ملتِ ابراہیمی اور حقیقتِ اسلام: اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا

اشاعت اول، 25 جنوری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        ملتِ ابراہیمی سے انحراف کی حماقت

•        اسلام کا حقیقی مفہوم (مکمل اطاعت و فرماں برداری)

•        حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنی اولاد کو وصیت

•        دینِ اسلام پر استقامت اور حسنِ خاتمہ کی اہمیت

•        حضرت یعقوب  علیہ السلام کے مذہب کے حوالے سے یہودیوں کے دعوے کی تردید

•        ہر امت اور فرد کا اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہونا

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْـرَاهِيْمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِى الـدُّنْيَا ۖ وَاِنَّهٗ فِى الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِيْنَ (130) اِذْ قَالَ لَـهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۖ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَ (131) وَوَصّـٰى بِهَآ اِبْـرَاهِيْمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ۖ يَا بَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُـمْ مُّسْلِمُوْنَ (132) اَمْ كُنْتُـمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ ۖ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰـهَكَ وَاِلٰـهَ اٰبَآئِكَ اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ اِلٰـهًا وَّاحِدًا ۚ وَّنَحْنُ لَـهٗ مُسْلِمُوْنَ (133) تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَـهَـا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُـمْ ۖ وَلَا تُسْاَلُوْنَ عَمَّا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (134)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهٗ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے؟ سوائے اُس شخص کے جو خود اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کر چکا ہو! حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے دُنیا میں انہیں (اپنے لئے) چن لیا تھا، اور آخرت میں اُن کا شمار صالحین میں ہو گا ﴿130﴾ جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا کہ: "سرِ تسلیم خم کر دو!" تو وہ (فوراً) بولے: "میں نے ربّ العالمین کے (ہر حکم کے) آگے سر جھکا دیا" ﴿131﴾

یہاں سرِ تسلیم خم کرنے کے لئے قرآنِ کریم نے "اسلام" کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی سر جھکانے اور کسی کے مکمل تابع فرمان ہو جانے کے ہیں۔ ہمارے دین کا نام بھی اسلام اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ ہی کا تابعدار رہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ شروع ہی سے مؤمن تھے اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ کا مقصد ان کو ایمان لانے کی تلقین کرنا نہیں تھا، اسی لئے یہاں اس لفظ کا ترجمہ اسلام لانے سے نہیں کیا گیا۔ البتہ اگلی آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو وصیت اپنی اولاد کے لئے مذکور ہے وہاں اسلام کے مفہوم میں دونوں باتیں داخل ہیں، دینِ حق پر ایمان رکھنا بھی اور اس کے بعد اللہ کے ہر حکم کی تابعداری بھی۔ اس لئے وہاں لفظ "مسلم" ہی استعمال کیا گیا ہے۔

اور اسی بات کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی، اور یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ: "اے میرے بیٹو! اللہ نے یہ دین تمہارے لئے منتخب فرما لیا ہے، لہٰذا تمہیں موت بھی آئے تو اس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو" ﴿132﴾

ابھی اس کا ذکر آیا تھا کہ مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی دینِ اسلام سے باہر نہ ہو۔ یعنی اگر وہ باہر ہے تو ایمان لائے، اور اگر اندر ہو تو اس پر پوری طرح جمے رہے، سر جھکائے رکھے اللہ کے سامنے۔

کیا اُس وقت تم خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ اُن سب نے کہا تھا کہ ہم اُسی ایک خدا کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے۔ اور ہم صرف اُسی کے فرماں بردار ہیں ﴿133﴾ وہ ایک اُمت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ اُن کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے ﴿134﴾

بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں۔ یہ آیت اس کا جواب ہے۔ اس آیت کو سورہ آلِ عمران کی آیت 65 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح دین کی سمجھ عطا فرمائے، اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


ملتِ ابراہیمی اور حقیقتِ اسلام: اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا - درسِ قرآن - دوسرا دور