اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْن، اَمَّا بَعْد! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ، لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ صَدَقَ اللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
معزز خواتین و حضرات! ماشاء اللہ آپ بہت اچھے وقت پر یہاں پر تشریف لائی ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ جوڑ اس وقت منعقد ہو رہا ہے کہ اب اس کے بعد فوراً رمضان شریف آ رہا ہے، اور رمضان شریف کا جو مہینہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دینے کا مہینہ ہے کہ اللہ پاک اس میں دیتا ہے بے انتہا دیتا ہے۔ رحمتوں کا مہینہ ہے، مغفرت کا مہینہ ہے، جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے۔ اس وجہ سے اس کے جو مواقع ہیں کہ اس میں کس کس چیز سے کیا کیا ملتا ہے، وہ معلوم ہونا چاہیے اور اس پر عمل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی عمل کا پتہ اس کا وقت گزرنے کے بعد چلتا ہے، اس وقت اس کا مطلب صرف حسرت ہی ہوتا ہے۔ حسرت کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے اس کا؟ جیسے حشر میں سارے کافروں کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا تھا، اس وقت وہ پکار پکار کے اس کا اقرار کریں گے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، وقت گزر چکا ہو گا۔ تو وقت پر سب کچھ سمجھ آ جائے اور اس کے مطابق عمل ہو جائے، یہ بہت زیادہ خوش نصیبی کی بات ہوتی ہے۔
تو اب یہاں پر جو تشریف لائی ہیں، اس میں آپ کو جو کچھ بتایا گیا تو یہ صرف سننا مقصد نہیں تھا بلکہ اس کے مطابق عمل کرنا، اس سے اثر لے کر اپنے رمضان شریف کو اپنے لیے زبردست توشہ بنانا، یہ ہے اصل کام۔ اب بعض کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے، اشارہ ہو جائے تو معلوم ہو جاتا ہے بس اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔ بعض کو ذرا بار بار کہنا پڑتا ہے اور بعض کہنے کے باوجود بھی نہیں کرتے، مطلب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔ تو ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم پہلے والے لوگوں میں ہوں جن کے لیے اشارہ کافی ہو۔
تو سبحان اللہ قرآن شریف میں تو اس کے بارے میں بہت واضح باتیں موجود ہیں، احادیث شریفہ میں بھی موجود ہیں، آپ ﷺ کا عمل موجود ہے، صحابہ کرامؓ کا عمل موجود ہے اور کونسی چیز چاہیے جاننے کے لیے؟ سب کچھ موجود ہے۔ اب اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن۔
اے ایمان والو! یقین جانیں جس وقت میں یہ بات سنتا ہوں تو بہت خوش ہوتا ہوں کہ الحمدللہ اللہ تعالیٰ ہمیں خطاب فرما رہے ہیں، ہم ایمان والے ہیں الحمدللہ۔ اپنے ایمان پر خوش ہونا چاہیے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اپنے ایمان پر خوشی نصیب فرمائے۔ بعض لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے، نہ اپنے ایمان کی پرواہ کرتے ہیں نہ کسی اور کے ایمان کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایمان بہت بڑی دولت ہے۔
ایک دفعہ جرمنی میں ہمارے ایک پاکستانی ساتھی تھا، ان کے سامنے میں نے ترکوں کی تعریف کی کسی وجہ سے۔ ان کو ذرا ترکوں کے ساتھ ان بن رہی ہو گی، ظاہر ہے اکٹھے رہتے ہیں تو مسئلے ہوتے ہیں۔ تو اس نے مجھے کہا "آپ ابھی ابھی آئے ہیں نا؟ آپ کا ان کے ساتھ رابطہ ہو جائے گا پھر پتہ چل جائے گا کہ کیسے ہیں۔" میں نے کہا دیکھو، زیادہ سے زیادہ آپ جو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ وہ گنہگار ہیں، اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کہہ سکتے نہ؟ گنہگار کہہ سکتے ہیں، مومن تو ہے؟ کہتا ہے "ہاں"۔ تو میں نے کہا ایک طرف پورے کافر جرمنی کو لے لو اور دوسری طرف ایک گنہگار سے گنہگار ترک کو لے لو، اللہ کے نزدیک یہ بھاری ہے ان سب سے۔ وجہ کیا ہے؟ کہ اس کے پاس ایمان ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ ایک شخص ہے ایمان کے ساتھ چلا گیا تو ہمیشہ کے لیے، مطلب ظاہر ہے اگر تقویٰ حاصل ہے تو ہمیشہ کے لیے جنت میں رہے گا ابتدا ہی سے، اور اگر تقویٰ نہیں ہے تو جتنے گناہ کیے اس کے مطابق اگر سزا ہو بھی جائے بالآخر تو جنت میں جائے گا نا؟ ہمیشہ کے لیے تو دوزخ میں نہیں رہے گا، اور جو کافر ہو گا وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔ تو اتنا بڑا فرق ہے۔
اس وجہ سے ایمان پر بہت خوش ہونا چاہیے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ۔ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو میں تم کو مزید بڑھاؤں گا، تو ایمان پر شکر کرنے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے، تو جب اللہ پاک نے فرمایا "یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا" ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ اللہ کی طرف سے کیا خبر آ رہی ہے۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔ تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے، اس میں ہمارے اس اشکال کو ختم کر دیا گیا کہ ہم سمجھیں کہ جو روزوں کو بوجھ سمجھتے ہیں نا، تو صرف یہ ہمارے لیے نہیں بلکہ ہم سے پہلوں کے لیے بھی تھے۔ یہ روزے پہلے سے چلے آ رہے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے روزے نہیں رکھے تھے وہ جو طور پہ گئے تھے کوہِ طور پہ؟ عیسیٰ علیہ السلام نے؟ تو روزے پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن، تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
اب یہاں پر ایک بڑا ہی عجیب نکتہ ہے جس کی طرف ہمیں خیال کرنا چاہیے۔ کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ایمان اور تقویٰ اگر مل جائے تو یہ ولایت ہے۔ اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْن۔ آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ خوف لاحق ہو گا نہ غمگین ہوں گے، وہ ایمان والے ہوں گے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہو گا۔ سبحان اللہ! اب ایمان کے ساتھ تقویٰ ملے تو ولایت ہے۔ پس اگر اس کو اس انداز میں سمجھا جائے کہ ایمان والو رمضان شریف کے تم روزے تم پر فرض کیے گئے جس طرح تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تاکہ تم اللہ کے ولی بن جاؤ۔ کیونکہ اس کا ڈائریکٹ جو اثر ہے وہ کیا ہے؟ وہ ولی بن جاتا ہے۔ کتنا بڑا ولی؟ سبحان اللہ! اللہ پاک خود فرماتے ہیں: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو زیادہ متقی ہے، اتقٰی! جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس کا تقویٰ زیادہ وہ بڑا ولی، جس کا تقویٰ زیادہ وہ بڑا ولی ہے۔ پس اپنا تقویٰ کو بڑھاتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرتے رہو، یہ بالکل مترادف چیزیں ہیں۔
تو رمضان شریف میں تو آپ کو ہر روزے کے ساتھ تقویٰ حاصل ہوتا ہے نa؟ تو آپ کو ہر روز ماشاء اللہ ولایت مزید ملتی رہے گی۔ ہاں البتہ ایک بات ضرور ہے، کمانا اور محفوظ رکھنا یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ ایک انسان کمائے تو سہی لیکن محفوظ نہ رکھے تو خالی ہاتھ۔ تو اسی طریقے سے فرمایا: اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ۔ روزہ ڈھال ہے اگر اس کو کوئی پھاڑ نہ ڈالے۔ پھاڑ ڈالنے کا مطلب کیا ہے؟ اس میں ایسے کام کرے جو روزہ کے اصل کے خلاف ہے۔ تو روزہ کا اصل چونکہ تقویٰ ہے، لہٰذا اگر کوئی اس کے خلاف کوئی کام کرتا ہے تو ظاہر ہے وہ اس کو پھاڑ رہا ہے، نتیجتاً اس کے جو فوائد ہیں وہ ضائع کر رہا ہے۔ پس جس کا روزہ اچھے سے اچھا اس کا تقویٰ بہتر سے بہتر، اس کا تقویٰ زیادہ سے زیادہ۔ تو جو اپنے روزے کو بہتر طریقے سے رکھے گا، جس میں وہ چیزیں جو اس کے موانع ہیں ان سے پرہیز کرے گا،
اور یہ بہت آسان اصول میں عرض کرتا ہوں۔ روزہ کی بنیاد تین چیزوں پر ہے، یہ تین چیزیں واقعہ ہو جائیں تو اگر نیت روزہ کی ہو تو روزہ ہو جائے گا۔ کھانے، پینے اور مباشرت سے صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک روزے کی نیت سے اپنے آپ کو روکنا، یہ روزہ ہے۔ اگر روزے کی نیت نہ ہو پھر تو نہیں ہے نا؟ اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو، مثلاً پانی پیا یا کھانا کھایا، مباشرت تو کیا ہے؟ وہ روزہ نہیں ہو گا، اور اگر صبح صادق اور مغرب کا خیال نہ رکھے پھر بھی، تو اس کا مطلب ہے کہ روزہ یہی ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک بہ نیتِ صوم، یعنی روزے کی نیت سے ان تین چیزوں سے رکنا، یہ کیا ہے روزہ ہو جاتا ہے۔ کسی نے روزہ رکھ لیا اس کو دوبارہ نہیں رکھنا پڑے گا رمضان شریف کا کیونکہ اس نے روزہ رکھ لیا، لیکن اب تھوڑا سا سوچیں یہ تینوں چیزیں جائز ہیں۔ مباح ہیں، تو اس کی ممانعت سے روزہ ٹوٹتا ہے، یعنی مطلب اس کے کرنے سے روزہ ٹوٹتا ہے مطلب یہ کہ روزہ نہیں ہوتا۔ تو جو چیزیں پہلے سے حرام ہیں، مثلاً جھوٹ حرام ہے، غیبت حرام ہے، دھوکہ دینا حرام ہے، تو کیا خیال ہے اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا؟ اثر ہو گا لیکن، لیکن وہ ظاہر نہیں ہے وہ پتہ اس کا اُدھر چلے گا، اس کا پتہ اُدھر چلے گا۔ اس وجہ سے فرمایا کہ بعض لوگ روزہ رکھتے ہیں لیکن اس کو سوائے فاقہ کے کچھ نہیں ملتا۔ یعنی روزہ ان کا ہو گیا اس لیے رکھنے سے تو فرما دیا، لیکن اس کا جو ثواب و اجر ہے، اس کا جو اثر ہے وہ اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ تو اس وجہ سے روزے کے بارے میں نہ صرف یہ کہ ان تین چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے، بلکہ جو چیزیں پہلے سے حرام ہیں اس سے تو بدرجہ اولیٰ پرہیز کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو اس سے بچانا چاہیے۔ اور اگر اس سے اپنے آپ کو نہیں بچایا تو آپ کو لوگ تو روزہ دار کہیں گے، اور ظاہر شریعت بھی آپ کو روزہ دار کہے گی لیکن اس کا باطن سارا کا سارا اڑا دیا، پیچھے کچھ بھی نہیں بچا۔ لہٰذا اپنے روزے کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔
اچھا یہ جو ہے نا اللہ تعالیٰ نے اس کا عجیب انتظام کیا ہے سبحان اللہ! اتنا عجیب انتظام کیا ہے۔ دن کو روزہ ہے مجاہدہ، جو نفس کا علاج ہے۔ اس لیے اس سے نفس کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور رات کو قیام اللیل، تراویح۔ تراویح جو ہے یہ ذکر ہے، مطلب یعنی اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔ یہ ذکر ہے اور ذکر سے دل کی اصلاح ہوتی ہے اور قرآن بھی اس میں ذکر ہے، لہٰذا اس سے بھی دل کی اصلاح ہوتی ہے۔ لہٰذا قیام اللیل انسان کے دل کو بناتا ہے یعنی دل کی روشنی تراویح سے ہے، اور نفس کی اصلاح روزے میں ہے۔ لہٰذا دونوں چیزوں کی ماشاء اللہ اصلاح ہو رہی ہے اور فائدہ ہو رہا ہے۔
پھر یہ ہے کہ اگر ہم، یعنی دیکھیں تو اللہ جل شانہٗ نے اس روزے کے اندر اجر اور ثواب بھی رکھا ہے اور اثر اور اصلاح بھی رکھا ہوا ہے۔ صرف اجر نہیں ہے بلکہ اجر بھی ہے اور اثر بھی ہے یعنی اصلاح بھی ہے اس میں۔ اجر کتنا ہے؟ سبحان اللہ! اَلصَّوْمُ لِیْ۔ اللہ پاک فرماتے ہیں روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں، اَنَا اَجْزِیْ بِہِ، میں اس کا جزا دوں گا۔ اب دیکھیں کیا بات ہے! یعنی اللہ پاک نے روزہ دار کا اتنا اکرام فرما دیا کہ باقی چیزوں کے بارے میں فرماتے ہیں اس کا تو اجر فرشتوں کے ذریعے سے ہے اور روزے کا اجر براہِ راست خود اللہ تعالیٰ دیں گے۔ اس لیے فرمایا: لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ۔ روزے میں دو فرحتیں ملتی ہیں۔ ایک فرحت افطار کے وقت، اس روز افطار کے وقت، اور ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کے وقت۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ روزے کا اجر دیں گے تو کیسی حالت میں ملاقات ہو گی؟ خوشی کی حالت میں ہو گی نا؟ تو وہ فرحت بہت زیادہ ہو گا جب اللہ تعالیٰ روزے کا اجر خود عطا فرمائیں گے۔
لہٰذا ہم لوگوں کو روزے پہ خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ پھر دیکھیں یہاں پر رمضان شریف جب شروع ہوتا ہے نا، سبحان اللہ! اللہ پاک ایسا انتظام فرما دیتے ہیں کہ سرکش شیاطین کو قید کر دیتے ہیں۔ لہٰذا وہ وسوسہ نہیں ڈال سکتے، اور ساتھ نفس کا بھی علاج ہو رہا ہے۔ اب میں آپ کو ایک اصول بتا دوں، یہ فوجی اصول ہے۔ جس وقت آپ دیکھیں کہ دشمن کی طرف سے وہ فائر نہیں ہو رہی، کسی وجہ سے دشمن کا فائر، مطلب جس کو کہتے ہیں نہ وہ چوکی اڑ گیا یا کوئی اور بات ہو گئی۔ آپ کو ایک گھنٹے کی مہلت مل گئی۔ اس ایک گھنٹے میں آپ کیا کریں گے؟ زیادہ سے زیادہ ایڈوانس، زیادہ سے زیادہ ایڈوانس جتنا زیادہ آگے جا سکتے ہو اتنا جائیں گے کیونکہ اگر وہ ایک دفعہ جم گئے پھر تو آپ کو مقابلے کی ضرورت پڑے گی۔ تو یہ آپ کے پاس ٹائم ہے جس میں آپ ایڈوانس کر سکتے ہیں۔ تو اب دیکھیں فرمایا کہ اس میں سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رمضان شریف میں پھر بند نہیں ہوتے۔ اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور رمضان شریف میں پھر نہیں کھلتے۔ اور ایک منادی کہتا ہے اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اے خیر کے طلب گار آگے بڑھ، اور اے شر کی طرف جانے والے رک جا! یہ مطلب ہے کہ یہ باقاعدہ اعلان ہوتا ہے۔ اب دیکھو ہمیں ایڈوانس کا ایک قسم کا ماحول بھی دیا گیا، حکم بھی دیا گیا۔ پھر ہم ایڈوانس نہ کریں تو کیا کریں؟ یعنی اس میں ہم خیر کے کاموں کو کثرت کے ساتھ کریں یہ ایڈوانس ہے۔ اور شر کے کاموں سے بالکل رک جائے۔
اب ایک اور بات اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالی، بہت زبردست بات الحمدللہ۔ اس وقت ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق، اصل میں بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جو آتے ہیں نا اس کی طرف لوگ اتنا زیادہ غور نہیں کرتے۔ جب ڈاکٹر کے نام ساتھ لے لو نا پھر لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں او یار یہ تو کوئی بڑی بات آ رہی ہے۔ بھئی ڈاکٹروں کی کیا بات ہے، آج اس نے بات کر لی کل اس کے خلاف بولے، مطلب یہ بات نہیں ہے، لیکن اب چلو میں ڈاکٹروں کی بات کر لیتا ہوں۔ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق، جو نفسیاتی ڈاکٹر ہیں۔ ایک بیماری جب کرونک (Chronic) ہو جائے، جس کی لت پڑ جائے کسی چیز کی، جس کو یہ لوگ ایڈکشن (Addiction) کہتے ہیں۔ ایڈکشن ہو جاتا ہے تو ایڈکشن سے آدمی نہیں بچتا وہ بار بار اس کی طرف جاتا ہے۔ مثلاً بعض لوگ کو موبائل دیکھنے کی ایڈکشن ہوتی ہے نا؟ تو اب جیسے صبح نیند سے اٹھتے ہیں تو پہلا کام کیا ہوتا ہے؟ موبائل کی سکرین کھولتے ہیں۔ پہلے کہتے تھے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ، ہاں، اور اب جو ہے ناوہ اب کیا کہتے ہیں بس موبائل کھولتے ہیں۔ نہیں بھئی، موبائل ذرا ٹائم پر۔ تو خیر بہرحال یہ ہے کہ لت پڑ گئی ہے، یہ لت پڑنا اس کو کہتے ہیں۔ تو لت جس کو چیز کی پڑ جائے اس سے بچنا آسان نہیں ہوتا، لیکن ان ڈاکٹروں نے کہا ہے اگر کوئی آدمی ہمت کر کے تین ہفتے تک اس چیز سے اپنے آپ کو روکے تو لت ٹوٹ جاتی ہے۔ تین ہفتے، بچّے ایک ہفتہ! بچّے کے لیے ایک ہفتہ ہے، کیونکہ کچا ذہن ہوتا ہے، اور بڑے کے لیے تین ہفتے ہے۔
پس اگر آپ لوگوں نے سمارٹ فون کو اپنے سے دور کر لیا اور سادہ فون اس استعمال کرنا شروع کر دیا یہ رمضان شریف میں، تو رمضان شریف میں کتنے ہفتے ہوتے ہیں؟ چار ہوتے ہیں نا، تین سے زیادہ ہے نہ؟ لہٰذا لت ٹوٹ جائے گی نا، تو یہ مطلب آپ کر سکتے ہیں۔ اس طرح اور بہت سارے لت ہوتے ہیں، یہ تو میں نے ذرا ایک بہت عام فہم مثال دے دی ہے، باقی تو بہت سارے لت ہوتے ہیں جس میں لوگ پھنسے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ باہر کے کھانوں کے عادی ہوتے ہیں، یہ بھی ایک لت ہوتی ہے۔ مباح ہے نہ وہ نہیں ہے، لیکن اگر مباح کے ساتھ حرام شامل ہو جائے تو مفتی صاحب پھر وہ کیا رہیں گے؟ مباح ہی رہیں گے؟ وہ تو پھر حرام ہو جاتے ہیں نا۔ تو مطلب یہ کہ بعض لوگ اچھا بھلا کھانا گھر کا چھوڑ کے وہ باہر کے چکر کاٹتے ہیں۔ او خدا کے بندو! کم از کم آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ بھئی اس میں کون سا تیل پڑا ہے، کون سی چیز اس میں ڈالی ہوئی ہے؟ اپنے گھر کی جو چیز ہے تو وہ تو صحیح چیز بھی ہے پاک چیز بھی ہے، ایک نمازی آدمی کا پکایا ہوا ہے۔ لیکن باہر کا کیا پتہ؟ اور یہ میں آپ کو بتاؤں کہ دو چیزیں جس کا اثر ہوتا ہے لیکن لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا وہ بہت آہستہ آہستہ آتا ہے۔ اگر آپ کسی کی کتاب پڑھتے ہیں نا، اس آدمی کے عقیدے کا اس آدمی کے مزاج کا کتاب پر اثر ہوتا ہے، اور وہ کتاب پڑھنے سے آپ پر اس کا اثر آئے گا۔ بالکل یہ مجرب چیز ہے۔ اور اسی طرح کھانا جس نے پکایا ہے اور جس طرح پکایا ہے اس کا اثر بھی آپ کے دل کے اوپر ہو گا، چاہے آپ مانے یا نہ مانے۔
حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ باہر کھانے نہیں کھاتے تھے۔ باہر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ وہ اگر سفر پہ جاتے، کسی دینی کام کے سفر پہ جاتے تو اپنے ساتھ چنے وغیرہ لے لیتے، بھنے ہوئے چنے۔ بھنے ہوئے چنے کھاتے اور پانی پیتے بس اسی سے گزارا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو ایسا مکاشفہ عطا فرما دیا کہ ان کو حرام چیز کا پتہ خود چل جاتا تھا، ان کو کشف ہو جاتا کہ یہ حرام ہے۔ یہ مولانا صفدر امین اوکاڑوی صاحب رحمہ اللہ نے یہ واقعہ مجھے خود فرمایا ہے کہ ہم گئے تھے اور یہ اسی پہ واپس آئے تھے کہ ہم گئے تھے اور وہ کہتے ہیں ایک ہم بیٹھے ہوئے تھے آپس میں، اہلحدیث تھے وہ۔ تو ہم بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے کوئی باہر سے آیا اس نے کہا کہ جی میرے پاس مشتبہ پیسے ہیں تو یہ اس کا کیا کروں؟ تو لوگوں نے کہا میں کیا کیا؟ مجھے کیا پتہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں، باقی دوستوں نے کہا۔ میں نے کہا بھئی میرے پاس اس کا حل ہے مجھے دے دو۔ اس نے کہا آپ کے پاس کیا حل ہے؟ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے ان لے لیے اس سے۔ جب لے لیے تو میں نے کہا کہ مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کا سنا ہے کہ وہ اس کو کشف ہو جاتا ہے مشتبہ کا حلال و حرام کا، تو ہم اس کا امتحان لیتے ہیں۔ تو جا کر روٹیاں لے لیں کچھ صحیح پیسوں سے لیں کچھ مشتبہ پیسوں سے لے لیں مشتبہ اور پھر ان پہ نشان لگا دیے کہ معلوم کریں۔ تو کہتے ہیں حضرت کو ہم نے روٹیاں پیش کر دیں۔ تو حضرت نے اسے چن چن کے وہ روٹیاں نکالیں جو مشتبہ والے مال سے لی گئی تھیں اور یہ واپس کر دیں یہ تو رکھ لو۔ اور وہ جو اصل صحیح روٹی تھی نا وہ وہ لے لی، وہ قبول فرما لی۔ اب وہ دوست اہلحدیث حضرات تھے وہ اکٹھے، دونوں سمجھ گئے کہ بھئی بات تو صحیح ہے۔ تو دونوں نے کہا ہم بیعت ہوتے ہیں۔ تو حضرت سے کہا کہ حضرت اب ہمیں بیعت فرمائیں۔ فرمایا تم میرا امتحان کرنے کے لیے آئے تھے جاؤ اپنے گھر واپس جاؤ کوئی وہ بیعت ویت نہیں ہے۔ بس امتحان ہو گیا نا بس کافی ہے۔
اس پر وہ دوسرے صاحب غصہ ہو گئے، کہتے ہیں یہ کیا بات ہے بس ہم نے توبہ کر لیا نا تو پھر کیا خواہ مخواہ وہ کرنے، کہتے میں نے کہا میں نے کہا بھئی بزرگوں کے ساتھ الجھتے نہیں ہیں بس حکم ماننا چاہیے چلو چلتے ہیں۔ کہتے ہیں ہم اوکاڑہ آئے۔ اوکاڑہ وہ لاہور سے آئے ہیں اور لاہور میں گھر میں داخل ہوا اور پھر واپس آ گیا، اور سیدھا پھر لاہور چلے گئے۔ پھر میں نے کہا حضرت اب تو امتحان کے لیے نہیں آیا ہوں نا؟ کہا نہیں اب ٹھیک آئے ہو۔ تو میں نے کہا پھر مجھے بیعت کر لیں، انہوں نے بیعت کر لیا۔ پھر کہتے ہیں حضرت نے مجھے کہا کہ تمہاری جیب میں اتنے پیسے ہیں، جاؤ اس کے ذریعے سے احیاء العلوم لے آؤ۔ اس سے احیاء العلوم مل جائے گا۔ اور کرائے کا پیسہ مجھ سے لینا پھر۔ تو کہتے ہیں کتاب میں لے آیا، اس سے وہ دو جلد تو پہلے والے ہٹا دیں، کہتے یہ تو فقہِ شافعی ہے لہٰذا اس میں تو ہماری ضرورت نہیں ہے، لہٰذا یہ تو علیٰحدہ رکھ لو۔ ہاں یہ باقی شیخ کے کاموں کا کام ہے۔ تو اس کو پڑھو، اور مجھے رخصت کر دیا۔
مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو حضرت کی زندگی بدل گئی پھر۔ سبحان اللہ حضرت کی زندگی بدل گئی! مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے یعنی گویا کہ اپنے آپ کو مشتبہ چیزوں سے بچانا چاہا تو اللہ پاک نے پھر اتنی بڑی نعمت عطا فرما دی۔ تو ان چیزوں سے پرہیز فائدے میں رہتا ہے، یہ سیر سپاٹے اچھی چیزیں نہیں ہوتی۔ بھئی ٹھیک ہے بعض دفعہ مزہ ہو گا اس میں لیکن اس مزے کے ساتھ اگر زہر ملا ہو تو پھر کیا ہو گا؟ ایک مزیدار کیک بنا ہو اس کے اندر زہر ہو، تو اپ کھا لیں گے؟ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے کہ لت پڑی ہوتی ہے نا تو ایسی چیزوں کا علاج پھر رمضان شریف ہے۔
آج کل الحمدللہ ثم الحمدللہ رمضان شریف کے روزے اتنے مشکل بھی نہیں ہیں۔ ویسے تو مشکل بھی ہو تو اس کا اثر زیادہ ہو گا، فائدہ زیادہ ہو گا، لیکن بہرحال یہ آسان ہے۔ آسان روزے ہیں، لہٰذا روزے تو رکھنے ہی چاہیے یہ تو میں دوسری بات نہیں کہہ سکتا ہوں۔ البتہ یہ ہے کہ اس کے اثرات کو بڑھانے کے لیے ایک تو اس میں ایسی چیزوں سے بچنا چاہیے جس سے روزہ خراب ہوتا ہے، اور دوسرا یہ کہ ایسی چیزیں اختیار کرنی چاہیے جس سے روزے کی قوت بڑھتی ہے۔ مثلاً تراویح کی نماز ہے۔ تراویح کی نماز بہت بڑی نماز ہے، بہت بڑی نماز ہے۔
میرے ایک ساتھی تھے، ساتھی کیا تھے شاگرد تھے دفتر میں۔ تو رمضان شریف آ رہا تھا یہی دن تھے قریب قریب۔ ڈائیننگ ہال (Dining Hall) پہ ہم کھانا کھا رہے تھے۔ مجھے کہا "شبیّر صاحب رمضان شریف آ رہا ہے،" میں نے کہا جی بالکل ٹھیک ہے۔ "آپ کتنی تراویح پڑھیں گے؟" میں نے کہا میں تو مقلد آدمی ہوں بیس ہی پڑھوں گا، کہتے ہیں "آپ آپ کی کیا تحقیق ہے اس کے بارے میں؟" میں نے کہا میں نے کہا نا میں مقلد ہوں تو مقلد تو امام کی تحقیق پر عمل کرتا ہے نا، تو امام نے ہمارے تحقیق کی ہے لہٰذا میرے لیے یہ بات کافی ہے نا۔ اس نے اچھا اچھا ایسی باتوں پہ کرتے ہیں جس پہ آپ کی کوئی تحقیق نہیں ہے، اس نے مذاق سا اڑایا، اور باقی لڑکے میں نے دیکھا ذرا ان سے متاثر نظر آ رہے تھے، میں نے کہا اچھا پھر علاج کچھ کرنا چاہیے، پھر کچھ علاج کرنا چاہیے۔ تاکہ ذرا مطلب کچھ سمجھ جائیں نہ۔ عاطف اس کا نام تھا، میں نے کہا عاطف یار میں نے ایک حدیث شریف سنی ہے، آپ بتائیں نا، کہتے کیا؟ میں نے کہا حدیث شریف سنی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہؓ کو ایک امام کے پیچھے بیس رکعت تراویح پہ جمع کر دیا۔ تو کیسا؟ کہتے ٹھیک ہے۔ میں نے کہا اچھا پھر میں نے ایک اور بات بھی سنی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہِ راشد تھے۔ کہتے "ہاں بالکل خلیفہِ راشد تھے"۔ میں نے کہا ایک اور حدیث شریف بھی میں نے سنی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنَ، تمہارے اوپر میری سنت کا اتباع لازم اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے۔ خاموش ہو گیا کہ گھیرا ڈال دیا اس نے، اس نے گھیرا ڈال دیا۔ میں نے کہا دیکھو بات سنیں ہمارے پاس تو جواب ہے، اگر ہم سے پوچھے ہم کہتے ہیں ہم نے خلیفہِ راشد کے قول پہ عمل کیا، اجماعِ صحابہ کو لے لیا اور بیس تراویح کے۔ میں نے کہا چلیں جی آپ آٹھ پڑھ رہے ہیں نا، آپ آٹھ پڑھ رہے ہیں۔ اگر آٹھ ہوئے تو بچ گئے اور ہمارے بارہ تراویح ضائع تو نہیں ہوں گے وہ نفل ہو جائیں گے نا، آپ کی بات کے حساب سے ہمارے بارہ رکعت تراویح نفل ہو جائیں گے، اور آپ کے آٹھ کے آٹھ پورے ہو جائیں گے، چلو آپ بچ گئے۔ لیکن اگر بیس ہو گئے پھر آپ کیا کریں گے؟ ہم تو ہم تو پڑھ رہے ہیں نا، تو ہمارے نفل سے سنت ہو جائیں گے اور آپ کے کیا ہو گا؟ میں نے کہا کیوں آپ محفوظ طریقہ نہیں اختیار کرتے؟ محفوظ طریقہ اختیار کرو۔ بس ماشاء اللہ پتہ نہیں اس نے بات سمجھی نہیں سمجھی لیکن باقی لڑکے سمجھ گئے، جتنے آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے نا وہ سمجھ گئے اور الحمدللہ پھر ان کو کوئی اشکال نہیں ہوا۔ اصل بات یہ ہے میں آپ کو بتاؤں اپنے اوپر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ دیکھو یہ کام علماء کا ہے، کرتے رہیں علماء کرام آپس میں باتیں کرتے رہیں، ہم یہ کام نہیں کرتے جیسے میں نے پہلے نہیں چھیڑا نا؟ چھیڑا تو مجھے نا، مطلب ظاہر ہے میں نے تو کچھ نہیں کہا تھا۔ تو یہ بات علماء کو کرنا چاہیے، آپس میں کرتے رہیں نا، ہم اپنے آپ کو کیوں خراب کریں؟ ہم تو وہ کریں جو ہمارے لیے مفید ہے۔
تو بیس رکعت تراویح یہ سبحان اللہ یعنی ماشاء اللہ آپ اندازہ کر لیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کیے تو کیا عثمان رضی اللہ عنہ نے بند کر لیے؟ علی کرم اللہ وجہہ جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے سوائے آپ ﷺ کے، مطلب یعنی وہ یعنی اتنے بڑے مجتہد صحابی تھے، کیا انہوں نے بند کر دیے؟ حسن رضی اللہ عنہ نے بند کر دیے؟ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بند کر دیے؟ اس کے بعد تواتر کے ساتھ چلے حتیٰ کہ ابھی تک حرم شریف میں بھی چل رہے تھے۔ اور بعض دفعہ تو بعض حضرات کہتے نہیں یہ تہجد کی نماز ہے، او خدا کے بندو کیا کہہ رہے ہو؟ خود میں نے حرم شریف میں الحمدللہ اعتکاف کیا ہے اور اس میں شیخ سدیس جو ہے اس نے اعلان کر دیا، خود مطلب اعلان کر دیتے ہیں نا تراویح جب پوری ہو گئی، کہتے ہیں اب ہم قیام اللیل میں باقی قرآن پڑھیں گے۔ بیس رکعت تراویح پڑھ کے ہم قیام اللیل میں وہ دس رکعت اس میں باقی وہ پڑھیں گے۔ تو قیام اللیل جدا ہو گیا نا، تراویح سے مختلف ہو گیا نا؟ کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح تو پڑھ لیے، اب اس کے بعد کہتے قیام اللیل میں پھر باقی پڑھیں گے۔ باقی اور قرآن پاک اسی میں ختم کیا۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو کنفیوز نہ کریں، ٹھیک ہے اگر کسی کو شرح صدر نہیں ہے تو اس سائیڈ کو لے جس میں فائدہ ہے۔ بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ بلاوجہ بحث پڑھنے میں انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور فائدہ نہیں ہوتا۔ بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، بس جس میں فائدہ ہے اس کو لے لے۔ مثال کے طور پر اگر میں عمر رضی اللہ عنہ کے راستے پر ہوں تو کیا مجھے غلط کہا جائے گا؟ مجھے تو غلط نہیں کہا جائے گا۔ دوسروں کے بارے میں کچھ بات نہیں کرتا، صرف اپنے آپ کو اپنے آپ کو بچانا ہے نا، مجھے تو اپنے آپ کو بچانا ہے۔ تو اس طریقے سے ماشاء اللہ آسانی کے ساتھ ہمیں یہ چیزیں سمجھ میں آ جائیں گی۔
بہر حال میں عرض کر رہا تھا کہ یہ جو تراویح میں قرآن پڑھا جا رہا ہے نا، یہ ویسے نہیں اصل میں بات یہ ہے کہ رمضان شریف میں جو برکت آیا ہے نا، یہ آیا ہے قرآن کے ذریعے سے۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَمَآ اَدْرٰیکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ، لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ کیونکہ لیلۃ القدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ بے شک ہم نے نازل کیا قرآن کو لیلۃ القدر میں، ابتدا اسی سے کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس انداز میں سمجھاتے ہیں کہ جیسے وہ نہیں ہوتے استفہامیہ انداز: وَمَآ اَدْرٰیکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ اور تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ اب اس کا پتہ کہ اس لیلۃ القدر میں جو خیر آیا ہے وہ کس ذریعے سے آیا ہے؟ قرآن پاک کے ذریعے سے۔ تو اگر اس رات میں اتنا خیر آ سکتا ہے تو باقی مہینے میں نہیں آئے گا؟ باقی مہینے میں آئے تو مہینے میں برکت آئی ہے اس کے ذریعے سے اور اس رات میں خصوصی طور پہ آ گیا، ٹھیک ہے نا؟ لہٰذا یہ قرآن کی برکت ہے، تو قرآن کو بہت زیادہ اس میں تلاوت کرنا چاہیے۔ بہت زیادہ تلاوت کرنا چاہیے۔
ہمارے جو مشائخ ہیں ان کا جو معمول تھا، مثال کے طور پر حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ، یہ ایک قرآن روزانہ پڑھتے تھے ہر روز، یعنی ایک قرآن تیس پارے وہ روزانہ جو ہے نا پڑھتے تھے، یہ مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ۔ اور چونکہ وقت نہیں بچتا تھا لہٰذا کسی سے نہیں ملتے تھے۔ جو مہمان آتے تھے ان سے بھی نہیں ملتے تھے۔ وہ ایک بڑا جگری دوست تھا حضرت کا، وہ اپنا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ میں ملنے آیا، کہتے جیسے پہنچا مجھے کہتے اوہو! حضرت کے ہاں تو رمضان ہے، میں نے کہا بھئی یہ سب کے ہاں رمضان ہے، کوئی حضرت کے ہاں کی بات، سب کے ہاں رمضان ہے۔ پھر اس کے بعد جو ہے نا وہ کسی اور سے ملا، کہتے اوہ! آپ اس وقت آئے حضرت کے ہاں تو رمضان ہے۔ میں نے کہا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، بار بار کہتے حضرت کے ہاں تو رمضان ہے۔ خیر میں نے کہا بھئی حضرت سے ملاقات کی کوئی صورت؟ کہتے بالکل نہیں۔ ممکن ہی نہیں۔ انہوں نے کہا بھئی کوئی صورت تو نکالو کہ اس کو اطلاع تو مل جائے، کہتے بس ایک صورت ہے جب حضرت اپنے خلوت خانے سے نکل کے مسجد نماز پڑھنے جا رہے ہوں تم راستے میں کھڑے ہو جاؤ کہ آپ کو دیکھ لیں۔ اگر اس نے آپ کو بلانا ہوا تو بلا لے گا نہیں بلایا تو آپ کی قسمت۔ کہتے ہاں یہ بات تو تجویز معقول ہے۔ اب جب نماز کے لیے آ رہے تھے راستے میں کھڑے ہو گئے۔ یہ آگے آ گئے السلام علیکم، انہوں نے کہا وعلیکم السلام اس طرح ہٹ کے آگے چلے گئے۔ پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا ان کی طرف، اب تو یہ بڑے حیرت میں مبتلا ہو گئے بھئی یہ کون سا مسئلہ ہے؟ یہ کون سی بات ہے؟ رات تو گزاری ادھر کیونکہ حضرت تو اعتکاف میں تھے، ادھر گزاری رات۔ اب صبح جانا تھا، انہوں نے کہا جی واپسی کے، او یہ ممکن نہیں۔ تو پھر کیا کریں؟ کہتے یہ دروازہ ہے، اس دروازے کے پیچھے حضرت کا بستر ہے، یا سو رہے ہوں گے یا قرآن پڑھ رہے ہوں گے۔ تو یہاں سے اگر کوئی آواز دے دو تو دے دو، اگر سن لیا تو علیٰحدہ بات ہے۔ تو خیر کہتے ہیں چیخ کے کہا "مولانا میں جا رہا ہوں، یہ رمضان ہمارے ہاں بھی آتا ہے اس طرح بخار کی طرح نہیں آتا، السلام علیکم۔" تو حضرت کی طرف سے آواز آئی وعلیکم السلام اور بس بات ختم۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔ عید کے بعد پھر بلایا اور بڑی ان کی آؤ بھگت کی اور خواہ مخواہ اس سے معافیاں بھی مانگیں، سب کچھ وہ ہو گیا، لیکن اس رمضان میں کچھ نہیں۔ یہ ہے وقت کی قدر کرنے والے لوگ۔
ہمارے مولانا اشرف صاحب رحمہ اللہ، جب رمضان شریف جیسے یہی دن ہوتے ہیں نا، اعلان کر لیتے "بھئی کوئی خط مجھے نہ لکھنا رمضان شریف میں، اور کسی نے لکھ لیا تو رمضان کے بعد جواب ملے گا، رمضان میں جواب نہیں ملے گا۔" یہ بتا دیتے اور پھر حضرت کا معاملہ بھی قرآن ہی کا ہوتا تھا۔ پس فرق یہ ہے کہ حضرت تو تراویح میں قرآن سنتے تھے۔ یعنی پانچ ختمِ قرآن ہوتے تھے، پانچ ختمِ قرآن۔ اس میں ایک ختمِ قرآن دس راتوں میں پھر دوسرا دس راتوں میں، پھر چھ راتوں میں پھر ایک رات میں پھر دو راتوں میں۔ یہ ختمِ قرآن پانچ حضرت کے ہاں ہوتے تھے۔ باقاعدہ حضرت کی جو جماعت تھی جو لوگ تھے وہ بھی ماشاء اللہ اس کے ساتھ عادی تھے، اور مطلب سارا ساتھ ہوتا تھا۔ تو حضرت کے ہاں تو قرآن پاک یہ ہوتا تھا۔ کوئی ایک دفعہ اس طرح ختم چل رہا تھا شاید وہ دس راتوں والا تھا۔ ایک مولوی صاحب تشریف لائے تھے مولانا صاحب کے ساتھ ملاقات کے لیے، تو وہ آرام فرما رہے تھے۔ تو وہ جو درمیان میں وقفہ تھا وقفے میں چائے وغیرہ پی لیتے تھے آٹھ رکعت کے بعد، جیسے ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے۔ تو وقفہ تھا، تو اس میں حضرت نے پوچھا "وہ مہمان کدھر گیا؟" تو کسی نے کہا "حضرت وہ تو سو رہے ہیں"۔ تو حضرت کی زبان سے بے ساختہ نکلا "عجیب ذوق ہے" اور بس اس کے بعد پھر کچھ نہیں کہا، صرف اپنی بات زبان سے نکل گئی "عجیب ذوق ہے" اور خاموشی۔
تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً یہ رمضان شریف میں اس قسم کی بد ذوقی بڑی عجیب بات ہے۔ کیسے مطلب انسان اتنے اتنا زیادہ مل رہا ہو اور آدمی اس سے بے پرواہ ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ذوق کی بات تو ہے نا؟ مثال کے طور پر دنیا کی چیزوں میں ہم لے لیں، دنیا کی چیزوں میں اس قسم کی جب آ جاتی ہے چیزیں جب مل رہی ہوں، تو کیسے لوگ دوڑ دوڑ کے جاتے ہیں؟ یہ جو زلزلے وغیرہ آئے ہوئے تھے، تو اس میں جو امداد وغیرہ تقسیم ہوتی تھی تو پھر لوگ کیسے ہوتے تھے؟ گھروں میں بیٹھے ہوتے تھے؟ دوڑ دوڑ کے آتے تھے ، اور زیادہ وصول کرنا چاہتے تھے مطلب یہ کہ ہمارے پاس یہ ہمارے اتنے لوگ ہیں، ہمارے یہ والی بات۔ تو یہ آخرت کی بات ہے، مطلب جس پہ آپ کے سارے آخرت کے بارے میں فیصلے ہو رہے ہیں، تو اس کے بارے میں اتنی بد ذوقی؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
اس وجہ سے ہمیں بہت کوشش کرنی چاہیے۔ ابھی میں آپ کو کچھ سناتا ہوں، یہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ جو بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں ان کی بات بتاتا ہوں۔
فرمایا: جاننا چاہیے کہ رمضان المبارک کا مہینہ بہت بزرگی والا مہینہ ہے، نفلی عبادات، نماز، ذکر و صدقہ وغیرہ جو اس مہینے میں ادا کی جائیں وہ دوسرے دنوں کے فرض ادا کرنے کے برابر ہیں۔ اس مہینے میں کسی فرض عبادت کا ادا کرنا دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے ادا کرنے کے برابر ہے۔
ایک فضیلت یہ ہے کہ کوئی شخص اس مہینہ مبارک مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اس کو بخش دیتے ہیں اور اس کی گردن کو دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیتے ہیں، اور اس افطار کرانے والے کو اس روزہ دار کے اجر کے برابر عطا فرما دیتے ہیں بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں سے کچھ کم کر دیں۔
اس طرح کہ کوئی شخص اپنے غلاموں سے خدمت لینے میں کمی کرے تو حق سبحانہ و تعالیٰ اس کو بخش دیتے ہیں، اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں۔
رمضان المبارک کے مہینے میں آپ ﷺ قیدیوں کو آزاد فرمایا کرتے اور جو شخص آپ ﷺ سے جو کچھ مانگتا اس کو عطا فرما دیتے۔
اگر کسی شخص کو اس مبارک میں خیرات اور اعمالِ صالحہ کی توفیق حاصل ہو جائے تو تمام سال ان اعمال کی توفیق شاملِ حال رہتی ہے۔
اور اگر کسی کا یہ مہینہ اعمالِ صالحہ سے پراگندگی اور کوتاہی میں گزرا تو اس کا تمام سال پراگندگی اور کوتاہی میں گزرے گا، لہٰذا جہاں تک ہو سکے اس مہینے میں اعمالِ صالحہ پر جمعیت اور پابندی کی کوشش کرنی چاہیے اور اس مہینے کو غنیمت جاننا چاہیے۔
اس ماہِ مبارک کی ہر رات میں کئی ہزار دوزخ کے مستحق آدمیوں کو آزادی ملتی ہے، اور اس مہینے میں بہشت کے دروازے کھول دیے جائیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور افطار میں جلدی کرنا اور سحری کھانے میں تاخیر کرنا سنت ہے۔
یہ ذرا سمجھا دیتا ہوں کیونکہ اس سے بعض لوگ غلط مطلب لے سکتے ہیں۔ جلدی کرنا اور تاخیر کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور کتنا ہے؟
دیکھیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ روزہ اس وقت تک افطار نہیں کر سکتے جب تک کہ رات کا یقین نہ ہو جائے۔ شک پر روزہ نہیں افطار کر سکتے۔ کہتے ہیں قاعدہ اور قانون ہے شریعت کا کہ یقین کو شک زائل نہیں کر سکتا۔ اگر یقین کوئی بات چیز ہے نا، مثال کے طور پر یہ کپڑا پاک ہے، یقین ہے۔ اس کے بعد اگر اس کی ناپاکی میں شک ہے تو ناپاک نہیں ہو گا، وہ پاک ہی رہے گا اس کی وجہ کہ شک ہے نا۔ تو شک سے تو یقین زائل نہیں ہوتا، تو اب یہ جب ہے یعنی دن کا یقین ہے تو جب تک رات کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک کیا ہے؟ اس وقت تک وہ رات نہیں ہے اور دن ہے۔ وہ جو ہے وہ اس میں چونکہ رات میں شک ہے۔ اگر اس بات کو آپ سمجھ جائیں تو مشاہدہ اگر آپ کر رہے ہیں، سورج غروب ہو گیا یقین ہو گیا بس روزہ افطار کر لو، پھر دیر نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن جب تک شک ہے نا، تو شک پر نہیں۔ ایک تو یہ بات ہے۔ اور اگر مشاہدہ آپ نہیں کر رہے، آپ کسی چارٹ وغیرہ پر عمل کر رہے ہیں نمازوں کے اوقات کے چارٹ پر عمل کر رہے ہیں، عمل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی یقین پر۔ یقین کیسے ہو گا؟ جب شک ختم ہو جائے۔ جب شک ختم ہو جائے تو پھر یقین داخل ہو گا۔ اچھا اب آپ نے ایک پورے بڑے علاقے کے لیے نقشہ بنایا ہے، مثلاً ہم لوگ جو بناتے ہیں اسلام آباد اور راولپنڈی دونوں کے لیے بناتے ہیں۔ تو اب ایسی صورت میں اس میں جتنا غلطی کا امکان ہو سکتا ہے، وہ امکان کا وقت گزرنے کے بعد یقین شروع ہو گا۔ اس سے پہلے تو شک ہو گا۔ تو اس کو بعض لوگ اس طرح کرتے ہیں وہ جو نہیں ہوتے مسجد میں جو سرخ رنگ کی گھڑیاں ہوتی ہیں، جیسے وہ وقت ہو جاتا ہے بس اس پر اذان دیتے ہیں، بھئی خدا کے بندو ابھی شک ہے! کیونکہ یہ تو پورے علاقے کے لیے ہے، تو اس کا جو ہے نہ اس میں جتنا ایرر (Error) ہے اس کو ریموو (Remove) کرنا پڑے گا، تو اس وجہ سے ہم لوگ جو نقشہ بناتے ہیں اس میں ہم تین منٹ کا خطا کا امکان ہے تو تین منٹ کے بعد آپ روزہ افطار کر لیں لیکن پھر دیر نہ کریں۔ یہ یہ مطلب ہے اس کا۔ اس طرح سحری میں بھی ہے کہ سحری میں بھی ہم تین منٹ پہلے کا بتاتے ہیں تاکہ آپ کا روزہ صحیح ہو جائے، اس میں شک نہ پڑے، اور اذان تین منٹ بعد تاکہ آپ کا اذان ہو جائے اس میں شک نہ پڑے۔ اس کی بات، اور جہاں تک یقین ہو جائے اس کے بعد پھر دیر مزید نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو استبراءِ وقت کہتے ہیں نہ، استبراء جب ہو جائے پھر اس کے بعد پھر آپ نےمزید انتظار نہیں کرنا۔
اور افطار میں جلدی کرنا اور سحری کھانے میں تاخیر کرنا سنت ہے، اس بارے میں آپ ﷺ مبالغہ یعنی بہت تاکید فرماتے اور شاید سحری کھانے میں تاخیر اور افطار میں جلدی کرنے میں اپنے عاجز و محتاج ہونے کا اظہار ہے جو کہ بندے کے مقام پر مناسب ہے۔
اور کھجور یا چھوہارے سے افطار کرنا سنت ہے۔
اور آپ ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: ذَہَبَ الظَّمَاُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالٰی۔ یعنی پیاس دور ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اجر ثابت ہو گیا ان شاء اللہ۔
اس ماہِ مبارک میں نمازِ تراویح کی ادا کرنا اور نمازِ تراویح میں قرآن مجید کا ختم کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور اس سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اب اس میں حضرت نے کچھ مزید باتیں بھی فرمائی ہیں جو علمی ہیں۔ سب لوگ تو اس کو نہیں سمجھ سکیں گے کیونکہ ظاہر ہے علمی باتوں کو علمی باتوں کی بنیاد پر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک ہوتا ہے صفات، صفت، اور ایک ہوتا ہے شان۔ کہتے ہیں وہ بڑی شان والے ہیں کیونکہ اس کے صفات بڑے اعلیٰ ہیں۔ تو شان سے صفات نکلتے ہیں، شان سے صفات نکلتے ہیں۔ اس لیے ذات کے ساتھ شان متعلق ہے، ذات کے ساتھ۔ تو گویا شان ذات اور صفات کے درمیان ہے، ٹھیک ہے نا؟ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو ہم لوگ کہتے ہیں صفات ملتے ہیں شان کے ذریعے سے اور شان کا تعلق ذات کے ساتھ ہے، تو جو شیوناتِ ذاتیہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کی شان، اس کے ساتھ جس چیز کا تعلق ہو تو اس کو شیوناتِ ذاتیہ کی بات کہتے ہیں۔ تو قرآن جو ہے وہ اصل میں کلام ہے اور کلام اللہ تعالیٰ کے صفتِ اصلی ہے، لہٰذا مطلب یہ کہ وہ شان کے ساتھ ہے، تو اس وجہ سے وہ قریب ہے اور ہم لوگ جو اس کے الفاظ دیکھتے ہیں وہ تو الفاظ ہیں، لیکن اس کے پیچھے جو قرآن ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، لہٰذا اس کی بڑی شان ہے۔
تو قرآن کے ذریعے سے ہم لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب بہت زیادہ حاصل کر سکتے ہیں، بہت زیادہ۔ بہت زیادہ۔ یہ باتیں کتابوں میں بھی ہے اور بزرگوں کے اقوال میں بھی ہے، مکاشفات میں بھی ہے، خوابوں میں بھی آئی ہے، مطلب لوگوں کے جن کے ساتھ تعلق تھا نا مطلب ان کو مختلف طریقوں سے ہدایت کا اللہ پاک نے نظام بنایا ہوتا ہے۔ تو جو جو مطلب سمجھدار لوگ ہیں وہ تو ان کے لیے تو قرآن و حدیث کافی ہے۔ بس ان کو قرآن سے پتہ چل گیا اور حدیث شریف سے تائید پتہ چل گیا بس اس کے بعد ان کو اور کسی چیز کی ضرورت ہے۔ لیکن عوام ذرا دوسری باتوں سے بھی زیادہ اثر لیتے ہیں، خوابوں سے اور کشفوں سے اور تمام چیزوں سے اثر لیتے ہیں، تو اس چیز کی بھی کمی نہیں ہے، لوگوں کو ماشاء اللہ اس قسم کے اشارات ہوتے رہتے ہیں۔
قرآن پاک کی جو برکاتِ ذاتی وہ اصل قرآن میں ہے، اور برکاتِ صفاتی ظلی رمضان میں ہے، جیسے کہ حدیث میں وارد ہے کہ تمام سال کی برکات ماہِ رمضان میں داخل ہوتی ہیں اس کے بعد دوسرے مہینوں میں تقسیم ہوتی ہے۔
یعنی یہاں پر بھی حضرت یہ بیان فرمانا چاہتے ہیں کہ اصل قرآن ہے، جس کی وجہ سے یہ برکت آئی ہے رمضان میں۔ تو اس وجہ سے قرآن کی جو صفات ہیں وہ اصلی ہیں اور رمضان کی جو ہیں وہ ظلی ہے، یعنی اس سے ماخوذ ہے، یہ والی بات ہے۔
اچھا یہ اگر دیکھا جائے تو رمضان شریف میں قرآن چونکہ نازل ہوا تھا اس کی اس کی برکات رمضان شریف میں آ گئے۔ تو کیا خیال ہے جس گھر میں قرآن پڑھا جائے گا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ برکات اس میں بھی آئیں گی نا؟ مطلب جس گھر میں قرآن پڑھا جائے گا اس میں وہ برکات آئیں گی، اور اس کے لیے رمضان غیر رمضان والی بات نہیں ہے، وہ تو قرآن تو ہر وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے گھروں کو قرآن سے منور کرو، اور مسلسل اس میں قرآن پاک کی تلاوت روزانہ کر لیا کرو۔ ہم جب جہانگیرہ میں ہوتے تھے بچہ تھا میں، دودھ خود لایا کرتا تھا یہ میرا شوق تھا، وہ مطلب جو دودھ جہاں سے لاتا تھا نہ چینک میرے پاس ہوتا تھا اور وہ میں اس میں دودھ لاتا تھا۔ تو اس وقت وہ گھر چھوٹے چھوٹے تھے اور مٹی کے گھر ہوتے تھے زیادہ تر، گاؤں کا علاقہ تھا، تو میں جب جاتا تو ماشاء اللہ گھروں سے مردوں عورتوں کی تلاوت کی آواز آتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ تلاوت لوگ کرتے تھے، کچھ لوگ ذرا زور سے کرتے ہیں نہ زبان، ہاں تو وہ سنائی دیتے تھے۔ آج کل وہ چیزیں سنائی نہیں دیتی، وہ رسم ختم ہو گیا۔ اب کیا چیز ہے؟ یا خاموشی ہوتی ہے صبح کے وقت، سو رہے ہوتے ہیں۔ نماز کے لیے بھی توفیق کسی کسی کو ہوتی ہے، اور یا پھر یہ ہوتا ہے ٹیلی ویژن کی آواز ہوتی ہے۔ تو ٹیلی ویژن جو ہے نا اس نے قرآن کو گھروں سے نکلوا لیا۔ یہ بات ہے۔
ہمارے ایک ساتھی ہیں، اس نے بات یہ مجھے خود سنائی ہے، میرے پاس آئے سادات میں سے۔ وہ کہتے ہیں کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا، تو میرے دل میں آیا کہیں آپ ﷺ نہ ہوں۔ کہتے میں نے دروازہ کھولا تو واقعتاً آپ ﷺ تھے اور پیچھے بہت سارے لوگ تھے۔ تو میں بڑا خوش ہو گیا میں نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ تھوڑی دیر ہمارے گھر کے اندر تشریف لائیں تاکہ ہمارے گھر کو برکت حاصل ہو جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں کیسے اندر آ سکتا ہوں، دیکھو میرے پیچھے اتنے سارے لوگ ہیں۔ تو پھر میں نے درخواست کی، میں نے کہا حضرت بس آپ صرف دو قدم اگر آپ تشریف لائیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ تو حضرت تشریف لائے اندر، اندر کہتے برآمدے میں غالباً وہ ٹیلی ویژن پڑا ہوا تھا۔ تو حضرت اس کو دیکھ کر رک گئے۔ فرمایا "یہ جو ہے نا، یہ تمہارا تعلق قرآن سے کاٹ دے گا،" اور واپس ہو گئے۔ "یہ تمہارا تعلق قرآن سے کاٹ دے گا" اور واپس ہو گئے۔ کہتے جب میں جاگ گیا تو بہت پریشان تھا کہ یہ تو کیا بات ہو گئی۔ تو کہتے میں نے گھر والوں کو یہ بات بتائی، تو گھر والوں نے سب نے مشورہ کیا کہ اس ٹیلی ویژن کو نکال لیتے ہیں۔ جو سب سے چھوٹا بچہ تھا کہتے اس نے کہہ دیا کہ سب سے پہلا پتھر اس کو میں ماروں گا۔ اور پھر یہ ہے کہ پھر وہ آئے میرے پاس کہتے "اب آپ بتائیں کیا کریں؟" میں نے کہا بس بالکل اس کو سنگسار کر لیتے ہیں، پھر وہ لے آئے خیابانِ سید میں ہمارا جو چھپر والی مسجد ہے، اس میں ہوتا تھا، تو وہ وہاں لے آئے اور پھر ہم نے باقاعدہ اس کو شروع تو اس بچے نے کیا اور اس کے بعد پھر سب نے اپنا اپنا ثواب کمایا۔ تو یہ اس طریقے سے اس گھر سے تو یہ ٹیلی ویژن نکل گیا۔ کیا خیال ہے کتنے لوگ نکالنا چاہتے ہیں؟ ہاں، اس کو نکالنا چاہیے، یہ اتنی خبیث چیز ہے قرآن سے تعلق توڑ دیتا ہے۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ لوگ ان چیزوں کے ساتھ چونکہ عادی ہو گئے تو یہ باتیں ہماری سرسری سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، لیکن باتیں تو ایسی ہیں، اس کا جو اثر ہے وہ تو یہی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ چیزیں اصل چیزیں ختم ہو جاتی ہیں اور بس یہی چیزیں جو ہیں رہ جاتی ہیں۔
قرآن اور رمضان ان میں آپس میں بڑی مناسبت ہے۔
قرآن کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ: ھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ۔ ماہِ رمضان کی ایک رات کے متعلق: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔ تو یہ ماشاء اللہ ان دونوں کے لیے کہا گیا کہ ہدایت بھی ہے اور یہ مبارک بھی ہے۔ لہٰذا رمضان شریف میں قرآن پاک کی تلاوت کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اور قرآن اور رمضان دونوں شفاعت کریں گے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ، یعنی روزہ اور قرآن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ چونکہ روزے کا فردِ کامل ماہِ رمضان ہے، لہٰذا رمضان و قرآن دونوں شفاعت کرنے والے ہیں۔ ثابت ہوا کہ برکت، ہدایت اور شفاعت کے کمالات اصلیت اور ظلیت کے فرق کے ساتھ قرآن اور رمضان دونوں میں مشترکہ طور پر موجود ہیں۔ یعنی اصلی تو قرآن میں ہے، ظلی طور پر رمضان شریف میں ہے۔
صوفیاء کرام کی تحقیقات سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن کمالاتِ ثمانیہ کا جامع ہے اور رمضان ان کمالات کا نتیجہ ہے۔ قرآن صفتِ کلام کا مظہر ہے اور رمضان صفتِ کلام کا اثر ہے۔ قرآن کا مبدائے فیض بھی صفتِ کلام ہے اور رمضان کا مبدائے فیض بھی صفتِ کلام ہے۔
علمی مکاشفہ اور مشاہدہ کے نزدیک قرآن کے انوارات و تجلیات ہر وقت ارواحِ بشریہ کی طرف فائز و جاری رہتے ہیں مگر علائقِ بشریہ ان کے ورود و ظہور کے راستے میں حاجب و مانع ہوتے ہیں، ان علائق کے ازالے کے لیے روزہ سب سے قوی اور مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ بات میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ دیکھو یہ سورج جیسے روشن ہے، تو سورج کی روشنی تو مسلسل آ رہی ہے نہ؟ وہ تو نہیں رک رہی ہے، لیکن کبھی کبھی دھوپ نہیں لگتی کیا وجہ ہوتی ہے؟ بادل وغیرہ ہوتے ہیں، موسم خراب ہو تو، تو سورج تو اپنی جگہ دائم و قائم ہے وہ تو ماشاء اللہ مسلسل نور بکھیر رہا ہے لیکن درمیان میں حجاب آ جاتا ہے۔ حجاب کی وجہ سے پھر ہم اس کی روشنی کو نہیں حاصل کر سکتے۔ اسی طریقے سے قرآن کے جو تجلیات ہیں وہ جاری ہیں، چل رہی ہیں۔ خانہ کعبہ کے تجلیات جاری ہیں وہ چل رہی ہیں۔ اور رمضان شریف کے مہینے میں رمضان کی تجلیات جاری ہوتی ہیں چل رہی ہوتی ہیں۔ ہمارا نفس اس کے لیے رکاوٹ ہوتا ہے، ہمارا نفس اس کے لیے رکاوٹ ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر نفس کا علاج کر لیا جائے تو ان تجلیات کو راستہ مل جاتا ہے اور ہم تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ تو نفس کا علاج رمضان میں ہے جیسے میں نے عرض کیا تھا، رمضان شریف میں کیونکہ روزہ جو ہے یہ نفس کا علاج ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن، یہ نفس کے تین زبردست خواہشات پر پیر رکھتا ہے۔ اور چونکہ علاج بالضد ہوتا ہے، لہٰذا نفس کے لیے جو مجاہدہ ہے وہ نفس کے لیے علاج ہے۔ تو نفس کا علاج اس سے ہوتا ہے۔ تو نفس کا علاج، اب اگر دیکھا جائے روزانہ آپ روزہ رکھتے ہیں رمضان شریف میں اس سے نفس کا حجاب دور ہوتا ہے، رات کو آپ کو قرآن پاک کے تجلیات کے سامنے کر دیا جاتا ہے ارواح، مطلب تراویح میں۔ ماشاء اللہ! تو کیسا زبردست ماشاء اللہ یہ نظام چل رہا ہے؟ تو اگر ہم لوگ اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو مشکل نہیں ہے، ہم لوگ کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔
اچھا ابھی میں ذرا حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے کچھ ارشادات اس کے بارے میں وہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ سرتاپا جامعِ شانِ عبدیت ہیں، یہ معنی نماز کو حضور ﷺ سے خصوصیت ہونے کے، اور روزہ میں تشبہ بالحق ہے کیونکہ حق تعالیٰ اکل و شرب سے منزہ ہے۔
یعنی مطلب یہ کہ چونکہ آپ ﷺ چونکہ عبد ہیں اور عبدیت کا شان ان میں پایا جاتا ہے تو نماز ان کی طرف ہمیں لے جاتی ہے۔ اور روزہ جو ہے نا ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ رمضان میرا مہینہ ہے اور یہ فرمایا کہ جو روزہ دار ہے اس کو میں خود اجر دوں گا۔
پس روزہ میں ایک شانِ صمدیت و استغنا ہے، یہ معنی اس کو اللہ تعالیٰ سے خصوصیت ہونے کی۔
روزہ برائے تخلیہِ رذائل ہے
یعنی رذائل سے خالی کرنا، کیونکہ روزے سے بہیمہ منکسر ہوتی ہے، یعنی جو حیوانیت ہمارے اندر ہے وہ کمزور ہو جاتی ہے، اور معاصی سے رکاوٹ بن جاتی ہے اور دل میں رقت پیدا ہوتی ہے، اور صلاۃِ تراویح برائے تحلیہ ہے یعنی اس سے روشن ہوتی چیزیں، کیونکہ تکثیرِ صلاۃ سے انسان کے اندر اخلاقِ حمیدہ پیدا ہوتے ہیں اور انوارِ طاعت زیادہ ہوتے ہیں، اور قرآن کی تلاوت سے بھی قلب میں نور پیدا ہوتا ہے اور زنگ دور ہوتا ہے۔
طاعت رمضان کو بھی مثلِ تکرارِ انفاق کے تسہیلِ اعمال میں بڑا دخل ہے
یعنی رمضان میں یہ خاصیت ہے کہ اس ماہ میں جن طاعات پر مداومت کر لے سال بھر تک پھر مداومت سہل رہتی ہے، اور جن گناہوں سے بچنے کا اہتمام کر لے سال بھر ان سے بچنا سہل ہو جاتا ہے۔
مطلب یہ کہ رمضان کی ایسی برکت ہے کہ اس میں گناہوں کے اہتمام سے چھوڑ کر بعد میں اس برکت سے کام لینا چاہو تو گناہوں کا چھوڑنا آسان ہو گا۔
یہ دیکھو حضرت ہیں نااس دور کے مجدد ہیں نہ، لہٰذا حضرت کا پہلے سے نظر ہوتی کہ اس سے لوگ کیا مطلب لیں گے اور اس میں کیا گڑبڑ کر سکتے ہیں۔ تو آخری فقرے میں اس کا علاج کر دیا، کیسے؟ سن لو! فرمایا کہ اس میں گناہوں کو اہتمام سے چھوڑ کر بعد میں اس برکت سے کام لینا چاہو تو گناہوں کا چھوڑنا آسان ہو گا، یعنی یہ نہیں کہ آدمی کوئی کہہ دے کہ او یار اس رمضان میں تو ہم یہ نہیں کرتے اب پھر دوبارہ ہم نے گناہ شروع کر دیے۔ بھئی تم نے تم نے گناہ سے بچنے کی نیت ہی نہیں کی، جب نیت نہیں کی تو پھر کیا ہو گا؟ تم نیت کر لو چھوڑنا آسان ہو جائے گا، کیونکہ آپ کو کم از کم تجربہ تو ہو چکا ہے نا کہ گناہوں سے کیسے انسان بچتا ہے؟ تو آپ کو رمضان شریف میں تجربہ ہو گیا، لہٰذا اس تجربے سے فائدہ اٹھاؤ۔
تکثیرِ ذکر بحالتِ صوم موجبِ کمالِ صوم ہے۔
سبحان اللہ! تو
رمضان شریف میں چار چیزوں کی کثرت کا فرمایا گیا ہے: کلمہ طیبہ لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ، استغفار کا، اور جنت زیادہ مانگنے کا، اور دوزخ سے زیادہ پناہ مانگنے کا۔
یہ باقاعدہ ان چار چیزوں کی کثرت ہے۔ تو اگر یہ انسان کرتا رہے تو ماشاء اللہ اس میں برکات اور کمالات بڑھ جاتے ہیں۔
قرآن و صوم دونوں قیامت میں روزہ داروں کی شفاعت کریں گے، قرآن کہے گا خداوندا! میں نے اس کی نیند سے اور آرام سے روکا تھا یعنی تہجد کی نماز، میری شفاعت اس کے حق میں قبول کیجیے، اور روزہ کہے گا میں نے اس کو کھانے پینے اور شہوت پورا کرنے سے روکا تھا، میری شفاعت کو قبول کیجیے۔
فرمایا: روزہ کے حقوق و آداب میں جو کچھ کوتاہی ہو جاتی ہے صدقہ فطر اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
سبحان اللہ! جیسے سجدہ سہو ہوتا ہے نہ وہ بھی جو قصداً نہیں کیا ہو نا، ویسے رہ جائے، تو پھر اس کا ہو جاتا ہے۔
فرما یا: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ، قَالَ اللہُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ وَیَدَعُ شَہْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلِیْ۔
اس حدیث سے معلوم ہے کہ ایک عمل ایسا بھی ہے جس کا اجر ہمیشہ بڑھتا رہے گا، اس کے تضاعفِ اجر کی کوئی حد نہیں اور وہ صوم ہے۔
تو اس طرح مطلب یہ کہ ہم لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے رمضان شریف کے مہینے سے، اور رمضان شریف کے مہینے میں ایک بات تو یہ ہے کہ سحری کے وقت کی دعائیں اور افطاری کے وقت کی دعاؤں سے محرومی نہ ہو۔ یہ بہت قبولیت کے اوقات ہوتے ہیں، بہت قبولیت کے اوقات ہوتے ہیں۔ بلکہ کہتے ہیں کہ افطاری کے وقت ہزاروں لوگوں کی مغفرت ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں ہم لوگ بھی اپنا کاسہ پیش کریں نا کہ یا اللہ ہمیں ہماری بھی مغفرت فرما دے۔ جو درخواست ہی نہ دے تو پھر؟ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو بھی اللہ کے سامنے آہ و زاری کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرما دے، اور سحری کے وقت بھی۔ کیونکہ سحری کے وقت میں بڑی برکت ہوتی ہے۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے دیکھو ناسحری میں اٹھنا تو ہوتا ہی ہے، تھوڑا سا دس پندرہ منٹ پہلے اٹھیں، جلدی جلدی وضو کر کے دو چار رکعت پڑھ کے تہجد اس کے بعد اللہ پاک سے دعا کر لیں پھر کھانا سحری کھائیں۔ دونوں چیزیں مل جائیں گی یہ کوئی مشکل نہیں ہے، اکثر لوگ ادھر ادھر چیزوں میں مشغول ہو کے اور رات دیر سے سو جاتے ہیں، پھر اس کے بعد بس وہ سحری کے لیے بھی بڑی مشکل سے اٹھتے ہیں اور بس جلدی جلدی کھا کے بعض لوگ تو سو جاتے ہیں، فجر کی نماز کو بھی چھوڑ دیتے۔ ہاں بعض لوگ سو جاتے ہیں، نہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، ویسے بھی عموماً مساجد میں فجر کی نماز رمضان میں جلدی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی کوئی مشکل نہیں ہے اور ویسے بھی انسان کھائے تو فوراً سونا خطرناک ہوتا ہے، فوراً سونا ٹھیک نہیں ہوتا، لہٰذا صحت کے لیے بھی مضر ہے کہ انسان فوراً سوئے۔ کوشش کر لے کہ آدمی وضو کر لے جا کر نماز پڑھ لے، اور ہمت اگر ہو تو اشراق تک ماشاء اللہ معمول میں مشغول رہے پھر اشراق پڑھ کے آدمی بے شک آرام سے سو جائے، کوئی مسئلہ نہیں پھر ٹھیک ہے پھر تو آپ کو مل گیا موقع۔ لیکن یہ بات ہے کہ ان اوقات کے برکات اور یہ جو ہے ماشاء اللہ ابھی جو عرض کر لیا کہ افطار کرانے کا جو اجر ہے۔ تو کیا خیال ہے جو کمزور لوگ ہیں، یعنی غریب لوگ ہیں نادار لوگ ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہے، اگر ان کو آپ نے کچھ بھیجا اس رمضان شریف میں؟ بعض لوگ تو صرف زکوٰۃ بھیجتے ہیں ، خدا کے بندو زکوٰۃ رمضان کے مہینے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ وہ وہ نصاب کے ساتھ ہے، جس کا جو نصاب جس مہینے میں پورا ہو گیا اس کے اوپر زکوٰۃ فرض ہو گئی اس میں تاخیر پھر گناہ ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ تو اپنے مہینے میں دینا چاہیے جس کا جو مہینہ بھی بنتا ہے، لیکن یہ جو بات ہے نا مطلب ویسے خیرات، صدقات جو کرنا چاہیں تو رمضان شریف میں ماشاء اللہ اس کا بہت بڑا ثواب ہے، تو افطاری افطار کرانا کسی کا یا اس کی کچھ لوگوں کو کھانا کھلانا یہ بہت مطلب اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔
وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ کَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۔
یہ ایک حکیم صاحب کی بیٹی ہے اس کا حفظِ قرآن مکمل ہوا ہے، اللہ جل شانہٗ ان کا جو قرآن پاک کا جو حفظ کرنا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اس بچی کو اللہ جل شانہٗ توفیق عطا فرمائے کہ اس کو مسلسل پڑھتی رہے، ابھی رمضان شریف آ گیا اس میں ہی اس کے دور کرتی رہے تو ان شاء اللہ قرآن بھی پکا ہو جائے گا، اور ماشاء اللہ یہ رمضان شریف کی برکات بھی حاصل ہو جائیں گے۔ جتنے بھی بچوں نے قرآن پاک کو یعنی حفظ کیا ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ بہت زیادہ یعنی قرآن پاک کو پڑھیں رمضان شریف میں ان کے لیے آسان بھی ہے بلکہ کوشش کریں کہ نماز میں پڑھیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو رمضان شریف کی جملہ برکات عطا فرما دے۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہماری سیات کو حسنات سے مبدل فرما، مشکلات کو آسانی سے مبدل فرما دے، سستی کو چستی سے مبدل فرما دے، یا الٰہ العالمین بے جو اعراض ہے یا اللہ اس کو توجہ سے مبدل فرما دے، یا الٰہ العالمین ہم سب کو نیکیوں کی طرف راغب فرما دے، اور یا الٰہ العالمین برائیوں سے مجتنب فرما، یا الٰہ العالمین افراط تفریط سے ہماری حفاظت فرما، یا اللہ جو صحیح راستہ ہے اس راستے پہ ہمیں چلا دے، یا الٰہ العالمین شر سے ہمیں بچا دے، یا الٰہ العالمین اپنے حبیب پاک ﷺ کی معیت پاک میں اپنی دارِ پاک عطا فرما۔ یا اللہ جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوں پھر کبھی ناراض نہیں ہو گا، یا اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ ہمارا نامہ اعمال دائیں ہاتھ سے نصیب فرما، حسنِ خاتمہ کی عظیم دولت سے سرفراز فرما، موت کی سختی سے عذابِ قبر سے پل صراط کی مشکلات سے جہنم کی آگ اور دوزخ سے اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔ جتنے مسلمان فوت ہو چکے سب کی مغفرت فرما، جو ہمارے اکابر دنیا سے گئے ان کے درجات بلند فرما ان کی فیوض و برکات سے مکمل اور وافر حصہ عطا فرما۔ پاکستان کو تاقیامت اسلام کا قلعہ بنا، جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا اس مقصد کے لیے قبول فرما دے، اور جو بھی اس مقصد سے اس کو ہٹانا چاہتا ہے توڑنا چاہتا ہے اول ان کو ہدایت عطا فرما۔ یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں پاکستان کی حفاظت فرما، پاکستان کے جو یا اللہ اثاثے ہیں ان کی حفاظت فرما دے، اور یا الٰہ العالمین جو لوگ ان اثاثوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے ان کے شرور سے ہمیں محفوظ فرما دے، یا الٰہ العالمین ہمیں اہل حق حکمران عطا فرما دے، اور یا اللہ غزہ کے مسلمانوں کی بھرپور مدد فرما دے، اور یا اللہ جو اسرائیلی ہیں ان کو تباہ و برباد کر لے، ان سے مسلمانوں کا بدلہ لے لے۔ حرمین شریفین کی بالخصوص حفاظت فرما دے، ہمیں حرمین شریفین بار بار یا الٰہ العالمین محبت کے ساتھ اور یا الٰہ العالمین یا الٰہ العالمین اطاعت کے ساتھ اور یا قبولیت کے ساتھ یا الٰہ العالمین یا اللہ ہجوم میں رہنا نصیب فرما دے کثرت کے ساتھ۔ اور یا الٰہ العالمین تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے مقربین میں محبوبین میں محبین میں صدیقین میں صادقین میں شامل فرما، ان لوگوں میں شامل جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے اور ان لوگوں میں شامل جن کے بارے میں تو فرماتا ہے جو میرے ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ یا اللہ ہماری دعاؤں کو اپنے حبیب پاک ﷺ کے طفیل قبول فرما۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَاَلَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ وَحَبِیْبُکَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ وَحَبِیْبُکَ مُحَمَّدٌ ﷺ۔ یا اللہ رمضان شریف میں تمام دکانداروں کو توفیق عطا فرما دے کہ وہ بیجا مہنگائی سے رک جائیں اور اس میں صحیح طریقے سے جو تجارت ہے وہ کریں اور یا الٰہ العالمین رمضان شریف کو دنیا کی کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ آخرت کی کمائی کا ذریعہ بنا دے۔ یا الٰہ العالمین ہم سب مسلمانوں کو یا اللہ توفیق عطا فرما کہ رمضان شریف کی جملہ برکات حاصل کرے۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔