صبغۃ اللہ: اللہ کا رنگ اور توحیدِ خالص کی حقیقت

اشاعت اول، 26 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        ملتِ ابراہیمی اور انبیاء پر ایمان

•        صبغۃ اللہ (اللہ کا رنگ) کی تفسیر

•        عیسائیوں کی رسمِ بپتسمہ (Baptism/اصطباغ) کی حقیقت

•        عقیدۂ کفارہ اور پیدائشی گناہ کا رد

•        توحیدِ خالص بطورِ حقیقی رنگ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَقَالُوْا كُوْنُـوْا هُوْدًا اَوْ نَصَارٰى تَهْتَدُوْا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْمَ حَنِيْفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (135)

قُوْلُوٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِـىَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِـىَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِـمْۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْۖ وَنَحْنُ لَـهٗ مُسْلِمُوْنَ (136)

فَاِنْ اٰمَنُـوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْـتُـمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَّاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُـمْ فِىْ شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْـفِيْكَـهُـمُ اللّٖهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (137)

صِبْغَةَ اللّٰهِ ۖ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۖ وَّنَحْنُ لَـهٗ عَابِدُوْنَ (138)

اور یہ (یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ: "تم یہودی یا عیسائی ہو جاؤ، راہِ راست پر آ جاؤ گے۔" کہہ دو کہ: "نہیں، بلکہ (ہم تو) ابراہیم کے دین کی پیروی کریں گے جو ٹھیک ٹھیک سیدھی راہ پر تھے، اور وہ اُن لوگوں میں سے نہ تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔" ﴿135﴾ (مسلمانو!) کہہ دو کہ: "ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اور اُس کلام پر بھی جو ہم پر اتارا گیا اور اُس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا، اور اُس پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اُس پر بھی جو دوسرے پیغمبروں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان پیغمبروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے، اور ہم اُسی (ایک خدا) کے تابع فرمان ہیں۔" ﴿136﴾ اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہِ راست پر آ جائیں گے۔ اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑ گئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے ﴿137﴾ (اے مسلمانو! کہہ دو کہ:) "ہم پر تو اللہ نے اپنا رنگ چڑھا دیا ہے، اور کون ہے جو اللہ سے بہتر رنگ چڑھائے؟ اور ہم صرف اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔" ﴿138﴾


اس میں یہ جو رنگ والی بات ہے نا،

اس میں عیسائیوں کی رسمِ بپتسمہ (Baptism) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ (رنگ چڑھانا) بھی کہا جاتا ہے۔

کسی شخص کو عیسائی بناتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے۔ اُن کے خیال میں اس طرح اُس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے، اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بے سروپا خیال کی کوئی حقیقت نہیں۔ رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کا رنگ ہے۔

یعنی یہ اصل میں توحیدِ خالص جو ہے، یعنی اللہ پاک کو ایک سمجھنا اور اسی سے سب کچھ کام سمجھنا، یہ اصل رنگ ہے۔ تو یہ باقی رسمی کارروائیاں جو ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب تک اللہ جل شانہٗ کسی چیز کے بارے میں کچھ نہ کہہ دے، تو کسی اور کے کہنے سننے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔



صبغۃ اللہ: اللہ کا رنگ اور توحیدِ خالص کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور