اوقاتِ نماز کی حکمتیں اور کتبِ تفاسیر و سیرت کا تعارف

کتابی حوالہ: سیرت النبی ﷺ - جلد نمبر 5، باب: عبادات- نماز - (اشاعت اول) جمعرات، 20 اگست، 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

    قرآن و حدیث کی روشنی میں اوقاتِ نماز کی ترتیب اور حکمت

نکتہ رسی (گہری بات نکالنے) کا ذوق اور حضرت تھانویؒ کا قول

مختلف تفاسیر (کشاف، روح المعانی، مظہری) کا مختصر جائزہ

  "معارف القرآن" اور "تفسیرِ عثمانی" کی خصوصیات اور تقابل

  دینی تعلیم میں سوال و جواب کے طریقہ کار کی اہمیت و افادیت

فقہی مسائل کے لیے "عماد الدین" اور "تعلیم الاسلام" کتب کی سفارش

اوقات نماز کا ایک اور راز: اس آیت کریمہ کو ایک دفعہ اور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ نماز کے اوقات کا آغاز ظہر (میلان اول آفتاب) سے ہوتا ہے اور یہی اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں بذریعہ جبریل نماز کے اوقات پنجگانہ کی تعلیم کا ذکر ہے۔ اس میں پہلے ظہر کا نام آتا ہے پھر بہ ترتیب اور چاروں نمازوں کا ظہر کے بعد عصر، پھر مغرب، پھر سونے سے پہلے عشاء، یہ چار نمازیں تقریباً دو تین گھنٹوں کے فاصلے سے ہیں اس کے بعد صبح کی نماز ہے جو عشاء سے تقریباً سات آٹھ گھنٹوں کا فاصل رکھتی ہے اور پھر صبح سے ظہر تک تقریباً اس قدر فصل ہے۔ چنانچہ اس آیت میں ظہر سے عشاء تک ایک ساتھ نماز کا مسلسل حکم ہے چند گھنٹے ٹھہر کر صبح کا حکم ہوتا ہے پھر خاموشی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو کر ایک لمبے وقفے کے بعد پھر ظہر کا وقت آتا ہے اور اسی طرح دور قائم ہو جاتا ہے غرض ظہر سے عصر، عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء تک مسلسل نمازیں ہیں پھر صبح تک استراحت کا طویل وقفہ ہے، صبح اٹھ کر خدا کی یاد ہوتی ہے اور پھر انسانی کاروبار کے لئے ایک طویل وقفہ رکھا گیا ہے جو صبح سے ظہر تک ہے، اور اس میں کوئی فرض نماز نہیں رکھی گئی ہے۔

تو میرے خیال میں اس وقت تو یہ کافی ہے کیونکہ یہ بحث کافی لمبی ہے۔ لیکن یہ بہت دلچسپ بحث ہے۔ اگرچہ جن لوگوں کا ذوق یہ نہیں ہو، یہ تحقیقی میدان کا، تو ان کے لیے کافی خشک بحث ہے۔ لیکن جن کا ذوق یہ ہو کہ نکتہ سے نکتہ نکالنا، جس کو نکتہ رسی کہتے ہیں، تو ان کے لیے واقعی... حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ لوگ پتہ نہیں کن کن چیزوں پہ وجد کرتے ہیں، وجد کی باتیں تو یہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھو کس طرح نکتے سے نکتہ ملایا جاتا ہے اور کس طرح بات سے بات نکالی جاتی ہے اور اس سے کتنے دلچسپ اور عمدہ مفاہیم کا استحضار ہوتا ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بڑا میدان ہے۔ تو تفسیروں میں بعض تفسیریں اس کے لیے زیادہ مشہور ہیں۔ "کشاف" ہے، اس طرح "روح المعانی" ہے، اور اس طرح ہمارے متاخرین کے تفاسیر میں "تفسیرِ مظہری" بہت تحقیقی تفسیروں میں آتا ہے۔ اور پھر بعد میں قریبی زمانے میں مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا "معارف القرآن"، وہ بہت زیادہ۔ اور جامعیت کے لحاظ سے اور اختصار کے لحاظ سے "تفسیر عثمانی"۔ لہٰذا اگر کوئی تفصیلی تفسیر کسی نے دیکھنا ہو، یعنی ایک ہی تفسیر اگر رکھنا چاہتے ہو جس میں ساری تفسیروں کا ایک قسم کا نچوڑ آ جائے، وہ "معارف القرآن" ہے۔ اور اگر مختصر تفسیر کوئی رکھنا چاہے ایک جلد کا، جس سے کم از کم جو راجح اقوال ہیں اس تک رسائی ہو جائے، تو وہ ہے "تفسیر عثمانی"۔

مجھے ایک عالم نے مشورہ دیا تھا تفسیر عثمانی کا، میں نے پوچھا تھا کہ میں کون سا تفسیر لوں؟ انہوں نے کہا اگر مختصر لینا ہو تو تفسیر عثمانی لے لو۔ تو میں نے ہدیہ کر لیا، اس وقت میں اسٹوڈنٹ تھا۔ تو حضرت نے چونکہ وجہ نہیں بتائی تھی لہٰذا مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیوں اتنا زیادہ اہم ہے۔ تقریباً ایک سال میرے پاس ویسے پڑا رہا۔ پھر جب میں نے اس پہ غور کیا کہ آخر اس میں کیا نکتہ ہے، مطلب کس وجہ سے کہا گیا ہے مجھے۔ تو وہ میں نے جب اس کو اس نیت سے مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اس میں وجہ یہ ہے کہ اس میں راجح قول لیا جاتا ہے صرف، مرجوح اقوال نہیں لیے جاتے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تفسیر آیت بالآیت ہے، یعنی ایک آیت کی تفسیر کو دوسری آیت کی تفسیر کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے، اشارہ دیا جاتا ہے۔ تو اس سے بہت یعنی گویا کہ جامعیت اس میں آ گئی اور آسانی اس میں آ گئی اور راجح قول کی وجہ سے۔۔۔ یعنی آپ بہت سارے تفاسیر کو دیکھنے کے بعد آخری جس نتیجے پہ پہنچتے ہیں وہ وہاں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ تو اس لحاظ سے ماشاءاللہ کافی جامعیت اس میں پائی جاتی ہے۔

تو یہ طریقہ کار جو... جیسے بالخصوص سیرت میں اس قسم کا ترتیب اس میں آئی ہے۔ اس وجہ سے الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ ہماری جمعرات کی جو مجلس ہے اس کے لیے مختص ہے، تو الحمدللہ یہ بھی سیرت کا موضوع ہے اور صبح فجر کی نماز کے بعد جو آج کل سوال وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی سیرت کے موضوع سے ہیں۔ کہ سیرت کو سوال و جواب کی صورت میں گویا کہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔ تو سوال و جواب کے ذریعے سے مطالعہ کرنے کا بنیادی مقصد اس میں یہ ہے کہ سوال سے خود بخود ایک تجسس قائم ہو جاتا ہے، اور اس تجسس کو دور کرنے کے لیے جب جواب دیا جاتا ہے تو جواب کو انسان اچھی طرح غور سے سن لیتا ہے۔ ویسے اگر رواں بیان آپ کر رہے ہوں تو ممکن ہے کہ انسان سو جائے اس میں، چاہے وہ کتنا اہم مضمون کیوں نہ ہو۔ بلکہ ہمارے بعض ذرا سخت لوگ جو ہیں نا، ان کے جو شاگرد ہیں ان سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں، تو ان کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے، جو معتدل علماء ہیں، وہ یہ بتاتے ہیں کہ بیچارے درمیان میں سو جاتے تھے، استاد جب بیان کرتے تھے تو یہ سو جاتے تھے، تو جب یہ اٹھ جاتے تھے تو کوئی موضوع چل رہا ہوتا تھا تو اس سے پہلے اس کی بنیاد تو اس کو معلوم نہیں ہوتی، تو اسی پہ بس ڈٹ جاتے کہ بس یہ اس طرح ہے۔ حالانکہ اس کی تشریحات پہلے گزر چکی ہوتی تھی، تو اعتدال تو اس تشریحات میں ہوتی تھی۔ تو وہ چونکہ تشریحات درمیان میں کٹ جاتیں تو بس پھر تو تشدد ہوتا ہے۔ سیاق و سباق سے کٹنا تشدد کا ایک پورا میدان ہے۔ تو اس وجہ سے پھر یہ آ جاتا ہے کہ پورا نہیں سنتے۔ لیکن سوال و جواب کی صورت میں اگر آپ کو کوئی چیز سمجھائی جائے... یہ ایک کتاب ہے ماشاءاللہ بہت عمدہ کتاب ہے، مولانا ابوالقاسم دلاوری رحمۃ اللہ علیہ کی "عماد الدین" کتاب جو ہے، وہ سوال و جواب کی صورت میں ہے نماز پر ہی ہے۔ اور ماشاءاللہ بہت عمدہ اور بہت تفصیلی کتاب ہے۔ یعنی اس میں نمازوں کے احکام جو بیان کیے گئے ہیں۔ اور دوسری جو بہت بڑی کتاب ہے جو مختلف فقہی موضوعات مختصر مختصر وہ ہے "تعلیم الاسلام" جو بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ تو آج کل بڑوں کی بھی ضرورت ہے۔ تو وہ "تعلیم الاسلام" جو ہے وہ واقعی تعلیمات اسلام ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اس کو پڑھ لے تو بنیادی چیزوں کا پتہ سوال و جواب کی صورت میں معلوم ہو جاتا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

اوقاتِ نماز کی حکمتیں اور کتبِ تفاسیر و سیرت کا تعارف - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور