کشف و وجدان کی حقیقت اور اتباعِ شریعت کی اہمیت

دفتر اول: مکتوب نمبر 264 - (اشاعتِ اول) بدھ، 20 دسمبر، 2017

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•       مکتوباتِ امام ربانی (مکتوب نمبر 264) کی تشریح

•       احوال و مواجید اور کشفیات میں خطا کا احتمال

•       فنائے تام اور عنصرِ ہوا کی شفافیت میں فرق (امام ربانیؒ کی تحقیق)

•       اسماء و صفات کی سیر بمقابلہ حقائقِ قرآن و صلوٰۃ (محفوظ راستہ)

•       سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ کا فرق اور حقیقت

•       سنت کو سمجھنے کے لیے فقہاء کے فہم کی ضرورت

•       صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طریقِ کار اور مجاہدہ

•       تصوف کے اعمال (لطائف و اشغال) مقصود نہیں بلکہ ذرائع ہیں

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ آج مکتوب نمبر 264 سے ان شاء اللہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ میرسید باقر سارنگپوری کی طرف صادر فرمایا ہے، لیکن بعض نسخوں میں سہارنپوری درج ہے۔


دفتر اول مکتوب نمبر 264

اس بیان میں اپنے معاملہ کو حیرت اور جہالت پر محمول کرنا چاہئے، اور احوال و کشوف پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور اس کے ضمن میں اس واقعہ کا ذکر اور تعبیر فرمائی جس کا اظہار اس علاقہ کے بعض مشائخ میں سے کسی نے کیا تھا۔

آپ کے نام صرف یہی ایک مکتوب ہے، آپ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قدیم الخدمت احباب میں سے ہیں اور آخر عمر میں خلافت پائی تھی۔

الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)۔

صحیفۂ شریفہ جو فرطِ محبت اور کمال اشتیاق سے آپ نے تحریر فرمایا تھا موصول ہو کر بہت زیادہ خوشی کا باعث ہوا۔

آپ اپنے کام کی طرف متوجہ رہیں اور اسماء و صفات کے ملاحظہ کے بغیر اسمِ ذات تعالیٰ و تقدس کے ذکر میں مشغول رہیں تاکہ معاملہ جہالت تک پہنچ جائے اور کام حیرت کے ساتھ انجام پذیر ہو۔ کیونکہ اسماء و صفات کا ملاحظہ بسا اوقات احوال کے ظہور کا باعث ہوتا ہے اور مواجید کے صادر ہونے کا واسطہ بن جاتا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ احوال و مواجید میں خطا کا بہت زیادہ احتمال ہے اور اس مقام میں حق کے ساتھ باطل کا اشتباہ بہت زیادہ ہے۔

آپ غور فرمائیں کہ ان دنوں گردونواح کے مشائخ میں سے ایک شیخ نے فقیر کے پاس پیغام بھیجا اور (اس طرح) اپنے احوال کا اظہار کیا کہ’’ مجھے فنا و محویت اس درجہ حاصل ہوگئی ہے کہ جس چیز پر نظر پڑتی ہے کچھ نہیں معلوم ہوتا (کہ کیا ہے) زمین و آسمان کو دیکھتا ہوں تو کچھ نہیں پاتا حتیٰ کہ عرش و کرسی کو بھی نہیں پاتا، اور جب خود کو ملاحظہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو بھی نہیں پاتا، اور اگر کسی کے پاس جاتا ہوں تو اس کو بھی نہیں پاتا۔ اور خدائے عزوجل و علا بے نہایت ہے اس کی نہایت کو کسی نے نہیں پایا، مشائخ نے اس کو کمال سمجھ لیا ہے اگر تو وہ بھی اسی کو کمال سمجھتا ہے تو پھر میں طلبِ حق جل و علا کے لئے تیرے پاس کیوں آؤں، اور اگر کسی اور بات میں کمال سمجھتا ہے تو تحریر کر۔‘‘

فقیر نے اس کے جواب میں لکھا کہ یہ احوال قلب کی تلوینات (قلبی کیفیات کا تغیر و تبدل) میں سے ہیں، اور قلب اس راہ کا زینۂ اوّل ہے۔ اور صاحبِ احوال نے ابھی مقامِ قلب کا ایک چوتھائی حصہ طے کیا ہے اور قلب کے باقی تین حصے اور طے کرنے چاہئیں، اس کے بعد دوسرے زینہ پر چڑھنا چاہئے جس سے مراد روح ہے۔ پھر جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہئے عروج حاصل ہو۔

اس ماجرے کے کچھ مدت بعد فقیر کے دوستوں میں سے ایک دوست نے جو اس طریقہ کو اخذ کر کے اپنے وطن گیا ہوا تھا، جب واپس آکر اپنا حال بیان کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا حال بالکل اس شیخ کے موافق ہے جس نے سوال کیا تھا بلکہ یہ دوست اس مقام میں اس (شیخ) سے بھی آگے قدم رکھتا ہے اور جب اس کے حال میں غور کیا گیا تو ظاہر ہوا کہ اس کی یہ فنا و محویت عنصرِ ہوا میں ہے جو ذرات میں سے ہر ذرہ کو محیط ہے اور ہوا کے علاوہ اور کوئی امر مشہود نہیں ہوا۔ اسی کو اس نے خدائے بے نہایت جان لیا ہے۔ تعالَی اللّٰہُ سُبْحَانَہ عَنْ ذَلِکَ عُلُوّاَ کَبِیراَ (اللہ تعالیٰ سبحانہ اس سے بہت بلند و بالا ہے)۔ دوسری مرتبہ اس دوست کو طلب کر کے جب اس کے احوال کی تفتیش کی تو یقین ہو گیا کہ اس کی گرفتاری کا سبب عنصرِ ہَوَا کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کو بھی اس (باطنی کیفیت) سے مطلع کر دیا اور جب اس نے بھی اپنے وجدان کی طرف رجوع کیا تو اس کو معلوم ہو گیا کہ اس کو ہَوَا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور اس نے اس احوال سے استغفار کر کے قدم آگے بڑھایا۔

جاننا چاہئے کہ عالمِ خلق جو عناصرِ اربعہ کا عالم ہے اور عالم ارواح کے درمیان قلب برزخ کے مانند ہے اور وہ دونوں عالم کا رنگ رکھتا ہے۔ گویا قلب کا نصف حصہ عالَمِ خلق سے متعلق ہے اور دوسرا نصف حصہ عالمِ ارواح سے۔ اور وہ دوسرا حصہ جس کو ہم نے عالمِ خلق سے متصف کیا ہے اگر اس (نصف حصہ کو) بھی نصف کریں تو معاملہ عنصرِ ہَوَا کا ہو جائے گا۔ پس قلب کے چوتھے حصہ سے مراد مقامِ ہَوَا ہے جو قلب کے ضمن میں ہے۔ لہٰذا جو کچھ آخر میں ظاہر ہوا وہ جوابِ اوّل کے موافق ہے اور اس کی حقیقت کے کشف کا بیان ہے۔اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ هَدٰنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِىَ لَوۡلَاۤ اَنۡ هَدٰنَا اللّٰهُ‌ ‌ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ‌ (اعراف 7 آیت 43)(تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے ہم کو اس کی ہدایت دی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے اگر وہ ہم کوہدایت نہ دیتا ۔ بیشک ہمارے رب رسول حق بات لائے ہیں)۔

اس سے زیادہ (لکھنے کے لئے) وقت میں گنجائش نہیں: وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَعَلیٰ سَائِرِ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی وَالْتَزَمَ مُتَابَعَۃَ الْمُصْطَفٰی وَعَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ مِنَ الصَّلوَاتِ اَفْضَلِھَا وَمِنَ التَّسْلِیمَاتِ اَکْمَلِھِا(اور سلام ہو آپ پر اور ان سب پر جنہوں نے ہدایت کی پیروی کی اور حضرت محمد مصطفےٰ علیہ وعلیٰ آلہ من الصلوات افضلہا ومن التسلیمات اکملہا کی متابعت کو اپنے اوپر لازم جانا)۔


کچھ باتیں تجربے سے سامنے میں آتی ہیں۔ کچھ باتیں کشفیات کے ضمن میں آتی ہیں، جو ظنیات کے درجے میں ہوتے ہیں۔ اور کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں قرآن اور سنت میں تحقیق سے معلوم ہوتی ہیں۔

ظاہر ہے قرآن کی حفاظت کا وعدہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ بھی محفوظ ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں، اگر ان کے ساتھ تمسک کرو گے، ان کے ساتھ اپنے آپ کو چمٹاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔

جو ظنیات ہیں، جو وجدانیات ہیں، جو کشفیات ہیں ان میں خطا کا احتمال بہت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں کو قرآن و سنت پر پیش کیا جاتا ہے اگر اس کے موافق ہو تو ٹھیک ہے ورنہ پھر رد ہے۔ قانون ہمارے مشائخ کا یہی ہے۔

ابھی جو بات چل رہی ہے اس میں بھی حضرت نے یہ بات فرمائی ہے کہ اسماء و صفات اس میں غور کرنے سے بعض دفعہ احوال و مواجید کا ظہور ہوتا ہے۔ اور اللہ جل شانہ کی ذات میں گم ہو جانا یہ ظاہر ہے ان تمام چیزوں سے انسان ورے ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے، اس وجہ سے اس میں کوئی تمثیل نہیں ہے، تو حیرت پر اس کا انجام ہوتا ہے انسان اپنے آپ کو حیرت میں مبتلا پاتا ہے۔ اور حیرت یقیناً، بے انتہا چیز کے بارے میں حیرت ہی ہوتی ہے۔ تو یہ بالکل چونکہ عام قاعدے کے مطابق ہے لہذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

اب حضرت نے جو اپنا طریقہ ہے نقشبندیہ سلسلے کا، اس میں جو عروج ہوتا ہے... عروج جو ہوتا ہے اس میں جو حقائق کے ذریعے سے سفر ہوتا ہے تو اس میں دو راستے ہیں۔ ایک حقیقتِ آدمی، حقیقتِ ابراہیمی، حقیقتِ موسوی، حقیقتِ عیسوی، حقیقتِ محمدی اس میں سیر ہے۔ اور دوسرا حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ، حقیقتِ کعبہ اسی میں سیر ہے۔

تو حضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ جو انبیاء کرام کے حقائق میں سیر ہے اس میں کشفیات کا غلبہ ہوتا ہے۔ اور آج کل کشف خطرے میں ہے۔ اس وجہ سے یہ جو دوسرا راستہ ہے حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ، حقیقتِ کعبہ، اس کے اندر خطرہ نہیں ہے اس راستے پہ جانا زیادہ مفید ہے۔

اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ اور حقیقتِ کعبہ، اس کا ہمارے ساتھ ہر وقت ایک تعلق ہوتا ہے۔ کیونکہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو حقیقتِ قرآن فائدہ دے گا، نماز پڑھیں گے تو حقیقتِ صلوٰۃ فائدہ دے گا، حج پہ جائیں گے یا نماز کے دوران بھی حقیقتِ کعبہ فائدہ دے گا۔ تو چونکہ یہ ہماری عبادات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں لہذا اس کا ہر وقت ہمیں فائدہ حاصل ہوتا رہے گا اور اس میں کشفیات کا بھی نہیں ہے۔

تو گویا کہ اسماء و صفات والا راستہ اور حقائقِ انبیاء والا راستہ اس میں چونکہ کشفیات و احوال و مواجید کا سامنا زیادہ ہوتا ہے لہذا اس کے بارے میں حضرت کی تحقیق یہ ہے کہ اس میں انسان زیادہ غور نہ کرے۔ لیکن اگر کوئی شیخِ کامل کے ساتھ ہو اور اپنے ہر حال کو ان کے اوپر پیش کرتا ہو اور اس میں پھر اپنی بات کو نہیں چلاتے ہو، تو پھر وہ محفوظ ہو گا کیونکہ جب بھی کبھی غلطی کرے گا تو شیخِ کامل اس کو بتا دے گا اور اس سے بچ جائے گا۔ اس لحاظ سے ایسی صورت میں ٹھیک ہے۔

جیسے ابھی اس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ حضرت نے ایک صاحب کی اصلاح فرمائی۔ یہاں پر ایک صاحب نے جو اپنے احوال کا اظہار کیا کہ فنا و محویت ان کو اس درجہ حاصل ہو گئی تھی کہ جس چیز پر بھی نظر پڑتا تھا تو اس کو وہ غائب نظر آتا تھا ۔ اور ان کو اس وجہ حضرت سے بھی استفادے کے لیے مشکل ہو گیا، انہوں نے کہا کہ:

”اور جب خود کو ملاحظہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو بھی نہیں پاتا، اور اگر کسی کے پاس جاتا ہوں تو اس کو بھی نہیں پاتا۔ اور خدائے عزوجل و علا بے نہایت ہے اس کی نہایت کو کسی نے نہیں پایا، مشائخ نے اس کو کمال سمجھ لیا ہے اگر تو وہ بھی اسی کو کمال سمجھتا ہے تو پھر میں طلبِ حق جل و علا کے لئے تیرے پاس کیوں آؤں، اور اگر کسی اور بات میں کمال سمجھتا ہے تو تحریر کر۔‘‘

تو گویا کہ وہ فانی کب ہوا تھا؟ جب اس کی اپنے اوپر نظر پڑی۔ فانی تو نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ فانی ہوتا تو اپنے اوپر نظر ہی نہ پڑتی۔ ایسی بات ہی نہ کرتا۔

تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی اپنے حال کو ناقص انداز میں سمجھ کر اس کو کامل سمجھ لیتا ہے، ایک بات۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کو دوسرا سمجھ لیتے ہیں۔ جیسے دور سے ایک چیز نظر آ رہی ہو تو مثال کے طور پر میں اس کو پتھر سمجھوں، پتھر نہ ہو بادل ہو۔ یا بادل سمجھوں، وہ پتھر ہو یا کوئی درخت ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ مطلب دور سے انسان کو غلطی کا گمان ہو سکتا ہے، تو جو ظنیات ہے اس میں تو یہ چیزیں چلتی ہیں۔

تو اس کے بارے میں حضرت نے تحقیق فرمائی کہ انسان کے ایک نفس ہے اور چار عناصر ہیں۔ آب و باد، خاک، نار۔ چار عناصر ہیں۔ ان کے اپنے اپنے خواص ہیں، طبیعتوں کے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تو ہوا چونکہ Transparent ہے اور Volatile ہے، تو اس وجہ سے اس میں فنا کی کیفیت ہوتی ہے۔ تو اس پہ دھوکا ہو جاتا ہے کہ شاید میں فنا ہو گیا ہوں، حالانکہ وہ فنا نہیں ہوتا اس کو اپنا جو اس عنصر کا جو ہے اثر ہے، یعنی ہوا کا، وہ مکشوف ہو چکا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں فانی ہو گیا ہوں۔

تو حضرت نے اس پر ارشاد فرمایا کہ ابھی تو آپ کو صرف چوتھائی حصے کا کشف ہوا ہے، یعنی چار عناصر ہے تو اس میں سے ایک کا ہوا ہے۔ ابھی تو اور باقی ہے۔ اور یہ ہوا والا ہے۔

اس طرح حضرت نے اپنے ایک اور دوست کے بارے میں فرمایا کہ ان کو بھی اس قسم کی بات تھی، ان کو بھی میں نے مطلع کر دیا کہ یہ تو ہوا ہے۔ فرمایا کہ:

جاننا چاہئے کہ عالمِ خلق جو عناصرِ اربعہ کا عالم ہے اور عالم ارواح کے درمیان قلب برزخ کے مانند ہے

قلب کا ایک حصہ عالَمِ خلق کی طرف ہے دیکھیں نا حضرت نے کیا فرمایا ہے؟ میرے خیال میں کسی اور موقع کے اوپر فرمایا تھا، کہ قلب کے اندر روح اور نفس گتھم گتھا ہوتے ہیں، فرمایا تھا نا؟ تو روح کیا ہے؟ عالمِ امر ہے۔ اور نفس؟ ( عالمِ خلق) ہاں تو اِن دونوں میں؟، ٹھیک ہے نا، برزخ ہے۔ یہ برزخ ہے۔ تو یہ

قلب برزخ کے مانند ہے اور وہ دونوں عالم کا رنگ رکھتا ہے۔ گویا قلب کا نصف حصہ عالَمِ خلق سے متعلق ہے اور دوسرا نصف حصہ عالمِ ارواح سے، روح سے۔ ۔ اور وہ دوسرا حصہ جس کو ہم نے عالمِ خلق سے متصف کیا ہے اگر اس (نصف حصہ کو) بھی نصف کریں... نصف حصے کو بھی نصف کر دیں، یعنی چار عناصر ہیں نا، نصف کو بھی نصف کر دیں، تو معاملہ عنصرِ ہَوَا کا ہو جائے گا۔

تو چونکہ یہ مقامِ قلب میں تھا اور مقامِ قلب کے اس نے صرف ایک ربع، وہ نصف حصے کا طے کیا تھا۔ ایک ربع طے کیا تھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید میں فانی ہو گیا ہوں۔ ابھی فانی کہاں ہوا ہے؟

پس قلب کے چوتھے حصہ سے مراد مقامِ ہَوَا ہے جو قلب کے ضمن میں ہے۔ لہٰذا جو کچھ آخر میں ظاہر ہوا وہ جوابِ اوّل کے موافق ہے

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ظاہر ہے اپنے کشفیات پر اور احوال و مواجید پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ان چیزوں کے لیے نہیں پیدا کیے گئے ہیں۔ ہمیں تو شریعت پر عمل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ شریعت پر عمل کرنے کے لیے۔ لہذا شریعت پر عمل جس چیز میں آسان ہے اور جس چیز کے ذریعے سے نصیب ہوتا ہے، وہی ذریعہ مقصود ہے۔ وہی ذریعہ مقصود ہے۔

سیر الی اللہ، اس پہ میں کافی عرصے سے بات کر رہا ہوں آج کل۔ تو سیر الی اللہ جو ہوتا ہے یہ اصل میں شریعت کی تیاری ہے۔ سیر الی اللہ جو ہے کیا ہے؟ شریعت کی تیاری ہے۔ کیونکہ سیر الی اللہ میں جو حائل چیزیں ہیں وہ تین ہیں۔ نفس حائل ہے، اور قلبِ سقیم حائل ہے، نفسِ امارہ حائل ہے، قلبِ سقیم حائل ہے، اور عقلِ ناقص حائل ہے دنیاوی۔ یہ تینوں چیزیں حائل ہیں۔ لہذا عقل کو عقلِ فہیم بنانا پڑے گا، قلب کو قلبِ سلیم بنانا پڑے گا، نفس کو نفسِ مطمئنہ بنانا پڑے گا۔ یہ تینوں چیزیں جب ہو جاتی ہیں تو شریعت پر عمل نصیب ہو جاتا ہے۔

کیونکہ دنیا کی محبت جب دل سے نکلتی ہے تو انسان کو راستہ نظر آتا ہے، ہدایت ملتی ہے۔ اور نفس جب مطمئن ہو جاتا ہے تو عمل کی توفیق ہو جاتی ہے۔ عمل کی توفیق ہو جاتی ہے۔ اور عقل جب سمجھدار ہو جائے تو پھر وہ صحیح راستہ دکھاتا ہے اور صحیح راستہ سمجھاتا ہے۔ تو ظاہر ہے عقل جب فہیم ہو جاتا ہے تو پھر اس کو شریعت میں کامیابی نظر آتی ہے اور شریعت کی سمجھ بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے "عوارف المعارف" میں جو فرمایا ہے وہ یہی تو فرمایا ہے کہ نفس قابو ہو، اور عقل فہیمِ سنت ہو اور قلب یہ پاک ہو، قلب پاک ہو دنیا کی محبت سے۔ دنیا کی محبت سے قلب پاک ہو، نفس قابو میں ہو، اور عقل فہیمِ سنت ہو، یعنی فہیمِ سنت ہو۔ سنت سمجھتا ہو۔

تو بس پھر اس کے بعد پھر شریعت پر عمل... کیونکہ سنت کیا ہے؟ شریعت ہے نا۔ سنت کیا ہے؟ شریعت ہے۔ ایک دفعہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے خط لکھا کہ حضرت میں تو بس اب سب کچھ چھوڑ گیا ہوں بس میں تو کہتا ہوں کہ سنت پر ہی عمل چاہیے بس سنت پر۔ شیخ کامل اسی کو کہتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ہاں بات تو یہی ہے لیکن سنت کو آپ کیا سمجھے؟ سنت کو آپ کیا سمجھے؟ فرمایا سنت کی جگہ شریعت کو رکھ دیں، شریعت سنت ہے۔ شریعت پر عمل کیا ہے؟ ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا لائے؟ شریعت۔ یہی بات ہے نا۔

تو بعض لوگ ناسمجھی کی وجہ سے صحیح بات کو بھی غلط طریقے سے کر لیتے ہیں۔ جیسے بعض حضرات اپنے آپ کو اہلِ حدیث کہتے ہیں۔ حالانکہ اہل سنت کہنا چاہیے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اہل سنت کہنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت پر عمل کا ہمیں مکلف کیا گیا ہے۔ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرا کیا؟ سنت۔ حدیث نہیں فرمایا۔ میں تم میں دو چیزیں چھوڑی... ایک قرآن اور دوسرا حدیث، یہ تو نہیں فرمایا نا۔ کیا فرمایا؟ سنت۔ سنت... حدیث سنت کی خبر ہے۔ سنت کی اطلاع ہے، یعنی سنت کا اس سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن اگر خبر میں کوئی نقص ہو، جیسے ضعیف حدیث ہوتا ہے یا... ظاہر ہے اس میں منقطع ہوتا ہے یا کوئی اور چیز ہو، حدیث تو وہ بھی ہوتی ہے۔ تو ظاہر ہے اس پہ عمل تو ہم نہیں کر سکتے۔ عمل تو کس چیز پہ ہم کریں گے؟ جو سنت ہے اس پہ، اور ظاہر ہے سنت کس چیز سے پتہ چلے گا؟ وہ جو صحیح حدیث ہے ان سے سنت کا پتہ چلے گا۔ لیکن غور کرنے سے، کیونکہ کئی صحیح احادیث شریف جو ہوں گی، اس سے جو مفہوم مجموعی آئے گا، اس سے کس چیز کا پتہ چلے گا کہ یہ سنت ہے۔ کیونکہ ہر ایک نے جس چیز کو جس انداز میں دیکھا اس طرح بیان کر دیا۔ اس طرح بیان کر دیا۔ تو اب اس کے بعد اس کا جو مجموعی تاثر...

تھوڑا سا میں اس کو ذرا Engineering point of view سے سمجھاؤں۔ ہم کسی Structure کا جب ڈرائنگ بناتے ہیں، کیسے بناتے ہیں؟ کیا چیزیں ہوتی ہیں اس میں؟ Views ہوتے ہیں۔ ایک Elevation ہوتا ہے، ایک Plan ہوتا ہے، ایک Side ہوتا ہے۔ تو Elevation, Side اور Plan یا Top view جو بھی ہے، ان کو ملا کے اس سے پھر Complete projection بنتی ہے، یہی بات ہے نا؟ تو اسی طریقے سے مختلف طرق سے جو احادیث شریفہ صحیح آتی ہیں اس سے سنت کا پتہ چلتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو ہم تو سنت پر عمل کر رہے ہیں۔ سنت پر عمل کر رہے ہیں۔ تو سنت جو بھی ہو گا وہ جیسے ہی احادیث شریفہ سے اس کا ہمیں پتہ چلے گا... اور سنت سمجھنے کے لیے فقیہ ہونا ضروری ہے۔

سنت سمجھنے کے لیے کیا ہے؟ فقیہ ہونا ضروری ہے۔ تو فقہاء کی بات درمیان میں آئے گی۔ لہذا جو کوئی درمیان سے فقہاء کو نکال رہے ہیں، وہ اصل میں سنت سے اپنے آپ کو کاٹ رہے ہیں۔ جو درمیان سے فقہاء کو نکال رہے ہیں، وہ اصل میں اپنے آپ کو سنت سے کاٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے فہمِ ناقص کو فہمِ کامل سمجھے ہوئے ہیں۔ آخر یہ بھی تو حدیث شریف ہی ہے نا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمانا چاہے تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرما لیتے ہیں۔ تو دین کی جس کو سمجھ ہے، جو فقہاء ہیں، وہ ہمارے لیے بنیاد ہیں ان تمام چیزوں کے سمجھنے کا۔

تو بہرحال بات صرف اتنی تھی جو آگے بڑھ گئی، وہ یہ ہے کہ شریعت پر اصل میں عمل ہے۔ اور شریعت کے لیے تیاری ہے۔ سیر الی اللہ جو ہے وہ کس چیز کے لیے ہے؟ شریعت کے لیے ہے۔ جس وقت سیر الی اللہ طے ہو جائے، اس کے بعد، تفصیلات ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ سیر فی اللہ شروع ہو جاتا ہے، اور سیر فی اللہ کیا ہوتا ہے؟ بعینہٖ یہی شریعت پر عمل ہے۔۔۔ بس۔۔۔ اس میں اور کچھ نہیں زیادہ۔ وہ جو ذرائع، جن کو ہم سیر الی اللہ کے ذرائع کہتے ہیں اس کی ضرورت پھر نہیں رہتی، کیونکہ سیر الی اللہ وہ تو اس کی تھی نا، وہ تو مکمل ہو گئی۔ وہ تو مکمل ہو گئی۔

بھئی ٹھیک ہے جی آپ لاہور آپ نے جانا تھا، بڑی خوبصورت گاڑی میں آپ بیٹھ گئے، اور اس کے ذریعے سے آپ لاہور پہنچ گئے ہیں۔ اور لاہور پہنچ کے اس سے لوگ کہتے ہیں بھئی لاہور ہے آ جاؤ نیچے، کہتے ہیں یہ گاڑی بڑی خوبصورت ہے میں تو نہیں نیچے اترتا۔ تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ بیوقوف تیرا گاڑی میں بیٹھنا مقصد تھا یا لاہور پہنچنا مقصد تھا؟ تو اگر لاہور پہنچنا مقصد تھا تو لاہور آ گیا نیچے اتر آؤ۔ اور اگر آپ کو گاڑی میں بیٹھنا مقصود ہے تو چلتے رہو۔ ٹھیک ہے نا؟

تو یہ جو سیر الی اللہ ہے جب مکمل ہو جائے، اس کے بعد سیر فی اللہ شروع ہو جاتا ہے، تو سیر فی اللہ یہی شریعت پر ہی عمل ہے۔ بلکہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے نقشِ قدم پر اب چل سکتے ہیں۔ سیر الی اللہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تھی۔ یعنی سیر الی اللہ میں آپ نے وہ رکاوٹیں دور کر لیں جو آپ کو صحابہ کے طرز پر چلنے میں روک رہی تھیں۔ اس سے روک رہی تھیں۔ سیر الی اللہ مکمل ہو گیا، اب آپ صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں، صحابہ کے... مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی پر عمل کریں۔

عمل تو یہی ہے، جس پر میں ہوں، جس پر میرے صحابہ ہیں۔ اب صحابہ کا کیا طریقہ تھا؟ بتاتا ہوں۔ کیا خیال ہے انہوں نے وہ مراقبے کیے تھے؟ یا انہوں نے ضربیں لگائی تھیں؟ ان کو ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ ان کو ضرورت ہی نہیں تھی، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ سب کچھ... ان کی... اس چیز کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس وجہ سے وہ کیا کرتے تھے؟ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ اسی میں ان کو سارا کچھ ملتا تھا۔ وہ ذکر اللہ کرتے تھے، تسبیح کرتے تھے۔ وہ اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ وہ دعائیں کرتے تھے۔ اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ وہ نوافل پڑھتے تھے اپنے طور پر، اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ قرب بالفرائض، قرب بالنوافل ہر وقت ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ قرب بالفرائض بھی صرف عبادات میں نہیں ہے، تمام چیزوں کے اندر ہے قرب بالفرائض۔ اور قرب بالنوافل بھی صرف عبادات میں نہیں ہے، تمام چیزوں میں ہے۔ لہذا قرب بالفرائض اور قرب بالنوافل کے ذریعے سے وہ ماشاء اللہ قرب کے سیڑھیاں چڑھتے جا رہے تھے۔

یہ تو عام طریقہ تھا، لیکن جب کبھی ان کو کوئی ضرورت پڑتی کسی مجاہدے کی تو بلا تکلف اس کو کر لیتے تھے۔ جیسے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ انہوں نے دیکھا کہ مجھے اثر ہو گیا ہے امیر المومنین کے طور پر ملاقاتیں ہوئیں، اثر ہوا، تو انہوں نے فورا اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ انہوں نے ایک مزدوری کا کام کر دیا بوری اٹھا کے... لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیوں؟ تو فرمایا کہ میں نے چونکہ امیر المومنین کی حیثیت سے وفود کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، تو اب نفس پہ اس کا اثر ہوا، لہذا میں اس کو ٹھیک کر رہا ہوں۔

تو نفس کا جو مجاہدہ ہے یہ بضرورت کامل کو بھی ہو سکتا ہے... پڑ سکتا ہے۔ کامل کو بھی ضرورت پڑ سکتا ہے، نفس کا مجاہدہ۔ اور اس طریقے سے دل پہ کوئی اثر آ جائے، آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قمیض کو اتار پھینکا تھا جو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا، کہ آپ نے تو میرے دل کو خراب کر دیا۔ تو قمیض کو اتار دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی قمیض اچھی نظر آئی تو اس کی آستینیں کاٹ دیں۔ ٹھیک ہے؟

ظاہر ہے تو یہ جو مجاہدہ ہے، گویا کہ نفس کی جو فہمائش ہے، یہ کاملین بھی کرتے ہیں۔ یہ کاملین بھی کرتے ہیں۔ میرے ساتھ خود ہوا ہے، ماشاء اللہ ہمارے حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ایک دن میں گیا ہوں، کیونکہ چونکہ میں الحمد للہ حضرت کے ساتھ بہت ہی بے تکلفی سے بات کرتا تھا حضرت کے حکم کے مطابق۔ تو لہذا ہر قسم کی بات میں حضرت کے ساتھ کر لیتا تھا۔ تو دیکھا کہ ایک وقت عصر کی نماز کا وقت تیزی سے جا رہا ہے اور حضرت کسی چیز کے ڈھونڈنے میں مشغول ہیں، اس پر بڑے غصہ ہے کہ وہ نہیں مل رہی تھی۔ تو میں نے کہا حضرت عصر کا وقت مکروہ ہو رہا ہے۔ عصر کا وقت مکروہ ہو رہا ہے، اس کا مطلب ہے جلدی آپ نماز پڑھ لیں۔ تو اس وقت چونکہ حالت ایسی تھی، طبیعت پہ اس چیز کا اثر تھا، تو فرمایا بڑے غصے سے کہ ہماری ساری زندگی مکروہ ہے۔ ہماری ساری زندگی مکروہ ہے۔

خیر نماز تو پڑھ لی لیکن تھے تو معذور، مفلوج تھے۔ لہذا نماز چونکہ گھر پہ پڑھتے تھے، مغرب کی نماز کے لیے روانہ ہوئے۔ کہتے ہیں چلو چلتے ہیں مسجد چلتے ہیں۔ میں نے کہا حضرت آپ تو... فرمایا نہیں، میں نے چونکہ ایسی بات کی تھی اب اس کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ میں نے چونکہ ایسی بات کی تھی اس کو پھر فرمایا کہ... ایک عربی کا لفظ استعمال کیا... جو مطلب پٹی ہوتی ہے نا، کسی زخم کو پٹی لگاتے ہیں۔ تو اس کا عربی میں... وہ کہتے ہیں کہ یہ اس کا کام دے گا۔ مطلب چونکہ نقصان اس سے ہوا ہے تو اس کو میں دور کرنا چاہتا ہوں۔ تو پھر حضرت ماشاء اللہ مسجد چلے گئے، باقاعدہ یعنی مجاہدہ کر کے چلے گئے اور مسجد میں ہم نے جماعت سے نماز پڑھ لی۔ ٹھیک ہے نا؟ اب چونکہ کامل تھے لہذا جیسے ہی حضرت کو احساس ہوا کہ یہ مسئلہ تو ہے، تو فورا جو ہے نا اپنا علاج کر دیا۔

تو جس وقت جس کی تکمیل ہو جاتی ہے، ان کو اپنے نفس، قلب اور عقل کا دھیان حاصل ہوتا ہے کہ کس Condition میں ہے۔ کیونکہ انہوں نے Reference دیکھا ہوتا ہے کہ اصل چیز کیا ہے۔ تو اصل چیز کے ساتھ ہمیشہ ان کی Comparison چلتی رہتی ہے۔ اگر کچھ گڑبڑ نظر آ جائے اس وقت وہ فورا اس گڑبڑ کی علاج کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ علاج وقتی ہوتا ہے۔ وہ علاجی چیز مقصود نہیں ہوتا بلکہ اتنی دیر کے لیے مقصود ہوتا ہے جس دیر کے لیے وہ چاہیے ہوتا ہے۔

ایک عجیب بات ہے۔ یا کریم۔ یہ سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ کی باتیں تو آج کل میں بہت کر رہا ہوں۔ کیا کریں آج کل بہت مسائل ہیں۔ چیزیں پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچی ہوئی ہیں۔ تو میں نے ایک نقشبندی شیخ کو اپنا جو نقشبندی طریقے کا خلاصہ وہ بھیجا اور ساتھ یہ بھی بھیجا۔ وہ جو سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ کا۔ تو میں نے کہا سیر فی اللہ میں پھر جو اعمالِ شریعت ہیں، اور تقرب بالفرائض، تقرب بالنوافل کی جو چیزیں ہیں، وہی کرنا پڑتا ہے اور کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ بس یہی ہوتا ہے۔

تو حضرت نے مجھے لکھا کہ ماشاء اللہ بہت خوب لکھا ہے لیکن اگر "عشرہ"... جو "لطائف" ہیں، اس کو بھی ساتھ کر لیتے تو بہت بہتر ہوتا۔ اب میرے ذہن پر اس کا بڑا بوجھ تھا۔ میں نے کہا کہ اگر میں عشرہ لطائف پہ جاؤں تو پھر دوبارہ سیر الی اللہ میں جانا پڑے گا۔ کہ سیر الی اللہ میں دوبارہ جانا پڑ گیا نا، وہی چیز دوبارہ میں کر رہا ہوں۔ حالانکہ مجھے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ملفوظ یاد ہے کہ حضرت کو کسی اپنے ساتھی نے کہا کہ حضرت نقشبندی سلسلے میں میں نے کچھ کام کیا ہے اور اس میں لطائف کبھی اس طرح چلتے ہیں اور یہ ہوتا ہے، وہ ساری تفصیلات بتا دیں۔ پھر پوچھا کہ حضرت کیا میں آپ کے طریقے پہ دوبارہ یہ تمام چیزیں کرلوں، یعنی جو آپ کا طریقہ ہے۔

تو حضرت نے فرمایا کہ اپنے طریقے میں آپ کو کیفیتِ احسان حاصل ہے؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا دوبارہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ دوبارہ کوئی کتاب، غالباً "چھوٹی کتاب" نام لے لیا جو مدرسوں میں پڑھتے ہیں، فرمایا اس کو دوبارہ پڑھنا چاہتے ہو؟ بس پڑھ لیا تو پڑھ لیا نا۔ پھر اس کے بعد دوبارہ کیا کرنا چاہتے ہو؟ تو مجھے یہ چیز چونکہ یاد تھی لہذا میری طبیعت پہ بوجھ تھا کہ میں حضرت کو کیسے سمجھاؤں۔ اتنے میں کسی کو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے بالکل ایک Complete پیغام بھیجا اور پیغام یہ بھیجا کہ یہ جو سیر الی اللہ میں جو چیزیں ہیں، یہ ذرائع ہیں۔ اگر کوئی اس کو مقصود بنا لے تو یہ تو بدعت کی طرف چلا جائے گا۔ اگر کوئی اس کو مقصود بنا لے تو یہ تو بدعت کی طرف چلا جائے گا۔ بات سمجھ آرہی ہے یا نہیں آرہی؟



درس جاری ہے ان شاءاللہ

کشف و وجدان کی حقیقت اور اتباعِ شریعت کی اہمیت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور