اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
موسٰی علیہ السلام کے صبر کی مثال
(42) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ اثَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَأَعْطَى نَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَاثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللهِ فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا قَالَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهٗ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ: فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللهُ وَرَسُولُهٗ ثُمَّ قَالَ: يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوسَىٰ قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ فَقُلْتُ: لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا.
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وَقَوْلُهُ كَالصِّرْفِ هُوَ بِكَسْرِ الصَّادِ الْمُهْمَلَةِ: وَ هُوَ صِبْغٌ أَحْمَرُ.
ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ حنین میں رسول اللہ ﷺ نے غنیمتوں کو تقسیم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے ساتھ تالیفِ قلبی کرتے ہوئے ترجیحی سلوک اختیار فرمایا، چنانچہ اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے عیینہ بن حصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اتنے ہی دیے اور عرب کے اشراف کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتے ہوئے انہیں زیادہ دیا، ایک شخص بول اٹھا اللہ کی قسم! یہ تقسیم منصفانہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا مندی کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم! میں ضرور اللہ کے رسول کو اس سے مطلع کروں گا۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ کو مطلع کیا، اس کو سن کر آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ اور اس کا رسول عدل و انصاف نہ کریں تو کون انصاف کرے گا؟ پھر فرمایا اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے کہیں زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔ آپ ﷺ کی کیفیت دیکھ کر میں نے دل میں کہا کہ اس کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔
تشریح: امام وقت کو اختیار ہے مال غنیمت کو زیادہ دینے کا
یعنی اس سے ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ امام اور خلیفہ وقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حالات و ضروریات اور تقاضائے وقت کے مطابق نو مسلموں کو یا دیگر ذی وجاہت اور صاحب اثر و رسوخ لوگوں کو تالیفِ قلب (دلجوئی) کے طور پر دوسرے مسلمانوں سے زیادہ دے دے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے غزوہ حنین میں نومسلم قبائل اور ان کے سرداروں کو مال غنیمت کی تقسیم میں قدیم ترین مہاجر اور انصار غازیوں پر فوقیت اور ترجیح دی ان کی تالیف قلوب کے لئے۔ اسی کی طرف آپ ﷺ نے ایک حدیث میں اشارہ فرمایا إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكِبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ.
فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ اس آدمی کا نام ذوالخویصرہ تھا اور یہ منافق شخص تھا۔
دوسری بات کہ
نبی کو ایذا پہنچانے والا موجب قتل ہے
ثُمَّ قَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَىٰ قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ.
ترجمہ: پھر فرمایا اللہ جل شانہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے کہیں زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔
موسیٰ علیہ السلام کو جو ان کی قوم نے ایذا دی اس کا تذکرہ خود قرآن مجید میں مذکور ہے۔
"وَ إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَ قَد تَّعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ"
(حوالہ: سورہ الصف، آیت 5)
ترجمہ: اور جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تم یہ جانتے ہوئے کہ میں اللہ جل شانہ کی طرف سے بھیجا ہوا تمہاری طرف رسول ہوں مجھے کیوں ایذا پہنچاتے ہو۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے جس میں امت محمدیہ کو بھی خطاب ہے کہ تم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح اپنے نبی کو ایذا مت دو۔
قَالَ تَعَالٰی: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ"
(حوالہ: سورہ الاحزاب، آیت 69)
ترجمہ: اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی۔
یہاں پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ مسلمانو! تم جناب رسول اللہ ﷺ کو تکلیف نہ دو جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم نے دی۔ علماء نے لکھا ہے کہ ایذاء رسول کا مرتکب جیسے نبی کی حیات میں کافر اور واجب القتل تھا اسی طرح ان کی وفات کے بعد بھی آیت قطعی دلائل کی روشنی میں ایسے شخص کے کفر اور قتل پر متفق ہے۔
تخریج حدیث: اخرجه البخاری فی ابواب الخمس و فی الانتباه و فی الدعوات و فی الادب (باب من اخبر صاحبه بما یقال فیه. مسلم فی الزکاة (باب اعطاء المؤلفة قلوبهم علی الاسلام و تصبر من قوی ایمانه، رواہ امام احمد فی مسندہ 2 / 3902 و ابن حبان 2917۔
تو اس سے پتا چلا کہ آپ ﷺ نے جو تقسیم فرمایا وہ تو صحیح تھا لیکن منافقین جو ہیں اس پر وہ نہیں مطمئن تھے۔ تو ایسے لوگ منافق ہوا کرتے ہیں کافر ہوا کرتے ہیں جو آپ ﷺ کو تکلیف دیں، تو بہرحال یہ ہے کہ اس سے یہ پتا چلا کہ امامِ وقت جو ہوتا ہے وہ حالات کے مطابق بھی وہ تقسیم کر سکتے ہیں کہ جو حالات ہوتے ہیں اس کو زیادہ جانتے ہیں، تو اس پر اس کی کوئی گناہ نہیں یعنی ان کو ان حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔