اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ،
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصَارٰى ۗ تِلْكَ اَمَانِـيُّـهُـمْ ۗ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (111) بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٝ لِلّـٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَـهٝٓ اَجْرُهٝ عِنْدَ رَبِّهٖ ۖ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (112)
اور یہ (یعنی یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ: ”جنت میں سوائے یہودیوں یا عیسائیوں کے کوئی بھی ہرگز داخل نہیں ہوگا۔“
یہ اصل یہودی کہتے ہیں کہ صرف یہودی جنت میں داخل ہوں گے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ صرف عیسائی جنت میں داخل ہوں گے، کوئی اور نہیں ہوگا۔ لیکن اللہ پاک نے ان سے کیا فرمایا؟
یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لے کر آؤ ﴿111﴾
مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ کہاں کہا گیا تمہیں؟ تورات میں نہیں کہا گیا، انجیل میں نہیں کہا گیا، قرآن میں نہیں کہا گیا، تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ کہ ہم Chosen people ہیں، صرف ہم ہی بخشے جائیں گے۔
تو یہ بات بالکل غلط ہے کہ انسان۔۔۔ وہ کہتے ہیں نہ ایک ہوتا ہے قانون کو ہاتھ میں لینا۔ تو یہ جرم ہے، قانون والے ان کو سزا دیں گے۔ اسی طریقے سے جو شریعت کو ہاتھ میں لیتے ہیں یا اللہ پاک کے اختیار -نعوذ باللہ من ذلک- اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، تو پھر اللہ پاک ان کے ساتھ کیا کریں گے؟ یہ بات بہت غلط ہے کہ انسان اپنے حد سے بڑھ جائے۔
تو یہاں پر بھی یہ حد سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بس صرف یہودی۔۔۔
ہم کہہ سکتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تو قرآن میں کہا گیا ہے۔ ہمارے تو قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ مسلمان ہی جنت میں جائیں گے، کوئی اور نہیں جائے گا۔ لیکن ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے وہ بھی اس وقت مسلمان تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے وہ بھی مسلمان تھے۔ جو ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے وہ بھی مسلمان تھے، نوح علیہ السلام پر ایمان لانے والے وہ بھی مسلمان تھے، اسلام ایک ہی چلا آ رہا ہے۔
اسلام میں فرق نہیں ہے۔ فرق صرف یہ بات ہے کہ جو لوگ اپنے اپنے نبی کی بات پر انہوں نے عمل نہیں کیا، تو ظاہر ہے وہ دین سے نکل گئے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ایک آئے گا۔۔۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جو ان کی کتابوں میں تھا یہ نشانیاں موجود تھیں، بتایا گیا تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے اور وہ مانتے تھے اس کو۔
حتیٰ کہ یہ ہندوؤں کی کتاب ہے نا، اس میں بھی۔۔۔ چونکہ یہ بھی تو وہ چلا آ رہا ہے، تو اس میں پتہ نہیں کس وقت گڑبڑ شروع ہوئی۔ تو ان کی کتاب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیاں موجود ہیں۔ کلکی اوتار۔ کلکی اوتار کی جو نشانیاں ہیں وہ آپ ﷺ پر Fit آتی ہیں۔
یعنی باقاعدہ ایک ہندو تھے بہت بڑے Scholar۔ اس نے اس پر مقالہ لکھا اور بڑے بڑے پنڈتوں کے پاس بھیج دیا کہ اس میں سے اگر کوئی میں نے غلطی کی ہو تو بتا دیں۔ ان میں سے کوئی بھی غلطی نکال نہیں سکا، کیونکہ ان کی کتاب میں موجود ہے۔ ساری چیزیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا تم جس کلکی اوتار کا وہ جو کر رہے ہو نہ انتظار، وہ تو آیا ہوا ہے، وہ تو مکہ مکرمہ میں آ چکا ہے۔ وہ تو آپ ﷺ تھے۔
یعنی نشانیاں باقاعدہ موجود تھیں، تو ان نشانیوں کی بنیاد پر ان کے لیے ان پر بھی ایمان لانا تھا۔ چونکہ ان پر ایمان نہیں لائے، بس کافر ہو گئے۔
ہمارا تو ایمان ہی آپ ﷺ پر ہے اور سارے پیغمبروں پر ہے۔ دیکھو ہمیں پہلے ہی سے کہا گیا ہے نا، قرآن پاک میں کہا گیا ہے:
الم ۞ ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ۞ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ۞ والَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ
جو آپ سے پہلے وحی اتاری گئی اس پر بھی ایمان۔ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ تو ہمارے لیے تو یہ کہا گیا، تو ہمارا تو سب پر ایمان ہے لہٰذا ہم تو سب کے ساتھ شامل ہیں۔ جتنے بھی اہل حق گزرے ہیں سب کے ساتھ ہم شامل ہیں۔ لہٰذا ہمارا معاملہ تو صاف ہے۔
ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ صرف ہم۔۔۔ ہم کہتے ہیں نہیں! موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے بھی جنتی ہیں، یہ نہیں کہ اس وقت کے یہودی۔ دیکھو اس میں فرق ہے۔ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے یہودی، جو اس وقت واقعی موسیٰ علیہ السلام کا اتباع کر رہے تھے، اور عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے عیسائی، جو اس وقت ان کا اتباع کر رہے تھے، اور اس وقت آپ ﷺ کی بعثت مبارک نہیں ہوئی تھی، وہ نشانیوں سے جانتے تھے کہ ایسا ہوگا، تو مسلمان تھے۔ تو اس وجہ سے وہ بھی جائیں گے۔
تو ہماری دونوں باتیں صحیح ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمان ہی جنت میں جائیں گے، کیونکہ وہ سارے مسلمان ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم بھی جائیں گے اور وہ جو باقی پیغمبروں پر ایمان لانے والے ہیں وہ بھی جائیں گے۔ ہم یہ بات کرتے ہیں لیکن اس کا انکار کرتے ہیں کہ اس وقت کے یہودی نہیں۔ مطلب اس وقت کے یہودی، یہودی وہ ہیں جو جنہوں نے آپ ﷺ سے انکار کیا ہے۔ اس وقت کے یہودی وہ ہیں۔ ہاں اس وقت کے یہودی اگر ایمان لے آئیں آپ ﷺ پر، پھر وہ ہماری طرح مسلمان ہوں گے۔ پھر ہم ان کو مسلمان ہی کہیں گے۔ پھر اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
کیونکہ ہمارا مذہب Racism پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا مذہب تو عقائد ہیں حق، جو عقائد حق ہیں ان کے اوپر ایمان لانے والے کو ہم مسلمان کہتے ہیں۔ تو لہٰذا جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے، گزشتہ پیغمبروں پر ایمان لائے، تو وہ سب کے سب مسلمان ہیں اور ہم مسلمان کہتے ہیں کہ مسلمان ہی جنت میں جائیں گے۔ اس وقت کے جو مسلمان ہیں وہ بھی، اس وقت کے مسلمان بھی۔
ہاں اس وقت کے یہودی چونکہ انکار کر چکے ہیں، اس وقت کے عیسائی چونکہ انکار کر چکے ہیں، اس وقت کے ہندو چونکہ انکار کر چکے ہیں، اس وقت کے تمام جو جو ہیں وہ انکار کرنے والے۔۔۔ لہٰذا وہ کافر ہیں یا جو شرک کرتے ہیں یا جو۔۔۔ تو اصل میں بات یہ ہے ہم لوگ یہی کہتے ہیں کہ اپنے اپنے پیغمبروں پر جو ایمان لا چکے تھے اپنے اپنے وقت میں وہ مسلمان تھے اور وہ سارے جنت میں جائیں گے۔
کیوں نہیں؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو شخص بھی اپنا رخ اللہ کے آگے جھکا دے، اور وہ نیک عمل کرنے والا ہو، اسے اپنا اجر اپنے پروردگار کے پاس ملے گا۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿112﴾
یہ اصل میں میں نے اس پر زیادہ بات اس لیے کی کہ اس قسم کی باتیں آج کل اٹھائی جا رہی ہیں۔ جیسے جاوید غامدی کہتا ہے کہ یہودی اور عیسائی یہ بھی جنت میں جا سکتے ہیں۔ آخر وہ ہے پٹھو ہی ان کا ہے نا، تو آخر انہوں نے تو ان کے لیے تو راستہ نکالنا ہے۔ ظاہر ہے یہی تو۔۔۔ اسی کے لیے تو وہ اس کو Produce کیا گیا ہے۔
تو یہ بات ہے کہ میں نے اس پر اس لیے تفصیلی بات کی کہ دیکھو فرق کیا ہے؟ اس وقت کے یہودیوں میں اور اس وقت کے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں، اس وقت کے عیسائیوں میں اور اس وقت کے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ اُن کو ہم مسلمان سمجھتے ہیں اور اِن کو ہم مسلمان اس لیے نہیں سمجھتے کہ یہ آخری پیغمبر کا انکار کر چکے ہیں۔ اگر یہ انکار سے باز آ جائیں اور آپ ﷺ پر ایمان لائیں تو پھر ہماری طرح مسلمان ہوں گے۔ پھر ہم ان کو کافر نہیں کہیں گے۔ بس یہی بنیادی فرق ہے۔
تو وہ جو ان آیات کو استعمال کر رہے ہیں نا اس انداز میں، تو وہ اس سے دوغلی بات کر کے وہ ان کے لیے ایمان لانے کی بات کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اِس وقت کے یہودیوں کے لیے نہیں ہے۔ اِس وقت یہودی جو ہے نا جس وقت آپ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے ایمان کی دعوت دی، اگر کسی نے، جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، وہ ایمان لائے، جیسے حاتم طائی کا بیٹا، عیسائی تھے وہ ایمان لائے۔ تو جو جو یہودی ایمان لاتے گئے مسلمان ہوتے گئے، جو عیسائی ایمان لاتے گئے مسلمان ہوتے گئے، کسی اور مذہب کے بھی جو آئے اور ایمان لائے تو مسلمان ہوتے گئے، تو شرط یہی ہے۔
وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ کسی پیغمبر کے پاس شیطان آیا اور بہت رویا کہ دیکھو ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دی گئی۔ اگر میرے لیے کوئی گنجائش ہو تو میں اس طرح کرنے کو تیار ہوں، اگر مجھے معاف کیا جائے۔ آپ ذرا اللہ پاک سے دعا کریں۔ تو پیغمبر تو ہوتے ہی دعوت کے لیے، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی یا اللہ یہ تو واپس آنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے کیا طریقہ ہوگا؟ اللہ پاک نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے۔ آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید کو جانتا ہے، تو اس نے کہا: یہ تو نہیں! اب اس کے ساتھ تو دشمنی تھی۔ تو پھر یہ بھی ایسے ہی ہے۔
تو اصل بات یہی ہے کہ اگر اب بھی یہ اپنی دشمنی ختم کرنا چاہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا چاہتے ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارے بھائی ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دشمن ہیں۔ چونکہ وہ ہمارے دشمن ہیں، ہم بھی ان کے دشمن ہیں۔ بھئی دشمن کے ساتھ کوئی دوستی کر سکتا ہے؟ ہم نے ان کے ساتھ دشمنی نہیں کی، انہوں نے ہمارے ساتھ دشمنی کی ہے۔ ہم تو دفاع کا جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے تو کبھی ان کے ساتھ دشمنی نہیں کی ہے، ہم تو ان کے دوست ہیں، ایمان لاؤ، ہم تو ان کو کہتے ہیں ایمان لے آؤ، آپ ہمارے ساتھی بن جاؤ۔ ہم نے تو کبھی ان کے ساتھ دشمنی نہیں کی ہے۔ اور وہ ہمیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایمان لاؤ، کس پر ایمان لائیں؟ ہم تو پہلے سے ان پر ایمان لا چکے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے، عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے، کس پر ایمان ہم نہیں لا چکے؟ ہم تو سارے پیغمبروں پر ایمان لا چکے ہیں، ہمیں کس چیز کی دعوت دے رہے ہیں؟ ہاں ہم ان کو دعوت دے سکتے ہیں، وہ یہی بات ہے کہ آخری پیغمبر پر ایمان نہیں لا چکے، لہٰذا ہم ان کو ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔
بس یہ بات ہے۔ اگر یہ چیزیں کسی کو معلوم ہوں ان شاء اللہ وہ کبھی بھی Confuse نہیں ہوگا، پریشان نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔