اس کا پکا تھا۔ ایک غلطی بھی پورے قرآن میں نہیں ہوئی۔ وہ سنا رہے تھے اور بڑے شوق سے سنا رہے تھے۔ اب نیت تو ہم نے باندھ لی۔ ایک پارہ ہو گیا، ہم نے کہا شاید اب۔۔۔ نہیں۔ دو پارے ہو گئے، پھر بھی نہیں۔ ہم نے کہا شاید سورۂ بقرہ کا خیال ہے، سورۂ بقرہ ختم ہو گیا، پھر بھی نہیں۔ ہم نے کہا چلو شاید سورۂ آلِ عمران، اس پر بھی نہیں ہوا۔ سورۂ نساء پر بھی نہیں ہوا۔ بس جب اس پہ نہیں ہوا میں نے کہا شاید ان کا خیال یہ ہے کہ یہ دس پارے پورے کر کے پھر کرے گا۔ ذہن میں آیا، اس وجہ سے اپنے طور پہ مطمئن ہو گیا کہ اب ٹھیک ہے، بس دس پاروں کے لیے تیار ہو جاؤ۔ دس پاروں پر بھی نہیں ہوا! جب دس پاروں پہ نہیں ہوا تو پھر میں نے کہا کہ یہ بیس پارے ختم کر کے کرے گا۔ اور بیس پارے پر واقعی اس نے رکوع کر لیا۔ اس کے بعد جو دوسری رکعت شروع ہو گیا، تو "وَالضُّحىٰ" پہ!

اب اسلام پھیرا تو سحری کا وقت قریب تھا۔ تو ڈاکٹر صاحب نے کہا، "اب بے شک آپ کہیں جانا چاہیں تو۔۔۔" میں نے کہا، "اب کدھر جاؤں؟" پوری رات تو گزر گئی۔ خیر بہرحال یہ ہے کہ وہ ہم نے وہیں سحری کر لی اور باقی تراویح بھی ادھر ہی پوری کی۔

نتیجہ کیا ہونا چاہیے تھا، مجھ جیسے آدمی کے لیے عمومی طریقہ کیا تھا کہ کبھی میں ادھر کا رخ نہ کرتا۔ ہے نا یہ بات؟ لیکن میں پھر ادھر ہی پڑھتا رہا۔ اور اس سے اگلے دن آدھے قرآن والا شروع ہو رہا تھا، مطلب یہ اٹھائیسویں انتیسویں والا، اس میں بھی میں پہنچ گیا، اور پھر کسی اور جگہ نہیں سنا۔ پھر حضرت کے پاس ہی جاتے رہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ یہ قرآن کے معجزے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ کہیں اور ہو سکتا ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا۔

تو قرآن کے اندر اتنی Attraction ہے جس کو۔۔۔ جس کا مطلب ہم نقشبندی سلسلے کے معنوں میں جذب کہہ سکتے ہیں۔ اتنا جذب ہے کہ یہ کھینچ رہا ہے آدمی کو۔ اور واقعی انسان کو اپنا بنا لیتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس میں ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ واقعی ہم قرآن سن لیں۔ اس کو اپنے اوپر خوامخواہ بوجھ نہ سمجھیں۔ بلکہ اس کو اللہ پاک کے دینے کا ایک ذریعہ سمجھیں۔ اور ہے بات، اللہ پاک اس کے ذریعے دیتا ہے۔

تو حضرت فرماتے ہیں کہ:

اور ہو سکتا ہے کہ روزہ کے افطار میں جلدی کرنا اور سحری کھانے میں تاخیر کرنا افضل و اولیٰ ہونے کا حکم اسی حکمت کی وجہ سے ہوا،

کہ دن کی اپنی شان ہے اور رات کی اپنی شان ہے۔ تو دونوں کی پوری پوری۔۔۔ حاصل ہو۔۔۔

تاکہ دونوں وقتوں کے اجزاء کے درمیان پوری طرح امتیاز حاصل ہو جائے۔

یہ ایک مکتوب شریف ہو گیا الحمدللہ۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ.


رمضان اور قرآن کا باہمی ربط اور سلسلہ نقشبندیہ میں عزیمت کی اہمیت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور