اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ: فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
کانٹا چبھنا بھی سیئات کا کفارہ ہے
(38) ﴿وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ هُوَ يُوْعَكُ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ تُوْعَكُ وَعْكًا شَدِيْدًا قَالَ: أَجَلْ إِنِّی أُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قُلْتُ: ذٰلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيْبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، وَ حُطَّتْ عَنْهُ ذُنُوْبُهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.
ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ بخار میں مبتلا تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ تو شدید بخار میں مبتلا ہیں، فرمایا ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا اس لئے آپ ﷺ کو دوگنا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے بالکل اسی طرح جیسے مسلمان کو کانٹا چبھنے سے یا اس سے زیادہ کسی مصیبت کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور گناہ اس سے یوں ساقط ہو جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے گر جاتے ہیں۔"
اصل میں مصائب اور تکالیف کسی کو پیش نہیں آتے... کس کو پیش نہیں آتے؟ لیکن بہرحال اس پر اللہ پاک بہت اجر عطا فرماتے ہیں۔ اور اگر کسی کو اس بات کا احساس ہو تو کبھی بھی تکالیف کے اوپر جزع فزع نہ کرے بلکہ اس کو... اس پر صبر کر کے اللہ جل شانہ سے اس کا جو اجر ہے اس کو وصول کرے۔
یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو یہاں تکلیفیں دی گئی ہوں اور اس کا جو اجر ہے وہاں پر جب اس کو دلایا جائے گا، تو دوسرے لوگ جب اس کو دیکھیں گے جن کو یہ تکلیفیں نہیں ملی ہوں گی، تو وہ کہیں گے کاش ہماری جلد قینچیوں سے کاٹے جاتے لیکن آج ہمیں اس کا جو اجر ہوتا مل جاتا۔
تو اس وجہ سے جو عارفین ہوتے ہیں، وہ تکالیف کو زیادہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان میں... ان کی طبیعت میں نزاکت... مطلب جو ہے نا وہ زیادہ یعنی نفاست ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس پر ان کو صبر عطا فرما دیتے ہیں اور اس کا بہت بڑا اجر عطا فرماتے ہیں۔
اس میں حدیث شریف میں یہ بھی فرمایا کہ
تشریح: آپ ﷺ کو عام لوگوں سے زیادہ بخار میں تکلیف ہوتی تھی
تو اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عام لوگوں کی طرح حالات پیش آتے تھے، یہ ان کے رفعِ درجات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
اور یہ کہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ کے لیے دگنا ثواب ہے؟ فرمایا: ہاں۔
دگنے ثواب کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دگنا مشقت بھی اس میں ہوتی تھی۔ تو دگنے مشقت سے دگنا ثواب مل جایا کرتا تھا۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ اِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِيْنَ يُصِيْبُهُ الْوَعْكُ أَوِالْحُمَّى كَالْحَدِيْدَةِ تُدْخَلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خُبْثُهَا وَ يَبْقَى طِيْبُهَا۔
ترجمہ: مؤمن بندے کی مثال جب اس کو بخار ہو جائے اس لوہے جیسی ہے کہ جس کو آگ میں ڈالا جائے تو اس کا میل جاتا رہے اور عمدہ حصہ باقی رہ جائے۔
تو اس کا مطلب ہے جو تکالیف اور مشکلات آتی ہیں، یہ اصل میں ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ پاک بھیج دیتے ہیں مومنین کے لیے۔ ہاں کفار کے لیے یہ سزا کے طور پہ ہو سکتی ہیں۔
لہٰذا ایسی مصیبت اور تکلیف کے وقت صبر کرنا، یہی سب سے بڑی عقلمندی ہوتی ہے، اس پر جو جزع فزع ہے یہ بیوقوفی ہوتی ہے، کیونکہ جزع فزع سے وہ تکلیف دور تو نہیں ہوتی بلکہ شاید بڑھ بھی جائے، لیکن اس کا جو اجر ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے اور جس کام کو کرنے کی... کا مطلب جو ہے نا فرمایا گیا ہے، اس کے کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ. اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَه، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَه. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.