اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْاَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (108) وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُـمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِىَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (109) وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ۗ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (110)
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اُسی قسم کے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ سے کئے جا چکے ہیں؟
تو اصل میں یہ جو بات ہے کہ فرمایا جا رہا ہے، کیا تم اس طرح سوال کرنا چاہتے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیے گئے تھے؟ تو ایک تو یہ بات ہے کہ اس وقت کے یہودی جو تھے وہ بھی طرح طرح کے سوالات کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ تو ان کو یہ کہا جا رہا ہے کہ کیا موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں جو یہودیوں نے سوال کیے تھے، تو تم بھی اس طرح سوال کرتے ہو؟ تو ایسا تو نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کے ساتھ جو ہوا پھر تمہارے ساتھ بھی ایسا ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو بھی یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ اس طرح سوال نہیں کرنے چاہیے۔ یعنی آئندہ کے لیے بھی ایسے سوالات۔۔۔ یعنی جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ۔۔۔ آج کل کے دور میں بھی سوال برائے سوال کرنا، یہ ایک Fashion بن چکا ہے۔ سوال اگر کسی چیز کو جاننے کے لیے ہو، جو واقعی انسان کو سمجھ نہ آتا ہو، پھر تو سوال اچھی بات ہے، اس سے علم بڑھتا ہے۔ لیکن اگر سوال اس لیے ہو کہ جو جواب دے رہا ہے اس کی کمزوری دکھائی جائے، ایک تو یہ بھی ہو سکتا ہے نا کہ بعض لوگ ذرا اس انداز میں سوال کرتے ہیں اپنے علم کو ظاہر کرنے کے لیے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کہ تاکہ وہ جواب نہ دے سکے۔ حالانکہ ان کو خود جواب معلوم ہوتا ہے، لیکن وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تو یہ بھی ایک متکبرانہ طریقہ ہے۔ اس طرح بھی نہیں ہو، تو اس کی بھی سزا ہوتی ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ Unnecessary questions جس کی کوئی ضرورت نہ ہو، وہ بھی کرنے سے بعد میں معاملہ مشکل بنتا جاتا ہے۔ اللہ جل شانہ تو ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرماتے ہیں لیکن ہم اپنے آپ کے لیے سختی پیدا کر دیتے ہیں
تو یہاں پر یہ بات ہوئی کہ
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اُسی قسم کے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ سے کئے جا چکے ہیں؟ اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا ﴿108﴾
سیدھا راستہ کون سا ہے؟ وہ اللہ پاک نے سورہ فاتحہ میں بتایا ہوا ہے: صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ وہ سیدھا راستہ ہے۔ تو أَنعَمتَ عَلَيهِمْ میں کون کون آتے ہیں؟ انبیاء آتے ہیں، صدیقین آتے ہیں، شہداء اور صالحین آتے ہیں۔ اب اس راستے کے علاوہ کوئی اور راستہ اگر کوئی اختیار کرے گا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ تو وہ کیا ہے؟ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ۔ یعنی دو طرح سے انسان بھٹک سکتا ہے۔ وہ اس طریقے سے کہ یا تو مَغضُوبِ عَلَيهِمْ وہ لوگ جن پر اللہ پاک کا غصہ ہے۔ اور یا وہ لوگ جو ان کا دیکھی دیکھی گمراہ ہو چکے ہیں، غلط راستے پہ پڑ چکے ہیں۔ تو یہی بات ہے، تو یا تو جو قصداً کفر اختیار کرتا ہے، وہ بھی وہ لوگ ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو چاہتے نہیں ہیں لیکن پڑ جاتے ہیں اس پر بے احتیاطی کی وجہ سے، ناسمجھی کی وجہ سے یا نہ سوچنے کی وجہ سے، جتنا سوچنا چاہیے اس چیز پر، اس کی وجہ سے جو راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔
(مسلمانو!) بہت سے اہل کتاب اپنے دلوں کے حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پلٹا کر پھر کافر بنا دیں، باوجودیکہ حق اُن پر واضح ہو چکا ہے۔ چنانچہ تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود اپنا فیصلہ بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿109﴾
مطلب جو اہل کتاب ہیں، ان کو حسد ہے مسلمانوں کے ساتھ۔ تو اس حسد کی وجہ سے وہ تمہیں برگشتہ کرنا چاہتے ہیں، ایسی باتوں میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جس سے آپ کو نقصان ہو۔ تو حالانکہ حق ان پر واضح ہو چکا ہے، تو ان سے بچنا چاہیے۔
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور (یاد رکھو کہ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لئے آگے بھیج دو گے اُس کو اللہ کے پاس پاؤ گے۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے ﴿110﴾
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔