شانِ رحمت ﷺ اور عفو و درگزر کی اعلیٰ مثال

درس نمبر 49، جلد 1، باب 3: صبر کا بیان۔ (اشاعتِ اول)، 17 اگست، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

انبیاء کرام علیہم السلام کا صبر و استقامت

مذکورہ نبی کی تعیین اور غزوہ احد کا حوالہ

   شفقتِ نبوی ﷺ اور دعائے مغفرت

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


نبی کا بے انتہا صبر

وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَأَنِّى اَنْظُرُ اِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَحْكِيْ نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَ سَلَامُہٗ عَلَيْهِمْ ضَرَبَهٗ قَوْمُهٗ فَاَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهٖ وَ هُوَ يَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے ایک پیغمبر کے بارے میں فرما رہے تھے کہ اس کو قوم نے اس قدر مارا کہ اس کو لہولہان کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا اے اللہ میری قوم کو معاف فرما یہ جانتے نہیں ہیں۔"

یہاں پر جس نبی کا ذکر ہوا ہے اس سے کون نبی مراد ہے؟

تو اس کے بارے میں مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اور عبید بن عمرو الھیثمی رحمۃ اللہ علیہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نوح علیہ السلام ہے۔ مگر اکثر محدثین رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا ہے۔

کیونکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا۔ اگر مراد نوح علیہ السلام ہیں تو ان کی قوم بھی ان کو بہت مارتی تھی جس سے ان کے چہرے کا خون نکلتا تھا۔ اور اگر مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس سے مراد اکثر محدثین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غزوہ احد کا دن ہے، جس دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود گھس گئی، جس سے خون نکلا اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک بھی ٹوٹا تھا۔

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ کس نبی کی دعا ہے؟

ابتداء میں نوح علیہ السلام دعا کرتے رہے اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ کے ساتھ مگر جب آخر میں اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ ان چند لوگوں کے علاوہ جو آپ پر ایمان لا چکے ہیں کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو اس کے بعد آپ علیہ السلام نے ان کو لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ کے ذریعہ سے بد دعا دی۔

اس واقعہ سے دین کا کام کرنے والوں کے لئے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ داعیانِ تبلیغ کو جب تبلیغ و دعوت کی راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ انتقام کے جذبہ کے بجائے عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے ان لوگوں کے بارے میں معافی اور ہدایت کی دعا بھی کرتے رہنا چاہئے۔

أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ: كِتَابُ الْأَنْبِيَاءِ (بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكِتَابُ الْمُرْتَدِّينَ)، مُسْلِمٌ: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ)، رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهٖ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَابْنُ حِبَّانَ 6576.

اللہ جل شانہ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں، اور ہر قسم کے غلط کام سے غلط بیانی سے غلط سوچ سے غلط فکر سے ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


شانِ رحمت ﷺ اور عفو و درگزر کی اعلیٰ مثال - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور