پہلے لوگوں کو بھی بہت تکالیف دی گئیں
(41) ﴿وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ هُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَّهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ، فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيْهَا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، وَ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِهِ وَ عَظْمِهِ مَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِيْنِهِ، وَ اللهِ لَيُتِمَّنَّ اللهُ هٰذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضَرَ مَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ وَ الذِّئْبَ عَلَىٰ غَنَمِهِ، وَلٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)وَ فِيْ رِوَايَةٍ: وَ هُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً وَّ قَدْ لَقِيْنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً.
ترجمہ: "حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار کی ایذا رسانیوں کا) شکوہ کیا آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے تھے، ہم نے عرض کیا آپ ﷺ ہمارے لئے غلبہ کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بعض لوگوں کو پکڑ لیا جاتا، گڑھا کھودا جاتا، اس میں اس کو گاڑا جاتا، اس کے سر پر آری چلایا جاتا اور اس کے ٹکڑے کر دیئے جاتے اور بعض کو لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت کو نوچا جاتا ہڈیاں تک متاثر ہو جاتی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے روگردانی نہ کرتا۔ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ اسلام کی تکمیل فرمائے گا اور امن کی کیفیت یہ ہوگی کہ ایک سفر کرنے والا صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا لیکن وہ صرف خدا سے ڈرے گا اور وہ اپنی بکریوں پر بھیڑیوں کا خوف نہ رکھے گا لیکن تم جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ چادر سر کے نیچے رکھے ہوئے تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے تکلیفیں پہنچی تھیں۔"
یہ اصل میں تکالیف چونکہ ہر دور میں ایمان والوں پر آتی ہیں، ان کی آزمائش ہوتی ہے، تو اس سلسلے میں بات ہے کہ اس وقت کیا ہوا تھا
قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ: تم سے پہلے جو لوگ تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین حق کی راہ میں مصائب اور تکلیفوں کا آنا یہ صرف دور محمدی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں دین والوں پر آزمائش آتی رہی۔ اس جملہ سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مصائب قریش سے مت گھبراؤ بلکہ اپنے سے پہلے کے لوگوں پر نگاہ رکھو کہ ان پر کیسے کیسے مصائب اور تکلیفیں آئیں اس کے باوجود وہ دین پر جمے رہے۔
پھر فرمایا: حَتَّى يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضَرَ مَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ.
یہاں تک کہ ایک سوار تنہا صنعاء (یمن) سے چل کر حضر موت پہنچ جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔اسی جملہ میں سرور کائنات ﷺ نے مسلمانوں کو ایک عظیم بشارت سنائی یا آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ عنقریب اللہ جل شانہ زمین کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے پاک و صاف کر دے گا اور ہر جگہ اسلام کا عدل و انصاف و امن و امان ہوگا۔ یہ دور خیر القرون والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بعد والے بھی یہ دور دیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ اسلام کے عدل و انصاف کو اختیار کر لیں۔
تخریجِ حدیث:
اخرجه البخاری فی کتاب علامات النبوة (باب علامات النبوة فی الاسلام و باب ما لقی النبی ﷺ و اصحابہ من المشرکین بمكة)، اخرجہ امام احمد فی مسندہ 21130/7، النسائی 5335 و ابن حبان 2897۔ البيهقی 5/6۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور عافیت کے ساتھ دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔