اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَاَيْنَمَا تُـوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْـمٌ (115) وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَـدًا ۙ سُبْحَانَهٗ ۖ بَل لَّـهٗ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّـهٗ قَانِتُـوْنَ (116) بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَـهٗ كُنْ فَيَكُـوْنُ (117) وَقَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ۗ كَذٰلِكَ قَالَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ مِّثْلَ قَوْلِـهِـمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُـهُـمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُـوْنَ (118) اِنَّـآ اَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيْـرًا وَّنَذِيْـرًا ۖ وَّلَا تُسْاَلُ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِيْـمِ (119) وَلَنْ تَـرْضٰى عَنْكَ الْـيَهُوْدُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّٰى تَتَّبِــعَ مِلَّـتَـهُـمْ ۗ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْـهُـدٰى ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُـمْ بَعْدَ الَّـذِىْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّّلِـيٍّ وَّلَا نَصِيْـرٍ (120) اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ يُؤْمِنُـوْنَ بِهٖ ۗ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِهٖ فَـاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ (121)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ لہٰذا جس طرف بھی تم رُخ کرو گے، وہیں اللہ کا رُخ ہے۔
اوپر جن تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ان کے درمیان ایک اختلاف قبلے کا بھی تھا۔ اہل کتاب بیت المقدس کی طرف رُخ کرتے تھے اور مشرکین بیت اللہ کو قبلہ سمجھتے تھے۔ مسلمان بھی اسی کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور یہ بات یہودیوں کو ناگوار تھی۔ ایک مختصر عرصے کے لئے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہودیوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دیکھو! مسلمان ہماری بات ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پھر دوبارہ بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنا دیا گیا۔ جس کی تفصیل ان شاء اللہ اگلے پارے کے شروع میں آنے والی ہے۔ یہ آیت بظاہر اُس موقع پر نازل ہوئی ہے جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ کوئی بھی سمت اپنی ذات میں کسی تقدس کی حامل نہیں۔ مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اسی کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی ایک جہت میں محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے، چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیدے، بندوں کا کام یہ ہے کہ اس حکم کی تعمیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ ہو جہاں قبلے کی صحیح سمت پتہ نہ چل رہی ہو تو وہاں وہ اپنے اندازے سے جس سمت کو قبلہ سمجھ کر نماز پڑھے گا اس کی نماز ہو جائے گی، یہاں تک کہ اگر بعد میں پتہ چلے کہ جس رُخ پر نماز پڑھی ہے وہ صحیح رُخ نہیں تھا تب بھی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس شخص نے اپنی طاقت کے مطابق اللہ کے حکم کی تعمیل کر لی۔ دراصل کسی بھی جگہ یا کسی بھی سمت میں اگر کوئی تقدس آتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے آتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ قبلے کے تعین میں اپنے احکام بدل رہا ہے تو اس میں کسی فریق کی ہار جیت کا سوال نہیں۔ یہ تبدیلی یہی دکھانے کے لئے آ رہی ہے کہ کوئی سمت اپنی ذات میں مقصود نہیں۔ مقصود اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی ہے۔ اگر آئندہ اللہ تعالیٰ دوبارہ بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیدے تو یہ بات نہ قابلِ تعجب ہونی چاہئے نہ قابلِ اعتراض۔
بیشک اللہ بہت وسعت والا، بڑا علم رکھنے والا ہے ﴿115﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہوا ہے، (حالانکہ) اس کی ذات (اس قسم کی چیزوں سے) پاک ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔ سب کے سب اس کے فرماں بردار ہیں ﴿116﴾وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں بس اتنا کہتا ہے کہ: ”ہو جا“ چنانچہ وہ ہو جاتی ہے ﴿117﴾
یہ عالمِ امر کی باتیں ہیں۔ یعنی
عیسائی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہی ہیں۔ بعض یہودی بھی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، اور مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہ آیت ان سب کی تردید کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اولاد کی ضرورت اسے ہو سکتی ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو، اللہ تعالیٰ تو پوری کائنات کا مالک ہے، اور اسے کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ پھر وہ اولاد کا محتاج کیوں ہو؟ اسی دلیل کو اگر منطقی پیرائے میں بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہو گی کہ اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے، اور ہر کُل اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے۔
یعنی میں اپنی آنکھ کا بھی محتاج ہوں، اپنے کان کا بھی محتاج ہوں، اپنے ہاتھ کا بھی محتاج ہوں۔ کسی ایک میں اگر مسئلہ پڑ جائے تو مجھے تکلیف ہوگی۔
اللہ تعالیٰ چونکہ ہر احتیاج سے پاک ہے اس لئے اس کی ذات بسیط ہے جسے کسی جزء کی حاجت نہیں۔ لہٰذا اس کی طرف اولاد منسوب کرنا اسے محتاج قرار دینے کے مترادف ہے۔
اصل میں انسان کو جو چیزیں دی گئی ہیں ضرورت کے مطابق، تو انسان کے لیے تو ٹھیک ہے۔ وہ چیزیں جتنی زیادہ ہوں گی انسان کے ساتھ، وہ انسان کے لیے آسانی، راحت اور خوشی کا موجب ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ چونکہ کسی چیز کے محتاج نہیں، لہذا ایسی چیزوں کو اللہ کے لیے منسوب کرنا، اللہ کی طرف... یہ اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی کے کامل ہونے سے انکار کرنا ہے۔ لہذا یہ اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اور جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ: اللہ ہم سے (براہِ راست) کیوں بات نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں وہ بھی اسی طرح کی باتیں کہتے تھے جیسی یہ کہتے ہیں۔ ان سب کے دِل ایک جیسے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یقین کرنا چاہیں اُن کے لیے ہم نشانیاں پہلے ہی واضح کر چکے ہیں ﴿118﴾ (اے پیغمبر!) بیشک ہم نے تمہی کو حق دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم (جنت کی) خوشخبری دو اور (جہنم سے) ڈراؤ۔ اور جو لوگ (اپنی مرضی سے) جہنم (کا راستہ) اختیار کر چکے ہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پُرس نہیں ہوگی ﴿119﴾ اور یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم اُن کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو کہ حقیقی ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور تمہارے پاس (وحی کے ذریعے) جو علم آ گیا ہے، اگر کہیں تم نے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کر لی تو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے نہ کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار ﴿120﴾
اگرچہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نا قابلِ تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرضِ محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اُصول یہ بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرماں بردار ہیں۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، جبکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہوں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے، تو وہ لوگ ہی (در حقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو اس کا انکار کرتے ہوں، تو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں ﴿121﴾
بنی اسرائیل میں جہاں سرکش لوگ بڑی تعداد میں تھے وہاں بہت سے لوگ ایسے مخلص بھی تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو صرف پڑھا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے حق کی ہر بات کو قبول کرنے کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ رکھا تھا، چنانچہ جب ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی تو انہوں نے کسی عناد کے بغیر اسے قبول کیا۔ اس آیت میں ان حضرات کی تعریف کی گئی ہے اور سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے تمام احکام کو دل سے مان کر ان کی تعمیل کی جائے۔ در حقیقت تورات پر ایمان رکھنے والے وہی ہیں جو اس کے احکام کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس میں یہ حکم بھی تھا، لہذا اگر اس حکم پر کسی نے عمل نہیں کیا، تو اس نے اپنی تورات پر عمل نہیں کیا اور اسی وجہ سے کافر ہو گئے۔ یعنی اس نے مانا نہیں۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ہر قسم کی کجی سے محفوظ فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔
*درسِ قرآن کے مزید علمی نکات و تشریح:*
موضوع: تحویلِ قبلہ، حقیقتِ ایمان اور تزکیہ نفس
بیان: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم
تاریخ: 13 فروری 2026ء
حضرت نے مزید فرمایا کہ:
*1۔ سمت اور حکمِ الٰہی کی حقیقت:*
جیسا کہ آیت میں فرمایا گیا کہ مشرق و مغرب سب اللہ کے ہیں، تو اصل بات سمت (Direction) کی نہیں بلکہ "حکم" کی ہے۔ جس سمت میں اللہ کا حکم ہو جائے، وہی سمت مقدس بن جاتی ہے۔ اگر حکم مشرق کا ہے تو مشرق قبلہ ہے، اور اگر مغرب کا ہے تو مغرب۔ اصلِ ایمان اپنی پسند یا عادت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور حکم کی تابعداری ہے۔
*عینِ قبلہ اور جہتِ قبلہ:*
جیسے جب انسان "مسجدِ حرام" میں موجود ہو اور کعبہ اس کے سامنے ہو (یعنی وہ کعبہ کو دیکھ رہا ہو)، تب تو ضروری ہے کہ اس کا رخ عین کعبہ (عینِ کعبہ) کی طرف ہو، ذرا سا بھی انحراف نماز کو فاسد کر سکتا ہے۔
لیکن جب ہم دور دراز علاقوں میں ہوتے ہیں، یا حرم سے باہر صفوں میں ہوتے ہیں جہاں کعبہ نظر نہیں آتا، تو وہاں شریعت نے یہ سختی نہیں رکھی کہ بالکل سولڈ اینگل (Solid Angle) یا عین ایک نکتے پر رخ ہو۔ کیونکہ ریاضی اور جغرافیے کے اصول سے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہزاروں میل دور سے ایک سیدھی لکیر کھینچی جائے جو بالکل کعبہ کے وسط میں لگے۔ زمین گول ہے اور فاصلہ زیادہ ہے، اس لیے وہاں حکم "جہتِ کعبہ" (کعبہ کی سمت) کا ہے۔
45 درجے کا قاعدہ: لیکن جب کعبہ نظر نہ آ رہا ہو (جیسے دور دراز کے ممالک یا حرم سے باہر صفوں میں)، تو وہاں "جہتِ قبلہ" (سمت) کافی ہے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بالکل سیدھ سے دائیں یا بائیں 45 درجے (45 degrees) تک بھی مڑا ہوا ہو، تو وہ "جہتِ قبلہ" ہی میں شمار ہوگا اور اس کی نماز ہو جائے گی۔ یہ اللہ کی طرف سے آسانی ہے کیونکہ اصل امتحان نیت اور حکمِ الہی کی پیروی ہے۔
*2. نفس کی تین حالتیں اور حکمِ الہی*
حضرت نے انسانی نفس کی تربیت کے حوالے سے ایک لطیف نکتہ بیان کیا:
نفسِ امارہ: اگر انسان کا دل اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی خواہش (نفس) پر اڑا رہے، تو یہ نفسِ امارہ ہے۔
نفسِ لوامہ: اگر دل میں کشمکش ہو، کبھی حکم مانے اور کبھی نفس کی طرف مائل ہو کر پچھتائے، تو یہ لوامہ ہے۔
نفسِ مطمئنہ: اور جب انسان کی طبیعت اور خواہش مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع ہو جائے، تو یہ "نفسِ مطمئنہ" کا مقام ہے۔ صحابہ کرام نے اپنے نفس کو اللہ کے حکم کے اس قدر تابع کر دیا تھا کہ جب قبلہ بدلا تو انہوں نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اپنی مرضی چھوڑ کر اللہ کی مرضی اپنا لی۔
*3. بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل (حکمتِ الہی)*
بنی اسرائیل کو اعتراض یہ تھا کہ نبوت ان کے خاندان سے نکل کر بنی اسماعیل میں کیوں آگئی؟ حالانکہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ یہ اللہ کی تقسیم اور مشیت ہے کہ وہ کسے منتخب کرے۔ جیسے سمت کا انتخاب اللہ کا حق ہے، ویسے ہی نبوت کے لیے بندے کا انتخاب بھی اللہ کا حق ہے۔ ہمیں تو دونوں مقدس لگتے ہیں، ہم یروشلم کو بھی "بیت المقدس" (پاک گھر) ہی کہتے ہیں۔
*4. مکہ اور مدینہ میں قبلے کی سمت اور آزمائش*
جب تک نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے، آپ ﷺ اس طرح کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے کہ کعبہ بھی سامنے رہتا تھا اور رخ بیت المقدس کی طرف ہوتا تھا (کیونکہ مکہ سے بیت المقدس شمال میں ہے، تو آپ ﷺ کعبہ کے جنوب میں کھڑے ہو کر شمال کی طرف رخ کرتے، یوں دونوں ایک سیدھ میں آ جاتے تھے)۔یعنی دل کی محبت (کعبہ) اور اللہ کا حکم (بیت المقدس) دونوں جمع ہو جاتے۔
لیکن جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ ممکن نہ رہا۔ مدینہ، مکہ کے شمال میں ہے۔ اب اگر بیت المقدس (شمال) کی طرف رخ کریں تو کعبہ (جنوب) پیٹھ پیچھے آتا ہے۔ یہ 180 درجے کا فرق تھا۔ آپ ﷺ کے دل مبارک میں کعبہ کی محبت تھی، بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے کہ کب حکم آئے، لیکن عمل اللہ کے حکم (بیت المقدس) پر ہی کرتے رہے۔
مسجدِ قبلتین میں جب دورانِ نماز تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکمِ ربی کی تعمیل میں اپنا رخِ انور پھیرا اور صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے دوسری جانب تشریف لے گئے تاکہ کعبہ کی سمت امام بن سکیں۔ یہ ایک سخت آزمائش کا لمحہ تھا جس میں بعض لوگوں کے قدموں میں تردد اور لغزش پیدا ہوئی، مگر دس جلیل القدر نفوس نے لمحہ بھر کا توقف کیے بغیر، کمالِ عشق و اطاعت میں اپنا رخ فوراً اسی سمت پھیر لیا جدھر نبی ﷺ مڑے تھے؛ یہی وہ بے مثال پیروی اور تسلیم و رضا کا مقام تھا جس نے انہیں 'عشرہ مبشرہ' کے عظیم منصب پر فائز کر دیا۔
*5. طبیعت، عقل اور شریعت کا توازن*
حضرت نے فرمایا کہ ایک بات بتاؤں۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر۔ عجیب بات ہے۔
قرآن پاک میں سورہ الحجرات کی آیت ( *اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم* ) میں اللہ پاک نے صحابہ کرام کی جو تعریف فرمائی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی طبیعت، اور عقل کو شریعت کے حکم کے تابع کیا تھا۔
اصل میں ہر انسان کے پاس تین چیزیں ہیں:
1. طبیعت: (جذبات، محبت، رشتوں کا پاس)۔
2. عقل: (سوچنے سمجھنے کی صلاحیت)۔
3. شریعت: (اللہ کا حکم)۔
اصول یہ ہونا چاہیے کہ: طبیعت پر عقل غالب ہو، اور عقل پر شریعت غالب ہو۔
صحابہ کرام کے دلوں کا امتحان یہی تھا کہ انہوں نے اپنی "طبیعت" (باپ، بیٹے، خاندان کی محبت) پر "شریعت" (اللہ کا حکم) کو غالب کر دیا۔
اس کی بہترین مثال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے حضرت عبدالرحمن (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) کا مکالمہ ہے۔
بیٹے نے کہا: "ابا جان! بدر میں آپ میری تلوار کی زد میں آئے تھے لیکن میں نے باپ سمجھ کر (طبیعت کی محبت کی وجہ سے) چھوڑ دیا۔"
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: "اگر تم میری زد میں آتے تو میں تمہیں نہ چھوڑتا (کیونکہ وہاں شریعت اور اللہ کا حکم غالب تھا)۔"
یہ مقامِ "امتحن اللہ قلوبھم" ہے، کہ اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے خالص کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنی طبیعت اور جذبات کو شریعت کے تابع کر دیا تھا۔
یہ بات کہنا آسان ہے لیکن عمل بہت مشکل ہے۔ آج بھی ہمارے سامنے ایسی مثالیں ہیں کہ کچھ لوگ ہندو گھرانوں سے مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کا پورا خاندان، ماں باپ، بہن بھائی کفر پر ہیں، ان کے دل میں گھر والوں کی محبت (طبیعت) بھی ہے، مشکلات بھی ہیں، چھپ کر نمازیں پڑھتے ہیں، لیکن انہوں نے شریعت کو سب پر غالب کیا ہوا ہے۔ یہ بہت بڑا جہاد ہے۔
اللہ جل شانہ ہمیں بھی اپنی محبت، دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اپنی طبیعت و عقل کو شریعت کے تابع کرنے کی توفیق دے۔آمین۔