مصیبت میں موت کی تمنا کی ممانعت اور تفویضِ الہٰی

حدیث نمبر 40 - باب الصبر -(اشاعتِ اول)، 21 اگست، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        تکلیف کی وجہ سے موت مانگنے کی ممانعت

•        بے صبری بمقابلہ صبر و شکر

•        زندگی اور موت کے بارے میں مسنون دعا

•        زندگی کی اہمیت بطورِ "دارالعمل" (آخرت کی تیاری کا ذریعہ)

•        موت: حبیب کی حبیب سے ملاقات کا پل

•        معاملہ اللہ کے سپرد کرنے (تفویض) کی فضیلت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَال‍صَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ جس سے بھلائی چاہتا ہے اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے

(39) ﴿وَ عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: مَنْ يُّرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں گرفتار رکھتا ہے۔

"يُصَبْ" صاد پر زبر یا زیر کے ساتھ دونوں طرح صحیح ہے۔

یعنی "یُصَبْ" بھی ہو سکتا ہے، "یُصِبْ" بھی ہو سکتا ہے۔

اور الخیر کسی بھی چیز کے کمال پر پہنچنے کو کہتے ہیں۔

اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں گرفتار رکھتا ہے۔ دنیا کی تکلیفیں، مصائب، بیماریاں، جان و مال کا نقصان وغیرہ میں مؤمن کے لئے بھلائی اس طرح ہے کہ دنیا میں وہ ان سب کی وجہ سے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کے سامنے دعا و التجاء کرتا ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اور آخرت کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے مؤمن کے لئے جنت میں ایک مقام بنایا ہوا ہے اگر وہ عبادات کے ذریعہ وہ مقام حاصل نہیں کرتا تو اس کو مصائب دیتے ہیں اور جب وہ اس پر صبر کرتا ہے تو وہ اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے۔

تیرے غم کی جو مجھ کو دولت ملے غمِ دو جہاں سے فراغت ملے

تخریجِ حدیث:

صحیح البخاری کتاب المرضی (باب ما جاء فی کفارة المرض) و اخرجہ امام مالک فی مؤطا مالک، احمد فی مسندہ 7239/3، ابن حبان 2907۔

تو اس حدیث شریف سے ان لوگوں کے لیے بڑی تسلی ہے جن کو پریشانیاں اور مصیبتیں اور تکلیفیں آ رہی ہوں۔

تو بظاہر تو لوگ سمجھتے ہیں، پتا نہیں اس نے کیا گناہ کیا ہے جس کی وجہ سے اس کو اس قسم کے مسائل ہیں۔ تو اصل میں تین وجوہات سے یہ چیزیں آ سکتی ہیں۔ اور یہ بھی ماشاءاللہ ہمارے بزرگانِ دین اور علمائے کرام نے اس کے بارے میں فرمایا ہے۔

کہ وہ مصیبت جس پر انسان بے صبر ہو کر جزع فزع میں مبتلا ہوتا ہے، تو وہ سزا ہے۔ کیونکہ جزع فزع سے اس کا ثواب چلا جاتا ہے۔ اور مصیبت و تکلیف تو اس کے سر پہ ہوتی ہے۔ مطلب وہ تو کم نہیں ہوتی۔ تو وہ اس کے لیے سزا ہے۔

اور اگر وہ صبر کرتا ہے، تو یہ گناہوں کا کفارہ ہے۔

اور اگر صبر سے آگے بڑھ کے اس پر شکر کرتا ہے کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کا قابل تھا لیکن اللہ پاک نے میرے ساتھ کرم کا معاملہ فرمایا۔ اور میرے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایا۔ اس پر اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

تو ظاہر ہے کوئی اس کو خود تو نہ مانگے۔ کیونکہ خود مانگنے میں دعویٰ کی صورت بنتی ہے۔ تو دعویٰ تو اللہ کو پسند نہیں ہے۔

لیکن جب آ جائے تو پھر صبر کرے۔ اس وقت صبر یقیناً مانگے۔ کیونکہ مصیبت آ گئی ہے نا۔ جیسے کہ فرعون کے سامنے جو جادوگر مسلمان ہوئے تو ان کو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں یہ کر دوں گا، یہ کر دوں گا، یہ کر دوں گا۔ تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ اب ہمارے اوپر صبر کو انڈیل دے۔ کیونکہ اس وقت یہی ہو سکتا تھا۔

لیکن خود جب امن کی حالت میں ہو، عافیت کی حالت میں ہو، تو صبر مانگنے سے مراد یہ ہو سکتا ہے کہ آدمی مصیبت... تو جیسے مثال کے طور پر چھوٹا بچہ اگر کسی کا فوت ہو جائے تو اس پہ بہت بڑا درجہ ہے۔ تو کیا کوئی مانگ سکتا ہے کہ میرا بچہ فوت ہو جائے؟ یہ تو گناہ ہو گا۔ کوئی اس کو مانگ تو نہیں سکتا۔

لیکن اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو جائے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ اس کے لیے بڑی تسلی کا باعث ہے۔

تو بس یہی بات ہے کہ مانگنا نہیں چاہیے لیکن اگر آ جائے تو پھر صبر کرنا چاہیے بلکہ اس سے اونچا درجہ یعنی شکر کرنا چاہیے کہ اللہ پاک نے مجھے جو ہونا چاہیے تھا اس سے کم پہ اللہ پاک نے مجھے نجات دے دی۔ تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح معنوں میں مسلمان بنا دے بس، یہی والی بات ہے۔ اس کی دعا ہم ہر حال میں کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے دے کہ ہم وہ کریں جو اللہ تعالیٰ ہم سے کروانا چاہتا ہے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

مصیبت میں موت کی تمنا کی ممانعت اور تفویضِ الہٰی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور