الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
ابتلاء پر صبر کرنے کا اجر
(43) وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَ إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَ إِنَّ اللهَ تَعَالَى إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَ مَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ. (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ)
ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا ہی میں اس کو جلدی سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو باوجود اس کے گناہوں کے سزا دینے سے رکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز اس کو پوری سزا دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ثواب کی زیادتی تکلیفوں کی زیادتی پر موقوف ہے بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو محبوب جانتا ہے تو اس کو آزمائشوں میں گرفتار کرتا ہے پس جو شخص آزمائشوں کے باوجود خوش رہا اس کو اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور جو شخص ناخوش ہوا اس پر اللہ ناخوش ہوا۔"
ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حدیث حسن کہا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہو تو توبہ استغفار کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا ہی میں اس کو جلدی سزا دے دیتے ہیں۔
یہ حدیث ہر مؤمن کو ایک اہم سبق کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جب بھی وہ کسی آزمائش یا دکھ، بیماری میں گرفتار ہو تو فوراً اس کو اپنے شب و روز کے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے اگر کوئی گناہ یا نافرمانی ہو رہی ہے تو فوراً استغفار کر لینا چاہئے اور اگر کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو جلد از جلد اس کی تلافی کر لینا چاہئے۔ مزید یہ کہ اس دکھ اور بیماری پر صبر و شکر بھی کرنا چاہئے کہ اس ذاتِ کریم و رحیم نے دنیا میں ہی معمولی سی دکھ بیماری دے کر آخرت کے دردناک عذاب سے بچا لیا۔ اگر کوئی گناہ یا نافرمانی نظر نہ بھی آئے تب بھی توبہ و استغفار کرنا چاہئے کیونکہ بہت سے گناہوں کا ہمیں علم نہیں ہوتا لیکن وہ گناہ ہم سے ہو جاتے ہیں۔دوسرا اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب بھی کوئی دکھ بیماری وغیرہ آئے تو شکوہ و شکایت جزع و فزع کے بجائے توبہ و استغفار اور صبر و شکر کی طرف رجوع کرنا چاہئے کہ یہ معمولی سی تکلیف آخرت کے بڑے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بن جائے گی۔اور جو آزمائش کے وقت میں جزع و فزع میں مبتلا ہوا اور اپنی تقدیر پر راضی نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ تقدیر تو اس کی پہلے ہی مرتب ہو چکی ہے اس لئے اس پر راضی رہنا چاہئے۔
قضاء کے سامنے بیکار ہوتے ہیں حواسِ اکبرکھلی ہوتی ہے گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں
تخریج حدیث: رواہ الترمذی فی کتاب الزھد (باب ما جاء فی الصبر علی البلاء) و ابن ماجه و ابن حبان 2911 و رواہ احمد فی مسندہ 5 / 16806-
اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ توبہ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اور ایک بات جو ابھی آزمائش کی آئی ہے، یعنی سیلابوں کی صورت میں، تو اس کے بارے میں بھی شاید… یہ ابھی دیکھیں نا گزشتہ چند دن سے مسلسل تکالیف اور صبر اور اس قسم کے احادیث شریف ہمارے آ رہے ہیں۔ تو اس وقت تو شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا لیکن یہ کل والی جو بات ہے وہ تو بہت زیادہ یعنی وہ بات آگئی کہ بہت سارے تکالیف اور مصائب بہت سارے لوگوں پر آگئے ہیں... مطلب تھوڑے لوگ نہیں ہیں بہت سارے لوگوں پہ آگئے ہیں۔
تو اس بات کو پھیلانا چاہیے کہ اس کا علاج یہ ہے کہ بہت زیادہ استغفار کیا جائے اور ساتھ درود شریف پڑھا جائے۔ استغفار اس لیے کہ گناہوں کی شامت گناہوں پہ استغفار سے یعنی گناہوں کے معاف ہونے سے دور ہو سکتی ہے۔ اور درود شریف اس لیے کثرت سے پڑھنا چاہیے کیونکہ درود شریف سے رحمت اترتی ہے۔ لہٰذا جتنی زیادہ رحمت اترے گی اتنے زیادہ ہی عذاب کے جو مسائل ہیں وہ دور ہوتے جائیں گے اور راحت اور خوشگوار حالت نصیب ہو سکتی ہے۔
اس وجہ سے درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہیے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ توبہ استغفار بھی کرتے رہنا چاہیے۔ مجھ سے کئی لوگ پوچھ رہے ہیں آج کل کہ ہمیں ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ تو میں ان کو یہی بتاتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنا چاہیے اور استغفار کرتے رہنا چاہیے۔
باقی اس کے لیے مخصوص دعائیں بھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں جیسے یہ جو ہم لوگوں ہمارا کا معمول ہے، درودِ تنجینا کا، تو واقعی بہت ماشاءاللہ اس کے لیے مجرب ہے۔ کیونکہ درود کے ذریعے سے ہی دعا ہے، یہ وہ دعا بذریعہ درود ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی درودِ تنجینا پڑھ رہا ہے تو ظاہر ہے اس میں بھی درود شریف بھی ہے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ اس میں دعاؤں... بالخصوص یعنی ایسی تکالیف اور ان کے مصائب ان سے بچنے کی دعائیں اس میں ہیں، تو اس طرح ہمیں کرنا چاہیے۔
اور اپنے نمازوں کے بعد جو مقبول وقت ہوتا ہے دعا کا اس میں بھی دعائیں کرنی چاہیے۔ بالخصوص تہجد کے وقت اگر اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق دے کھڑا ہو جائے، تو اس وقت بھی صلوٰۃِ حاجت پڑھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مصائب اور تکالیف پوری قوم کی دور فرمائے۔
اور ظاہر ہے خدمت بھی کرنا چاہیے ان لوگوں کی جن کو تکلیف ہوئی ہے، کیونکہ ظاہر ہے وہ خدمت کے مستحق ہیں ان کے لیے۔ تو ان کے لیے ان شاءاللہ آج ہمارے ہاں مشورہ ہوگا ساتھیوں کو کیونکہ کئی لوگوں نے پوچھا کہ کن کو دیا جائے پیسے، کچھ لوگ دینا چاہتے ہیں اس طریقے سے۔
ابھی ایسا دور آگیا ہے نا کہ ان چیزوں میں بھی کسی پر اعتماد کرنا آسان نہیں ہے۔ یعنی بڑے اچھے اچھے ناموں میں جب بعد میں پتہ چلا تو مسائل پیش آئے۔ تو اس وجہ سے مشورے کے لیے پھر حضرات سے درخواست کی ہے کہ تشریف لائیں۔ اور اس پر مشورہ کر لیں کہ یا ہم اپنا کوئی فنڈ یعنی جس کو کہتے ہیں Flood Relief Fund قائم کر لیں اس کا اگر ہمارے اسباب ہیں اور پہنچا سکتے ہیں تو یہ تو بڑی اچھی بات ہوگی۔ نہیں تو پھر جو تجربے سے ثابت ہوا کہ آج کل زیادہ بہتر کون ہے، تو ان کے ساتھ بات کی جائے اور پھر Check بھی لگا دیا جائے۔ مطلب ظاہر ہے اس طرح کھلا نہ چھوڑا جائے بلکہ ان پہ Check بھی لگا دیا جائے کہ واقعی صحیح جگہ پر وہ چیزیں پہنچ جائیں، طریقے سے پہنچ جائیں۔
تو اس قسم کی باتیں آج کل ہمارے زیرِ غور ہیں، تو اللہ پاک کرے کہ ہمیں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق ہو اور اس خدمت کو اللہ تعالیٰ قبول بھی فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ.