اب... دفتر اول حکایت نمبر سترہ (17) شروع ہو رہا ہے۔
مرد عارف کی مثال اور اس آیت کی تفسیر
﴿اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا﴾ (الزمر: 42)
"اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے"
ہاں جی یہ ہے، اچھا۔ سبحان اللہ کیسی کیسی باتیں حضرت نکالتے ہیں اس سے۔
بے خودی کو نیند نے جب ظاہر کیا
حالِ عارف اس سے ظاہر کر دیا
یعنی جو بے خودی انسان... جب انسان اپنے خود سے نکل جاتا ہے نیند میں، اپنے آپ پہ نہیں رہتا۔ اس کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ تو فرمایا کہ عارف کا حال بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو بس اس طرح چھوڑ دیتا ہے کہ جو ہو رہا ہے اللہ کی طرف سے وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔
عارف کے حال کا کچھ نمونہ (خدا نے حسیات کے ذریعہ سے) ظاہر کر دیا ہے۔ چنانچہ مخلوق کو بھی یہ نیند عارض ہوئی جو ظاہری ہے (سکر و بیخودی مراد نہیں)۔
عنوانِ بالا میں اس آیت کا اقتباس درج ہے۔
﴿اَللّٰـهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِـهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضٰى عَلَيْـهَا الْمَوْتَ وَيُـرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ﴾ (الزمر: 42)
یعنی ”اللہ ہی موت کے وقت روحوں کو قبض کر لیتا ہے اور جو مرتے نہیں۔ ان کی روحوں کو خواب میں قبضے میں کر لیتا ہے۔ پھر جن پر موت کا حکم ہو چکتا ہے تو ان روک رکھتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے۔ ایک مقررہ وقت تک بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔“
حدیث میں آیا ہے کہ "اَلنَّوْمُ اَخُو الْمَوْتِ" (بیہقی) یعنی ”نیند موت کی بہن ہے“
یعنی موت اور نیند دونوں صورتوں میں ذی روح کے جسم سے اس کی جان نکل جاتی ہے۔ پھر جس پر موت کا حکم صادر ہو چکتا ہے اس کی روح تو واپس جسم میں آتی نہیں اور جس پر نیند طاری کی جاتی ہے اس کی جان واپس بدن میں ڈال دی جاتی ہے۔ تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ ہر شخص کے دو نفس ہیں ایک نفسِ حیات جو موت کے وقت جسم سے نکل جاتا ہے دوسرا نفسِ تمیز جو خواب کے وقت بدن سے نکلتا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ابنِ آدم میں ایک نفس ہوتا ہے اور ایک روح۔ ان دونوں کے درمیان شعاعِ شمس کی طرح شعاع ہوتی ہے۔ نفس میں عقل و تمیز ہوتی ہے اور روح میں تنفس اور تحرک ہوتا ہے۔ جب بندہ سوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نفس کو قبض کر لیتا ہے، روح کو قبض نہیں کرتا۔
یعنی وہ اپنے ارادہ نہیں ہوتا نفس کا... خواہشات اور نفس کے ارادے وہ تو نہیں ہوتے نا مطلب وہ تو چلے جاتے ہیں، روح البتہ ہوتا ہے۔
سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ خواب میں زندوں اور مردوں کی ارواح باہم ملتی ہیں۔ پس جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے باہم ملاقات و تعاون کرتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس روح کو روک رکھتا ہے جس پر موت صادر ہو چکی ہے اور دوسری کو اس کے جسم میں واپس بھیج دیتا ہے۔
کلیدِ مثنوی میں لکھا ہے کہ اہلِ کشف کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو جسم عطا فرمائے ہیں۔ ایک جسمِ عنصری کہ دنیا میں رہتا ہے اور آخرت میں محشور ہو گا۔ اور اسی پر ثواب و عذاب کا اثر ہو گا۔ دوسرا جسمِ مثالی کہ عالمِ مثال میں موجود ہے اور خواب میں نظر آتا ہے۔ اور روحِ حقیقی جو ایک امرِ ربی ہے، دونوں جسموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس سے روحِ طبی مراد نہیں، اس کا تعلق صرف جسمِ عنصری سے ہے۔ پس روح کے بدن سے نکلنے اور عالمِ مثال میں جانے سے مراد یہ ہے کہ جسمِ عنصری سے اس کا تعلق ضعیف ہو کر جسمِ مثالی سے تعلق بڑھ جاتا ہے۔ اور عالمِ مثال سے بدن میں آنے سے مراد یہ ہے کہ جسمِ مثالی سے تعلق کم ہو کر جسمِ عنصری کے ساتھ زیادہ ہو جاتا ہے۔
یعنی یہ بات ہے خواب کا مطلب یہی ہے۔
اچھا جسمِ مثالی عجیب چیز ہے۔ اس کی میں آپ کو ایک فضول مثال دیتا ہوں... فضول مثال میں اس لیے کہتا ہوں کہ سب لوگ اس کو جانتے ہیں لیکن ہے فضول ہی۔ مثلاً Television پر کوئی شخص تقریر کرتا ہے۔ تو جتنے Television Sets ہیں اس وقت جس نے وہ On کیا ہوگا تو وہاں ہر جگہ اس کی وہ تصویر ویسی ہی نظر آئے گی۔ تو کیا وہ اتنے لوگ ہیں؟ وہ لوگ اتنے نہیں ہیں... مطلب وہ تو ایک ہی ہے جو وہاں Station پہ بیٹھا ہوا ہے لیکن ہر TV میں جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ نظر آ رہا ہے۔ وہ چاہے جتنے بھی ہوں۔ تو یہ جسمِ مثالی کی مثال ہے کہ کئی بھی ہو سکتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کیونکہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ... تو اس وجہ سے مطلب یہ کئی لوگوں کے ساتھ مل سکتا ہے آدمی خواب میں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جو ہے نا وہ مختلف لوگوں کے ساتھ وہ ہوتا ہے۔
تو جسمِ مثالی جو ہے مطلب یہ ہے کہ وہ کئی لوگوں... مثال کے طور پر مجھے لوگ کہتے ہیں جی آپ کو ہم نے خواب میں دیکھا اور... اور آپ نے یہ بتا دیا۔ اور کوئی اور آدمی اسی وقت بھی دیکھ رہا ہوتا ہے وہ کہتا ہے آپ نے مجھے یہ بات بتائی۔ مجھے نہ اس کا پتہ نہ اس کا پتہ۔ تو وہ کیا چیز ہے؟ وہ جسمِ مثالی ہے۔ جو بھی دیکھ رہا ہے اس کے لیے اللہ پاک ذریعہ بنا رہے ہیں بس۔ اللہ پاک ذریعہ بنا رہے ہیں اس کو بھی...
وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا مثال میں دیتا ہوں مزید، اب یہ صحیح مثال ہے وہ تو فضول مثال تھی نا۔ اچھا... وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔ کہ ایک ہمارے ایک دوست تھے، (حضرت اپنے مریدوں کو دوست کہا کرتے تھے)۔ ہمارے ایک دوست تھے، وہ مختلف... بہت زیادہ دور یعنی کسی جگہ پہ تھے۔ جس بازار میں اس کا دکان تھا وہاں آگ لگ گئی۔ اور آگ اس کے دکان کے قریب آگئی۔ وہ فکر مند تھے کہ میں کیا کروں۔
یہ (واقعہ) اس نے خط میں لکھا۔ کہتے ہیں کہ اچانک آپ تشریف لائے اور آپ نے کہا کہ اپنا سامان جو قیمتی سامان ہے اس کو ایک صندوق میں ڈالو۔ یا بیگ یا جو بھی تھا۔ تو اس میں ڈالو۔ کہتے ہیں کچھ آپ نے ڈالا کچھ میں نے ڈالا۔ جب صندوق بھر گیا تو ایک طرف سے آپ نے پکڑا ایک طرف سے میں نے پکڑا اور اس کو ہم محفوظ مقام پہ لے جانے لگے۔ جس وقت محفوظ مقام پہ پہنچ گئے اور ہم نے وہ رکھ لیا، تو سامنے دیکھا تو پھر آپ نہیں تھے۔
تو یہ کیا بات تھی؟
تو اس پر حضرت نے فرمایا کہ مجھے تو پتہ نہیں کیونکہ ظاہر ہے میں تو نہیں تھا اگر... ممکن ہے کوئی فرشتہ میری صورت میں آیا ہو اور میری صورت اس نے مطلب جو ہے نا اختیار کی ہے۔ اگر کوئی اور ہوتا تو آپ اس کو ڈاکو سمجھ لیتے۔ تو کام نہ ہوتا۔ تو چونکہ میں تو... اور آپ سے یہ خیال چھین لیا کہ آپ اس کے بارے میں سوچ بھی سکتے ہیں کہ بھئی یہ کیسے آ سکتا ہے اتنی دور؟ یعنی اس طرف آپ کا ذہن ہی نہیں گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے سلسلے کے ذریعے سے۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا مطلب آپ کو فائدہ ہوا اور بس آپ کا کام بن گیا۔
اس طرح کئی واقعات ہوئے ہیں۔ مجھے بھی کسی نے اس طرح کہا میں نے کہا بھئی مجھے... بھئی میں... مجھے تو یہ... وہ ایک عامل تھے۔ اس نے مجھے یہ بتایا۔ وہ عامل تھے وہ کہتے ہیں میرے استاد... جو عامل استاد تھے، وہ اس نے مجھے کہا جی فلاں جگہ جاؤ وہ اپنا چلہ شروع کر لو وہ... وہ دائرہ کھینچ دیتے ہیں نا... تو اپنا وہ عمل شروع کر لو میں پہنچ جاؤں گا۔ کہتے ہیں میں پہنچ گیا اپنی جگہ پہ اور دائرہ لگا دیا میں نے عمل شروع کر دیا استاد جی Rush میں پھنس گئے۔ راستے میں ظاہر ہے وہ Traffic Rush میں پھنس گئے تو لیٹ پہنچے۔
اب ادھر جا کر یہ چلے والوں کے ساتھ تو کمالات ہوتے ہیں نا۔ وہ چیزوں نے شکلیں وکلیں بنانی شروع کر دیں۔ مختلف طریقے سے۔ کہتے ہیں میں ڈر گیا اور قریب تھا کہ میں دائرے سے نکل جاتا۔ اور وہ یہی تو چاہتے ہیں۔ کہ دائرے سے نکل گیا تو بس پھر تو پکڑ لیتے ہیں۔ تو میں قریب تھا کہ دائرے سے نکل جاتا کہ اتنے میں دیوار سامنے شق ہو گئی اور آپ اس میں باہر آگئے، کہتے: "خبردار جو دائرے سے نکلے! بیٹھ جاؤ۔" کہتے مجھے ہمت ہوئی کہ بھئی چ... بس ٹھیک ہے حضرت ہمارے ساتھ ہیں۔ تو میں بیٹھ گیا اور اتنی تھوڑی دیر کے بعد استاد جی بھی آگئے۔ تو کام بن گیا۔ میں نے کہا بھئی مجھے تو پتہ نہیں نا میں عملیات والا ہوں نہ میں ان چیزوں کو جانتا ہوں۔ عین ممکن ہے بھئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو... چونکہ بچانا تھا سلسلے کی برکت سے تو اس قسم کی صورتحال پیدا کر دی۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ مطلب عالمِ مثال کی طرح چیزیں ہوتی ہیں، اس وجہ سے ہم لوگ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہاں، یہ اس سے اللہ پاک کام لیتے۔
غرض خواب کے اندر جسم سے روح نکلتی ہو یا نفس اور اس کی سیر و حرکت مجردًا ہو یا بہ تعلقِ جسمِ مثالی، بہر کیف یہ حالت موت کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے۔ ﴿ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ﴾ (الزمر: 42) یعنی کیفیتِ خواب میں غور کرنے سے والوں کے لیے بہت کچھ عبرت و استبصار کا سامان ہے تاکہ وہ اس پر قیاس کر کے موت کو یاد کر کے رکھیں اور فکرِ عاقبت کریں۔
مولانا یہاں سے خواب کی کیفیت بیان فرماتے ہیں اور چونکہ یہ بیان آیت کے مضمون کے مطابق ہے اس لیے اس بیان کو آیت کی تفسیر کہہ دیا اور یہ تمام بیان عارف کے حال کی تمثیل ہے یعنی جو حالتِ خواب والے کی ہوتی ہے وہی عارف کی کہ اپنے آپے میں نہیں ہوتا۔
2
روح ایک بے کیف صحرا کو چلیروح بدن آرام میں ہوتے ہیں وہیں
(اس حسی خواب کی کیفیت یہ ہے کہ) ایک بے نظیر یا بے کیف بیابان میں ان کی روح جا نکلتی ہے ان کی روح اور ان کے بدن (دونوں) آرام میں ہوتے ہیں۔
3
حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ
نفس والی بات نہیں ہوتی نا۔
حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے یہ
چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سے
مطلب یہ ہے کہ نفس جو ہے نا مطلب کوئی چونکہ وہ اس کو قبض کر لیتے ہیں تو یہ اپنے جال سے نکل جاتا ہے یہ...
اس پر بات مجھے یاد آگئی حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روح جو تھا نا یہ عاشق تھا اللہ کا۔ اور جب اس کو جسم میں بھیج دیا گیا تو نفس نے اس کو جکڑ لیا۔ اب اس سے نفس کام کرواتا ہے، نفس کے لیے وہ استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ نفس سے اگر... مطلب یہ چونکہ بالکل اس میں وہ ختم ہو گیا مطلب مدغم ہو گیا، تو وہ بھول گیا کہ میں بھی اللہ کا عاشق تھا۔ وہ نفس کے مان کے چلتا ہے۔
فرمایا کہ یہ جو جذب کی کیفیت ہے، ذکر اذکار، مراقبات، اس سے روح کو پتہ چلتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا۔ تو اس کو جب اس کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق تھا تو پھر وہ آزادی چاہتا ہے اس سے نفس سے آزادی چاہتا ہے۔ لیکن نفس اس کو چھوڑتا نہیں ہے۔
اس سے چھڑانے کے لیے آپ کو اس کی Help کرنی پڑے گی۔ اور وہ ہے سیر اللہ، خواہشات ہیں۔ اب یہ جو انسان کے نفس کے جو خواہشات ہیں مختلف، تو یہ جو ہے نا مطلب گویا کہ اگر آپ اس کو ایک ایک کر کے بند کرنا شروع کر لیں۔
مثلاً یہ کہ اپنے نفس... اب... جو ہے نا وہ اب جیسے میں اکثر غضِ بصر کا جو ہے نا مجاہدہ دیا کرتا ہوں۔ کہ آپ کسی ایک بند جگہ پہ بیٹھ کر وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ پانچ منٹ نیچے دیکھیں۔ بالکل کچھ نہ کریں بس صرف نیچے دیکھیں۔ پھر اگلے دن چھ منٹ، پھر اگلے دن سات منٹ، اگلے دن آٹھ منٹ۔ اس طرح آپ بڑھاتے جائیں، پچیس منٹ تک آپ اس کو پہنچا دیں یعنی بیس دن میں۔
پھر باہر آ کر اس کے... اس مجاہدے کا جو ثمر ہے، باہر آپ پانچ منٹ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نیچے دیکھیں۔ اوپر نہ دیکھیں۔ تو چونکہ آپ نے اندر کچھ حاصل کیا ہے مجاہدے کی وجہ سے تو نفس کچھ کنٹرول ہو گیا ہے۔ تو وہ تنہائی میں کنٹرول ہو گیا تھا نا۔ اب باہر کے کنٹرول کے لیے اس کو زیادہ محنت کرنی پڑے گی لیکن پانچ منٹ تو کر ہی سکے گا۔ تو پانچ منٹ سے آپ Start کر لیں۔ تو پانچ منٹ آپ نیچے دیکھیں، اگلے دن چھ منٹ، اگلے دن سات منٹ، اگلے دن آٹھ... اس طرح بڑھاتے بڑھاتے پچیس منٹ کر لیں۔ ماشاءاللہ آپ کو اب لوگوں کے درمیان رہ کر نیچے دیکھنے کا اتنا ماشاءاللہ ہو گیا، تو اس کو گویا کہ اتنا نفس کنٹرول ہو گیا۔
اس طرح کان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح زبان کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح دماغ کا مجاہدہ ہو گا، اس طرح مطلب ہاتھ پاؤں کا... اب یہ جو مجاہدات آپ ایک ایک کر کے، تو یہ اصل میں نفس سے چھڑانے والی چیزیں ہیں روح کو۔ کہ روح جو ہے نا مطلب آپ اس کو آزاد کر رہے ہیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ اس میں جو مقامات ہیں، مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا... یہ تمام مقامات یہ کیا ہیں؟ یہ نفس کے خلاف مجاہدات ہیں جس کے ذریعے سے آپ رذائل کو دبا رہے ہیں اور آپ مقامات حاصل کر رہے ہیں۔
تو یہ جب سارے حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا نفس روح سے آزاد ہو گیا۔ اس کو ہم کہتے ہیں سیرِ اللہ۔ سیرِ اللہ۔ اب جب یہ نفس سے آزاد ہو گیا تو روح جو ہے نا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے، وہ ملائے اعلی کے ساتھ مل جائے گا، نتیجتاً... نتیجتاً دو لطائف کھل جائیں گے، ایک لطیفہ روح ایک لطیفہ سر۔ اور ماشاءاللہ ملائے اعلی سے اس کو یہ مشاہدات شروع ہو جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہ جو ہے نا مطلب مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا Thesis ہے۔ یہاں پر میں کہتا ہوں یہ اب... "حرص سے فارغ وہاں ہوتی ہے"، وہ تو انسان مجاہدے سے کرتا ہے، یہاں پر روز اس کے ساتھ ہوتا ہے خواب میں۔ یعنی خواب میں آزاد ہو جاتا ہے۔ خواب میں روح جو ہوتا ہے نفس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ لہذا روح جو ہے نا مطلب آزاد پھرتی ہے۔
چھوٹ پرندہ جائے جیسے جال سے
ترکِ روز نے جب سنہری ڈھال سے رات کا ہندو کاٹ دیا تلوار سے
آخر جب دن کے سپاہی نے (سورج کی) سنہری ڈھال لگا کر رات کے ہندو کا سر تلوار سے کاٹ گرایا (یعنی دن چڑھا) تو:
5
روح کا میلاں تن کے جانب ہوگیاسویا تھا جو وہ بیدار اب ہوگیا
تو ہر جان کا میلان بدن کی طرف ہو جاتا ہے (اور) ہر بدن روح سے بار دار ہو جاتا ہے۔
6
پھر شکاری جیسے جال بچھائے توروح کو تکلیف دہ جال میں پھر لائے تو
اب دوبارہ پھر نفس کے شکاری نے جال بچھایا روح کے لیے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو روح کو پھر دوبارہ تکلیف دہ جال میں لایا ہے۔
روح کا تصرّف تمام قوائے و حواسِ بدنیہ میں بحالتِ بیداری ہوتا ہے۔ پھر جب نیند آ جاتی ہے تو یہ تصرّف جاتا رہتا ہے اور تمام قوٰی معطل و بے کار ہو کر آرام کرتے رہتے ہیں۔ پس بیداری کی حالت ان قوٰی کے لیے ایک طوفانِ مشقت یا تکلیف دہ جال ہے یا تو اس لحاظ سے کہ ان کو اس حالت میں روح کی خدمت گزاری کرنی پڑتی ہے یا اس جہت سے کہ اس وقت وہ طبعًا امورِ رذیلہ و سفلیہ میں تصرفات کرنے یا بالفاظ دیگر اکتسابِ گناہ پر مجبور ہوتے ہیں۔ غرض خواب اور سکر و بے خودی ایک امن و راحت کی حالت ہے بمقابلہ بیداری و صحو کے۔
مجھے اب بتائیں جب کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کو Injection دیا جاتا ہے نا نیند کا۔ کیوں؟ بس اس سے آزاد ہو جا... اس کو نیند میں تو پتہ نہیں ہوتا نا کہ مجھے بیماری ہے یا... مطلب ہے کہ درد ہے یا کوئی اس طرح۔ وہ نیند، تو اس کو آرام مل جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات ہے۔
سر پہ آئے جیسے نور صبحدماور سنہری گدھ اڑے پھر دم بدم
جونہی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے (اور) سنہری گدھ اڑنے لگتی ہے (یعنی سورج طلوع ہوتا ہے)۔
8
نیند سے سب کو جگاتا ہے تو پھرصور اسرافیل دکھاتا ہے تو پھر
(تو خداوند تعالیٰ جو) صبح کو پیدا کرنے والا ہے، اسرافیل کی طرح سب کو اس (عالمِ مثال کی بیچوں) ولایت سے (عالمِ) صورت میں لاتا ہے۔ (یعنی عالمِ اجسام میں)۔
یہاں اسرافیل کے دوبارہ صور پھونکنے کی تشبیہ مقصود ہے، یعنی صبح کو سب کے سب لوگ جو پہلے نیند میں مردہ اور بے حرکت تھے اس طرح بیدار ہو جاتے ہیں جس طرح اسرافیل کے دوبارہ صور پھونکنے سے مردے زندہ ہو جائیں گے۔ سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔
دو دن یا تین دن کچھ اس طرح میرے خیال میں میری Life میں گزرے جس میں مجھے پوری رات نیند نہیں آئی تھی۔ تو اس وقت جب میں... نیند تو مجھے نہیں آئی تھی تو میں نماز کے لیے جب آ رہا تھا صبح کے وقت، تو جو... جو لوگ سو کے اٹھے تھے نا اور آ رہے تھے مسجد میں نماز کے لیے، تو ان کے چہرے پہ بڑا سکون تھا۔ اور میں اس پہ رشک کر رہا تھا میں نے دیکھا یہ سو کے آئے ہوئے۔ مطلب اس نیند کی ہمیں قدر نہیں ہوتی نا جو روزانہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے اور واقعی جس کو نیند نہیں آتی وہ کتنا پریشان ہوتا ہے۔ وہ بیچارہ تو یعنی…
مجھے خود ایک، کچھ ساتھی اس طرح تھے جن کو یہ شور مشینوں کا، کچھ زیادہ مشینوں کے شور میں کام کرنا پڑا تو ان کا دماغ متاثر ہو گیا اور نیند پھر ان کو نہیں آتی تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم جب نیند کی گولی کھا لیتے ہیں نا تو تھوڑا سا غنودگی جو آ جاتی ہے ہم کہتے ہیں یہ غنودگی بڑھ جائے اور مطلب ہے نیند کی طرف چلے گئے لیکن پھر وہ نہیں جاتی۔ تو بس وہی چیز ہم اس سے لے لیتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز مفت میں اللہ پاک روزانہ دیتے ہیں ہم لوگوں کو۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ کیا کہتے ہیں Insomnia؟ Insomnia۔ کتنا Problematic چیز ہے مطلب جو ہے نا انسان۔ صحیح بات ہے وہ بہت پریشانی والی بات ہوتی ہے۔
تو یہ یہاں تک کہ بعض لوگ خودکشی کر لیتے ہیں مطلب... یعنی یہ اس میں بہت مشکل زندگی ہوتی ہے۔
یہ Michael Jackson جو تھا، اس کو نیند نہیں آتی تھی۔ تو یہ اپنے آپ کو نیند کے Injection لگواتا تھا۔ تو اس کی موت جو ہوئی تھی وہ زیادہ مقدار Drugs وہ لینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ جب سوتا تھا تو ان کی آنکھیں کھلی ہوتی تھی، یعنی مطلب یہ کہ ان کی آنکھیں بند نہیں ہوتی تھی۔ وہ کیونکہ وہ صرف ان کا ایک جسم سن ہو جاتا تھا نا بس اس کو وہ نیند کہتا تھا۔ باقی جو ہے نا مطلب وہ یعنی اس کی آنکھیں کھلی ہوتی تھی۔ تو بہت High Level کا Drug۔
اب لوگ سمجھتے تھے یعنی وہ... وہ اس نے کہا تھا نا کہ
"I am the most lonely person"۔ یعنی اتنے Fans تھے اس کے کہ جہاں بھی جاتا تھا ایک ہنگامہ ہوتا تھا مطلب پورا، وہ دنیا امڈ آتی تھی اس کے لیے۔ لیکن وہ کیا سمجھتا تھا؟ اپنے آپ کو تنہا سمجھتا تھا۔ کیوں؟ اس کے اوپر یہ حقیقت کھل گئی تھی کہ یہ لوگ تو صرف مجھے ایک گڑیا سمجھ رہے ہیں یا کھیل سمجھ رہے ہیں۔ اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے میرے پاس آئے ہیں، میرے لیے تو نہیں آئے۔ یہ بہت خطرناک سوچ ہے جس کو بھی مطلب وہ ہو جائے کہ جو مطلب لوگ سمجھتے ہیں بھئی کیونکہ دیکھو نا یہ جتنے بھی ہیں نا یہ Actors اور Actresses اور اس قسم کے جو لوگ ہوتے ہیں، یہ... یہ اخیر میں اس چیز کو سمجھ لیتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ہم ان کے گڈے ہیں۔ مطلب لوگوں کو کوئی بھی ان کے ساتھ دلچسپی نہیں ہوتی، اگر وہ چیز ان میں نہیں رہتی جو کہ اس میں ہے، تو کیا وہ پھر لوگ ان کا خیال رکھتے ہیں؟ ذرا بھر بھی نہیں۔
ان بیچاروں کی میں اکثر History پڑھتا ہوں، یہ بھی ایک عبرت کا سامان ہے نا۔ تو ان کی زندگی بہت عبرت والی ہوتی ہے، اخیر میں یہ بیچارے بالکل کسمپرسی میں مرتے ہیں اور کوئی ان کا خیال نہیں ہوتا۔ اور چونکہ عادی ہوتے ہیں اس Life کے تو پھر ان کو احساس بہت ہوتا ہے کہ یہ لوگ کتنے وہ ہیں یعنی خود غرض ہیں کہ جو ہے مطلب یعنی کہ ہمیں اس طرح مطلب ہے چھوڑ دیا۔ تو یہ سب مطلب ان کے وہ ہوتا ہے۔
تو یہ جو چکا چوند والی زندگی ہوتی ہے نا، یہ ہم لوگ سمجھتے ہیں یہ بڑے مزے میں ہیں لیکن صحیح بات ہے... وہ ایک تھے... میں نے ایک پڑھا تھا اس کا Life... تو وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ اس وقت چلا کہ مطلب کسی جگہ پہ ایک Function کرنے گئے تھے۔ تو کہتے ہیں اس نے اب حد کر دی ہمیں، ہمارے خیال رکھنے کی، مطلب یہ ہے کہ Beds اور سارا آرام کی چیزیں اور کھانے پینے میں اور ہم نے کہا اس نے ہماری بڑی قدر کی تو ہم اپنے آپ کو بڑے خوش قسمت سمجھ رہے تھے۔
کہتے ہیں صبح کا وقت تھا ہم Balcony میں کھڑے تھے، دیکھ رہے تھے اچھا پرفضا مقام تھا۔ تو کہتے ہیں یہ آ رہے تھے ہمیں اس نے نہیں دیکھا تھا ہم اوپر کھڑے ہیں۔ یہ کوئی چوہدری صاحب تھے نا جنہوں نے ہمیں بلایا تھا۔ تو وہ کھڑے تھے تو اپنے خادموں کو کہا: "کنجروں کو ناشتہ کرایا؟"
یہ سڈے مہمان ہیں۔ کہتے ہیں بس جب ہم نے سن لیا سارا مزہ کرکرا ہو گیا۔ تو اور کیا کہتے ہیں وہ؟ بات تو ٹھیک تھی۔
تو مطلب یہ ہے کہ وہ اگر کسی کا وہ بھی کرتے ہیں نا مطلب اکرام بھی کرتے ہیں تو وہ بھی کنجر سمجھ کے۔ تو یہی مطلب ان کے... اصل Value ہے۔ تو کہتے ہیں بس مجھے پتہ چل گیا کہ ہماری Value کیا ہے۔
تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ہوتی ہیں، اللہ پاک معاف فرمائے۔ اللہ پاک نے ہمیں بہت اچھی حالت میں رکھا ہے اس پہ بہت شکر کرنا چاہیے۔ میں ان فوٹوگرافروں کو دیکھتا ہوں، یہ میں کہتا ہوں دیکھو محنت یہ بھی کر رہے ہیں لیکن حرام کام پہ محنت کر رہے ہیں۔ پیسے ہم سے زیادہ نہیں کما رہے، کتنا کمائیں گے؟ جو دوسرے دکاندار ہوتے ہیں انہی کی طرح کما رہے ہوتے ہیں نا لیکن وہ حلال کما رہے ہیں یہ حرام کما رہے ہیں۔ کیا مطلب وہ ہے۔ اس طرح جو جو مختلف جو حرام کام ہوتے ہیں وہ جو لوگ کرتے ہیں تو وہ بھی اخیر میں بالکل ایسے ہی ہوتے ہیں کوئی مطلب ان کا نہیں ہوتا وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو۔۔۔ تو جن کو حلال روزی اللہ دے رہا ہے نا تو میں کہتا ہوں اس پہ اللہ کا بہت شکر ہونا چاہیے۔ بس وہ ہر وقت شکر ادا کرے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں حلال کھلانے کا بندوبست فرما دیا ہے ورنہ ہم کہاں اور ہماری حیثیت کیا ہم پتہ نہیں کس کس چیز کے پیچھے بھاگتے۔ ہاں جی۔ تو یہ اللہ پاک کا بڑا احسان ہوتا ہے۔ لیکن چیزوں کو ہم سمجھتے نہیں ہمارا خیال نہیں ہوتا۔
تو یہاں پر بھی فرمایا کہ سونے والوں کو عالمِ صورت میں لانے سے جگانا مراد ہے۔
9
تب کھلی ارواح ہوجاتے ہیں قیدہر بدن زندہ ہو اس سے یہ ہے بھید
(اور کھلی پھرنے والی روحوں کو بدن میں مقید) کر دیتا ہے دیکھو نا یعنی گویا کہ ارواح پہلے آزاد تھے جب جسم میں آگئے یعنی گویا کہ پھر... تو یہ قید ہو گئے۔ ہاں۔ اور پھر ہر بدن دوبارہ اس سے زندہ ہو جاتا ہے۔ جان آ جاتی ہے
جاری ہے۔۔۔