اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصَارٰى عَلٰى شَيْءٍۖ وَّقَالَتِ النَّصَارٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى شَىْءٍ وَّهُـمْ يَتْلُوْنَ الْكِتَابَ ۗ كَذٰلِكَ قَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِـمْ ۚ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْمَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (113)
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، حالانکہ یہ سب (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ (مشرکین) جن کے پاس کوئی (آسمانی) علم ہی سرے سے نہیں ہے، انہوں نے بھی ان (اہل کتاب) کی جیسی باتیں کہنی شروع کر دی ہیں۔ چنانچہ اللہ ہی قیامت کے دن ان کے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں ﴿113﴾
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَـرَ فِيْـهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِىْ خَرَابِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَـهُـمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ (114)
اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے، اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان (مسجدوں) میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے، اور انہی کو آخرت میں زبردست عذاب ہوگا ﴿114﴾
یہودی جو تھے وہ عیسائی مذہب کو کچھ نہیں سمجھتے تھے اور عیسائی یہودیوں کے مذہب کو صحیح مذہب نہیں سمجھتے تھے۔ اپنی اپنی باتوں پہ ڈٹے ہوئے تھے، حالانکہ تورات بھی اللہ پاک کی طرف سے نازل کی گئی تھی اور انجیل بھی اللہ پاک کی طرف سے نازل کیا گیا تھا۔ لیکن وہ ظاہر ہے جس وقت ایک انسان Detract ہو جائے اپنے راستے سے، ہٹ جائے، تو پھر اس کے بعد اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ بنیاد کو اگر ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد پھر اس کے رکنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا اس کو۔ کیونکہ اصل میں تو اصول ہی یہ ہوتے ہیں: نمبر ایک اصول یہ بات ہے کہ آسمانی کتاب اس پر ایمان لانا، نمبر دو اس میں تحریف نہ کرنا، اور اپنے نبی کی بات ماننا، یہ بات ہے۔ لیکن اگر اس سے انسان ہٹ جائے تو پھر اس کے بعد کون اس کو روک سکتا ہے؟ بنیادی بات تو یہی ہے۔
تو یہ بھی اس طرح کرتے تھے اور جو مشرکین ہیں وہ بھی انہی کی طرح باتیں کرنی شروع کر چکے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا کہ پھر فیصلہ تو اللہ تعالیٰ قیامت میں فرمائیں گے، کیونکہ یہاں پر تو ہر ایک اپنی ضد پہ اڑا ہوا ہے۔ تو ان کو صحیح راستہ بتانا، ان کے نصیب میں نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہدایت پر چلنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ اگر کوئی چلنے کے لیے تیار نہ ہو تو ان کو جتنی بھی باتیں کریں تو اس سے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ہے کہ وہاں پر چونکہ کسی کا بس نہیں چلے گا، اختیار ختم ہو جائے گا، تو اس کے بعد جو فیصلہ ہوگا وہ فائنل ہوگا۔
اوپر یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تینوں گروہوں کا ذکر آیا ہے۔ یہ تینوں گروہ کسی نہ کسی زمانے میں اور کسی نہ کسی شکل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مثلاً عیسائیوں نے شاہ طیطوس کے زمانے میں بیت المقدس پر حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کیا۔ ابرہہ نے جو عیسائی ہونے کا مدعی تھا بیت اللہ پر حملہ کر کے اسے ویران کرنے کی کوشش کی۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے رہے، اور یہودیوں نے بیت اللہ کے تقدس سے انکار کر کے عملاً لوگوں کو اس کی طرف رُخ کرنے سے روکا۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک طرف ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہے کہ تنہا وہی جنت کا حق دار ہے، اور دوسری طرف ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے یا عبادت گاہوں کو ویران کرنے کے درپے رہے ہیں۔ اسی آیت کا اگلا جملہ ذو معنی ہے۔ اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ حق تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا خوف لے کر داخل ہوتے، نہ یہ کہ متکبرانہ انداز میں انہیں ویران کریں، یا لوگوں کو وہاں اللہ کی عبادت سے روکیں۔ لیکن ساتھ ہی اس میں یہ لطیف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب یہ متکبر لوگ جو اللہ کی مسجدوں سے لوگوں کو روک رہے ہیں، حق پرستوں کے سامنے ایسے مغلوب ہوں گے کہ انہیں خود ان جگہوں پر ڈر ڈر کر داخل ہونا پڑے گا۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔
اگر آپ دیکھیں نا تو اللہ پاک کی سنتِ عادیہ یہ ہے کہ وہ اپنے امتحان والی بات کو برقرار رکھتے ہیں۔ یعنی اگر مدد بھی اللہ پاک کرتے ہیں تو اس طریقے سے کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اس کی توجیہ کر لیتے ہیں کہ یہ تو قدرتی واقعہ ہے۔ یعنی اس قسم کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو جو اختیار دے چکے ہوتے ہیں، اس اختیار کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس کس چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تو یہاں پر بھی جو اشارہ ہوا ہے کہ عنقریب ایسا ہوگا، عنقریب ایسا ہوگا، تو یہ گویا کہ اس وقت، ان کو اگر بتایا جاتا کہ مسلمان فتح حاصل کر لیں گے اور پھر تم داخل نہیں ہو سکو گے، تو وہ پھر امتحان ختم ہو جاتا، کیونکہ پہلے سے یہ بات بتائی جاتی۔ لیکن یہاں پر اشارہ کر دیا:
اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَـهُـمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ (114)
یعنی اشارہ دے دیا، اب اگر کوئی شخص اشارہ کو سمجھ جائے تو ٹھیک ہے اور جو نہ سمجھ جائے تو بس ظاہر ہے پھر وہ Detract ہو گیا۔
تو اس طریقے سے اللہ جل شانہ کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ حکمت کے ساتھ ہوتی ہیں، حکمت کے مطابق ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ پاک کا ہر کام حکمت والا ہے، اللہ پاک کا ہر کام خود بخود حکمت والا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس میں ہر شخص کے لیے وہ Chance ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرے یا حق سے آگے چلے۔ اس لیے قرآن پاک کے بارے میں فرمایا: یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا اس کے ذریعے وہ وہ کثیر لوگوں کو گمراہ کر لیتے ہیں اور کثیر لوگوں کو ہدایت عطا فرما دیتے ہیں۔ حالانکہ کتاب ہدایت کی ہے، هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ، لیکن متقین کے لیے۔ تو جو ڈرنے والے ہیں ان کے لیے تو ہدایت ہے اور جو ڈرنے والے نہیں ہیں تو وہ اس کے اوپر اعتراض کر کے مزید خراب ہو جائیں گے۔
تو یہ اللہ جل شانہ کا نظام ہے، اللہ پاک ہم سب کو حق پر قائم رکھے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔