استقبالِ رمضان: مسائل، معمولات اور تقویٰ کا حصول

ہفتہ وار اصلاحی جوڑ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رمضان المبارک کے فضائل اور برکات۔

روزہ، سحری اور افطاری کے فقہی مسائل اور احتیاط۔

مختلف طبقات (فارغ، کاروباری، حفاظ) کے لیے روزانہ کے معمولات۔

اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے نقصانات اور رمضان میں اس سے اجتناب (Digital Detox)۔

حفاظ کے لیے تراویح سنانے کی اہمیت اور طریقہ کار۔

فتنہِ نساء سے حفاظت کی اہمیت اور مسنون دعا۔

قرآن پاک کی تلاوت کی کثرت کی ترغیب۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

اَمَّا بَعْدُ

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾


وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

((الصَّوْمُ جُنَّةٌ))


الحمد للہ ہم اس انتہائی مبارک دن اور راتوں میں داخل ہو جائیں، جو کہ اللہ پاک نے اس امت کو بہت کچھ دینے کے لیے ماشاءاللہ اس کا انتظام فرمایا ہے، یعنی رمضان شریف کا مہینہ۔

رمضان شریف کا مہینہ بابرکت مہینہ ہے۔ اس میں اگر کوئی نفل عمل کرے تو ثواب فرضوں کا ملتا ہے اور فرض عمل کر لے تو ستر گنا اس کا اجر ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس کا کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ مجھ سے بہت سارے لوگوں نے پوچھا ہے کہ رمضان شریف میں ہم کیا کریں؟ تو میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ ان شاءاللہ آج جو بیان ہو گا اس میں میں عرض کر لوں گا، کیونکہ سب کو تفصیل بتانا یہ ممکن نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو چند معروضات ہیں جو میں پیش کر رہا ہوں ابھی، اس کو بہت غور سے سنا جائے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش ہم کریں گے۔


ایک ہے رمضان شریف کے فضائل، اس پر بھی بات الحمد للہ ہو رہی ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "فضائلِ رمضان" کی باقاعدہ تعلیم ہو رہی تھی یہ شعبان کے آخری ایام میں۔ تو اگر کسی کو اس سے استفادہ کرنا ہو تو یہ کتاب بھی موجود ہے اور نیٹ پر جو ہمارے بیان ہیں وہ بھی موجود ہیں، ان کو ذرا پڑھیں اور سنیں۔ اور اس کا پڑھنا بہت مفید ہو گا ان شاءاللہ، کیونکہ وقت پر اگر کسی چیز کا پتہ چل جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ بہت خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے۔ بعد میں پتہ چل جائے، سوائے افسوس کے انسان کچھ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اگر گزشتہ سالوں میں ہم یہ غلطی کر چکے ہیں کہ رمضان شریف کے آنے سے پہلے اس کے فضائل نہیں پڑھے یا سنے، تو اس دفعہ اس سے ہم اپنے آپ کو بچائیں۔ اور اس کے فضائل ہم وقت پر پڑھیں اور سنیں۔

تو اس کے لیے جیسے میں نے عرض کیا یہ کتاب الحمد للہ موجود ہے نیٹ پر بھی، Download کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جو مسائل ہیں وہ ماشاءاللہ ہمارے Website پر موجود ہیں فقہ کے عنوان سے۔ Tazkia.org جو ہماری ویب سائٹ ہے (www.tazkia.org) اس پر تین حصے ہیں: عقائد، فقہ اور تصوف۔ تو فقہ میں جو مختلف Topics ہیں عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق، اس میں عبادات کے عنوان میں "روزہ" ایک بہت بڑا Chapter ہے، اس کو Click کر لیں تو رمضان شریف کے متعلق فضائل بھی اور مسائل بھی آ جائیں گے ان شاءاللہ۔ تو اس کو غور سے پڑھا جائے۔

مسائل کو تو بہت جلدی پڑھنا چاہیے کیونکہ فضائل نہ پڑھنے سے مطلب بعض چیزوں کا نہ جاننا ہوتا ہے تو اس میں یہ ہے کہ شاید وہ اس کو کچھ باتیں معلوم نہ ہوں، لیکن اگر مسائل کا پتہ ہو تو کم از کم روزہ تو صحیح ہو گا۔ کیونکہ اگر مسائل کا پتہ نہیں ہو گا تو ممکن ہے کہ روزے میں ہی فرق آ جائے، روزہ مکروہ ہو سکتا ہے، روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس کے مسائل بہت اچھی طرح پڑھنے چاہیے


باقی یہ ہے کہ اس میں دو بڑے حصے ہیں۔ دن کے وقت روزہ ہوتا ہے، تو روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟ اول تو یہ جاننا چاہیے کہ روزہ ہے کیا؟ تو روزہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک تین چیزوں سے رکنے کا نام ہے۔ پہلی بات…


تو اس میں دو چیزیں ہیں، ایک تو صبحِ صادق کا خیال رکھا جائے کہ واقعی صبحِ صادق سے شروع کر لے، اس کے بعد شروع نہ کرے۔ تو اس کے لیے تو آسان بات ہے کہ آج کل نقشے موجود ہیں، تو انتہائی سحری کا جو وقت ہے اس سے ابتدا ہوتی ہے اور غروبِ آفتاب پر انتہا ہوتی ہے۔ تو صحیح نقشے کو استعمال کیا جائے، اس کے بارے میں تو اتنا عرض کر سکتے ہیں۔

کوشش کر لیں کہ بالکل انتہائی سحری کے وقت کے قریب قریب روزہ شروع کیا جائے یعنی کھانا پینا بند کیا جائے، اس کے بعد آگے نہ جائے، لیکن بہت پہلے بھی نہ کرے کیونکہ سحری کا کھانا برکت والا ہے۔ کھانا یا پینا۔ اور غروبِ آفتاب میں بھی یہی بات رکھے کہ غروبِ آفتاب جب یقینی طور پر ہو جائے تو پھر فوراً روزہ افطار کرنا چاہیے۔ تو اس میں غروبِ آفتاب کا وقت جو ہمارے نقشوں میں دیا ہوا ہے اس کے اوپر روزہ کھولا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے میں خطرہ ہے۔ خدانخواستہ اگر غلطی سے کچھ بھی دیر پہلے اگر روزہ کھول دیا جائے تو سارا روزہ خراب ہو سکتا ہے، لہٰذا اس پہ احتیاط کرنا چاہیے۔

آج کل یہ مسجدوں میں گھڑیاں لگی ہوتی ہیں، تو اس میں چونکہ لوگوں کو ان کے مسائل کا پتہ نہیں ہوتا، تو وہ جو حسابی وقت ہوتا ہے اسی پر روزہ کھول لیتے ہیں حالانکہ وہ بہت بڑے علاقے کے لیے ہوتا ہے، تو اس میں جتنی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے وہ لازمی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یا تو اس کے اندر اس کا انتظام ہو، اگر نہیں ہے تو پھر نقشوں کے اوپر کھولا جائے۔ یہ بہت اہم بات ہے، مثال کے طور پر دیکھیں اسلام آباد بہت بڑا علاقہ ہے۔ اب اس کے لیے اگر کوئی گھڑی بتا دے کہ 6 بج کر 34 منٹ، وہ ٹھیک ٹھیک حساب ہو تو وہ صرف اس جگہ کے لیے ہے جہاں کا حساب کیا گیا ہے، اس جگہ کے لیے ہے، اس سے آگے پیچھے علاقے کے لیے تو نہیں ہے، اس میں تو فرق ہو گا۔ تو آپ کو کیا پتہ کہ کون سی جگہ کے لیے حساب کیا گیا ہے؟ تو آپ کو اس وجہ سے تین منٹ کا احتیاط ضروری ہے تاکہ آپ اس سے بچ جائیں۔ تو یہ بہت اہم بات ہے جو کہ خیال میں رکھنا چاہیے، ورنہ پھر مشاہدے پہ عمل کریں۔

میں اس کے بارے میں ایک واقعہ بتاتا ہوں تو آپ کو اندازہ ہو جائے کہ کتنا اہم ہے۔ مولانا محمد رمضان علوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ "جنگ" اخبار میں اپنے نقشے چھپواتے تھے افطار کے۔ یہ فاضلِ دیوبند تھے، بہت بڑے عالم تھے۔ ان دنوں یہ نقشے میں ملانا سیکھ تھا، تو مجھے جب پتہ چلا تو میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا کہ ان سے کچھ سیکھوں۔ بڑی مشکل سے وہ جگہ معلوم ہو گئی، راجہ بازار کے قریب ان کی مسجد تھی وہاں پہنچ گیا۔ حضرت سے ملاقات ہو گئی حضرت بہت خوش ہوئے، چائے منگوائی۔ اس دوران میں نے پوچھا کہ حضرت یہ آپ جو نقشے جنگ اخبار میں دیتے ہیں تو اس کا اصول کیا ہے؟ کس طریقے سے آپ اس کا حساب کرتے ہیں؟ تو حضرت نے فوراً فرمایا کہ بیٹا میں تو حساب نہیں کرتا، حساب تو یہ ہمارے پاس نقشہ موجود ہے، مسجدوں میں جو لگا ہوا ہے "فرنگی محل" والا، وہ بڑا نقشہ جو اکثر پرانا پنڈی کے شہر میں مسجدوں میں لگا ہوتا تھا یا اسلام آباد میں، وہ نقشے کا بتایا۔ تو میں تو ادھر سے حساب لے لیتا ہوں اور بس اس پہ جو ہے نا وہ نقشہ میں ادھر سے بنا لیتا ہوں۔ چونکہ مجھے اس کا پتہ تھا اس نقشے کا، تو اس نقشے میں لکھا تھا کہ اس میں جو اوقات دیے گئے ہیں، ابھی بھی وہ نقشے موجود ہوں گے کسی کسی جگہ، تو اس میں لکھا تھا کہ اس میں جو اوقات دیے گئے ہیں اس میں جو فجر کا وقت ہے اس سے پانچ منٹ پہلے کھانا پینا بند کریں، اور جو غروبِ آفتاب کے اوقات دیے گئے ہیں اس میں پانچ منٹ کے بعد افطار کریں، یہ لکھا ہوا تھا، وہ میں نے پڑھا ہوا تھا اور مجھے یاد تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں جو فجر کے اوقات ہیں اس سے دو منٹ کم کر لیتا ہوں اور جو مغرب کے اوقات ہیں اس میں تین منٹ بڑھا دیتا ہوں۔ یہ نقشہ اس طرح بن جاتا ہے۔ تو میں نے حضرت سے پوچھا کہ آپ اس فن کے مجتہد ہیں یا مقلد؟ یہ سوال میرے لیے بڑا عجیب تھا کہ میں ایک طالبِ علم ایک عالم سے یہ سوال کروں کہ آپ اس فن کے مجتہد ہیں یا مقلد؟ حضرت نے فوراً فرمایا: نہیں بیٹا میں تو مقلد ہوں، میں مجتہد نہیں ہوں اس کا۔ میں نے کہا: حضرت معاف کیجیے گا نہ آپ مقلد ہیں نہ مجتہد ہیں۔ مجتہد تو آپ اس لیے نہیں ہیں کہ آپ خود فرما رہے ہیں، اور مقلد آپ اس لیے نہیں ہیں کہ آپ نے ان کے اصول پہ عمل نہیں کیا جہاں سے آپ لے رہے ہیں۔ ان کا اصول تو یہ ہے کہ پانچ منٹ پہلے کھانا پینا بند کر لیں اور مغرب کے اوقات کے پانچ منٹ بعد آپ افطار کر لیں۔ تو مقلد آپ اس لیے نہیں کہ انہوں نے یہ فرمایا اور آپ اس کے خلاف کر رہے ہیں، آپ اپنی طرف سے کچھ طریقہ استعمال کر رہے ہیں تو آپ مقلد بھی نہیں ہیں۔ چونکہ عالم تھے فوراً سمجھ گئے، کہا: بیٹا! آئندہ میں نقشے نہیں بناؤں گا۔ آئندہ میں نقشے نہیں بناؤں گا۔ اب ہم آپ کے نقشے پہ عمل کریں گے۔

یہ ہوتا ہے عالمِ باعمل، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ دیکھو اتنا بڑا عالم ہے لیکن وہ ایک طالبِ علم کی بات پر ایسی بات کر رہے ہیں تو آپ مجھے بتائیں کہ ایک تو بے نفسی ہے اور دوسرا واقعی عمل ہے۔ صرف علم نہیں ہے، عمل ہے۔ یہی بات مولانا ایوب جان بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی ہوئی تھی، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ بھی بہت بڑے عالم تھے پشاور کے، ان کے بنائے ہوئے نقشے پورے پشاور میں چل رہے تھے۔ ان سے جب ہم نے ملاقات کی تو حضرت نے بھی فرمایا میں آئندہ نقشے نہیں بناؤں گا۔ اس وجہ سے پھر ہمارے حضرت مسرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو ہمارا بنایا ہوا نقشہ تھا وہ بہت تعداد میں چھپوا کر، حضرت نے چونکہ ارشاد فرمایا تھا لہٰذا سب کو بتا کر کے حضرت نے اس سے رجوع کیا ہوا ہے، وہ نقشے اتارے مساجد سے اور ہمارے نقشے اس میں لگائے۔ یہ اخلاص کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص نصیب فرمایا تھا۔ تو اس وجہ سے اس مسئلے میں کوئی چوں بھی نہیں کرنا چاہیے، جو لوگ اس فن کے ماہر ہوں ان کی باتوں پہ عمل کرنا چاہیے۔ ادھر ادھر کے تاجر لوگ بعض دفعہ نقشے چھپوا دیتے ہیں نا، ان کو جو بھی نقشہ دے وہ چھاپ دیتے ہیں ان کو تو اس سے غرض نہیں ہوتا کہ کون سا صحیح ہے کون سا غلط ہے نا، اور نہ وہ ان چیزوں کو جانتے ہیں، تو ایسے ویسے غلط نقشوں پہ عمل نہیں کرنا چاہیے۔ جو مستند نقشے ہوں، اس وجہ سے ہم نے مستند بنانے کے لیے جو نقشے ہم چھپوا رہے ہیں اس کے ساتھ ہم باقاعدہ سند کے طور پر مفتیوں کے دستخط دے رہے ہیں۔ جو مفتیانِ کرام میٹنگ میں موجود تھے جن کے سامنے فیصلہ ہوا تھا، جنہوں نے ہمارے نقشوں پہ اعتماد کیا تھا وہ سب باقاعدہ موجود ہے۔

تو اس چیز کو ہم لوگوں کو خیال میں رکھنا چاہیے۔ تو ایک چیز تو میں بہت اہم یہ بتانا چاہتا تھا کہ اوقات کے نقشوں پہ جو صحیح نقشے ہوں اس پہ من و عن عمل کیا جائے، اپنی طرف سے اس میں کوئی اجتہاد نہ کیا جائے۔ ایک دفعہ "مرحبا مسجد" میں ہم اعتکاف کر رہے تھے، جو مؤذن تھے اس نے غلطی سے ایک منٹ پہلے اذان دی۔ جو نقشے کے اوقات تھے اس سے ایک منٹ پہلے اذان دی اس کو خیال ہی نہیں رہا۔ اور میں اوپر بیٹھا تھا میں نے جیسے گھڑی دیکھی میں نے کہا یا اللہ خیر۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم اعتکاف میں تھے، اور اعتکاف جو ہے وہ اگر خدانخواستہ روزہ کسی کا ٹوٹ گیا تو اعتکاف بھی ٹوٹ گیا۔ اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگر یہ روزہ صحیح نہیں ہوا۔ تو میں تو پریشان ہو گیا میں نے کہا یا اللہ خیر۔ خیر پھر ہم نے اسی "مرحبا مسجد" جہاں پر ہے اس کے Latitude, Longitude کے حساب سے پوری تحقیق کی سیکنڈوں کے حد تک کہ آج جو Time تھا وہ کیا تھا اور کس وقت توڑا گیا ہے؟ تو چند سیکنڈوں سے بچت ہو گئی ورنہ روزہ گیا تھا اور روزہ اگر جاتا تو اعتکاف بھی چلا جاتا۔ یہ لوگ خیال نہیں کرتے، کیونکہ ان کی باریکیوں کو جانتے نہیں۔ ہر چیز کا اپنا علم ہوتا ہے۔ اس لیے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ یہ قرآن پاک میں حکم ہے کہ علماء سے پوچھو، جو جس چیز کے ماہر ہوتے ہیں اس کے ماہر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔ یا تو جان لو خود، یا پھر مان لو۔ دونوں باتوں میں تو ایک تو ضروری ہے نا، یا جاننا پڑے گا یا پھر ماننا پڑے گا۔ تو اس لحاظ سے اس مسئلے میں بہت احتیاط کرنا چاہیے۔ روزہ بہت اہم چیز ہے، تھوڑی سی بے احتیاطی سے اگر پورا روزہ خراب ہو جائے تو یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔

اب میں آپ کو کیا بتاؤں ادھر ہماری خانقاہ میں وقت لگانے والے دو حضرات وہ نفلی روزہ رکھ رہے تھے۔ ہمارے نفلی روزے ہوتے ہیں نا بعض ہوتے ہیں جیسے شبِ برات کا روزہ ہوتا ہے یا ذوالحجہ کے روزے ہوتے ہیں، بعض نفلی روزے۔ وہ نفلی روزے رکھ رہے تھے کیونکہ سب رکھ رہے تھے وہ بھی رکھ رہے تھے۔ مجھے کسی نے بتایا کہ انہوں نے تو اذان کے ساتھ وہ بند کر دیا، مطلب جب اذان ہو گئی مسجد میں، کیونکہ نفلی تھا نا تو نفلی تو اذان تو اپنے وقت پہ دیتے ہیں، وہ تو اس کے لیے تو نہیں دیتے کہ وہ بالکل عین وقت شروع ہونے پہ وقت اذان دیں، وہ رمضان شریف میں تو اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس میں بھی بتاتے ہیں کہ اذان پہ نہ شروع کرو بلکہ جو نقشہ ہے اس کے وقت پر، کیونکہ اذان تو بعد میں دی جاتی ہے، درمیان میں 6 منٹ کا فرق ہوتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے ایسے کیا ہے، میں نے ان سے پوچھا میں نے کہا ایسے کیا ہے؟ کہتے ہاں۔ میں نے کہا خدا کے بندو یہاں تو اذان تقریباً بیس منٹ بعد، پچیس منٹ بعد دی جاتی ہے۔ ہمارے مسجد میں اذان کب دی جاتی ہے آپ لوگوں کو پتہ ہو گا، یعنی عام دنوں میں، وقت داخل ہونے کے بھی بیس پچیس منٹ بعد دی جاتی ہے۔ تو آپ کا تو روزہ ہی نہیں ہوا۔ کہتے ہم تو گاؤں میں اس طرح ہی رکھتے ہیں۔ میں نے کہا یہ غلط طریقہ ہے نا، گاؤں میں بھی اگر رکھتے ہیں تو غلط طریقہ ہے۔ اس پر میں آپ کو کیا بتاؤں ہمارے ہی گاؤں میں ہمارے کچھ رشتہ دار ان کے بارے میں پتہ چلا کہ ایک دفعہ ان کو سحری میں اٹھنے میں دیر ہو گئی، تو پراٹھے وغیرہ بن گئے تھے سارا کچھ بن گیا تھا کہ اذان شروع ہو گئی۔ تو ان میں سے ایک جو لڑکا تھا نا، بڑا عمر کا تھا یعنی جوان تھا۔ تو اس نے آواز دی مؤذن کو کیونکہ پاس ہی مسجد تھی: "اذان آہستہ آہستہ دو"۔ اور وہ جلد جلد نوالے لینے لگا اور اذان کے اندر پورا پراٹھا کھا لیا۔ لوگوں نے بالکل مذاق بنایا ہوا ہے ان چیزوں کو۔ یہ مذاق نہیں ہر چیز کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ اذان تو اس وقت دی جاتی ہے جب وقت داخل ہو جائے۔ وقت داخل ہو تو کھانا پینا بند، تو اذان کے دوران کیسے کھایا جا سکتا ہے؟ بلکہ اذان ہی کچھ لیٹ دی جاتی ہے تاکہ اذان وقت پر ہو۔ یہ دو چیزوں کے الگ الگ فیصلے ہیں۔ روزہ صحیح وقت پہ شروع ہو جائے، یقینی طور پہ ہو جائے اور اذان وقت پر ہو جائے۔ یہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔ تو اس لیے جیسے کہ وہ جو پہلے بھی بات گزری ہے کہ پانچ منٹ پہلے شروع کر لو پانچ منٹ بعد افطار کر لو، تو اسی لیے ہوتا ہے۔ تو اس میں درمیان میں ہم لوگ بھی چھ منٹ فرق دکھاتے ہیں کہ چھ منٹ بعد اذان دیں، تو وہ اذان تو چھ منٹ بعد ہے تو وقت تو اس سے پہلے شروع ہو گیا ہے۔ خیر یہ تو بڑی بات ہے، ہمیں اس کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ روزہ تین چیزوں سے رکنے کا نام ہے اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ حلال ہیں عام طور پر۔ یعنی حلال کھانا موجود ہے آپ کے پاس، حلال پانی ہے، اور حلال بیوی ہے۔ اب ان حلال چیزوں کو تو روک دیا گیا، تو جو حرام چیزیں پہلے سے حرام ہیں، یعنی جھوٹ بولنا حرام ہے، غیبت کرنا حرام ہے، بیہودگی حرام ہے، بد نظری حرام ہے جو غلط غیر محرم کی طرف دیکھنا ہے۔ اب بہت ساری چیزیں جو پہلے سے معلوم کہ یہ حرام ہیں، تو روزے میں پھر وہ کرنے کی کیا اجازت ہو گی؟ اس کی تو اجازت نہیں ہو گی، اب یہ بہت سارے لوگ جو ہے نا روزہ مشغول کرنے کے لیے فلمیں دیکھتے ہیں۔ خدا کے بندے کیا کر رہے ہو؟ بھئی روزہ تو مشغول اگر ہو گا تو عبادت سے ہو گا، ذکر سے ہو گا، تلاوت سے ہو گا اور یہ یاد رکھیے کہ روزہ میں روزے کے خلاف جو چیزیں ہیں یعنی جو حرام ہیں، اس کرنے سے روزہ لگ جاتا ہے، یعنی روزہ مشکل ہو جاتا ہے۔ حدیث شریف میں باقاعدہ موجود ہے یہ، وہ جو دو عورتوں کو روزہ لگ گیا تھا، انہوں نے غیبت کی تھی، تو روزہ لگنے کا یہ سامان یہ ہے۔ آپ روزہ صحیح طور پہ رکھیں تو میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ امریکہ میں میں تھا، رمضان شریف گزر گیا تھا اور یہ شوال کے جو چھ روزے تھے وہ چل رہے تھے۔ لوگ رکھ رہے تھے، ہمارے ایک ساتھی تھے وہاں کے اس وقت، اس کا روزہ تھا یعنی وہ شوال والا روزہ۔ نفلی روزہ۔ اور یہ جس وقت میں گیا تھا وہ جولائی کا مہینہ تھا یعنی جون میں شروع ہوئے تھے روزے، یکم جون سے شروع ہوئے تھے تو پورا جون کا مہینہ تو روزے تھے اس کے بعد پھر جولائی کا مہینہ شروع ہوا تو شوال جولائی میں تھا۔ تو جولائی میں جہاں پر میں تھا بوسٹن (Boston)، وہ کافی شمالی علاقہ ہے اس کا، اس میں روزہ تقریباً بیس گھنٹہ تک پہنچ جاتا تھا، بیس گھنٹے، بلکہ بیس گھنٹے سے بھی کچھ زیادہ۔ تو وہ روزہ بیس گھنٹے کا رکھا تھا اس ہمارے ساتھی نے۔ مغرب کی اذان ہو گئی، مغرب کی نماز ہو گئی اس کو یاد ہی نہیں تھا کہ میرا روزہ ہے۔ ہمارا ساتھی تھا تو اس کو یاد نہیں تھا۔ تو ایک مسلمان ہوئے تھے یعنی امریکی مسلمان ہوئے تھے، ان کو کچھ سکھا رہے تھے نماز کے بعد کہ دین کی باتیں سکھا رہے تھے اس کو، یکدم اٹھے: "اوہ مجھے تو خیال نہیں رہا"۔ فوراً جا کے پانی پی لیا تو پھر روزہ افطار کر لیا۔ میں نے کہا دیکھو جولائی کا مہینہ ہے روزہ اتنا لمبا ہے، اس کو یاد نہیں ہے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ تو جو صحیح طریقے سے روزہ رکھتا ہے اس کے لیے تو روزہ آسان کر دیا جاتا ہے، اور جو روزے کے اندر پرواہ نہیں کرتے اور حرام چیزوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کا روزہ سخت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ روحانیت پہ جسمانیت غالب ہو جاتی ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ روحانیت پر جسمانیت غالب آ جاتی ہے، تو اس وجہ سے روزہ مشکل ہو جاتا ہے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ان چیزوں سے اگر بچیں گے، یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ الجھے، رمضان شریف کے مہینے میں اگر آپ کے ساتھ کوئی الجھے، وہ جیسے آپ کو غصے میں باتیں کرے تو آپ بھی ان کے ساتھ غصے میں بات کریں بلکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اتنا کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں، کہ میں روزے سے ہوں، مطلب یہ کہ آپ اس کے ساتھ بات چیت نہ بڑھائیں۔ یہ ماشاءاللہ اور چونکہ آج کل یہ چیز بہت زیادہ کم ہے، ایک بشارت سناتا ہوں، ایک بشارت سناتا ہوں بہت بڑی بشارت ہے۔ کہ آج کل چونکہ اس پر عمل بہت کم ہے، کبھی سنا ہے اس پر عمل ہوتے ہوئے کہ کوئی لڑ پڑا ہو کسی کے ساتھ وہ کہہ دے میں روزے سے ہوں؟ تو حدیث شریف میں حکم ہے، قولی سنت ہے۔ تو اگر کوئی اس طرح کر لے تو ان شاءاللہ اس کو سو شہیدوں کا اجر ملے گا، سنت کو زندہ کرنے کا اس کو سو شہیدوں کا اجر ملے گا۔ مواقع ہوتے ہیں بعض مواقع اللہ تعالیٰ نے دیے ہوتے ہیں رکھے ہوتے ہیں، اگر اس کو کوئی یاد رکھے اور اس وقت ماشاءاللہ اس پر عمل ہو، تو ان شاءاللہ اللہ پاک، ماشاءاللہ اس کو بہت کچھ سے نوازیں گے۔ تو بس ایک تو یہ بات یاد رکھو کہ الجھنا نہیں ہے، الجھنا نہیں ہے، اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ الجھے تو کہہ دے میں روزے سے ہوں اور برداشت کر لے۔ یہ بعض دفعہ ہم دنیاوی معاملات میں بھی بات بڑھانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ وہ چیز بہت اہم ہوتی ہے تو اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اگر کوئی ہمیں برا بھلا بھی کہے تو ہم کہیں اگر اس کو ہم جواب دیں گے تو ہمارے کام کا حرج ہو گا، تو ہم بھول جاتے ہیں اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو رمضان شریف روزہ تو بہت اہم چیز ہے نا، تو اس کے لیے بھی ہم تھوڑا سا چھوڑنا شروع کر لیں۔ جیسے میں نے عرض کیا ان شاءاللہ سو شہیدوں کا اجر ملے گا، کیونکہ اس پر عمل آج کل نہیں ہے۔ تو جو ترک شدہ سنت ہوتی ہے اس کو دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے تو اس پہ سو شہیدوں کا اجر ملتا ہے۔

خیر، تو یہ جنرل بات میں کر رہا ہوں کہ روزے میں جو پہلے سے حرام چیزیں ہیں ان سے رکنا تو ویسے بھی ہے کیونکہ شریعت کا حکم ہے، تو رمضان شریف میں اس سے بچنا اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ اور جو ان حرام چیزوں سے بچتے ہیں تو وہ روحانیت کے زیادہ قریب جاتے ہیں، لہٰذا روزہ بھی روحانیت کے لیے ہوتا ہے اور وہ بھی روحانیت، تو اس وجہ سے روزہ آسان ہو جاتا ہے۔ ورنہ ایسی صورت میں اگر روحانیت کو آپ کم کر دیں تو آپ کا روزہ مشکل ہو جائے گا۔

تیسری بات میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اس میں تراویح ہوتی ہے۔ تراویح کی نماز سنت ہے رمضان شریف میں اور جماعت کے ساتھ مردوں کے لیے اس کو اہتمام کرنا لازم ہے۔ بس اگر کوئی بالکل تراویح چھوڑ دے، تو اگر اسلامی حکومت ہو تو حکومت ان کے ساتھ مقاتلہ کر سکتی ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ بہت اہم بات ہے تراویح پڑھنا۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں ایک قانونی حیثیت اس کی ہوتی ہے لیکن اس کی جو روحانی حیثیت ہے وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ قانونی تو اس لیے ہوتا ہے کہ بعض لوگ روحانی چیزوں کو جانتے نہیں ہیں، لہٰذا ان کو اس پہ لانے کے لیے طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے میں نے ابھی اس کا ذکر کیا۔ ورنہ اس کا جو روحانی حیثیت ہے بہت اہم ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ رمضان شریف میں جو برکت ہے وہ کس وجہ سے ہے؟ اس میں قرآن اتارا گیا ہے۔ لیلۃ القدر میں برکت کس وجہ سے ہے؟ کہ اس میں قرآن اتارا گیا ہے۔

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾

﴿شَهْرُ رَمضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾

اللہ پاک نے اس کے بارے میں فرمایا ہے قرآن پاک میں۔تو یہ قرآن جو رمضان میں اتارا گیا ہے اس کا قرآن کے ساتھ بہت زبردست تعلق ہے رمضان شریف کا۔ تو اس قرآن کو سنو، نماز کے دوران سنو۔ ویسے سننا بھی ہے لازم اگر قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس کے لیے فرماتے ہیں کہ خاموش رہو۔

﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾

جب قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموش ہو جاؤ، اس کو سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ تو ویسے بھی قرآن کو سننے کے لیے خاموش رہنا چاہیے۔ بعض لوگ ان چیزوں کا خیال نہیں کرتے۔ کاش اللہ تعالیٰ ہمیں فقاہت نصیب فرمائے اور ہم ان چیزوں کو جان لیں۔ مثلاً دیکھو ایک عام وقت میں جس میں لوگ اپنے کام شام میں لگے ہوتے ہیں، ان کو نہ مسائل کا پتہ ہے نہ فضائل کا پتہ ہے، اور آپ لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھنا شروع کر لیں، اور وہ اپنے کام میں لگے رہیں اور وہ قرآن نہ سنیں، گویا کہ قرآن کا اکرام نہ کریں اور گناہ گار ہو جائیں، تو گناہ گار کروانے والے کون ہیں؟ وہ جو لاؤڈ اسپیکر پر سنانے والے ہیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ہمیں ان چیزوں کو جاننا چاہیے۔ اس کے لیے ماحول بنانا پڑتا ہے۔

مجھے ایک دفعہ بہت زبردست حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی ہوئی، صیانۃ المسلمین کا جلسہ تھا لاہور میں جامعہ اشرفیہ میں، حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے جو حضرت تھانوی صاحب کے خلیفہ تھے۔ حضرت نہی عن المنکر پہ کافی زور لگاتے تھے اور مسئلے سکھاتے تھے اس میں اور غلطیوں سے منع کرتے تھے بہت۔ تو حضرت کا بیان تھا۔ تو قرآن پاک لوگ پہلے پڑھتے ہیں، مطلب قاری صاحب آتے ہیں قرآن سناتے ہیں تلاوت کرتے ہیں کہتے ہیں ابتدا تلاوت سے کرتے ہیں۔ اور پھر بعد میں کیا ہوتا ہے؟ بعد میں تقریر کرنے والے آتے ہیں، ایسے ہی ہوتا ہے نا عموماً طریقہ؟ حضرت نے اس کا برعکس کر دیا، حضرت خود پہلے تشریف لائے اور اپنا بیان شروع کیا۔ اس کے لیے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو پھر قاری صاحب کو بلایا اب تلاوت کرو۔ اپنے بیان کو روک کے فرمایا اب تلاوت کرو۔ انہوں نے کہا تم عجیب آدمی ہو، قرآن کو نعوذ باللہ من ذلک اپنے بیان کے لیے پڑھواتے ہو کہ میرے بیان کے لیے لوگ جمع ہو جائیں؟ تمہارا بیان قرآن سے اہم ہے؟ یعنی قرآن سنانے سے مطلب یہ ہے تمہارے لیے لوگ جمع ہو جائیں پھر جب لوگ جمع ہو جائیں تو تم بیان کرو، یہ الٹی بات ہے۔ پہلے تم بیان کرو، لوگ جمع ہو جائیں ان کو پھر قرآن سناؤ۔ حضرت اس پر بڑا زور دیتے تھے۔ ایک دفعہ دارالحدیث میں تشریف لے گئے، دارالحدیث مدرسوں کا بہت شاندار ہوتا ہے، اور قرآن جہاں پڑھایا جاتا ہے بچوں کو تو وہ کیسا ہوتا ہے؟ تو حضرت نے سخت ڈانٹا مدرسے والوں کو، کہتے ہیں تم لوگوں نے قرآن کی جگہ کو کیسا بنایا اور حدیث کی جگہ کو کیسا بنایا ہے؟ اوئے خدا کے بندو قرآن کو اوپر خانے میں رکھا جاتا ہے، پھر اس کے نیچے حدیث شریف کی کتابیں، اس سے پھر نیچے فقہ کی کتابیں رکھی جاتی ہیں، پھر اس سے نیچے تصوف کی کتابیں رکھی جاتی ہیں۔ یہ ادب آپ اس میں کیوں نہیں کرتے؟ حضرت کا ماشاءاللہ ان چیزوں میں بہت بڑا ذوق تھا۔

تو قرآن قرآن ہے اور رمضان شریف قرآن کا مہینہ ہے۔ اس وجہ سے ہمیں قرآن کو سننے کے لیے جو تراویح کا نظام اللہ نے بنوایا ہوا ہے، اس کا خوب خوب فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کو قرآن سے عشق تھا۔ رمضان شریف میں بس قرآن سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ پانچ ختمِ قرآن ہوتے تھے تراویح میں۔ چونکہ ایک فقہی جزئیہ ہے ہمارے احناف کا کہ نوافل کی جماعت جو ہے باقاعدہ اہتمام کے ساتھ اگر پڑھی جائے تو یہ مکروہ ہے۔ اور لوگ بعض نوافل میں سنتے ہیں، تو حضرت اہتمام کرتے کہ تراویح میں سنا جائے قرآن۔ تو پانچ ختمِ قرآن ہوتے تھے اس میں۔ معذور شخص تھے لیکن سبحان اللہ! جس وقت نیت باندھ لیتے اور قرآن سننا شروع کرتے بس حضرت پھر اپنی معذوری بھول جاتے، ایسا ماشاءاللہ بشاشت کے ساتھ شامل رہتے تھے۔ تو یہ بات ہے کہ قرآن کی قدر کرنا چاہیے اور رمضان شریف میں قرآن سننے کا اہتمام کرنا چاہیے تراویح میں۔ قرآن کے ذریعے سے اللہ پاک تمہیں کچھ دے رہا ہے، اس کو ذہن میں لاؤ، خیال میں لاؤ کہ اللہ پاک اس کے ذریعے سے کچھ دے رہا ہے یہ ضائع نہ ہو جائے۔

ایک تو یہ بات یاد رکھو کہ تراویح میں جو ہے نا یہ دو سنتیں ہیں: تراویح بذاتِ خود سنتِ مؤکدہ ہے مردوں پر بھی، عورتوں پر بھی۔ مردوں کے لیے جماعت کے ساتھ ہے اور عورتوں کے لیے بغیر جماعت کے ہے۔ لیکن بیس رکعت تراویح ان کے لیے بھی سنتِ مؤکدہ ہے۔ تو یہ تراویح کا اہتمام کرنا چاہیے اور پھر اس میں پورا قرآن ایک دفعہ سننا یہ الگ سنتِ مؤکدہ ہے۔ بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ کاروباری لوگ ہوتے ہیں اِدھر اُدھر جانا ہوتا ہے، تو ہمارے پشاور کی طرف اس چیز کا زیادہ رجحان ہے کہ وہ پانچ چھ دنوں میں کسی جگہ سن لیتے ہیں اور وہ سنانا بھی بڑا عجیب ہوتا ہے، کم از کم میں ایک دفعہ سن چکا ہوں۔ پشاور گیا تھا، رویتِ ہلال کے لیے گئے تھے ظاہر ہے تو میرا وہی رات پشاور میں آیا، تو اپنے چچا کے گھر میں جا رہا تھا تو تراویح شروع ہو چکی تھی وہاں پر اور ختم کی تراویح شروع تھی، آپ یقین کیجیے کہ مجھے صرف پوری تلاوت میں "حق" اور اس طرح دوسرے چند الفاظ تھے وہ سمجھ میں آتے تھے اس کے علاوہ اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ یہ حالت ہوتی ہے۔ تو یہ تو اعراض ہے، بے اکرامی ہے۔ صحیح طریقے سے سنو، صحیح طریقے سے پڑھو۔

میں ایک دفعہ اپنے بچوں کو لے گیا تھا عمرے پہ، جب انہوں نے ختمِ قرآن کیا تھا الحمد للہ، تو ان کے ساتھ میں نے وعدہ کیا تھا تو میں ان کو لے گیا تھا۔ تو وہاں پر مسجدِ نبوی میں بھی الحمد للہ ایک ختمِ قرآن ہمارا ہوا تھا اور پھر مکہ مکرمہ میں بھی ایک ختمِ قرآن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے وہ ہوا تھا۔ تو رات میں پھر یوں کرتے تھے کہ ہم نفل کی نیت سے وہاں جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے تھے، یعنی وہ جو مسجد نبوی کی جماعت ہوتی تھی، اور پھر اپنی تراویح بعد میں ہم کر لیتے تھا اس میں قرآن سنتے تھے۔ کچھ تو ان کے ساتھ پڑھ لیتے تھے تراویح، یعنی سنتوں کی نیت سے، اور کچھ چھوڑ دیتے تھے تو وہ پھر ہم بعد میں اس میں قرآن سنتے تھے۔ تو چلتے چلتے کچھ عرب بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہو جاتے کیونکہ ظاہر ہے وہ لوگ جا رہے ہوتے۔ تو ہم کسی جگہ پہ کھڑے ہوتے کیونکہ مسجد نبوی تو بہت لمبی ہے، بہت چوڑی ہے۔ تو ماشاءاللہ عرب کھڑے ہو جاتے تو ہمارا تو وہی پاکستانی اسٹائل، اگرچہ الحمد للہ ہمارے بچے اس طرح پڑھتے کہ سمجھ آتی ہے لوگوں کو، لیکن ہے پاکستانی اسٹائل۔ تو وہ عرب مجھے کہتے ہیں: "ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ جید جید۔ لیکن ذرا آہستہ پڑھتے تو زیادہ اچھا تھا۔" ذرا آہستہ پڑھتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ اور بات تو مجھے بھی پتہ تھا لیکن حافظوں کی یہ کمزوری ہوتی ہے جس نے آہستہ پڑھنا سیکھا نہ ہو، اس کے لیے باقاعدہ دوسری دفعہ شاید حفظ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے نا؟ دوسری دفعہ حفظ کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے مولانا عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو تھے، Dean تھے ادھر اسلامی یونیورسٹی میں، مولانا عزیر گل صاحب کے بھتیجے تھے۔ تو ان کو اپنے والد صاحب نے جو فاضلِ دیوبند تھے اور ماشاءاللہ استاد تھے دیوبند میں، انہوں نے ایک دفعہ قرآن پاک حفظ کرایا اور پھر اس کو دوسری دفعہ حفظ کرایا۔ اور فرمایا اب یہ حفظ کرو کہ ایسے آہستہ آہستہ پڑھ سکو کہ جس کو سن کر کوئی عرب کافر مسلمان ہو جائے۔ یعنی اس کو اتنا سمجھ آ رہا ہو۔ اس کیفیت کے ساتھ پڑھو کہ کوئی عرب کافر مسلمان ہو جائے اس کو سن کر۔ تو اس کو دوبارہ حفظ کرایا تھا اور ماشاءاللہ ان کو واقعی حفظ کا ایسا زبردست وہ تھا کہ ہر وقت قرآن پڑھتے تھے۔ آپ اس کے ساتھ ملیں، تو بس بند، پھر آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جیسے آپ باہر گئے اور پھر واپس گئے تو ان کا قرآن شروع ہو چکا ہوتا تھا۔ پھر قرآن پڑھتے تھے۔

تو یہ ماشاءاللہ ان کا الحمد للہ یہ بہت اچھا طریقہ تھا تو میں نے بھی پھر اپنے بیٹے سے کہا میں نے کہا کہ تم بھی ذرا ہمت کرو ذرا اس طرح اس طرح سیکھو۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ ایک اس میں کامیاب ہو گئے، تو اب ہم اس طرح سنتے ہیں۔ یعنی یہاں پر جو خانقاہ میں قرآن پاک تراویح میں جو سنایا جاتا ہے، تو اس میں ماشاءاللہ وہ آہستہ آہستہ ترتیل کے ساتھ جیسے فرضوں میں تلاوت ہوتی ہے نا یعنی امام تلاوت کرتا ہے، اس طریقے سے وہ تلاوت کرتے ہیں تو الحمد للہ، اللہ پاک کا شکر ہے کہ شروع ہو گیا ہے۔

تو ہونا اس طرح چاہیے۔ ٹھیک ہے تھوڑا سا ٹائم لے لیں، جب تک نہیں ہے تو اتنا تو آہستہ پڑھو کہ کم از کم سمجھ تو آئے۔ یعنی وہ نہ ہو کہ وہی پشاور والا انداز۔ تو وہ تو نہ ہو، سمجھ آ جائے۔ ہاں البتہ اب کوشش جاری رکھو کہ دوبارہ اس طرح کر لو، حفظ کر لو کہ پھر جو ہے نا ماشاءاللہ یعنی آپ آہستہ پڑھ سکیں ان شاءاللہ۔

خیر، ایک تو یہ بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تین گھنٹے آپ مختص کر لیں رمضان میں، ہر دن تین گھنٹے، کیسے؟ ایک گھنٹہ افطاری کا، ایک گھنٹہ سحری کا، اور ایک گھنٹہ اشراق تک، نماز کے بعد۔ کیونکہ یہ تو بڑے قیمتی گھنٹے ہیں۔ یہ میں نے اندازاً بتایا یہ نہیں کہ مطلب کوئی کتابی بات ہے، فضائل کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں کہ جو فضائل ہیں اس سے میں نے ذرا نتیجہ نکالا ہے۔ افطاری کا یہ ہے کہ عین افطاری کے وقت آپ بیٹھ جائیں بس افطاری کر لیں تو افطاری کا ثواب بھی مل جائے گا اور روزے کا ثواب بھی مل جائے گا، لیکن اس میں بہت کچھ اور بھی مل سکتا تھا۔ اور وہ کیا تھا کہ افطاری کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ تو اس وقت آپ ماشاءاللہ لگے رہیں، اللہ کی طرف متوجہ، ذکر و اذکار کے ذریعے سے تلاوت کے ذریعے سے، اور جب آخری وقت آ جائے تو پھر خوب دعا مانگو، اس کے بعد پھر افطار کر لو، ایک تو یہ ہے۔

اور دوسرا یہ ہے کہ سحری کے وقت جب اٹھو نا تو یہ نہیں کہ صرف کھانے کے لیے اٹھو۔ ٹھیک ہے اس کی بھی برکت ہے اور سحری کھانا برکت ہے، لیکن جب اللہ پاک نے اس کے اندر کچھ اور چیز بھی رکھی ہے تو اس کو کیوں نہ لیا جائے؟ تو اس کا یہ ہے کہ آپ پہلے اٹھیں، وضو کر لیں، چند رکعت پڑھ لیں تہجد کی، تہجد آسان ہو گیا ہے ویسے اٹھنا تو ہے ہی، اٹھنا ہی مشکل ہوتا ہے نا تو اٹھ تو رہے ہیں آپ، تو تہجد پڑھیں اور اس کے بعد پھر کچھ دعا کریں پھر اس کے بعد کھانا پینا کھائیں پھر اس کے بعد ماشاءاللہ آپ کا بس وہ شروع کر لیں روزہ۔ تو ایک گھنٹہ تو یہ ہو گیا آپ کا۔ اور ایک گھنٹہ آپ کا فجر کی نماز جو آپ نے پڑھا ہے تو ادھر اٹھنے سے پہلے ماشاءاللہ آپ سورج طلوع ہونے تک ذکر و اذکار میں بیٹھے رہیں، تلاوت میں، ذکر و اذکار میں دعاؤں میں، اور پھر جس وقت اشراق کا وقت داخل ہو جائے تو چار رکعت اشراق پڑھ لیں اور پھر اس کے بعد ماشاءاللہ آرام کر لیں بعد میں۔ یہ میں لازمی طور پر نہیں کہہ رہا ہوں میں نے کہا کہ یہ ایک گویا کہ جو فائدہ موجود ہے اس کے اندر، اس کو حاصل کرنے کی نیت سے کہہ رہا ہوں کہ اس میں فائدہ موجود ہے، لازم نہیں ہے۔ دیکھو میں آپ کو بتاؤں کچھ لوگ خصوصی ہوتے ہیں کچھ عام لوگ ہوتے ہیں، تو عام لوگوں کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں وہ لوگ جو کہ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے کہہ رہا ہوں۔ عام لوگ روزے بھی رکھ لیں تو بڑی بات ہے سبحان اللہ ان کو بھی شاباش دیں گے ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت اچھا بہت اچھا۔ لیکن کچھ خاص لوگ بھی تو ہوتے ہیں نا، تو خاص لوگوں کے لیے پھر میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ ذرا ان تین چیزوں کا اہتمام کر لیا کریں۔

یہ ترتیب جو بنائی ہے ہم نے، یہ اس لیے بنائی ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں۔ تو ان کو سمجھانے کے لیے کہ اچھا، یہ تجرباتی باتیں ہیں، میں نے عرض کیا نا کہ تجرباتی باتیں ہیں بزرگوں کی تجرباتی باتیں ہم نے جمع کی ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ

الحمد للہ رمضان کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہونے والا ہے جس کا مقصد قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حصول فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ اور قرآن پاک میں متقی کے لیے بشارت ہے کہ وہ ولی اللہ ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾

آگاہ ہو جاؤ کہ اولیاء اللہ کو نہ خوف ہو گا نہ غمگین ہوں گے۔ آگے اولیاء اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾

جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔

الحمد للہ ایمان تو ہم سب کو حاصل ہے، ہمیں صرف تقویٰ حاصل کرنا ہے ولی بننے کے لیے۔ تو جس کے لیے بس صرف ایک مہینے کی محنت ہے رمضان کے مہینے میں۔ دوسری طرف ایک حدیث شریف میں بہت سخت وعید بھی ہے ان لوگوں کے لیے جو رمضان کا مہینہ پائے اس کی مغفرت نہ ہو، تباہ و برباد ہو جائے۔ اب ہمیں حدیث شریف میں بیان کی گئی وعید سے بچنے کی بھی ضرورت ہے اور تقویٰ حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ بظاہر دو کام نظر آ رہے ہیں لیکن ہے ایک ہی کام۔ یعنی اگر ہم ایک لیں تو دوسرا خود بخود حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم تقویٰ حاصل کرنے کا اہتمام کر لیں تو وعید سے بھی ان شاءاللہ بچ جائیں گے۔


تو رمضان میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟

پہلا کام تو یہ کہ رمضان کے روزوں کو اہتمام کے ساتھ رکھنا ہو گا اور رات کو تراویح اہتمام کے ساتھ ادا کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ کچھ نفلی اعمال کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہماری کمی کوتاہیوں کی تلافی ہو سکے۔ حدیث شریف میں رمضان میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم ہے: پہلا کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"، دوسرا استغفار

یعنی "استغفر اللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ" یا "استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ"، یہ مختلف قسم کے استغفار مشروع ہیں۔

تیسرا اللہ تعالیٰ سے جنت مانگنا اور چوتھا جہنم سے پناہ مانگنا۔ اس کے لیے ایک مسنون دعا بھی ہے:

((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ))

یہ ایک جامع دعا ہے۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ۔

اس کی کثرت کرنی چاہیے۔ اس طرح قرآن پاک میں رمضان کو قرآن پاک کے نزول کا مہینہ فرمایا ہے، تو رمضان میں قرآن پاک کی تلاوت کثرت سے کرنی چاہیے۔

ماشاءاللہ یہ جو سادہ عورتیں ہیں نا مطلب گاؤں وغیرہ کی، وہ اس میں ہم سے آگے ہیں۔ وہ قرآن پاک کی بڑی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتی ہیں۔ بلکہ آگے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔یہ ان کو ماشاءاللہ یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ رمضان شریف میں کافی تلاوت کرتی ہیں۔ تو ہمیں بھی کرنا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ہمارے اکابر ہمیشہ رمضان میں عبادات کی کثرت کیا کرتے تھے۔ آج کل ہم کمزور لوگ ان تک تو نہیں پہنچ سکتے، لیکن اپنی استعداد کے مطابق ہمیں بھی کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے، کیونکہ رمضان کا مہینہ قیامت تک تقویٰ حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال ہو گا۔ اس لیے کچھ مختصر معمولات آج کل کے حالات کے لحاظ سے اگلے صفحے پر دیے گئے ہیں، اگر ان پر عمل ہو جائے تو ان شاءاللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ سے نواز دیں گے۔

تمام مسلمانوں کے لیے فجر کے بعد سورہ یٰسین اور عشاء کے بعد سورہ ملک کی تلاوت۔

افطاری سے دس منٹ پہلے تمام کاموں سے فارغ ہو کر دعاؤں میں مشغول ہوں۔

یہ تمام مسلمانوں کے لیے عرض کر رہا ہوں۔

زبان کو ذکر اللہ سے تر رکھیں، فضول باتوں سے اجتناب کریں۔

ٹی وی اگر گھر میں ہو تو اس کو ایک مہینے کے لیے کم از کم چھوڑ دیں۔

اس دفعہ میں نے ذرا اس کے ساتھ ایک اور بھی چیز شامل کی ہےکہ اسمارٹ فون (Smartphone) کو ذرا الوداع کہہ دیں۔ اسمارٹ فون کو رمضان شریف میں الوداع کہہ دیں۔ کیوں اس کی جو Addiction (عادت/لت) ہے، اس سے کافی لوگ تنگ ہیں۔ وہ چھوڑ نہیں سکتے، چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن چھوڑ نہیں سکتے۔ اور Addiction کے بارے میں ڈاکٹروں کی ریسرچ یہ ہے کہ تین ہفتے تک اگر اس کو Touch نہ کیا جائے اس چیز کو جس کی Addiction ہے، تو ان شاءاللہ وہ ٹوٹ جائے گا، وہ Addiction ختم ہو جائے گا۔ تو رمضان شریف میں چار ہفتے ہیں نا، تو اگر چار ہفتے آپ نے چھوڑے تو ان شاءاللہ اس سے جان چھوٹ جائے گی۔

لیکن یہ ساری چیزیں قبول ہیں اگر ہم کسی فتنے سے بچ جائیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کسی فتنے سے بچ جائیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ تو اسمارٹ فون اگر کوئی چھوڑنا چاہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ میں نہیں کہتا ہوں اسمارٹ فون میں فائدے نہیں ہیں، زبردست فائدے ہیں۔ اب بھی دیکھیں ایک مسئلہ کی مجھے ضرورت پڑ گئی تھی، کتاب میں دیکھا کتاب میں نہیں ملا، نیٹ پر سرچ (Search) کیا تو فوراً مل گیا۔ یہ فائدے ہیں اس میں، کوئی شک نہیں۔ لیکن فائدوں کے ساتھ نقصانات بہت زیادہ ہیں اور نقصانات میں زیادہ لوگ پڑ جاتے ہیں۔

اور یہ باقاعدہ فقہ کا جزیہ ہے کہ "جلب منفعت سے دفعِ مضرت زیادہ اہم ہے"۔ یعنی ایک چیز میں اگر کچھ استحبابی فائدے بھی ہوں اور حرام بھی ہو، تو حرام سے بچنا فرض ہے اور مستحب تو مستحب ہے نا۔ تو اگر مستحب اور فرض میں مقابلہ ہو جائے تو کیا کرو گے؟ فرض کے پیچھے جاؤ گے نا۔ تو اب دیکھیں حرام اس میں کیا ہے؟ اب عورتوں کی تصویریں آتی ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں آتی ہیں، اللہ پاک ہمیں بچائے اس سے۔ اب اس پہ نظر پڑتی ہے اور رمضان شریف میں روزہ اس میں نظر پڑے اور رمضان کا روزہ بھی مکروہ آپ کا، اس کے ساتھ جو اس کی برکات ہیں وہ بھی رخصت، تو یہ بڑی خطرناک چیزیں ہیں۔ ہمارے گھر میں ٹی وی نہیں تھی، نا تو میں گاڑیوں میں دفتر جاتا تھا تو گاڑی والے جو ہیں نا وہ ہمارے اکثر ڈسکشن ہوتی تھی اخبار وغیرہ کی، ، تو وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ آپ کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہتے ہیں: پھر آپ کو خبروں کا پتہ کیسے چلتا ہے؟ میں نے کہا: آپ لوگ بتا دیتے ہیں نا۔ جو صحیح خبر ہوتی ہے وہ تو آپ کی زبان پر ہو گی، تو مجھے پتہ چل جائے گا بغیر کسی اور جگہ سے سنے ہوئے، اور جو ویسے ہی ادھر ادھر کی بات ہے اس کی مجھے پرواہ نہیں ہے۔ تو بات یہ ہے کہ یہ جو موبائل ہے، اس کے جو برکات ہیں، اگر ہم ان جو حرام کام ہیں اس سے بچنے کے لیے اگر ہم کر لیں، ان شاءاللہ ان شاءاللہ وہ برکات ہمیں دوسرے ذرائع سے مل جائیں گے۔ دوسرے ذرائع سے مل جائیں گے انشاءاللہ۔ ٹھیک ہے نا؟


تو بہرحال یہ ہے کہ... یہ بھی آج کل ایک کام ہے جو کیا جا سکتا ہے۔

تو ٹی وی اگر گھر میں ہو تو اس کو ایک مہینے کے لیے کم از کم چھوڑ دے۔

عید کے تین دنوں میں خصوصی احتیاط کرے، عید کے تین دنوں میں خصوصی جو کہ رمضان میں حاصل ہو چکا ہے پورے سال تک برقرار رہے۔

مرد و زن کے مخلوط اختلاط سے خصوصی طور پر اجتناب کریں۔ کیونکہ شیاطین جو کہ رمضان میں باندھے ہوتے ہیں وہ اپنا پورا زور ان دنوں میں ہی لگاتے ہیں۔

آسان بات میں آپ کو بتاؤں، کہتے ہیں وہ شرع میں شرم نہیں ہوتا۔ مطلب انسان کو کھل کے بات کرنی چاہیے بعض دفعہ۔ اب مثال کے طور پر عید کے دن آپ جائیں اپنے رشتہ داروں کے ہاں، کزن سے پردہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا شریعت میں؟ کزن سے پردہ ہوتا ہے، بھابھی سے پردہ ہوتا ہے، اس طرح اور رشتے ہیں جو کہ محرم سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ محرم نہیں ہوتے۔ اب رواج کیا ہے؟ ہاتھ ملانا۔ تو اب یہ ہاتھ ملانا غیر محرم سے حرام ہے، اس کو دیکھنا بھی حرام ہے۔

تو عید کے دنوں میں اگر آپ جائیں اپنے رشتہ داروں کے ہاں، پھر تو یہ ہوگا۔ تو اب بات یہ ہے کہ اول تو بے محابہ جائیں نہیں، بلکہ اگر جانا بھی ہو تو اس طرح جائیں کہ آپ کا واسطہ صرف اپنے محرم رشتہ داروں کے ساتھ ہو۔ جیسے خالہ ہے، پھوپھی ہے تو وہ تو محرم ہیں، لیکن خالہ کی بیٹی تو محرم نہیں ہے، پھوپھی کی بیٹی تو محرم نہیں ہے، تو اس سے پھر یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔

میرے ساتھ ایک واقعہ ہوا تھا وہ بھی بتا دیتا ہوں، شیئر کر دیتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس کی اہمیت کا اندازہ ہو۔ میں اپنے کسی اس طرح رشتہ دار کے گھر جا رہا تھا، کچھ بات کرنی تھی اور ایک دعا میں نے سیکھی ہوئی تھی ان دنوں، اب بھی الحمدللہ مجھے آتی ہے، آپ کو بھی بتا دیتا ہوں:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِن فِتنَۃِ النِّسَاءِ

یہ دعا ہے، بہت عجیب کراماتی دعا ہے، کم از کم میرے لیے تو ایسی ہی ہے، باقی آپ حضرات کے لیے پتا نہیں مجھے نہیں معلوم، میرے لیے تو ایسی ہی ہے۔ تو خیر ایسا ہوا کہ میں جب جا رہا تھا تو مجھے خطرہ تھا کہ یہاں تو سب غیر محرم لوگ ہیں زیادہ تر، محرم تو صرف ایک ہے۔ تو بات میں نے ان سے کرنی تھی لیکن یہ معاملہ تھا اس میں۔ تو دروازے کے اندر جانے سے پہلے میں نے وہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِن فِتنَۃِ النِّسَاءِ۔ شکر الحمدللہ کہ دل سے پڑھی تھی، اللہ کا احسان ہے مطلب یہ اللہ کا احسان ہے کہ دل سے پڑھی تھی۔ خدا کی شان جب میں اندر گیا تو مجھے بالکل ایسے جسم میں چیونٹیاں لگنی شروع ہو گئیں، جیسے چیونٹیاں ہوں۔ اور مجھے آرام سے بیٹھنے نہیں دے رہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں بیٹھو، چائے پیو، یہ کرو وہ کرو، میں نے کہا یہ بات میں نے کر لی، میں نے کہا نہیں مجھے جلدی پہنچنا ہے، گھر پہنچنا ہے کیونکہ ظاہر ہے چیونٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ اور جیسے گھر سے باہر آیا تو ٹھیک ہو گیا۔ اب یہ کیا چیز تھی؟ یہ "اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِن فِتنَۃِ النِّسَاءِ" کی برکت تھی۔

یہ واقعہ ابھی تازہ تھا میں نے کچھ دوستوں کو بتایا تھا۔ لاہور جا رہے تھے ان دنوں یہ نہیں ہوتا وہ تین ڈبے جو دو ڈبے ہوتے تھے مطلب وہ کار، Railcar کا نظام تھا۔ پتا نہیں Railcar آج کل ہے یا نہیں ہے؟ ہے؟ تو Railcar چلتا تھا وہ چھ گھنٹے میں لاہور پہنچتا تھا۔ تو لوگ جاتے تھے اس پہ تو ہم بھی اس پہ سوار ہو گئے، تو اس میں عورتیں الگ بیٹھی ہوئی تھیں تو ہم ذرا الگ بیٹھے اور میرے سامنے والی سیٹ خالی تھی اور میرے ساتھ دو دوست تھے یعنی ہم تین آدمی تھے، اب ایک سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک عورت بجائے اس کے کہ عورتوں کے ساتھ بیٹھے وہ سیدھی آ کر ہمارے سامنے بیٹھی۔ ان کو اٹھا تو نہیں سکتے تھے قانوناً کیونکہ وہاں کوئی پردہ نہیں تھا کہ یہ عورتوں کا ہے یہ مردوں کا ہے، خود عورتوں نے اپنے لیے وہ بنایا ہوا ہے۔ میں نے خاموشی سے اس طرف بھی اپنے دوست کے کان میں کہہ دیا کہ وہ دعا پڑھو، اور اس طرف بھی اپنے دوست کے کان میں کہہ دیا کہ وہ دعا پڑھو، ہم تینوں نے وہ دعا پڑھ لی اور جیسے ہم تینوں نے وہ دعا پڑھی وہ عورت خود بخود چل کے اپنے عورتوں میں چلی گئی اور سیٹ خالی ہو گئی۔ اللہ کی مدد ہوتی ہے اگر ہم اللہ کی مدد چاہیں تو۔ اللہ کی مدد ہوتی ہے اور یہ چیزیں ہمیں چاہنا چاہیے کہ ان چیزوں سے ہم بچ جائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے۔

خیر اب میں آپ کو معمولات بتاتا ہوں۔


نوٹ:

نیچے دیے ہوئے معمولات ان خواتین و حضرات کے لیے جن کا کسی صحیح سلسلہ شیخ کے ساتھ اصلاحی تعلق نہیں ہے یا ان کا فقیر کے ساتھ تعلق ہے، جن کا کوئی اور شیخ یا مقتدیٰ ہو وہ ان سے رابطہ کر کے اپنے لیے رمضان کے معمولات مقرر کروائیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ہوتا ہے الحمدللہ، ہمارے قرب و جوار میں بہت سی مشائخ کی سرپرستی میں اصلاحی اعتکاف ہوتا ہے، تو مرد حضرات ایسے ہی کسی شیخ کے ہاں اصلاحی اعتکاف کریں جن سے ان کو مناسبت ہو اور خواتین موقع کی مناسبت سے اپنے گھر میں اعتکاف کریں۔ ان شاء اللہ اعتکاف کا وقت جب آئے گا تو اس پر خصوصی بات ہوگی ان شاء اللہ۔ اس وقت رمضان پر بات ہو رہی ہے اس وجہ سے اعتکاف پہ ہم اتنی زیادہ بات نہیں کر رہے لیکن جب ان شاء اللہ اعتکاف کا وقت آئے گا تو اس پر خصوصی بات ہوگی ان شاء اللہ جیسے آج ہو رہی ہے رمضان کے بارے میں۔

اس کے لیے دو قسم کے معمولات ہیں: ایک فارغ اور صحت مند مسلمانوں کے لیے فرائض کے علاوہ روزانہ کے معمولات، اور دوسرا کاروباری حضرات، بچوں کی ماؤں، ملازم پیشہ اور کمزور مسلمانوں کے لیے معمولات۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب دو قسم کے۔

پہلے میں بتاتا ہوں جو ذرا فارغ ہیں، صحت مند ہیں، تو ان کے لیے کیا ترتیب ہے:

● تلاوت قرآن: 5 پارے۔

● درود شریف: 1000 مرتبہ۔

● استغفار: 1000 مرتبہ۔

● تیسرا کلمہ: 300 مرتبہ۔

● کلمہ طیبہ: 1000 مرتبہ۔

● مناجاتِ مقبول کی ایک منزل۔

● اپنی اپنی زبان میں دعائیں بالخصوص سحری کے وقت اور افطاری کے وقت۔

● اور اس کے علاوہ تہجد، اشراق، چاشت، اوابین۔

● اگر مزید وقت ملے تو تلاوت قرآن جتنا کر سکیں، آخری عشرے میں اس کا دوگنا کریں اور رات کو کریں۔

کاروباری حضرات اور بچوں کی ماؤں، ملازم پیشہ اور کمزور مسلمانوں کے لیے جو ہے وہ یہ کہ:

● تلاوت قرآن: 2 پارے۔

● درود شریف: 1000 مرتبہ۔

● استغفار: 500 مرتبہ۔

● تیسرا کلمہ: 100 دفعہ۔

● کلمہ طیبہ: 500 دفعہ۔

● مناجاتِ مقبول کی ایک منزل۔

● اپنی زبان میں دعا بالخصوص سحری کے وقت اور افطاری کے وقت۔

● اس کے علاوہ تہجد، اشراق، اوابین اور مزید وقت اگر مل سکے تو تلاوت قرآن جتنا کر سکیں، آخری عشرے میں اس کو دوگنا کریں اور رات کو کریں۔

اب جو حفاظ حضرات ہیں ان کے لیے،

● رمضان کا مہینہ چونکہ قرآن کا مہینہ ہے تو حفاظ کرام اس میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کیا کریں کیونکہ باقی لوگوں کی نسبت ان کے لیے تلاوت کرنا آسان بھی ہوتا ہے اور تراویح میں تو ایک قرآن ضرور سنایا کریں۔

اب ایک اہم بات عرض کر رہا ہوں اس کو حفاظ حضرات بہت اچھی طرح سن لیں۔

● اکثر حفاظ کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہمیں سنانے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ اس کا طریقہ ہے کہ دو حافظ مل کر کسی بھی جگہ چاہے گھر ہو یا بیٹھک ہو یا حجرہ وغیرہ ہو وہاں تراویح پڑھیں، بے شک دوسرے لوگ نہ ہوں، دو بندے ہی تراویح پڑھے، ایک امام ہو اور دوسرا سامع۔ دونوں حافظ ہیں، ایک امام ہو دوسرا سامع، اس طرح باری باری دونوں کریں اور دو قرآن ختم کریں۔ تو دونوں کا سنانے کا بھی معمول پورا ہو جائے گا اور سننے کا بھی۔ اب مثال کے طور پر روزانہ ہی کر لے، ڈیڑھ پارہ اگر کریں مثال کے طور پر روزانہ، ڈیڑھ پارہ ایک سنائے ڈیڑھ پارہ دوسرا سنائے، بالکل وہی ڈیڑھ پارہ۔ مطلب یہ نہیں ڈیڑھ پارہ ایک آدمی سنائے وہ دوسرا سنے اور وہی پارہ دوسرا تو ظاہر ہے ان کی تیاری بھی ڈیڑھ پارے کی ہوگی نا پھر دونوں کی۔ روزانہ ڈیڑھ پارے کی تیاری ہوگی اور ڈیڑھ پارے دو دفعہ ہو جائے گا تو دو ختم ساتھ ساتھ چل رہے ہوں گے۔ تو کتنے دنوں میں ہو جائے گا؟ 20 دنوں میں۔ تو 20 دنوں میں سماعت بھی مکمل ہو جائے گی اور سنانا بھی مکمل ہو جائے گا۔ ماشاء اللہ اب کیا خیال ہے جگہ نہیں ملے گی؟ جگہ ملتی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں مقصود ہوں تو پھر وہ نہیں ملتی۔ اگر کچھ اور چیزیں مقصود ہو مثلاً شہرت مقصود ہو وہ نہیں ملتی۔ اور بعض دفعہ ہدیہ وغیرہ مقصود ہو تو وہ نہیں ملتی۔

اب ظاہر ہے خود ہی سنے خود ہی سنائے تو وہ ہدیہ کہاں سے آئے؟ ہاں تو پھر تو۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ہم تو نہیں لیتے، لوگ خود ہی دیتے ہیں۔ بھئی تم جب وہاں نہیں پڑھاتے ہو جہاں لوگ نہیں دیتے، تو اس کا مطلب دینے کے لیے کر رہے ہو نا؟ کہ نہیں؟ دینے کے لیے پھر کر رہے ہو نا۔ ویسے تو ورنہ اگر تم اب۔۔۔

مجھے ماشاء اللہ ایک کرنل صاحب ملے ادھر ریس کورس میں واک کر رہے تھے، بڑا خوش ہوا جی ان کی بات سن کے۔ مجھے کہتے ہیں اگر کسی جگہ پر تراویح میں قرآن سننے کا تقاضا ہو تو میں Available ہوں اس شرط پر کہ سارے اخراجات میں کروں گا کوئی اور نہیں کرے گا۔ کسی اور کو نہیں کرنے دوں گا۔ اخراجات میں کروں گا اور قرآن میں سناؤں گا اور جس نے مجھے پہلے کہا میں اس کی بات مانوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جی ان شاء اللہ۔ تو مقصد میرا ظاہر ہے وہ کھاتے پیتے آدمی ہیں خود کرنل تو کر بھی سکتے ہیں۔ لیکن میں نے کہا یہ صحیح حافظ ہے ماشاء اللہ انہیں قرآن کے ساتھ واقعی محبت ہے۔ وہ جب واک بھی کرتا ہے نا تو تقریباً 10 پارے واک میں کر لیتے ہیں، تلاوت معمول ہے اس کی۔ 10 پارے کی تلاوت ماشاء اللہ وہ اپنے واک کے دوران وہ کر لیتے کئی چکر لگا لیتا ہے اور قرآن پاک کے 10 پارے پڑھ لیتا ہے، ریٹائرڈ آدمی ہے اب تو۔ تو مطلب یہ ہے کہ ماشاء اللہ اللہ پاک نے اس کو توفیق دی ہے، ایسے ہوتے ہیں۔ باقی

● نام کمانے اور پیسے کمانے کی کوشش نہ کریں۔

● اس طرح حفاظ یہ بھی کہتے ہیں کہ جی اس دفعہ ہمارا منزل کچا ہے اگلی دفعہ سنائیں گے لیکن اگلی دفعہ کبھی نہیں آتا۔ تو بات یہ ہے اگر کسی کا منزل بہت پکا بھی ہو لیکن جب وہ پہلی بار سناتا ہے تو بہت ہی زیادہ غلطیاں کرے گا۔ اس طریقے سے اس کی منزل پکی ہو جاتی ہے کہ وہ تراویح میں سنایا کرے اس کے علاوہ منزل پکی کرنے کا کون سا طریقہ ہے دوسرا؟ طریقہ یہی ہے۔ پس ہمت کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کے جملہ برکات نصیب فرمائے۔ آمین

اخیر میں سب سے درخواست ہے کہ اس عاجز کو بھی افطاری و سحری کے دعاؤں میں یاد رکھیں کہ محتاج ہوں اور محتاج کا حق ہوتا ہے۔

الحمدللہ یہ بات میں نے حضرت مولانا زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے لی ہے جو آخری بات ہے کہ محتاج ہوں اور محتاج کا حق ہوتا ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے ہمارا بھی ایسا ہی ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


استقبالِ رمضان: مسائل، معمولات اور تقویٰ کا حصول - اصلاحی جوڑ