حجابِ خودی اور دیدِ حق: عاجزی و تکبر کے عبرت ناک واقعات

دفتر اول حکایت نمبر 18 - (اشاعتِ اول)، منگل، 23 اور 30 جولائی، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•       حدیث مبارکہ "اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ" (نیند موت کی بہن ہے) کی تشریح اور روحانی اسرار۔

•       نیند کی حالت میں روح کا عالمِ مثال میں سفر اور واپسی۔

•       جنت میں انبیاء اور اولیاء کے درجات اور لذتوں کا فرق (مجدد الف ثانیؒ کا قول)۔

•       لیلیٰ اور خلیفہ کا مکالمہ: حقیقت کو دیکھنے کے لیے مجنوں کی نگاہ اور "بے خودی" کی ضرورت۔

•       معرفتِ الٰہی میں "خودی" (Ego) اور تکبر کا حجاب۔

•       حکیم نور الدین (قادیانی خلیفہ اول) کے علم و تکبر اور بدترین انجام کا عبرت ناک واقعہ۔

•       دیوبند کے ایک سادہ لوح طالب علم کی عاجزی اور اللہ کی غیبی مدد کا ایمان افروز واقعہ۔

گذشتہ سے پیوستہ


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

معزز خواتین و حضرات!

منگل کو ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔ تو حکایت نمبر 17 تک بات چلی تھی۔

روح سے اتارتا ہے جب زینِ بدن

تب کہیں کہ نیند موت کی ہے بہن

مطلب یہ کہ روح سے ہم لوگ زینِ بدن اتارتے ہیں، یعنی بدن چونکہ نفس ہے نا، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ جو نیند ہے موت کی بہن ہے۔

روحوں کے گھوڑوں کو (جو کسے کسائے دوڑتے پھرتے تھے) زین سے خالی کر دیتا ہے۔ (یعنی ان کو سیر و گردش سے بند کر دیتا ہے) بس یہی (ساری تقریر) "اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ" کا راز ہے۔

حدیثِ مذکور بیہقی نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺسے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اہلِ جنت سوئیں گے۔

سوال عجیب تھا

تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ "اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ وَلَا یَمُوْتُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ" یعنی ”نیند موت کی بہن ہے اور اہل جنت کو موت نہیں آئے گی۔“

اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ یہاں کے حالات کی طرح جنت کے حالات کو نہ سمجھیں نا، جنت تو جنت ہے نا، وہاں تو معاملے الگ ہیں۔ یہاں اسباب اور ہیں وہاں اسباب اور ہیں۔ یہاں کی بات اور ہے وہاں کی بات اور ہے۔ مثال کے طور پر یہاں کھانا کھاتے ہیں تو فضلہ بنتا ہے، وہاں کھانا کھائیں گے تو وہ معطر ہوا بنے گی، اڑے گی۔ اب ظاہر ہے مطلب کہاں۔۔۔

اب یہ جو اللہ پاک نے Cause and Effect کی یہاں صورت بنائی ہے، تو یہ بھی تو اللہ پاک نے اپنی قدرت سے بنائی ہے نا، تو اللہ پاک نے اپنی قدرت سے وہاں Cause and Effect کا ایک اور سلسلہ بنایا ہوتا ہے۔ وہ ضروری تو نہیں ہے کہ وہ ایسے ہی ہو، لذتوں کا، حتیٰ کہ مجدد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عجیب بات کہی، پتا نہیں اس کی طرف حضرت مجدد صاحب کا ہی ذہن جا سکتا تھا،

یہ فرمایا کہ یہ جو آتا ہے کہ ازواجِ مطہرات آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہیں گی جنت میں، کیونکہ جو نیک بیوی ہوگی وہ بھی جنت میں اکٹھے رہیں گے، تو ازواجِ مطہرات بھی امہات المؤمنین وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ۔ فرمایا لیکن امہات المؤمنین تو اولیاء ہیں، انبیاء تو نہیں ہیں، اور آپ ﷺ نبی ہیں اور نبی بھی خاتم الانبیاء، تو ان کا مقام برابر تو نہیں ہے۔ تو یہ کیسے ہوگا کہ ایک ہی جیسی چیزیں خاتم النبیین کو اور اولیاء کو بھی ملیں گی؟ فرمایا ایسا نہیں ہے۔ فرمایا ایک ہی کھانا ہوگا وہاں پر، لیکن جو لذت خاتم الانبیاء کو اس میں ملے گی وہ اولیاء کو نہیں ملے گی۔ ایک ہی چیز کھائیں گے۔ فرماتے ہیں کہ یہ جو لذت ہوگی وہ بھی اس کے مقام کے حساب سے ہوگی۔

تو ہم بتاؤ یہاں اس کی کیسی مثال ہم دے سکتے ہیں؟ جو لذت ہے وہ بھی اس کے۔۔۔ یہاں پر اللہ پاک نے دکھایا تھا کہ فرعون، قبطی جو تھے اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم، فرعون کے قبطیوں کے اوپر جو عذاب آیا تھا کہ خون، ہر چیز میں خون۔ تو وہ اپنے ساتھ کھانے میں شامل کر لیتے اسرائیلیوں کو کہ چلو ان کے لیے خون نہیں ہوگا تو ہم بھی کھا لیں گے اس سے، ان کو ساتھ کھلاتے، تو ایک ہی برتن میں اسرائیلیوں کی طرف صحیح کھانا ہوتا تھا ان کی طرف خون ہوتا تھا۔ بس ٹھیک ہے چونکہ اللہ پاک کا فیصلہ تھا تو وہ اس کو چینج تو نہیں کر سکتے تھے۔

تو اس طرح وہاں پر ہر شخص کے مقام کے حساب سے ان چیزوں میں لذات ہوں گی، ہر شخص کے مقام کے حساب سے، جو جس کا مقام ہے اس کے حساب سے ہوگی۔

11

لیک ایک لمبی رسی سے باندھے بھی

تاکہ دن کے وقت واپس آئے بھی

لیکن (جب وہ رات بھر زین بستہ ہوتے ہیں تو) اس غرض سے کہ وہ دن کو واپس آ جائیں ان کے پاؤں میں (قیدِ حیات) کی ایک لمبی رسی باندھ رکھتا ہے۔

ہمارے ایک ساتھی ہیں، بڑے نیک آدمی ہیں اور ماشاء اللہ بہت بڑے افسر ہیں۔ میرے تو شاگرد ہیں، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب کے مرید تھے۔ تو ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں نے خواب دیکھا، خواب میں یہ بڑی لمبی اونچی اونچی عمارتیں ہیں، کہتے ہیں میں ایک عمارت سے دوسری عمارت بالکل ایسے چل کے جاتا ہوں جیسے ادھر قدم رکھا تو دوسری عمارت پہ رکھا۔ تو کہتے ہیں میں سوچتا ہوں کمال ہے، مجھ میں اتنی جرئت کیسے آگئی کہ میں اس طرح ایک عمارت سے ایک قدم دوسرے قدم پہ عمارت پہ رکھ لیتا ہوں یعنی گرنے کا خوف نہیں ہے، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ میرے پاؤں کے ساتھ زنجیر بندھی ہوئی اور وہ آپ لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، یعنی مولانا عزیز الرحمٰن صاحب کے ساتھ، آپ کے ساتھ وہ بندھی ہوئی ہے، لہٰذا مجھے گرنے کا خوف نہیں ہے۔

اب دیکھئے کہ مطلب یہ کہ یہ نظامِ حفاظت ہے نا، تو ان کو بڑے بڑے اونچے اونچے عہدوں پہ کام کروایا گیا نا، تو یہ اونچی عمارتیں ہیں نا، یہ اونچی عمارتیں ہیں۔ تو اونچی عمارتوں پہ بڑے عہدوں پہ تو انسان خراب ہو سکتا ہے نا، تو وہ گویا خواب میں تمثیل ہے کہ خراب نہیں ہوگا، یعنی ان کو پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ ظاہر ہے اللہ پاک نے ان کی حفاظت کا بندوبست فرما دیا ہے۔ تو یہاں پر بھی ہے کہ وہ لمبی رسی نیند میں بھی ہوتی ہے کہ وہ روح سے نظام واپس آئے گا ادھر۔

12

یہ رسی موجود ہے اس واسطے

لائے واپس روح اس پہ بوجھ لاد دے

(یہ رسی) اس لیے (اس کے پاؤں میں باندھ رکھتا ہے) کہ دن میں اس کو اس سبزہ زار (عالمِ مثال) سے کھینچ لائے۔ اور چراگاہ (خواب) سے اس کو (واپس لا کر کاروبارِ دنیا کا) بوجھ اس پر لاد دے۔

جس طرح گھوڑا کچھ دیر کے لیے چراگاہ میں چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک رسی اس کے پاؤں میں باندھ رکھتے ہیں تاکہ جب چاہیں اس کو چراگاہ سے واپس لے آئیں، اسی طرح سونے والے کی روح چراگاہِ عالمِ مثال میں آزاد پھرتی ہے لیکن جسمِ عنصری کے تعلق کی رسی جس کو قیدِ حیات کہنا چاہیے اس کے پاؤں میں پڑی ہے۔ اذانِ مسجد یا کوئی اور بیدار کن تحریک اس رسی کو جھٹکا دیتی ہے تو روح فورًا اسی ٹھکانے پر آن موجود ہوتی ہے۔ خاصانِ خدا و عارفانِ حق کی مثال بھی یہی ہے ان کی روح کا تعلق بھی دو عالموں سے ہے، ایک عالمِ دنیا سے دوسرا عالمِ معرفت سے، جس میں وہ جمالِ حقیقی کے مشاہدہ میں مستغرق ہوتے ہیں۔ طنابِ حیات ان کے پاؤں میں پڑی ہے جو اس عالم میں ان کو کھینچ لاتی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ سونے والے کے لیے عالمِ دنیا کا تعلق بیداری کہلاتا ہے۔ بخلاف اس کے عارفوں کے لیے دنیا کا تعلق خواب اور عالمِ مشاہدات ان کی عین بیداری و ہوشیاری ہے۔

یعنی دنیا کا تعلق خواب کی طرح ہے جیسے خواب میں ہوں، بے خودی، اور عالمِ مشاہدات جو ہے ان کی عین بیداری اور ہشیاری ہے جو ان کو مشاہدے ہو رہے ہیں۔

13

روح کو اصحاب کہف سا روکتے

یا کہ بچتے ہم کشتئ نوح جیسے

کاش کہ اصحابِ کہف کی طرح (صدیوں تک) روح کو (عالمِ مثال ہی میں) محفوظ رکھتا (اور یہاں نہ آنے دیتا) یا اس کشتی کی طرح (کم از کم چند ماہ کے لیے محفوظ رکھتا) جس نے حضرت نوح کو (محفوظ رکھا)۔

قیدِ حیات کی وجہ سے جو دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور ماسِوا کی طرف التفات کرنا پڑتا ہے اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش! اصحابِ کہف کی طرح غیر محدود مدت تک دنیا میں نہ آتے، یا حضرت نوح کی طرح کچھ محدود مدت کے لیے ہی دنیا کے طوفانِ علائق سے نجات ملتی۔

یعنی روح کو تسلی اسی میں ہے کہ وہ واپس دنیا میں نہ آئے یعنی اس میں بوجھ بنتا ہے نا، تو وہ مطلب ہے۔

14

تاکہ اس طوفان و بیداری و ہوش

سے ہم چھوٹتے جو ہے شر از چشم و گوش

بیداری و ہوش جس میں حوادثِ عالم کا احساس موجب الم و اندوہ ہے۔ ایک طوفانِ مصائب ہے اور حوادثِ عالم سے بے خبر رہنا مقامِ راحت و امن ہے


15

اے عزیز اصحاب کہف بہتیرے ہیں

ارد گرد کر خیال کچھ پاس تیرے ہیں

اے عزیز! تو ان اصحابِ کہف کے پیچھے مر رہا ہے حالانکہ خود تیرے پاس بہتیرے اصحابِ کہف اس جہان میں اسی زمانے کے اندر تیرے ہم پہلو (موجود) ہیں۔

یعنی عارفین۔ تو کہہ رہا ہے کہ اصحابِ کہف ہمیں کہاں ملے؟ بھائی اصحابِ کہف کی طرح وہ عالمِ خواب ہی میں ہیں، مطلب ان کو کوئی پرواہ نہیں، وہ جو ہے نا مشاہدے کے وقت زندہ ہیں اور دنیا کے علائق کے لیے مردہ ہیں۔ یعنی مطلب ہے کہ ان کا رخ آخرت کی طرف ہے، تو ان آخرت ان کی آخرت کی چیزوں کی طرف تو زندہ ہیں، مطلب ہے کہ دنیا کی چیزوں کی طرف مردہ ہیں۔ تو فرمایا اصحابِ کہف آپ کے پاس بہتیرے موجود ہیں،

اہل اللہ اور صاحبِ باطن دنیا میں موجود ہیں مگر لوگ اس سے آگاہ نہیں۔

16

غار و یار ہیں ساتھ تیرے ہم سرود

تو ہے غافل تب چھپا ان کا وجود

سبحان اللہ! یہ حضرت کے مضامین اب شروع ہو گئے

مطلب: دنیا میں بہت سے اہل اللہ تمہارے ساتھ ملے جلے موجود ہیں جو کمالاتِ باطنی میں اصحابِ کہف سے مشابہ ہیں اور ان کے اوقات بلحاظِ جمعیت خاطر و شغل بخدا اصحابِ کہف کے غار کے قائمقام ہیں مگر شناخت کیونکر ہو دل شناسا نہیں ہے۔

17

کس وجہ سے ہیں حجابات سوچ ذرا

مہر کان آنکھوں پہ رب کا ہے ترا

تو ان کو اس لیے نہیں جانتا کہ تیرے اوپر حجابات ہیں، تیرے کان کے اوپر، آنکھوں کے اوپر رب نے مہر لگایا ہوا ہے اپنے دنیا کے شوق کی وجہ سے۔

(اب) یہ سوچ کہ یہ حجابات اور یہ آنکھوں کانوں پر خدا کا مہر لگا دینا کس وجہ سے ہے۔ (اس سرّ کو آئندہ مثال سے سمجھاتے ہیں:)

تو دفترِ اول حکایت نمبر 18 میں جو مثال آرہی ہے جس میں خلیفہِ وقت نے لیلیٰ سے سوال کیا تھا اور لیلیٰ نے اس کا جواب دیا تھا، وہ سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے تمہارے اندر تو اتنا حسن نہیں ہے کہ مجنوں تیرے لیے کیوں مر رہا ہے؟ تو لیلیٰ نے اس کو جواب دیا کہ چونکہ تو مجنوں نہیں ہے۔ اس لیے کہ تو مجنوں نہیں ہے، تو مجنوں کی نگاہ سے دیکھتے تو پھر پتا چلتا، تو یہ بات ہے کہ اس پر بہت زبردست حقائق حضرت نے کھولے ہیں۔ کیا عجیب بات ہے، عام سی بات ہوتی ہے لیکن حضرت اس سے کہاں سے کہاں بات نکالتے ہیں ۔

دفتر اول حکایت نمبر 18

خلیفۂ وقت کا لیلٰی سے سوال کرنا اور اس کا جواب

جیسے میں پہلے بارہا عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ حکایات کے ذریعے سے مفید مضامین بیان فرماتے ہیں۔ اس میں وہ حکایت بذاتِ خود مقصود نہیں ہوا کرتی۔ وہ بعض دفعہ بالکل ایک فرضی کہانی ہوتی ہے، اصلی بھی نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ اصلی بھی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ویسے سنی سنائی بات ہوتی ہے۔ لیکن اس سے وہ پھر وہ حضرت، جو بھی ہوتا ہے اس سے پھر مفید مضامین نکالنا شروع کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض لوگ جو ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ چیز تو تھی ہی نہیں، تو ٹھیک ہے کتے کی کہانی وہ کہاں تھی؟ وہ تو ظاہر ہے طوطے کی کہانی وہ بھی کہیں پر نہیں تھی... لیکن دیکھو اس کے مضامین کیا کھلتے ہیں۔ وہ ان کو دیکھنا چاہیے۔ تو حضرت نے بھی ایک دفعہ ایک شکایت کے طور پر فرمایا کہ جس نے میری حکایات کو صرف حکایات سمجھا، اس نے اس کی قدر نہیں کی۔ تو ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ سب مفید مضامین کے لیے ایک جھولی کی طرح ہے جس کے ذریعے سے مفید مضامین آتے ہیں۔

1

یہ کہ لیلٰی سے خلیفہ نے کہا

تو ہے معشوقہ ِ مجنون یہ بتا

یعنی خلیفہ کو لیلیٰ کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اچھا تو ہے جس پر مجنوں مرتا ہے؟

2

دوسرے خوباں سے نہیں تو خوب تر

بولی چپ باش تو نہیں مجنون مگر

مطلب تو دوسرے خوبصورت لوگوں سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے، تو لیلیٰ بولی چپ ہو جاؤ، تو چونکہ مجنوں نہیں ہے۔ ظاہر ہے تو نے مجھے اس نظر سے دیکھا نہیں ہے، لہٰذا تو میرے بارے میں کیا کہہ سکتا ہے۔

یعنی میرے مشاہدۂ جمال کے لیے مجنوں کی آنکھ چاہیے اور آپ مجنوں نہیں ہیں۔


3

آنکھ مجنوں کی اگر ہوتی تری

آپ کے نزدیک عالم نہ ہوتا کچھ بھی

اگر حضور کی آنکھ مجنوں کی سی (جمال شناس) آنکھ ہوتی تو آپ کے نزدیک (میرے مقابلہ میں) دونوں عالم ناچیز ہوتے۔

4

تو ہے خود میں اور مجنوں بے خبر

یہ حضرت کا بہت بڑا پیغام ہے۔ تو ابھی خود میں ہے، یعنی اپنے نفس کے اندر گھرا ہوا ہے۔ لہٰذا تو مجھے نہیں جان سکتا اور مجنوں بے خود ہے، وہ اپنے آپ سے نکل گیا ہے۔

خود سے تیری اس خودی کا ہے اثر

ہاں، مطلب تجھ پر اپنی خودی کا اثر ہے کہ تو اس قسم کی باتیں کر رہا ہے۔ یعنی

حضور تو با خود (یعنی اپنی ہستی کا احساس رکھنے والے ہیں) لیکن مجنوں بے خود (یعنی اپنی ہستی سے بیخبر) ہے اور راہِ عشق میں اس قسم کی بیداری معیوب ہے۔

یہاں لیلٰی کا مقولہ ختم ہوا۔

خلیفہ و لیلیٰ کی تمثیل سے مولانا نے ظاہر فرما دیا کہ وہ حجاب جو اہل اللہ کی شناخت سے مانع ہے، کیا ہے؟ وہ حجاب بیداری اور اپنی ہستی کا احساس ہے۔ جس طرح یہ احساس خلیفہ کو لیلیٰ کے جمال کا مشاہدہ کرنے سے مانع ہے اسی طرح لوگوں کو اہل اللہ کی شناخت سے باز رکھتا ہے۔ اس لیے اگر اہلِ کمال کی دید کا شوق ہے تو اپنی خودی کا احساس نہ رکھو۔

یہ اصل میں مختلف حضرات نے مختلف انداز میں اس کو سمجھایا ہے۔ حضرت نے اس انداز میں سمجھایا۔ تو بعض دوسرے حضرات نے کہا کہ جو خالی جائے گا تو بھرا ہوا آئے گا۔ مطلب یہ کہ یعنی اپنے آپ کو بالکل ذہن سے خالی کر کے کہ میرا بھی کچھ علم ہے۔ اس طرح جائے گا تو پھر وہ علم سے بھر کے آئے گا۔ جب اپنی طرف سے اس کے اندر کچھ موجود ہوگا اپنے خیال میں کہ میں کچھ ہوں، تو دوسرے سے وہ کیا لے گا؟ دوسرے سے وہ نہیں لے سکتا۔ تو یہ اصل میں گویا کہ پہلا نقطہ حضرت نے سمجھا دیا کہ جب تک ایک انسان اپنی چیزوں پر نازاں ہے، تو دوسروں سے نہیں لے سکتا۔ دوسروں سے وہ نہیں لے سکتا۔

اب میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ واقعہ سچا واقعہ ہے اور بہت ہی عبرت ناک واقعہ ہے۔ حکیم نور الدین، لعنۃ اللہ علیہ، یہ قادیانیوں کا جو پہلا خلیفہ تھے۔ یہ بہت ذہین تھے۔ بہت زیادہ ذہین تھے۔ تو جس استاد سے بھی پڑھتے تھے، تو اخیر میں وہ کہتے کہ آپ مجھے پڑھانے کے قابل نہیں ہیں، اور وہاں سے چلے جاتے۔ یعنی سوالات اس طرح کرتے، عجیب و غریب اس طرح۔ آخری استاد جس سے وہ جا رہے تھے، تو اس نے اس سے کہا کہ نور الدین یاد رکھو! ایک تو خدا نہ بنو، ایک رسول نہ بنو۔ ایک تو خدا نہ بنو، ایک رسول نہ بنو۔ اس نے کہا یہ کیسے؟ انہوں نے کہا دیکھو... یعنی عیب سے پاک تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، تو تو اپنے آپ کو عیب سے پاک سمجھتا ہے، تو یہ تو تو نہیں ہے۔ اور حضور ﷺ کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی اختلاف ہو سکتا ہے آپس میں، تو تو جو ہے اپنے ساتھ اختلاف برداشت نہیں کرتا، لہٰذا تو ایک تو خدا نہ بن ایک رسول نہ بن۔ اور جا! جہاں بھی جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔ بظاہر لگتا ہے کہ قلبی بد دعا بھی ہو گی ساتھ۔، کچھ الفاظ سے جیسے نظر آتا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ قلبی بد دعا بھی ساتھ تھی۔

اب دیکھو یا تو اتنے بڑے بڑے اساتذہ کو ایسا کہتے تھے اور یا پھر ہوا کیا؟ ہوا یہ کہ غلام احمد قادیانی کو نماز پڑھا رہے تھے اور نماز پڑھنے کے بعد غالباً عصر کی نماز تھی، اور آگے بڑھ کے کہا کہ: أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ۔ اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ کیا بات ہے! ایک ایسا آدمی جو بظاہر انسانیت کے لبادے سے بھی باہر ہے۔ ایسے عجیب عجیب حرکتیں کر رہا ہے، ایسی بودی حرکتیں کر رہا ہے کہ اس کو انسان کہنا بھی بڑا مشکل کام ہے۔ اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر رہا ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ یہ مار ہے اللہ تعالیٰ کی۔ کہ اس کو مار پڑ گئی۔

بالکل یہ اس قسم کا واقعہ "قصیم" کا تھا، قصیم یہ ایک عالم گزرے ہیں حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر تھے جنہوں نے قصیدہ بردہ لکھا ہے۔ یہ بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ تو یہ کہتا: نہیں یہ مشرک ہیں۔ اور ہر جگہ پر جا کر کہتے، بوصیری مشرک ہے اور یہ... لوگوں نے کہا خدا کے بندے مقبول اولیاء میں سے ہے، تو کہیں آپ کو یہ بات خراب نہ کر دے۔ وہ سمجھ نہیں آئی۔ اخیر میں عیسائی ہو کر مر گیا۔ یہ کیا چیز ہے؟ اب اندازہ کر لو۔ کیا بات ہے۔

تو یہ بات ہے کہ انسان جب تک اپنے آپ سے نہیں نکلتا... اگر یہ اپنے آپ سے نکل سکتے، طالب ہوتے، ہاں تو ایسا حال ان کا نہ ہوتا۔

پہلے سادہ لوگ ہوتے ہیں لیکن اللہ ان کو بہت نواز دیتے ہیں۔ اب اس کا بھی ایک واقعہ سنیں۔ یہ بھی سچا واقعہ ہے۔ دیوبند میں ایک طالب علم تھے انتہائی سادہ آدمی۔ بڑے مشکل سے پاس ہوتے تھے۔ بس پاس ہوتے رہے۔ جس وقت پاس ہو گئے تو پگڑی باندھ لی گئی۔ وہ ڈر رہے تھے کہ میں تو کچھ جانتا نہیں یہ تو انہوں نے پگڑی بھی باندھ لی، تو میں کیا کروں گا اپنے علاقے میں جا کے؟ پہنچ گئے۔ کافی عرصے کے بعد ان کے جو کلاس فیلو (Class fellow) تھے، وہ کہیں اس طرف قریب سے جا رہے، گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا بھئی ہمارا ایک کلاس فیلو ادھر تھا، چلو ان کی بھی زیارت ہو جائے، معلوم کر لیں کہ وہ کیسے چل رہا ہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک تو وہ بالکل ہی غبی قسم کا طالب علم تھا، تو مطلب ظاہر ہے وہ کہتے چلو دیکھتے ہیں وہ کیا مطلب اس کے ساتھ ہو رہا ہے۔

تو کہتے ہیں جب اس راستے پہ چل پڑے تو جو ساتھ ساتھ لوگ چل رہے تھے ان سے پوچھا کہ آپ اس نام کا کوئی شخص یہاں جانتے ہیں؟ کہتے یہاں کا جو مولوی ہے؟ کہتے ہیں ہاں۔ تو ان کا نام ایسے لیتے ہو؟ وہ تو بہت بڑے آدمی ہیں۔ آپ اس طرح لیتے ہیں نام؟ انہوں نے کہا شاید یہ بہت سادہ ہے نا، تو اس وجہ سے لوگ بھی ان کو چھیڑ خانی کر رہے ہیں کہ یعنی ان کو بہت بڑا آدمی کہہ رہے ہیں، حالانکہ یہ تو ہوگا ایسے ہی۔

خیر وہاں جب پہنچ گئے، واقعی ان کا بڑا کروفر تھا۔ بڑی خدمات اور یہ اور وہ، سارے آگے پیچھے لوگ دوڑ رہے ہیں۔ حیران ہو گئے کہ بھئی یہ... یہ... یہ تماشہ کدھر سے آ گیا؟ جب ان کی خلوت ہو گئی تنہائی ہو گئی تو انہوں نے کہا کہ بھئی ہم پر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں کہ یہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کہتے ہیں میرے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے۔ یہ جو ہو رہا ہے یہ میری مرضی سے نہیں ہو رہا۔ کہتے ہیں ہوا یہ کہ جس وقت میں آ گیا تو میں تو بڑا ڈرا ہوا تھا کہ یا اللہ میں کیا کروں گا؟ مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا۔ ادھر آ کر جو ہمارے گاؤں کے لوگ تھے، وہ بھی سادہ لوگ تھے۔ انہوں نے پہلے سے مناظرے کا میرا تعین کر لیا تھا کہ جو ادھر ادھر کے ملحد قسم کے لوگ تھے، تو وہ جو سوال کر رہے تھے... کہتے ہیں ہمارا ایک عالم وہاں تیار ہو رہا ہے دیوبند میں، وہ جب آئے گا تو آپ سب کو جواب دے گا۔ تو انہوں نے مناظرے کی تاریخ بھی رکھی تھی۔ اب میں آ گیا، میں نے کہا یا اللہ یہ کیا... بالکل سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ یہ کیا عجیب بات ہو گئی کہ اب مجھے تو کچھ آتا نہیں، اب ان کے ساتھ مناظرہ کیا ہو گا؟ تو بڑی بدنامی ہو گی مدرسے کی۔

خیر دعائیں کر کر کے میں اسٹیج پہ چلا گیا، وہ لوگ بھی آ گئے۔ اتنے میں کہتے ہیں ایک صاحب تھے جن کو میں جانتا نہیں تھا، لیکن وہ میرے آ کر کان میں چپکے سے کہا: "پرواہ نہ کرو! سوال یہ کریں گے، جواب ہم بتائیں گے، آپ بتا دیا کریں۔" میں نے کہا چلو جی اللہ تعالیٰ کی مدد آ گئی، بس ہو گیا، بات ہو گئی۔ تو کہتے ہیں بالکل ایسا ہی ہوا کہ وہ لوگ سوال کرتے تھے، ادھر چپکے سے میرے کان میں جواب بتا دیتے تھے۔ تو میں ان کو بتا دیتا تھا۔ تو وہ جیسے میں بتاتا وہ سرینڈر (Surrender) کر جاتے، ان کے پاس اس کا جواب ہی نہیں ہوتا تھا۔ تو چار پانچ سوال کے ساتھ ہی وہ ڈھیر ہو گئے۔ اور انہوں نے بس ہاتھ چومنا شروع کر لیا کہ جی اب واقعی ہم نے مان لیا کہ آپ نے بہت پڑھا ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔ تو عوام کے اوپر اس کا بڑا اثر ہوا، تو اب دیکھ رہے ہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے، وہ تو یہی بات ہے اس میں نہ میرا کوئی کام ہے نہ کسی... یہ تو بس اللہ تعالیٰ کا ہوا ہے، کیسے ہے۔

اچھا پھر اس کی بات دیوبند تک پہنچ گئی۔ تو دیوبند کے جو اساتذہ تھے، انہوں نے ان سے پوچھا کہ ان کا حلیہ کیسا تھا؟ جس صاحب نے آپ کو کان میں کہا تھا، ان کا حلیہ کیسا تھا؟ انہوں نے جو حلیہ بتایا، تو وہ حلیہ تھا مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ جو کہ دیوبند کے بانی تھے اور فوت ہو چکے تھے۔ تو اب میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ خود آ گئے تھے، یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتا ہے، لیکن اللہ کی مدد آ گئی بصورتِ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ۔ مطلب صورت ان کی تھی چاہے حقیقی تھی یا... اللہ کو پتا ہے، اس میں تفصیل میں ہم نہیں جاتے کیوں کہ جس چیز کو اللہ نے ظاہر نہ کیا ہو تو اس کو ہم بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن بہرحال ایسا ہوتا ہے۔

تو اس طریقے سے، اب دیکھو چونکہ اس میں عاجزی تھی، اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے، تو اللہ کی مدد آ گئی۔ اور جس میں عاجزی نہ ہو، تو بس اس کو پھر حوالے کر دیا جاتا ہے، جیسے وہ ہوتے ہیں اسی طریقے سے پھر وہ معاملہ پڑتا ہے اس کو۔ تو یہ بات ہے۔

اللہ جل شانہ حضرت کے فیوض و برکات ہمیں نصیب فرمائے۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


حجابِ خودی اور دیدِ حق: عاجزی و تکبر کے عبرت ناک واقعات - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور